محبتوں کے دیس کے باسی


جو لوگ محبتوں کے دیس کے باسی ہوں

کیوں وہی سہیں نفرتوں کے عذاب سارے

 

زخمی کرجاتے ہیں وہ بھی اکثر

سرد رویوں میں لپٹے گلاب سارے

 

ریزہ ریزہ جو بکھرے تھے ٹوٹ کر

بہت معصوم تھے مرے وہ خاب سارے

 

چن رہی تھی کرچیاں اپنے ہی وجود کی

زخم زخم تھی روح ، زخمی تھے ہاتھ سارے

 

جواب ان کے لاتے کہاں سے ؟؟؟

اٹھائے تھے اشکوں نے جو سوال سارے

 

خطا ہی تلاشتے رہے ہم عمر بھر ان کی

سرزد کبھی جو ہوئے نہ تھے قصور سارے

 

یہ قرعہ بھی  ہمیشہ ہمارے ہی نام نکلا اسریٰ

کسی کہ حصہ پارسائیاں تو کسی کہ حصہ الزام سارے

Advertisements

One thought on “محبتوں کے دیس کے باسی

  1. tahir مارچ 14, 2013 وقت 3:46 شام Reply

    buht khooob

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: