امید سے نا امیدی تک


PTI,MQM

عمران خان لفٹر سے گر زخمی ہو گئے یہ خبر صرف عمران خان کے ووٹرز کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک دردناک خبر تھی اور ہر کی زباں سے ان کے لیے ایک دعائے خیر نکل رہی تھی کیونکہ عمران صرف ایک پارٹی لیڈر ہی نہیں بلکہ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور کسی بھی ملک کا قومی ہیرو اس ملک کے باسیوں کا اثاثہ ہوا کرتا ہے ۔

میں بھی باقی سب پاکستانیوں کی طرح فکر مند اور دعائیں کرتی رہی کہ اللہ پاک انکو مکمل صحت یاب کرے۔

میں خود عمران کا نیا پاکستان والا نعرہ کا سن کر بہت خوش ہوتی اور ایک امید ہوتی کہ پاکستان کا درد رکھنے والا یہ شخص تبدیلی کا خواہاں ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پوری نوجوان قوم کو جمع کرنے کا سہرا عمران ہی کے سر جاتا ہے  میری طرح پوری قوم کو عمران سے بہت امید تھی ۔

مگر میری خوشی اس وقت دکھ میں بدلنی شروع ہو گئی جب عمران نے اپنے ساتھ وہی پرانے شکاری جمع کر لیے اور ان کی اکثریت کو دیکھ کرمیں یہ سوچتی کہ ایک عمران کو اگر نکال دیا جائے تو اس پارٹی کا کو ئِی بھی نام رکھا جا سکتا ہے پوری پارٹی میں ایک عمران کے سواء کوئِی دوسرا چہرا مجھے ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا اور جب اتنے لوگ ایک ہی سوچ کے جمع کر لیے جائیں تو پارٹی میں ایک فرد کو اپنا فیصلہ منوانا کتنا دشوار ہوتا ہے چاہے وہ اس پارٹی کا صدر ہی کیوں نہ ہو کہ اسکا نمونہ ہم کئی مواقع پر دیکھ ہی چکے ہیں  وہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ والے معاملہ ہو یا کوئی اور فیصلہ کہ عمران شروع سے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹ منٹ کا عندیہ دینے والے اور شدید خواہش رکھنے کے باوجود {اسکا اظہار وہ کئی پروگرامات میں برملا کر چکے تھے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی اور سے ممکن ہی نہیں کو ئِ سیٹ ایڈجسٹ منٹ ہو }وہ کچھ نہیں کر پائے اس لیے کہ پارٹی کے باقی لوگ کسی اور ہی نظریہ اور سوچ کہ ہیں اور مجھے انتہائی دکھ سے لکھنا پڑھ رہا ہے کہ پی ٹی آئِ کی مرکزی رہنما کی بیٹی  ایمان مزاری کی وہ ٹیوٹس کہ جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹ منٹ سے بہتر ہے تحریک انصاف احمدیوں سے مل جائے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران جو ایک اسلامی ریاست ، مدینہ جیسی ریاست بننے کا خواب دیکھ رہا تھا وہ کیسے ریزہ ریزہ ہونے جارہا ہے  اس وقت جبکہ عمران خود ان کے درمیان موجود ہے اس پارٹی کا صدر ہے اس کے باوجود وہ کوئی فیصلہ خود اپنی سوچ اور اپنے نظریہ سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں جسکا ایک اور ثبوت پیپلز پارٹی سے سیٹ ایڈ جسٹ منٹ کی صورت میں نظر آتا ہے  میرا دل نہیں مانتا کہ عمران یہ سب کر سکتا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ان ہی لوگوں کے ساتھ کیسے ایڈجسٹمنٹ کر سکتا ہے نہیں وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتا مگر اس کے جمع کیا ہوا ٹولہ جن کے لیے ہارون الرشید بڑے دکھ سےکہتے ہیں کہ ” یہ عمران غلط  ہاتھوں میں چلا گیا ۔”
ایک اور خبر جو کراچی کی دکھوں اور مصیبتوں کی چکی میں پسی عوام کے لیے انتہائی رنج اور دکھ کا سبب بنی وہ یہ کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں ایک خفیہ معاہدہ طے پا چکا ہے

آہ۔۔ کیا خبر تھی جو کسی بم سے کم نہ تھی کراچی عوام جس پر پہلے ہی بہت بم گرائے جاتے رہے ہیں کیا وہ ایسے نازک وقت میں یہ تکلیف دہ خبر سننے کی متحمل ہو سکتی تھی ؟؟

ایم کیو ایم  کی خونی تاریغ سے کون نہیں واقف اور عمران جیسا شخص جس نے ہمیشہ ہی ایم کیو ایم کو للکارا اور میں عمران کی وہ تقریر دیکھتی ہوں تو یقین نہیں آتا نہیں ہمارا ہیرو بوریوں سے ڈرنے والا تو نہیں تھا پھر یہ کیا ہوا ؟؟؟ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایک دم یہ توپیں کیوں خاموش ہو گئیں تھیں کل بھی رات کے اندھیرے میں آکر بغیر  خطاب کے کیوں واپسی ہوگئی ؟؟یہ کیسے پلٹا کھایا ؟اور جب یہ بات آرہی تھی کہ کیا ایم کیو ایم ایک سے کوئی معاہدہ تو نہیں کرلیا تو عمران اسماعیل  پی ٹی آئی کے جنرل سیکٹری نے پوری قوم کے سامنے ایک ٹی وی پروگرام میں اس بات کی تردید کی 

مگر آج کا دور تو میڈیا کا دور ہے وہ چاہے سوشل میڈیا ہو جہاں بات لمحوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے یا الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا ہو اب کچھ چھپ نہیں سکتا چاہے وہ معاپدات کتنے ہی خفیہ کیوں نہ ہوں اسی لیے  آج ڈان کی اس خبر نے سب عیاں کر دیا تھا کچھ بھی تو نہیں چھپا تھا ۔

یہ بات تو میثاق جمہوریت میں واضع طور پر درج ہے کہ کوئی پارٹی ایم کیو ایم سے الائینس نہیں کریگی اور پی ٹی آئی اس میثاق جمہوریت کا حصہ ہے یہ تو اس قوم کے ساتھ  کھلی غداری تھی جس کا جواب دینا ہوگا ۔۔۔ ایک دکھ تھا جو ختم  نہیں  ہو رہا تھا ۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ہمارے ہی قاتلوں سے دوستیاں کر لیں آپ کیسے بھول گئے ان بوڑھے کاندھوں کو جنھوں نے جوان لاشے اٹھائے ، کیا جواب دے سکیں گے ان ماوں کو جو یہ آس لگائے ہوئے تھیں کہ اب دکھ کے دن تھوڑے ہیں کیسے سامنا کر سکیں گے اب کراچی والوں کا ۔

 اب سمجھ آرہی تھی کہ کراچی میں پی ٹی آئی ایم کے خلاف دس جماعتی اتحاد کا حصہ کیوں نہیں بنی تھی اور کراچی جہاں ایم کیو ایم کو صرف اور صرف ایک ہی جماعت منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے پی ٹی آئی نے اس سے اتحاد کرنے کے بجائے اسکا ووٹ کیوں کاٹا ۔۔۔اس لیےکہ اس کا سارا کا سارا فائدہ ایم کیو ایم کو جاتا ہے ۔۔۔

مگر اب بھی مجھے عمران کی نیت پر شک نہیں مجھے یقین ہے وہ پھر ایک بار مجبور کیا ہو گیا ہوگا اپنی پارٹی کے اسی ٹولے کے ہاتھوں مجھے لگا کتنا سچ تھا جو ہارون الرشید نے کہا ۔۔۔۔۔

سوالات کا ایک انبار تھا جن کے جوابات تلاش کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آرہے تھے ۔۔ابھی پارٹی کی یہ صورتحال ہے جہاں پارٹی کا صدر اتنا بے بس ہو ایسی پارٹی اگر اقتدار میں آجاتی ہے تو کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اس قوم کےلیے ۔۔۔۔

کل عمران کے زخمی ہونے کے بعد سے ایک اور سوال تھا جو مجھے رہ رہ کرستا رہا تھا کہ زندگی اور موت تو کسی کے بھی اپنے اختیار میں نہیں ہے اگر اس حادثہ میں خدا نخواستہ عمران کو کچھ ہو جاتا تو اس کی پارٹی میں پیچھے کون ہے جو عمران جیسا مخلص ہو ،؟ کون ہے جو عمران کی طرح اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواہش مند ہو ؟؟ یہ وہ سوال تھا جس کا جواب مجھے نہیں مل پایا کہ کیا پارٹی صرف ایک فرد کا نام ہوتی ہے ؟ نہیں پارٹی تو ایک نظریہ کا نام ہوتی ہے ایک فکر کا نام ہوتی ہے اس پارٹی میں ایک فرد کے چلے جانے سے نظریہ یا فکر نہیں بدل جایا کرتیں ۔ اس لیے اب فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا زمینی حقائق کو صرف اس لیے نہیں نظر انداز کیا جاسکتا کہ ہم کسی ایک فرد کے فین ہیں نہیں بلکہ ہمارے لیے وہ پارٹی اہم ہونی چاہیے جس کا ایک عام فرد بھی اپنے لیڈر کا نظریہ ویسی ہی سوچ اور فکر رکھتا ہو اور اس کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان عمل میں سرکرداں ہو جو کسی سے ڈر کر اپنے نظریہ اپنی سوچ کو نہیں بدلتا ہو لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو خود نہیں بدلتا بلکہ قوم کے تقدیر بدلنے کے لیے پہاڑ جیسی قوتوں سے بھی ٹکرا جاتا ہے ۔۔۔اور اتنا سب سامنے آنے کے بعد بھی کیا اب کوئی شک رہ جاتا ہے اس بات میں کہ عمران خود بھی اپنی پارٹی میں کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

سوچیے کہیں ایسا نہ ہو کہ آج جن لوگوں کو ہم چن لیں کل ہم ہی انکی پالیسیوں پر انکو گالیاں دینے والے ہوں  کیوں کہ جہاں ذاتی مفادات کو برتری حاصل ہو ں وہاں سب کچھ ممکن ہے ۔۔۔۔ وقت بہت کم ہےاور اس وقت لوگ جذباتی کیفیت سے دوچار ہیں مگر یاد رکھیے فیصلے جذبات سے نہیں کیے جاتے بلکہ ہوش وحواس سے کیے جانے والے فیصلے ہی دیر پا نتائج رکھتے ہیں  ۔۔۔سوچیے ضرور

Advertisements

Tagged: ,

6 thoughts on “امید سے نا امیدی تک

  1. Zubair مئی 8, 2013 وقت 11:36 صبح Reply

    can we have link of the above news?? that PTI and MQM are in alliance??

  2. majidanwar مئی 8, 2013 وقت 12:38 شام Reply

    Ap ny jo likha wo apka nazareya hay agar MQM or PTI ny koi mohaeda kya hay tu wo Pakistan ki bhteri ky leay hy party quaidien bhter soch sakty hain banisbat apky. Imran Khan koi bacha nhe jisko talwar ki nook py kaha gaya ho ky khufia mohaeda karo wrna is dafa tmhy Minar-e-Pakistan sy phank deya jae ga. . MQM may bhe insan he hain yea ap jasy log he isay har jaghan ganda karny per tuly houay hain. Zara sochey!

  3. مریم مئی 8, 2013 وقت 12:52 شام Reply

    میں تو یہ سوچ رہی تھی کل کہ عمران خان نہ ہو تو پارٹی کا شیرازہ بکھر جاے شاید .. کون سا نکتہ ہے جس پر سب اکٹھے ہوں گے ؟ بس دعا ہے الله ہمارے شہر اور ملک پر بہت رحم فرماے آمین !

  4. Abbas مئی 8, 2013 وقت 8:01 شام Reply

    Majid Anwar Munafiqat ki kuch inteha hoti hai. Imran Khan nay 6 sal pehlay khud Altaf kay khilaf London mai case kiya. Imran Altaf ku 234 Insaano ka Qatil aur MQM ku aik Mulk dushman dehshatgard tanzeem kehtay thay.lekin aaj aap PTI kay U-Turn ki waja say iss dehshatgard tanzeem ko defend kar rahay hain.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: