کلام دلفریب


181096_329490790496748_654071339_n

پانچ دن مسلسل چلنے والی انقلابی ڈرامے کی وہ سیریل باآلاخر اپنے منطقی انجام تک پہنچی اور مجھ سمیت پوری قوم نے ہی اس ڈرامے کو جہاں بہت تنقید کا نشانہ بنایا وہاں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہر ایک نے دل کھول کے انجوائے کیا یہ  شو سوائے اس میں شامل افراد کے  ہر ایک کے لیے ایک شغل بھی تھا چاہے وہ  میڈیا میں بیٹھے معنی خیز مسکراہٹوں کے ساتھ لائیو کوریج اور تبصرے کرتے ٹی وی اینکرز ہوں یا اپنے گھروں میں ٹی وِ ی  پر مستقل نظریں جمائے ناظرین ۔

ایک تماشا تھا جو اس قوم کے لیے خاص طور پر لکھا اور بڑی ہی خوبصورتی سے تشکیل دیا گیا گیا تھا اور یہ بات ماننی پڑیگی کہ تیزاب کے کینٹینر رکھوانے کا اعلان کرنے والے وزیر داخلہ سے لیکر ایک دن پہلے تک بابا جی کی نقلیں اتارتے اوربعد میں انہی سے جپھیاں پاتے وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ ہوں یا ایک طرف حکومت کا حصہ بننے والے اور دوسری طرف وہی انقلابی بھائی بھی ہوں ہر ایک نے اپنے کردار کے ساتھ خوب انصاف کیا .اور آخر میں ہر ایک کو روحانی کنٹینر کے اندر صدارتی ایوارڈ سےنوازا گیا ۔

اللہ کی شان دیکھیے کہ خود کو قافلہ کربلا کا حسین کہنے والے اور پانچ دن پوری گورنمنٹ کو یزیدیوں کا ٹولا کہنے والےکس منہ سے انہی یزیدی لشکروں کو محبت سے گلے لگا رہے تھے اور اسی زبان سے جس سے انہوں نے پچھلے پانچ دن ان پر لفظوں کی گولہ باری کی تھی آج انکی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھک رہے تھے اور جس شان سے وہ اس مغلا ئی کرسی پر براجمان تھے لگتا تھا بس اسی کرسی کے لیے انہوں نے کینیڈا سے پاکستان تک سفر کرنے کا رسک لیا تھا ۔

بدلتا ہی رنگ آسماں کیسے کیسے ۔۔

یہ بات تو اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ یہ ایک بہترین اور بظاہر کامیاب ڈرامہ رہا اور مجھے اس ڈرامے پر کچھ نہیں کہنا کہ اس پر کہنے کو شاید اب کچھ رہا ہی نہیں کہ قادری صاحب کے آنے سے لیکر واپسی تک کے ٹکٹ تک ہر چیز سب کے سامنے آچکی ہے ۔

میں قادری صاحب کو پانچ دن فائیو سٹار کنٹینر میں سیر کرتے دیکھ رہی تھی تو مجھے جنگ خندق کا وہ میدان شدت سے یاد آریا تھا جب ایک صحابی {رضی}خندق کھودنے کے دوران بھوک کی شدت سے نڈھال ہوئے تو سرکار دوعالم کے پاس جا کر  اپنا کرتا اوپر کر کے اپنا پیٹ دکھاتے ہیں جہاں پتھر بندھا ہوا تھا آقا کچھ نہیں کہتے صرف اپنے کرتےکو اوپر کرتے ہیں جہاں دو پتھر بندھے نظر آتے ہیں ۔۔۔ یہ تھا وہ امت کا سردار جس نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے تھے اور جنگ کے میدان میں عام سپاہیوں کی طرح خندقیں کھود رہا تھا اور قیامت تک آنے والی قوموں کو اسلام کی تعلیمات سکھا رہا تھا ۔

اسلام ہی تو دنیا کو وہ خوبصورت ترین مذہب ہے جو امیر غریب بڑے چھوٹے کے فرق کو مٹا دیتا ہے اور اسکی کیا خوب

منظر کشی کر گئے اقبال

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ ہی کوئی بندہ نواز

مجھےانتہائی دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ اسلام کے نام کو کس بیدردی سے استعمال کیا گیا یہ تو انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گرا ہوا انقلاب تھا کجا یہ اسکو اسلامی کہہ کر اسلام کی توہین کی جائے کہ قادری اپنے بلٹ پروف اور ہیٹید کنٹینر میں گرمی کی شدت سے بار بار اپنے پسینے صاف کرتے پھر کوٹ اتارنے کے باوجود جب کچھ کمی نہ ہوئی تو بار بار دروازہ کھولنے کا کہا گیا مگر کربلا کے اس امام کو اپنے بے زبان مریدوں پر ذرا برابر ترس نہیں آیا جب بوڑھے عورتیں اور معصوم بچے سردی میں تیز بارش کے نیچے خود کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے اور قادری صاحب اپنے گرم کینٹر میں اس بارش کو بھی  باران رحمت قرار دیتے رہے مگر خود اس رحمت سے محروم ہی رہے ۔

 

۔مجھے یہ سارا ڈرامہ سورۃ القمان کی آیت نمبر 5 کی تشریح نظر آرہا تھا  جس میں رب نے اس صورتحال کو کچھ ایسے بیان کیا ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍۖۗ وَّ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا ؕ

اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہےجو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکادے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے ۔ { سورۃ القمان }

یہ آیت مجھے بہت پیچھے لے گئی ۔یہ وہ وقت تھا جب جہالت کےگھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی انسانیت غفلت کی ایک بڑی نیند لینے کے بعد جاگ رہی ہے اور میرے محبوب نبی اکرم {صہ}اس سوئی ہوئی انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے دن رات تگ و دو میں سر گرداں ہیں مگر دوسری طرف جہالت کے ٹھیکدار جن کو یہ بیداری کسی طور پسند نہ تھی انہوں نے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی جس میں ایک منافق اور دشمن رسولّ نے یہ ہتھکنڈا بھی استعمال کیا تھا کہ وہ اس دعوت کے مقابلے میں گانے بجانے والی لونڈیوں کو خرید کر لاتا اور جب کوئی دعوت پیش کی جاتی تو اسکے مقابلے میں دوسری طرف وہ اس لونڈی کا گانا شروع کروادیتا اور لوگوں کی توجہ کو اصل دعوت کی طرف سے ہٹا دیتا اس کی اس سازش کو رب نے یوں بے نقاب کیا ۔۔۔۔۔ کہ تم سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے ۔۔۔۔۔

تو آج بھی ایسا لگ رہا تھا کہ عرب بہار کی وہ لہر جس نے پوری مسلم دنیا میں اسلامی انقلاب کی ایک فضاء پیدا کردی تھی اور یقینا پاکستان پر بھی اس کے گہرے اثرات نظر آنے لگے تھے ۔لوگ انتظار میں تھے کہ یہاں بھی کسی تحریر اسکوائر پر کوئی مرسی مسیحا کی شکل میں آئے گا اور انکو مصیبتوں سے نکال کر ان کے پچھلے سارے دکھوں کا مداوا کرے گا ۔۔۔

اسی فضاء کو ختم کرنے کا بہت بھیانک منصوبہ قادری کے بلٹ پروف انقلاب کی شکل  میں خرید کر لایا گیا وہ کلام دلفریب جس نے حقیقت میں لوگوں کو ایک بہت بڑا فریب دیا اور اس کے نتیجہ میں لوگوں کو دلوں سے انقلاب کی محبت اور  اس انتظار کو کھرچ کر نکال دینے کی بھر پور کوشش کی گئی اور خود کو اسلام کا سپوت کہنے والے خود غرض انسان کے ہاتھوں اسلامی انقلاب کے نام پر اس قوم کے اوپر جو ظلم ڈھایا گیا اس نے اسے ایک گالی بنا دیا  ۔

اور ایک طرف اس قوم کو پھر سے ایک بڑے وقت کے لیے آزمائش میں ڈال دیا کہ اس انقلابی ڈرامے  کے زخم بھرنے کے لیے اب کافی وقت درکار ہوگا ۔ وہیں دوسری طرف اب لوگوں کو صحیح حقیقی انقلاب کے لیے پکارنے والوں کی ذمہ داری کئی گناہ بڑھ گئی کیونکہ اب جب بھی کبھی انقلاب کا نام لیا جائے گا تو لوگوں کے ذہنوں میں اس ڈبہ پیک انقلاب کی یادیں ضرور تازہ ہوجائینگی ۔

دیکھنا یہ ہے کہ یہ قوم کب حقیقی انقلاب کے لیے بھی ایسے ہی اپنے گھروں سےنکل کر سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کے لیے خود کو میدان میں لانے کے لیے تیار ہوتی ہے اسلیے کہ وقت یہ ثابت کر چکا کہ تماش بینوں کے ساتھ تماشے کا حصہ بننا کوئی کامیابی نہیں بلکہ اصل کامیابی تو تب ہے جب آپ حق کی راہ پر چلنے والوں کے دنیائے فانی سے کوچ کرجانے کے بعد انکے قصیدے لکھنے ، پڑھنے یا اپنی محفلوں میں انکی جدوجہد کی داستانیں سنانے کے بجائے انکی ذندگی میں انکی سچی جدوجہد میں میں انکا ساتھ دیں تو یقین جانیے اس قوم کے نصیب کا مرسی دور نہیں بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے  اور یہ صرف اس قوم پر منحصر ہے کہ یہ کب اپنی آنکھوں سے غفلت کی پٹی کو اتار کر پھینکتی ہے  کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے جسے وہ اپنے پاک کلام میں  یوں بیان کرتا ہے

” کہ یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اُسے تبدیل نہ کریں جو اُن کے نفوس میں ہے”

{

الرّعد}

 

Advertisements

Tagged:

One thought on “کلام دلفریب

  1. farhat tahir فروری 8, 2013 وقت 3:00 شام Reply

    excellent expression!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: