خاک ہوجائے گے افسانوں میں ڈھل جاؤگے


 

no5

ہم حجاب ڈے کے حوالے سے آج نیوز کا ایک پروگرام ریکارڈ کروانے کے لیے جمع  تھےوہاں پروگرام میں شریک  خواتین سے بات ہونے لگی ایک خاتون جن کا تعلق کسی مڈل کلاس گھرانے سے تھا اپنے حلیے سے بہت مذہبی بھی نہیں لگ رہیں تھیں مگر ماحول میں پھیلی بے حیائی پر بہت فکر مند بہت ہی دکھ سے بولیں ؛ کیا کریں کہاں لیکر جائیں بچوں کو کیسے بچائیں اور کہاں کہاں بچائیں میرا بچہ تیسری جماعت میں پڑھتا ہے اور عام سا اسکول ہے مگر ویلینٹائین سے ایک دن پہلے اسکول سے آکر کہنے لگا  ًامی کل مجھے لال شرٹ پہن کر جانی ہے اور ایک پھول لیکر جانا ہے ً بولیں میں نے حیرانی سے پوچھا کس لیے بیٹا  ؟  امی ہماری ٹیچر نے کہا ہے کل کلاس میں وہ ویلنٹائین ڈے منائیں گے تووہ  کپل بنائیں گی اور مجھے اپنی کپل کو پھول دینا ہے ً وہ خاتون تو اپنا دکھ بیان کر گئیں مگر مجھے لگا کہ ہم ایک ایسی گہری کھائی میں گر رہے ہیں جس کی پستی کا ابھی اس وقت شا ید کسی کو اندازہ نہیں یا کرنا نہیں چاہتے مگر جب آنکھ کھلے گی تو وقت گزر چکا ہوگا ۔

اسکول  جو ماں کی گود کے بعد بچے کی تربیت اورشخصیت سازی کی اہم ترین جگہ ثا بت ہوا کرتے تھے  استاد جن کو روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے کہ یہ انکے فرائض میں شامل ہوتا ہے کہ وہ بچے کو ہر برائی سے روکیں اور اس میں اچھائیاں پیدا کریں مگر یہ کیا ۔۔۔۔۔آج کے استاد نے اپنا کام صرف چھوڑ دیا ہوتا  تو بھی اتنا نقصان نہیں ہوتا مگر اس نے تو اپنی راہ ہی بدل لی  اور راہوں کے بدلنے کا کفارہ من حیث القوم دینا پڑ تا ہے جن قوموں کی تقلید میں ہم اپنا دین ، ایمان ، غیرت  ، حیا سب داوٴ پر لگا دیتے ہیں وہ پھر بھی ہمیں قبول نہیں کرتی  اور سب کچھ کھو کر بھی  ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔

۔مجھے میری دعوے عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

آج  ہر اسکول ،کالج ،یونیورسٹیوں میں منایا جانے والا بے غیرتی کا یہ تہوار ایک مسلم معاشرے کے لیے زہر قاتل کی طرح ہے اور نوجوان نسل ہی کیا اب تو معصوم ذہنوں کو بھی پراگندہ کرنے میں کسی نے  کوئی کسر نہیں چھوڑی چاہے وہ نام نہاد آزاد میڈیا ہو جہاں ہر چینل پر بیٹھے غیرت سے عاری جوڑے ہوں جو ایک طرف خاندانی نظام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو دوسری طرف  آنے والی نسل کو اخلاقی بانجھ پن کا شکار کر رہے ہیں  یا وہ خوغرض سرمایہ دار ہوں جو اپنا  کثیر سرمایہ بے حیائی کی ترویج کے لیے اس تہوار پر لگاتے ہیں جن کی بدولت   بڑےشاپنگ مالز سے لیکر گلی محلے کی دوکانوں میں بھی ویلنٹائین کے کارڈز ہوں دل بنے غبارے ہوں یا پھول ہر طرف سرخ رنگ کی بہتات نظر آ تی ہے اور ہر ایک کے لیے اسکو منانا اتنا آسان کردیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہر ایک کے دروازے تک پہنچا دیا تو بے جا نہ ہوگا  جس نے پورے کے پورے معاشرے کو بے حیا بنا دیا  ۔ 

  اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس کو دنیا کے کسی ملک میں اتنی کوریج اور اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی کہ ہمارے ملک میں کیوں ہم تو وہ کہنہ مشق بھکاری ہیں کہ جو غیروں کی اندھی تقلید میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے اگر اسی پر ایک نظر ڈال لیتے تو شا ید حیا اور شرم یہ سب منانے سے روک دیتی ۔

اس تہوار کے بہت سے  تاریخی پس منظر بیان کیے جاتے ہیں مگر ان میں کو ئی بھی ایسا نہیں جو حیا سے عاری نہ ہو اور نوجوان نسل کو بے راہ روی کے ترغیب نہ دیتا ہو مگر ہماری نوجوان نسل جو اپنی عید کا پورا دن سونے میں گزارتی ہیں مگر اس تہوار کو وہ بہت ہی اہتمام کے ساتھ مناتی ہے  ۔

اس تہوار کے منانے والے اللہ کے نبی کی اس تنبیہ کو یاد رکھیں

رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہےوہ انہی میں سے ہے۔ (ترمذی ، مسند احمد50) سنن ابوداؤد 4021(

چونکہ شیطان کا پہلا وار ہیانسان کی حیا پر کیا گیا تھا اور اسی لیے رب نے خود بنی آدم کو تنبیہ کی تھی کہ 

 اے اوﻻد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت   سے نکلوادیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وه ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وه اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو۔ ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں ﻻتے۔ (سورۃ الاعراف) 

ً فرمانِ نبویﷺ ہے : "جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہارا جی چاہے کرو۔” (بخاری)ً اس لیے کہ حیا ایمان کی ایک شاخ قرار دی گئی اور حیا اور ایمان دونوں کو لازم و ملززم قرار دے دیا گیا  اور واضع کر دیا گیا کہ جب ایک اٹح جاتا ہے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے ۔پس ثا بت ہوا کہ حیا ہی وہ فرق ہے جو انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے اور جب حیا نہ رہے تو انسان کو حیوان بنتے دیر نہیں لگتی اور رشتوں کا تقدس و احترام سب جاتا رہتا ہے 

 

نام نہاد روشن خیال لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ محبت کا دن ہے اور اسے ضرور منانا چاہیے تو ان کے لیے یہ ایک اہم خبر ہے کہ اسلام کی تو بنیاد  ہی محبت و اخوت پر ہے اس میں تو سال کا ہر دن محبتوں سے لبریز ہوتا ہے ہاں بس فرق اتنا ہے کہ اسلام جائز رشتوں جائز طریقوں سے محبت کا حکم دیتا ہے اور ہر لمحے کے لیے دیتا ہے سال میں صرف ایک دن کے لیے نہیں ۔

ہاں کچھ حدیں ہیں اللہ نے خود متعین کی ہیں اور یہ کرنٹ وائیرز کی طرح ہیں جن کو چھونے کو ہی منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کے قر یب سے بھی گزرنے سے روک دیا  گیا اور وعید سنا دی گئی

ارشاد ربانی ہے : "اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔(النور: 19۔

یہی وہ حدود ہیں کہ جن کو توڑنے کے نتیجے میں رب نے ہم سے پہلے کی قوموں کے بارے میں ارشاد فرمایا

ً اورآخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی۔ سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، سنو! دور پھینک دیے گئے عاد، ہودؑ کی قوم کے لوگ ۛ

جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے ۔ سنو ! مدین والے بھی دور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے

﴿ سورہ ہود﴾

یہ وہ سورتیں تھیں کہ جن کے نزول کے بعد آپ ص کے بالوں میں یکدم سفیدی نظر آئی تو حضرت ابو بکر رضہ نے دریافت کیا ؛

یا رسول اللہ کیا وجہ ہیکہ آپ کے بالوں میں اتنی سفیدی ۔۔۔۔ آپً نے ارشاد فرمایا؛  ابو بکر مجھے ً  یونس اور ہود ً نے بوڑھا کردیا ہے ۔۔۔۔۔  یہ سورتیں اللہ کی نافرنی کرنے اور اپنی من مانی کرنے والی قوموں کے خوفناک انجام کا پتہ دیتی ہیں اور وعید ہے کہ جب اللہ کی حدود کو کھلم کھلا توڑا جائے تو نتیجہ کیا ہوتا ہےاس لیے کہ رب کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی اس سے پہلے کہ اس قوم کے دور پھینک دینے کا فیصلہ کر دیا جائے اور توبہ کی مہلت بھی نہ مل سکے ہمیں پلٹنا ہوگا رجوع کرنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ ہمارا ذکر بھی نہ ہو داستانوں میں  فیصلہ کیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم الله تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوجائیں اور آئندہ آنے والی نسلیں ان ایام کو سوگ کے دن قرار دینے پر مجبور ہو جائیں ۔۔۔۔!

Advertisements

Tagged: , , , ,

3 thoughts on “خاک ہوجائے گے افسانوں میں ڈھل جاؤگے

  1. دیاض فروری 14, 2013 از 3:10 شام Reply

    ہمیشہ کی طرح آج پھر آُ نے بہت اہم موضؤع پر قلم اٹھایا ہے، مغربی تہشیب اور کلچر کا وار ہمارے خآندانی نظام اور خواتین پر ہے ، اگر ہم نے اس پر توجہ نہ دی تو آنے والے دنوں میں ہم اپنی نئی نسل کو اپنے کلچر اور تہزیب سے باغی ہوتا ہوا دیکھیں گے ہم کو اس کے سدباب کے لیے پہلے سے سوچ پچار کرکے نوجھوانوں کو مغربی اصطلاحوں اور ان تہوراوں کی اصؒیت اور ان کی خبثت کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا

    • اسریٰ غوری فروری 14, 2013 از 5:30 شام Reply

      JZAK ALLAH Bro ye usi ki aik koshish hay ALLAH pak qabool farmay OR maqsad main kamyabi ata farmay Ameen .

  2. Friend فروری 26, 2013 از 5:27 صبح Reply

    I appreciate the effort, but I have suggestion.
    Please don’t put pictures on your blog, because Shariat nay to apnay na-Mahram ko daikhna bhi haraam Qaraar dia hai. So, while working on a such a noble cause, I would humbly request you to remove such kind of stuff as well. We should remember that every sin performed with the help of us, we will be equally treated.

    Allah Ta’aala tumhai’n behtareen jaza-e-khair day, Aameen.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: