بہت دیر کی مہرباں آتے آتے


kahan tak

اعتراف جرم کو ئی معمو لی بات نہیں اور نہ ہی یہ ہر ایک کے بس کا کام ہے یقینا یہ بہادروں کا کام ہے اور ایسے بہادر اس ملک و قوم  کے نصیب میں آتے رہے ہیں آج کل بھی ایسے ہی ایک بہادر سپاہی کا چرچا زبان زد عام ہے جن کے ہر چینل پر نشر ہوتے انٹرویوز اور تہلکہ مچاتی کتاب "یہ خاموشی کہاں تک ”  بہت سی خاموشیوں کا پردہ چاک کر رہی ہے اور خامشیوں کو جب زباں دی جاتی تو  اس کے نتیجے میں اٹھنے والے شور اور ان گنت سوالوں کو کوئی نہیں روک سکتا ایسے ہی بہت سے سوالات نے اب بھی جنم لیا ہے ۔

یہ کتاب اس لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ  اس کا مصنف کوئی عام آدمی نہیں  بلکہ اس ملک کے اہم اور حساس ترین ادارے "فوج ” کے سابق جرنیل جو اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں ۔

جرنیل صاحب نے اپنے اعتراف جرم سے آغاز کیا اور اس کے بعد وہ فوج کی ہر خامی کو ایسے بیان کرتے چلے گئے جیسے یہ کوئی سبق ہو جو انھوں نے اپنی فوج کی 30 سالہ نوکری کے دوران یاد کیا تھا اور اسے سنانے کا موقع انہیں پورے 30 سال میں تو کبھی نہیں مل سکا مگر اب وہ اس سبق کو بھولنا نہیں چاہتے ۔

جرنیل صاحب کی کسی بات سے اختلاف نہیں بڑے دکھ سے ہی سہی مگر ہم یہ مانتے ہیں کہ فوج میں یقینا یہ سب خامیا ں ہیں اور بڑے پیمانے پر ہیں ۔۔۔ مگر صاحب  سوال تو بس اتنا ہے کہ سب خامیاں اور خرابیاں  ایک جرنیل کو اس وقت کیوں نہیں دکھائی نہیں دیتی جب وہ اپنی کالر پر تلوار اور اسٹک کے ساتھ چاند، تارے سجائے ہوتے ہیں اور ان تلواروں کی کاٹ انکی شخصیت کا خاصہ بن جاتی ہے اور چاند تاروں کی چکاچوند انہیں ناخدا بنا دیتی ہے جس کی وجہ سے{ فوج میں عام طور استعمال ہونے والے محاورہ} گردنوں میں بھی سریہ آجاتا ہے اور شاید یہی وہ سریہ ہے جو ان  گردنوں کو جھکنے ، خود احتسابی ، اور اعتراف جرم نہیں کرنے دیتا اور یہ” سریہ “ یونیفارم کے ساتھ ہی رخصت ہوتا ہے اس سے پہلے نہیں ۔ اور تب ہی ہمارے بہادر سپاہیوں کو محب وطنی اور مسلمانیت یاد آتی ہے اور وہ اپنے کالموں میں تو کبھی اپنے انٹرویوز میں اور کچھ تو اس احساس جرم میں پوری پوری کتابیں لکھ ڈالتے ہیں جن میں اپنے ان ہی ساتھیوں {جن کے ساتھ ملکر وہ یہ سب کارمانہ ہائے انجام دے چکے ہوتے ہیں} کی زیادتیوں اور امریکی ظلم و بربریت کی کہانیاں سناتے نظر آتے ہیں مگر افسوس کہ وقت تو گزر چکا ہوتا ہے ۔

 یہ سب بھیانک حقیقتیں ایک جرنیل پر کیا اسی لمحے آشکار ہوتی ہیں جب وہ اپنی "وردی کے خمار ” سے باہر نکل کر سویلین ماحول کے تھپیڑوں کی زد میں آتا ہے ؟؟

جی ہاں” وردی کا خمار ” بڑا ظالم ہوتا ہے یہ خمار سر چڑھ کے بولتا ہے اور یہی وہ خمار ہے جو صرف 90 دن کے وعدے پر آنے والے  ڈکٹیٹروں کو 11  سالوں تک وردی کو اپنی کھال کا حصہ سمجھنے پر مجبور کردیتا ہے اور حال یہ ہوجاتا ہے کہ چمڑی جائے پر وردی نہ جائے ۔

بہت سے اعترافات کے ساتھ ایک دلسوز اعتراف کہ ہم امریکیوں کے ساتھ ملکر افغانستان اور پاکستان میں بے بس مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ۔۔۔

آہ۔۔۔

تو جرنیل صاحب اس قتل عام میں تو آپ کے اپنے ہاتھ بھی لہو رنگ نظر آتے ہیں اتنے سالوں تک آپ نے اپنے ضمیر کی اس آواز کو کیسے دبایا ؟

جس کی ضرورت اس وقت تھی جب آپ ایک کے بعد دوسرے اہم عہدے پر فائز ہوتے جا رہے تھے کیا آپ کی ضمیر کی اس آواز نے ایک بار بھی آپ کو اس وقت راتوں کو نہیں جاگنے پر ایسی ہی کوئی کتاب لکھنے مجبور نہیں کیا  جب کئی ہزار معصوم  آپکی وردی کے سائے تلے  بے دردی میں شہید کر دیے گِئے ؟

جنرل مجھے یہ پوچھنے دیجیے کہ اس وقت کس چیز نے آپ کو حق کو حق کہنے اور ظلم و بربریت کی اس داستاں {جسے آج آپ منظر عام پر لائے} بیان کرنے سے روکا ؟

وہ کونسی مجبوری تھی جو آپکی راہ کی رکاوٹ بنی ؟

مت سنائیں یہ فوج کی وفاداریوں کے قصے کہ اب ہم میں  مزید یہ قصے سننے اور سہنے کی سکت نہیں   ان سے پوچھیے جنھوں نے  آپ اور آپ جیسے بہت سے وفاداروں کی وفاوں کے عذاب اس طرح سہے کہ انکے گھروں کے گھر اور بستیوں کی بستیاں اجڑ گئی  اور ان وفاداریوں نے  خونی درندوں کو بے گناہ مسلمانوں کا خون طشتریوں رکھ کر پیش کیا اور اسے اس خون کا عادی بنادیا  جس کو روکنا اب مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آتا ہے کہ وفاداروں کی کمی تو کسی دور میں نہیں ہوتی کل آپ تھے آج آپکی جگہ کوئی اور ۔۔۔مگر جس نے اپنے رب سے ہی وفا نہیں کی اسکی وفاوں پر ماتم کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا  ۔۔۔۔۔ کہ رب یہ کہتا ہے کہ اگر تمھارے ماں باپ بھی تمہیں اس چیز کا حکم دیں جو تمھارے رب کے احکامات کے خلاف ہو تو تم اس پر ہر گز عمل نہ کرو ۔۔۔۔۔۔

جرنیل صاحب جو احساس جرم ” آج ” آپ کو  مارے ڈال رہا ہے بات تو تب تھی کہ جب یہی  احساس جرم آپ کو اس ظلم کا حصہ بننے سے روک دیتا اور آپ خود کو وردی کی اس وفا اور ان تمام عہدوں اور آسائیشوں کو ٹھکرا دیتے تو آپ کا یہ عمل  دنیا اور آخرت کی لکھی جانے والی تاریخ میں سنہری حرفوں سے رقم کیا جاتا اور آنے والوں کے لیے بھی ایک مشعل راہ ثابت ہوتا ۔

انٹر ویو کے دوران میزبان کے سوالوں کے جو جوابات جرنیل صاحب کی جانب سے دیئے گئے ان میں سے کوئی ایک جواب بھی ان کو بری الزماں نہ کرسکا ۔۔۔۔۔۔ ہر جواب سے یہی محسوس ہوا کہ بس میں مجبور تھا یا کردیا گیا ۔۔۔۔۔ تو صاحب حق کی راہ پر چلنے والے جو اپنی راہیں خود متعین کرتے ہیں انہیں کوئی عہدہ ،  رینک یا مراعات مجبور نہیں کرسکتیں نہ ہی انہیں خریدا جاسکتا ہے جیسا کہ خود جنرل صاحب نے کہا کہ انہیں امریکہ میں  کورسز کے دوران تین مختلف مواقعوں پر خریدنے کی کوشش کی وردی سمیت بھی اور وردی کے بغیر بھی قبول کرنے کی پیشکش جس میں انہوں نے اپنے ساتھ ایک اور بھی نام لیا اور بغیر کچھ بیان کیےبھی وہ سمجھنے والوں کو بہت کچھ سمجھا گئے ۔۔۔۔۔۔ اس وقت وہ خود کو بچانے میں کامیاب ہو گئے مگر بعد میں شاید اس سے بھی کم قیمت لگا بیٹھے ۔۔۔۔

اور یہ ایک جرنیل شاہد ہی کی کہانی نہیں یہاں ایک لمبی لسٹ ہے ایسے لوگوں کی جن کے ضمیر اس وقت جاگتے ہیں جب ان کے اپنے سونے کا وقت قریب آجاتا ہے ۔

دل کو رووَں کہ پیٹوں جگر کو

بات صرف یہیں تک نہیں بلکہ سن سکتے ہیں تو سنیے اپنی بربادیوں کی کہانی کہ اس قوم سے ذیادہ بدنصیب اور کون ہوگا جس کی محافظ فوج کا سربراہ اپنے عہدے سے فارغ ہوتے ہی اگلے ہی دن دشمن کے تھنک ٹینک کا حصہ بن جاتا ہے ۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ اعترافوں کا یہ سلسلہ آخر کب تک یوں ہی چلتا رہے گا ؟

کب تک یہ گونگی بہری قوم اسکا خمیازہ اٹھاتی رہے گی ؟

کب تک قافلے اپنے ہی پاسبانوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے ؟

کب تک ہم اپنوں کے ہاتھوں زخم کھا تے رہیں گے ؟

آخرکب تک ہم اپنی بے حسیوں کی داستانوں کوغلطیوں کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کرتے رہیں گے؟

جرنیل شاہد صاحب کی کتاب یقینا  اشک بار کرتی اگر یہ ایک ریٹائیڈ جرنیل کی ہوشربا داستان نہیں بلکہ ایک ایسے افسر کی دکھی بپتا ہوتی جس نے اس کتاب میں بیان کیے گئے ظلم وستم پر احتجاجا اپنا عہدہ ، رینک اور تمام مراعات کو ٹھکرا دیا ہوتا مگر افسوس ۔۔۔۔۔۔

کیا اس قوم کے نصیب میں ایسی بھی کوئی کتاب آئے گی جس میں یہ حقیقتیں داستانوں کی صورت میں نہ درج ہوں بلکہ سازشوں کو عین وقت پر بے نقاب کیا گیا ہو  ۔۔۔؟

یقینا یہ کو ئی آسان کام نہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے

جلتے ہوئے انگارے کو ہتھیلی پر رکھ لینا ۔۔

آگ کے دریا میں چھلانگ لگا دینا ۔۔

مگر حق کی خاطر خود کو آگ کے دریا کے حوالے کر دینا ہر ایک کا نصیبہ نہیں بنتا بلکہ یہ اعزاز تو ابراہیم علیہ جیسے رب کے وفاداروں کے نصیب میں آتا ہے ۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

اور رہا اعتراف جرم تو صاحب زوال کے بعد اعتراف جرم تو فرعون جیسے جابر نے بھی کر لیا تھا ۔

کیا کتابوں میں درج کیے گئے یہ لفظ "اعتراف جرم ” دامن پر لگے ان بے گناہوں کے خون کے دھبوں کو دھو سکتا ہے ؟؟

  اگر کچھ کرنا ہی تھا تو جرنیل صاحب آپ ان تمام جرائم کی پاداش میں خود کو سزا کے لیے پیش کرتے اور ایک نئی تاریخ رقم کرتے کہ کفارے ایسے ہی ادا کیے جاتے ہیں ۔

Advertisements

Tagged:

3 thoughts on “بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

  1. shamim فروری 2, 2013 از 11:39 صبح Reply

    like Pervez Musharaf all GENERALS ARE ALIKE BLOOD THIRSTY MONSTER WHO LIKES TO MURDER 3000VJAWANS IN KARGIL,KILL 1000 OF TEENAGERS IN LAL MASGID AND SO ON

  2. Saqib فروری 2, 2013 از 11:46 صبح Reply

    اس قوم سے ذیادہ بدنصیب اور کون ہوگا جس کی محافظ فوج کا سربراہ اپنے عہدے سے فارغ ہوتے ہی اگلے ہی دن دشمن کے تھنک ٹینک کا حصہ بن جاتا ہے ۔۔

  3. aliya mansoor فروری 3, 2013 از 2:22 شام Reply

    یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ بس سنتی رہتی ہے اور سر دھنتی رہتی ہے اپنےقومی مجرموں سے کھڑے ہوکرسوال پوچھنے کا حوصلہ جس دن ہماری قوم میں پید ا ہوجائے گا وہی دن تبدیلی کے آغازکا دن ہوگا۔قومی مجرم ہمیشہ ملک کے مفاد مین زبانیں بند رکھتے ہیں اور پھر یہ زبانیں اسی وقت کھلتی ہیں جب انکا اپنا مفاد سامنے ہوتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: