ووٹ دو یا جان


میرا ذہن ابھی تک لیکچر کے دوران اٹھا ےٗ گئے ان گھمبیرسوالات میں الجھا ہوا تھا جنھوں نے وہاں موجود ہر فرد کو پریشان کر رکھا تھا۔

یہ کوئی پہلا موقعہ نہ تھا کہ کسی نے سوال کیا ہو ہمیشہ ہی لیکچر کے دوران بھی اور آخر میں بھی سوال و جواب کا سلسلہ رہتا تھا مگر آج کا موضوع جو بہت اہم تھا کہ “تبدیلی مگر کیسے؟” میں نے وہاں موجود ہر ایک کے چہرے پر مایوسی، خوف اور فکر دیکھی۔۔۔ مجھے ابھی لیکچر شروع کیے کچھ ہی دیر گذری تھی اور میں ووٹ کی اہمیت پر بات کر رہی تھی کہ ایک آواز آئی، ہم بھی جانتے ہیں کے ملک میں تبدیلی ہمارے ہی ووٹوں کے ذریعے آئے گی مگر خدارا آپ بس یہ بتادیں کہ جب کنپٹی پر پستول ہو تو کیسے اس ووٹ کی امانت کا حق ادا کیا جائے؟

 

مجھے ایک دم فیس بک پر بہت ذیادہ شئیر ہونے والی وہ وڈیو یاد آگئی جس میں ایک طالبہ (خدا کرے کہ وہ سلامت ہو) کہ جس نے اپنی جان پر کھیل کرایسے ہی خوفناک حقائق سے پردہ اٹھایا تھا (میرے دل نے اسکی سلامتی کے لیے بہت دعائیں کیں) کیونکہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایسی جسارت کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے!!!

میں ابھی سوال کرنے والی خاتون کو مطمئن کرنے کی کوشش میں تھی کہ ایک اور مایوسی سے بھری آواز نے مجھے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔۔۔

آپ یہ بتائیں جب آپ کے سامنے آپ کا ووٹ ڈالا جارہا ہو اور آپ سے کہا جائے کہ جائیں آپ کا ووٹ ہو چکا اور کہنے والوں کے لہجے آپکو اور بھی بہت کچھ سمجھا رہے ہوں تو کہاں سے لائیں ہم تبدیلی؟؟؟

 

میں یہ سوچنے لگی کہ واقعی اور الیکشن کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک “ووٹ دو یا جان دو” کا فارمولا ختم نہیں کیا جائے گا۔ بہرحال میں انہیں موجودہ اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر جناب جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کے الیکشن کمیشن کا چارج لینے کے بعد انتخابی فہرستوں میں درستگی اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے حوالے سے کام میں جو تیزی آئی ہے جو ہر لحاظ سے احسن اقدام ہے آگاہی دینے لگی اس خیال سے کہ مایوسی کی فضا کچھ کم ہو مگر یہاں تو لوگ مجھ سے ذیادہ جاننے والے بیٹھے تھے۔

ایک اور سوال اٹھا وہ جو ایک گھر میں 633 ووٹوں والی کہانی پر بھی ذرا روشنی ڈال دیں میں نے ماحول کو خوشگوار بناتے ہوئے کہا ارے آپ لوگ نہیں جانتے اب کراچی پر بھوتوں کا قبضہ ہے صرف ایک گھر نہیں اب ایک ہوٹل کے بارے میں بھی یہ راز کھلا ہے کہ جہاں سے 180 ووٹوں کا اندراج ہوا ہے اور نجانے کتنے تو ایسے ہیں جن کے بارے میں اب تک کوئی نہیں جانتا تو غضب خدا کا کیا کیا سنیں گے یہ بیچارے کان اور کتنی بار آنکھیں بند کر کے خبریں پڑھوں کہ اب ووٹر لسٹیں بھی اپنے ہاتھوں سے اپنی من چاہی جگہوں پر۔۔۔

یعنی ووٹر لسٹیں نا ہوئی پہلی جماعت کے بچوں کی کاپیاں ہوگئیں جو مزے سے گھر لےجاکر چیک کرلیں اور اپنی مرضی سے جس پر چاہے جتنے نمبر لگادیے “اندھیر نگری چوپٹ راج” مگرخیر آپ لوگ پریشان نا ہوں جنّات قابو کیے جانے کی کوششیں جاری ہیں اللہ پاک حیاتی دے اپنے چیف جسٹس صاحب کو اور حوصلہ بھی کہ اس بار لگتا ہے انھوں نے لاتوں کا بھی انتظام کیا ہوا ہے بھوتوں کو بھگانے کے لیے اور نئی حلقہ بندیاں، اور گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدیق اسی کی طرف ایک قدم ہے (اب بھوت انکل چاہے اس پر کتنا ہی مچلیں) انشاء اللہ اس بار کراچی کو بھوتوں سے پاک بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدام نتیجہ خیز ثابت ہونگے۔

میرے اس تبصرے نے وہاں ماحول کو خوش گوار اور ناامیدی کی فضا کو تویقینا کچھ تو کم کیا مگر بہرحال آج کے سوالات، ہر ایک کے چہرے سے ٹپکتی (چاہنے کے باوجود کچھ نہ کرسکنے پر) بے بسی، خوف اور فکر نےمیرے لیے سوچوں کے کئی در کھول دیے تھے جن کے جواب مجھ سمیت ہر شخص چاہتا ہے۔

 

جو لوگ سب بھانڈا پھوٹ جانے کے بعد “جلے پیر کی بلی” کی مانند بےکل ہوئے جارہے ہیں کیا وہ یہ سب اتنی آسانی سے ممکن ہونے دینگے؟ اور میں دعا کرنے لگی کہ خدا کرے آنے والا وقت مزید کوئی تباہی نہ لیکرآئے کہ یہ شہر لہو کی بہت بھینٹ چڑھا چکا اب سکت نہیں۔

خدا کرے کہ یہ الیکشن خونی الیکشن نہ ہو ۔

آمین!!!

Advertisements

Tagged: , , , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: