مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے?‎


qafila

ابھی اس واقعہ کو زیادہ دن نہیں گزرے اور وہ یقینا لوگوں کی یاداشتوں سے ابھی محو نہیں ہوا ہوگا

ایک طرف میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم رہا ہے جب دنیا کی سپر پاور کا صدر اوبامہ اشک بار آنکھوں کے ساتھ قوم سے خطاب کر رہا ہے دکھ کی کیفیت ایسی کہ الفاظ اسکا ساتھ نہیں دے پارہے تھے وہ ٹوٹے ہوئے لفظوں میں کہتا ہے کہ ’’ آج ہمارے دل پارہ پارہ ہوگئے ہیں” ۔اسکے یہ الفاظ اسکے اندر کے غم کو عیاں کر رہے تھے ۔

اس واقعے کے سوگ میں تین دن امریکی پرچم کو سرنگوں رکھنے کا اعلان کردیا گیا ۔

میں سوچ رہی تھی کہ یہ وہ شخص ہے جو پوری دنیا میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے مگر اس کے دل میں بھی اپنی قوم کے لیے اتنا درد اتنا دکھ کہ جس نے اسے پوری دنیا کے سامنے رونے پر مجبور کردیا کیوں کہ وہ ساری دنیا کے لیے جیسا بھی ظالم اور جابر سہی مگر اپنی قوم کا وفادار ہے ۔ رشک آیا مجھے ایسی قوم پر اور صدر کی اس وفاداری پر میرا جی چاہا کہ میں اس شخص کو سلام پیش کروں کہ قوم کے محافظوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔

مگر دوسری طرف میرے اپنے ملک کا ایک گوشہ سے لیکر دوسرا گوشہ تک آگ کی لپیٹ میں نظر آتا ہے ۔ ایک طرف نظر کرتی ہوں تو جلتا ہوا کوئٹہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے جہاں 100 سے زائد انسانی جانیں لمحوں میں لقمہ اجل بن جاتی ہیں اور ورثا اپنے پیاروں کی لاشوں کو لیے سخت سردی کے عالم میں تین دن سے انصاف کی آس میں بیٹھے ہیں ابھِی اس درد سے نکل نہیں پاتی کہ لہو لہو سوات اپنی داستاں سناتا نظر آتا ہے پورے ملک میں لگائی ہوئی یہ آگ جس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بیرونی سازشیں جن کا کوئی سدباب تو دور کی بات اس میں جلنے والوں کا کوئی پرسان حال نظر نہیں آتا کہاں ہیں ان صوبوں کے وزراء اور اس مک کے وہ نام نہاد ٹھیکیدار جنھوں نے ان کی خدمت کا حلف اٹھایا تھا کیوں انہیں قوم کا یہ پانی کی طرح بہتا خوں دکھائی اور لواحقین کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں کیا وہ صرف اس قوم کی رگوں سے خون نچوڑ کر اپنی عیاشیاں پوری کرنے کے لیے ہیں ؟

اور یہی کیا یہاں تو پورا ملک ہی اپنی حالت زار پر دہائی دیتا نظرآتا ہے جہاں آئے روز ڈرون حملوں میں لوگ جانوروں کی طرح مارے جاتے یا ٹارگٹ کلنگ کہ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے ۔

مگر یہ بد نصیب قوم جس کے لیے کہیں کسی کا دل نہیں لرزتا ہے ۔۔۔۔

کوئی آنکھ انکے لیے اشک بار ہوتی نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔

کوئی انکے لیے پرچم سرنگوں کرنے کا نہیں اعلان کرتا ۔۔۔۔

کیوں ؟؟

کیا مرنے والے انسان نہیں تھے ؟

کیا ان کا خون خون ناحق تھا جو بہہ گیا ؟

کیا جرم تھا انکا جو اپنی ماوں کی لاڈ لے ، بہنوں کے پیارےاور اپنے گھروں کے کفیل تھے ۔۔۔۔

بس یہی نا کہ یہ کوئی بڑے عہدیدار یا اسکی اولاد نہیں تھے بلکہ یہ عام عوام تھی ۔۔۔۔

کو ئی ہے جو ان سوالوں کے جواب دے ۔۔۔۔ ؟

آہ ۔۔۔۔ مگر دکھ تو یہ کہ کون ہے جو یہ سوالات پوچھے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے ؟

اور آج مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑھ رہا ہے کہ میں جس قوم سے تعلق رکھتی ہوں وہا ں محافظوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے انسان نہیں بلکہ گدھ ہیں جو صرف مرجانے والوں کی لاشوں پر گزارا کرتے ہیں کیونکہ یہ ہی انکی زندگیوں کی واحد خوراک ہے ۔

ٹی وی پر چلتے کینڈین انقلاب کے وہ مناظر دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ ان نازک حالات میں بھی ہر ایک اپنی دوکان چمکانے کی فکر میں ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ قوم اب بھی ان تماشہ گروں کے ہاتھوں کھلونا بننے کے لیے تیار ہے ۔

میں سوچ رہی تھی کہ اگر ہمارے یہاں بھی ایسے انسانی جانوں کے جانے پر پرچم سرنگوں کیا جاتا تو شائد سال کے تین سو پینسٹھ وہ پرچم سرنگوں ہی رہتا کہ ایسے باوقار اصول بھی ان قوموں کے لیے ہوا کرتے ہیں جو خود کیسی بھی کرپٹ ہوں کیسی بھی اخلاقیات سے عاری ہوں مگر جب اپنے قائد کا انتخاب کرتیں ہیں تو اس کے لیے ایک باکردار ،امین اور محب وطن کا ہونا لازمی شرائط ہیں اور اپنے ہی منتخب کئے ہوئے قائد پر کوئی الزام لگ جائے تو اسے پوری دنیا کے سامنے کٹھرے میں لاکھڑا کرتِیں ہیں اور کوئی استصواب انہیں یہ سب کرنے سے نہیں روک سکتا بس یہی نشانیاں ہیں کسی بھی قوم کے ذندہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔

مگر جن قوموں کا انتخاب گدھ ہوں وہ پھر ایسی ہی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہوا کرتی اور اپنے آقاوں کو خوراک مہیا کرنے کا زریعہ بنتیں ہیں.

Advertisements

Tagged: , , , , , ,

3 thoughts on “مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے?‎

  1. Ehtesham جنوری 14, 2013 وقت 1:00 صبح Reply

    Pakistan aor Pakistani Qoom k almea yeh ha k ham infiradi aor ijtamai donon hawaloon sa gal sar chukay hain. Baat sirf hukmranoon ki hoti tu bhi ham umeed karsaktay thay k shayad koi tehreer sq yahan bhi sajay ga. magar yahan tu aisi .Khushk Saali ha k dil khoon k anso rota ha.

    Suna hai janglon ka bhi koi dastoor hota hai,
    Khuda-wanda Jaleel-o Mu’atbar, Daana-o Beena, Munsif-o Akber,

    HUMARE SHAHAR MAIN AB,
    JANGLON KA HI KOI DASTOOR NAAFIZ KER..!!

    • umar جنوری 14, 2013 وقت 10:58 صبح Reply

      میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گماں نہ ہو۔۔۔۔۔ چراغ سب ک بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

  2. hidayat ur rahman جنوری 14, 2013 وقت 10:20 صبح Reply

    mashallah

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: