بازار سجے انسانوں کے


boli

پنہاں یہیں صیاد بھی ہے دام لگائے

ہرطرف اک شور بپا ہے بھانت بھانت کی بولیاں نہ صرف بولی جارہی ہیں بلکہ بولیاں لگائی بھی جارہی ہیں بوریوں کے منہ کھل چکے ہیں انسانوں کی اس منڈی میں نہ خریداروں کی کمی ہے نہ ہی فروخت ہونے والوں کی یہ کوئی اچھنبے والی بات نہیں قیمتیں تو لگا ہی کرتیں ہیں انسان کی زندگی انہیں سودے بازیوں سے بھری ہوئی ہے اہم بات یہ دیکھنا ہےکہ کس نے اپنی کیا قیمت لگائی ؟؟؟

صورتحال بہت تکلیف دہ ہے یہاں جو جتنا بڑا بدکار اور لٹیرا ٹہرا اسکی بولی اتنی ہی مہنگی لگی کوئی کروڑوں میں بکا تو کسی کی بولی لاکھومیں لگی اور کچھ تو ہزاروں اور سینکڑوں میں ہی اپنا سوداکر گئے تو کچھ کو برادریوں ، علاقوں اور ذاتوں کے عوض بکنا پڑا ۔۔۔۔۔مگر افسوس کیا ہی گھاٹے کا سودا کیا کرنے والوں نے اپنی قیمتیں لگاتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ ان گواہیوں کا تو رب کے ہاں حساب ہونا ہے کیا ہم حساب دے پائیں گے ؟

دنیا کی چند روزہ زندگی کو کیا ہمیشگی کی زندگی پر ترجیع دینا ہوش مندی ہے ؟ 

ہمیں کیوں نہیں یہ خیال آتا کہ دنیا سے جاتے ہوئے تو ہر ایک کو خالی ہاتھ ہی جانا پڑتا ہے اپنے اعمال کے سواء کچھ ساتھ نہیں جاتا وہ کسی کے بینکوں میں پڑے کروڑوں یا اربوں ڈالر ہوں یا عینک میں لگے ڈائمنڈ ہی کیوں نہ ہوں ہر چیز یہیں اسی دنیا میں واپس لوٹا کہ جانا ہوتا ہے ۔

آہ ! ہم کیوں اس حقیقت سے نظریں چرالیتے ہیں کہ بس ایک سانس کی ڈور ٹوٹنے کی دیر ہے ہمارا سب سے قریبی عزیز ہی سب سے پہلے ہمارے جسم سے ان سب قیمتی چیزوں کو دور کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور کون جانے یہ سانسیں کب تک ہیں ۔۔۔۔ پھر یہ سب کس کے لیے ؟

میں اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھتی ہوں تو دل انتہائی دکھی ہونے لگتا ہے کہ مفاد پرست لوگوں کا ٹولہ تو جس حال میں ہے وہ ہے ہی مگر یہاں تو وہ لوگ بھی جو کئی سالوں سے مصیبتوں کی چکی میں پس رہے ہیں وہ اب بھی خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔میں سوچ رہی تھی کیا ہم اتنی مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود اب بھی خود کو بیچنے کی ہمت کر سکتے ہیں اب بھی خود کو مزید آزمائیشوں اور مصیبتوں کے حوالے کرنے کے متحمل ہو سکتے ہین جبکہ ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قوم کو اب تو اپنے دشمنوں کو پہچاننا چاہیے تھا کہ یہی تو وقت ہے ان کو پہچاننے کا کہ جن کو سوائے اپنے بینک بیلنس ،اپنی جائدادیں بڑھانے کے اور کوئی غرض نہیں نہ سسکتی ہوئی عوام سے کوئی غرض ہے نہ روز گرتی ہوئی لاشوں سے کوئی سروکار ہے جنہوں نے عوام کی رگوں سے لہو کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کا تہیہ کر لیا ہو اس ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں میں گروی رکھ دیا ہو ۔اتنے عذاب بھگتنے کے بعد تو اس قوم کو چاہیے تھا کہ یہ اب ان چہروں کو بند آنکھوں سے بھی پہچان لیتی جو اپنی منڈیریں بدلتے کبھی ایک جھولی میں تو کبھی دوسرے کی جھولی میں گر رہے ہیں اور یہ پاگل عوام تبدیلی کے نعرے لگاتی تو کہیں بڑے بڑے پروجیکٹ کے جھانسوں میں آتی پھر ان ہی کے ہاتھوں خود کو یرغمال کروانے کے لیے تیار نظر آتِی ہے ۔

کاش کہ اس قوم میں یہ سمجھ ہو کہ تبدیلی کے لیے کردار شرط لازم ہے قیادتوں کا کردار ہی دراصل تبدیلی کی ضمانت ہو کرتا ہے مخلص اور امین رہنما ہی قوموں کی تقدیریں بدلنے پر قادر ہوا کرتے ہیں

 بھلا جن کی اپنی آستینیں ہی قوم کے لہو میں ڈوبی ہوں جنہوں نے غریب کے منہ سے روٹی ، دال ،سبزی تک چھین لی ہو { کہ ایک زمانے میں غریب کو یہ تو میسر تھا مگر اب یہ بھی نہیں } ،جنہوں نے زندہ رہنا ہی جرم بنا دیا ہو ،جنہوں نے گلی گلی موت کا رقص عام کر دیا ہو ،جنہوں نے نوجوانوں کے مستقبل تباہ کر دیے ہوں جو خود ہی لوگوں کی عزتوں کے لٹیرے ہوں جو صرف اپنے مفادات کی خاطر بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کبھی ایک چھتری تو کبھی دوسری چھتری کے سائے تلے پناہ لیتے ہوں اور کون جانے کب وہ اگلی پرواز کہاں کی  بھرنے والے ہوں کہ انہیں تو منڈیروں کی کوئی کمی نہیں نا۔

تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

ایک لمحے کو رک کر ذرا سوچیے تو وہ کیسے تبدیلی لاسکتے ہیں ؟؟؟

ہاں وہ تبدیلی لاسکتے ہیں مگر

آپ کی سوچوں میں تبدیلی،

آپ کی روایات میں تبدیلی ،

آپ کے نصاب میں تبدیلی ،

آپ کے نظریات میں تبدیلی،

آپ کی تہذیب وتمدن میں تبدیلی،

آپ کے ملک کے جغرافیہ میں تبدیلی ،

اور سن سکتے ہیں تو سنیے وہ ملک جہاں اللہ کی حاکمیت کے آئین پر سوال اٹھائے جائِیں

وہاں یہ آپ کے مذہب میں بھی تبدیلی لے آئیں تو کوئی بڑی بات نہیں

کیونکہ جو قومیں اپنی تقدیر کے فیصلوں کے وقتوں میں بھی اپنی بولیاں لگوایا کرتی ہیں پھر تبدیلی ان کے جغرافیہ اور ان کے نظریات میں تو آسکتی ہے مگر ان کی تقدیروں میں تبدیلی ممکن نہیں ۔۔۔۔

کسی کو چننا یا اپنے ووٹ کے ذریعے سے اقتدار کے کرسی پر بٹھا نا کوئی معمولی یا عام سی بات نہیں ایک اہم فرض ہے جس سے کسی بھی قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ۔۔۔جی ہاں آپ کا ووٹ ہی آپ کے مستقبل کا آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ضامن ہے 

اس لیے فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیجیےگا کہ فیصلوں کے وقت گزر جائِیں تو پلٹائے نہیں جاسکتے ایسا نہ ہوکہ آج کا کیا گیا آپکا فیصلہ آپکو اگلے 5برسوں کے لیے مصیبت اور پریشانیوں کے ساتھ پچھتاؤں کی آگ میں بھی نہ جھونک دے ۔۔۔

سوچیے اس سے پہلے کہ وقت آپ سے سوچنے لی مہلت بھی چھین لے  !!

Advertisements

Tagged: , , , , ,

One thought on “بازار سجے انسانوں کے

  1. sidra hannan مئی 4, 2013 وقت 6:28 شام Reply

    behtreen…aap nay hum sb k dil ke awaz ko alfaz dy deay hen.Allah tala ap k is jihad ka behtreen ajar dy.aameen.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: