قتل چھپتے تھے کبھي سنگ کي ديوار کے بيچ


قتل چھپتے تھے کبھي سنگ کي ديوار کے بيچ

اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بيچ

اپني پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر

سر سلامت نہيں رہتے يہاں دستار کے بيچ

سرخياں امن کي تلقين ميں مصروف رہيں

حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بيچ

کاش اس خواب کي تعبير کي مہلت نہ ملے

شعلے اگتے نظر آۓ مجھے گلزار کے بيچ

ڈھلتے سورج کي تمازت نے بکھر کر ديکھا

سر کشيدہ مرا سايا صف اشجا ر کے بيچ

رزق، ملبوس ، مکان، سانس، مرض، قرض، دوا

منقسم ہو گيا انساں انہي افکار کے بيچ

ديکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن

آج ہنستے ہوۓ ديکھا اسے اغيار کے بيچ

                                                     محسن نقوی

Advertisements

Tagged:

One thought on “قتل چھپتے تھے کبھي سنگ کي ديوار کے بيچ

  1. weeklyconsult فروری 8, 2013 از 1:33 شام Reply

    zabardast kia bay hay

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: