ماضی اور مستقبل کے جنرل نیازیوں کے نام


qala,

یہ بہتا لہو

یہ تڑپتے لاشے

یہ سرخ سرخ گلیاں

یہ ماتم کناں راہیں

یہ زخم زخم فضائیں

یہ نوحہ کرتی ہوائیں

درد کی دہلیز پر کھڑا

ہر اک سنا رہا ہے

وفاوں کے قصے

جفاوں کی داستانیں

جو سن سکو تو سنو

کہ

راہیں بھِی بدلی

نگاہیں بھی بدلی

ہاں تم نے تو اپنی

وفائیں بھی بدلی

مگر

سرزد ہم ہی سے

یہ جرم وفا ہوا

ہم آج بھی

محبتوں کے

قرض وہ چکا رہے ہیں

جو نہ تھے ہم پر

فرض وہ بھی نبھا رہے ہیں

لہو ہم اپنا بہا رہے ہیں

لہو ہم اپنا بہا رہے ہیں

{ اسریٰ غوری}

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: