کہانی سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کی


خود کلامیاں : بلال ساجد

  دیکھیں جی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کا شروع سے یہ خیال تھا کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہم خیال قوتوں کو مل کر الیکشن میں جانا چاہیئے اور کم سے کم ایجنڈے پہ اتفاقِ رائے پیدا کر کے آگے بڑھنا چاہیئے۔

پورے پاکستان میں بالعموم اور کراچی و بلوچستان میں بالخصوص مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا ہونا چاہیئے اور حالات کو بہتر کرنے کے لیے اور بلوچستان میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیئے ۔۔۔ لیکن تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست یا یوں کہہ لیں کہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں یہ کوششیں ناکام ٹھریں اور جماعتِ اسلامی نے محسوس کیا کہ مسلم لیگ نواز اور تحریکِ انصاف کا ایک سٹیج پہ بیٹھنا ممکن نہیں رہا!

اِس کے بعد، جماعتِ اسلامی نے یہ کوشش کی کہ کم از کم بلوچستان اور کراچی ایشو پہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا جائے اور خدانخواستہ 1971 کی تاریخ کو نہ دوہرایا جائے لیکن کچھ عوامل ایسے تھے جس کی وجہ سے ہماری یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی اور یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

دوسری طرف، جماعتِ اسلامی تنہا پروازی سے کسی بھی وقت خوفزدہ نہیں تھی اور ہم اکیلے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیتے لیکن ملک کے موجودہ حالات میں جماعت سے باہر بیٹھے ہمارے کچھ ہمدرد ہمیں بار بار یہ مشورہ دے رہے تھے کہ دائیں بازو کا ووٹ تقسیم نہ ہونے دو ورنہ پیپلز پارٹی کی حکومت آ جائے گی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کے اندر بھی اس حوالے سے دو طرح کی رائے پائی جاتی تھی ۔۔۔

اول، کسی کے ساتھ اتحاد یا ایڈجیسٹمنٹ نہ کی جائے اور تنہا پرواز کی جائے۔ دوم، مسلم لیگ نواز یا تحریک انصاف کے ساتھ سیٹوں کی بنیاد پہ نہیں بلکہ ایشوز کی بنیاد پہ ایڈجیسٹمنٹ کی جائے۔

جماعتِ اسلامی کی مرکزی شوری نے اس پہ غور و خوص کیا اور اس ڈسکشن میں مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کی اعلی قیادت کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے ساتھ خواہشِ اتحاد کے حوالے سے ساے بیانات پہ بھی غور کیا گیا ۔۔۔ اور ۔۔ قرعہِ فال تحریکِ انصاف کے نام نکلا ۔۔۔

عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ ہمارے رابطے تو بہت پہلے سے تھے ۔۔۔ اور عمران خان صاحب نے بار بار مختلف فورمز پہ اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ جماعتِ اسلامی سے ایڈجیسٹمنٹ ہو سکتی ہے ۔۔۔ اسی بنیاد پہ ہم نے ان کی طرف قدم بڑھائے تھے اور 24 مارچ کو میٹنگ میں یہ بات تقریباً طے ہو گئی تھی کہ جماعتِ اسلمی اور تحریکِ انصاف سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کریں گی ۔۔۔

اس حوالے سے جاوید ہاشمی صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی لیکن بعد میں اس کمیٹی کا کوئی اجلاس تک نہ ہو سکا اور یہ بات آپ کو تحریکِ انصاف کے دوستوں سے پوچھنی چاہیئے کہ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔!

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ نہ ہو سکنے کی وجہ بھی بہت واضح ہے ۔۔۔ میری رائے میں کچھ ایسے لوگ، جن کے بارے میں ن لیگ کا یہ خیال ہے کہ وہ اقتدار کا فیصلہ کرتے ہیں، ۔۔۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ن لیگ، جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی تشخص رکھنے والی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرے اور یہ بات آپ ن لیگ سے ہی پوچھیں کہ انہیں کہاں سے کس طرح کے پریشر کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔!

لیکن میں عرض کروں کہ ہمارے لیے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے ۔۔ ہم نے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بغیر جتنی سیٹیں لینی تھیں سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بعد ان میں ایک یا دو سیٹوں کا اضافہ ہو جاتا لیکن ہمارا خیال تھا کہ اگر دائیں بازو کا ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہوا تو اس کا فائدہ وہی کرپٹ ٹولہ اٹھائے گا جو پچھلے پانچ سال ہم پہ مسلط رہا ہے!

Advertisements

Tagged: , , ,

One thought on “کہانی سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کی

  1. Abbas اپریل 12, 2013 از 5:16 شام Reply

    JI should not align in with any one. JI should not play second fiddle to traditional parties like PTI or PMLN. in every sense JI is better than these parties. we love JI for its vision and ideology and that is certainly not to bring PMLN or PTI in power in exchange for few seats. JI should focus its strongholds rather than doing any adjustment. at most do it with religios parties but its better to go alone JI. even if JI loses it does not effect us. we will keep on supporting Tehreek e Islami

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: