"انتخابات 2013 اور جماعت اسلامی ” ایک تجزیہ


مصنف : جویرہ سعید

٢٠١٣کے انتخابات کئی اعتبار سے جماعت اسلامی کے لئے اہم تھے اور کارکنان کو بہت پر امید اور پر جوش کیے ہوے تھے. پہلی مرتبہ کسی سے اتحاد کیے بغیر اپنے نام اور منشور کے ساتھ اتخابات میں شرکت، پچھلے برسوں میں مختلف شعبہ ہاے زندگی میں کی گئی محنت، مثلا بہت سے فلاحی اور تعلیمی اداروں کا قیام،اور بے شمار منصوبوں اور پروجیکٹس،کی بنا پر عوام میں بڑھتا ہوا نفوذ، MMA کے دور حکومت اور کراچی کی میر شپ کے دوران حکومت کا تجربہ،اور کمائی جانے والی نیک نامی وہ امید کی کرنیں تھی جو کارکنان کو سرگرم کر رہی تھیں. دوسری طرف ملک کے بدترین حالات، لاقانونیت، کرپشن، مہنگائی، ملکی سلامتی کو در پیش خطرات کے سبب عوام میں بڑھتا ہوا غم و غصہ اور بظاھر روایتی سیاسی جماعتوں سے بے زاری بھی امید دلا رہی تھی کہ عوام متبادل قوتوں کے منتظر ہیں، اور جماعت کی گزشتہ برسوں میں کی گئی محنت اس کو اس متبادل قوت کے طور پر سامنے لا رہی ہے. لہٰذا کارکنان اور خصوصا نوجوان نسل نے بری محنت اور جوش و جذبے سے کام کیا اور اب تک مختلف پہلوؤں سے جو کمیاں محسوس ہوتی تھیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی. جیسا کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے جماعت کے مکمل black out کے نقصانات کو زبردست سوشل میڈیا مہم کے ذریے پورے کرنے کی کوسش قابل ذکر بھی ہے اور قابل ستائش بھی

 

لیکن ان سب کے بعد انتخابات کے نتایج اور کراچی میں انتخابی عمل کے boycott نے ان پر جوش کارکنان میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی. جماعت کے زبردست نظام سمع و اطاعت اور تربیت نے الحمدللہ کوئی انتشار یا بد مزگی تو نہیں پیدا ہونے دی، لیکن اندرون خانہ کارکنان سے لے کر ہمدردوں اور متاثرین تک میں صدمے، اضطراب،اور مایوسی کی تند و تیز لہریں اٹھتی رہی ہیں. خصوصا ان افراد میں جنہوں نے انتخابات میں بہت جوش و جذبے اور اچھے نتایج کے یقین کے ساتھ حصہ لیا تھا. مختلف سوالات ہیں جو مضطرب ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں،ان میں دو سوالات اہم ہیں،

 

١) انتخابات میں ناکامی کہیں خود جماعت کی ناکامی تو نہیں، یہ اس بات کا مظہر تو نہیں کہ جماعت اپنی دعوت کے نفوز میں ناکام رہی ہے. اور کیا جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ عمومی تاثر درست ہے کہ یہ ایک ناکام جماعت ہے جو کبھی بھی خاطر خواہ سیٹیں نہیں لے سکی اور عوام کی نمایندہ جماعت نہیں بن سکی؟ ٢) جماعت کو ان ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، جس کے لئے اس کو ایک زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے، اور یہ تبدیلی افکار و طریقہ کار اور mind set سب میں ناگزیر ہے. اور جماعت ان کو اختیار کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟

 

ہم نے یہاں سوالات کا الگ الگ تجزیہ کرنے کی کوسش کی ہے. پہلا سوال اب تک کی گئی جدو جہد سے متعلق ہے اور دوسرا سوال آنے والے وقتوں میں درست سمت میں چلنے کے لئے تبدیلی اختیار کرنے سے تعلق رکھتا ہے.

 

پاکستان میں انتخابات کا عمل، عوام کی اس میں شرکت، اور اس کے نتایج دو اور دو چار کی طرح سیدھا معاملہ نہیں ہے. اس میں بہت سے عوامل دخل انداز ہوتے ہیں. لسانی ، صوبائی، مسلکی عصبیتیں، جاگیر دارانہ نظام اور وڈیرہ شاہی، دولت کا عمل دخل، لاقانونیت، عوام میں خواندگی کی شرح اور سیاسی بیداری کی کمی، بیرونی طاقتوں کی ملکی حالات پر گرفت، ملکی اداروں کا ان کے زیر اثر اور جانبدار ہونا ،سب ہی اہم ہیں. مذہبی جماعتوں سے پاکستانی قوم کی عقیدت اور وابستگی اپنی جگہ اور عملی زندگی میں الگ معیارات ہوتے ہے. اس اعتبار سے پاکستانی قوم ایک منفرد قوم ہے. مصر، ترکی، اور دوسرے ممالک کے بر عکس اس قوم نے اسلام مخالف قوتوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا. مذہبی معاملات پر یہ مخالف قوتوں کے خلاف مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر سینہ سپر ہو جاتی ہے، کہ مذہب بے زر قوتوں کو بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتی ہے اورانھیں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنا کام کرنا پر تاہے.دوسری طرف اپنی اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو مذہب کے مطابق ڈھالنے اور روایتی مذہبیت سے بڑھ کر عملی تقاضوں کو پورا کرنے میں وہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں اتی. یہی تناقص سیاسی میدان میں مذہبی جماعتوں کا ساتھ دینے میں بھی مانع رہا ہے.

 

ان سب زمینی حقائق کے پیش نظر جماعت اسلامی جیسی اصولی موقف اور طریقہ کر رکھنے والی پارٹی کے لئے انتخابات ایک بہت بڑا چیلنج ہوا کرتے ہیں.اتنے بہت سے محازوں پر چو مکھی لڑائی لڑنا،اور اپنے دامن کو ان سری آلائشوں سے بچاتے ہوے کامیابی کے لئے کوششیں کرنا اتنا آسان نہیں. اور اسی بنا پر دوسری جماعتوں کے ساتھ موازنہ بھی معقول نہیں لگتا. اس سری صورتحال میں ہمارا ایک ووٹ بھی بھرتی کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے بری عرق ریزی اور محنت ہوتی ہے.

 

ان سب باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جماعت سے غلطیاں نہیں ہوئیں. ظاہر ہے کہ کوئی بھی صاحب عقل ایسی بات نہیں کر سکتا. بلا شبہ غلطیاں بھی ہوئی ہیں، اور ان کا گہرائی سے تجزیہ اور بروقت اصلاح بھی ضروری ہے، لیکن یہاں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ غلطیوں کا تجزیہ اور تنقید بارے اصلاح اور چیز ہے اور انتخابات میں ناکامی کی بنا پر پوری تحریک اور اس کی جدوجہد کو سوالیہ نشان بنا دینا اور بات ہے.

 

بیان کیے گئے عوامل کے پیش نظر ہماری راہے یہ ہے کہ انتخابات میں ناکامی یا کامیابی کو جماعت کی دعوت کے نفوذ کا معیار نہ ہی بنایا جاے تو بہتر ہے.بلکہ اس کو کچھ اور ہی اثرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے.

 

گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے حالات اور چلینجز کو دیکھیں، اور اس کے مقابلے میں مذہبی قوتوں اور خصوصا جماعت اسلامی کی جدوجہد کا جایزہ لیں تو یہ کہے بغیر رہنا ممکن نہیں کہ یہ الحمدللہ جماعت کی دعوت کی روز افزوں ترقی کا سفر ہے. جو جماعت ستر افراد اور ستر روپوں سے شروع ہوئی ، تمامتر کٹھنائیوں کے باوجود آج اس کے کارکنان، ہمدردوں اور متاثرین کی تعداد اور اثاثوں کا اندازہ لگائیں. اسلامی دستور کی تیّاری، کمیونزم اور سیکولرازم ،غیر ملکی مداخلت کے مقابلے میں کامیاب جدوجہد ، ہر شعبہ زندگی میں اسلام پسند رحجانات اور افراد کا پایا جانا، اسلامی نظام، احکامات، اصطلاحات اور شعائر کے حوالے سے عمومی نقطۂ نظر میں مثبت تبدیلیاں (acceptance) ، نظری اور عملی اعتبار سے ان کے قابل عمل اور مفید ہونے کا اعتراف (اقتدار و اختیار کی طاقت کے بغیر ہی ) اور ان کے حوالے سے stereotypes میں تبدیلیاں،بے شمار فلاحی و تعلیمی اداروں اور منصوبوں کا قیام  پرہے لکھے اور دیانت دار افراد کی ایک کھیپ کا تیّر ہو کر ہر شعبہ زندگی میں مصروف عمل ہونا، اور پوری دنیا  ان افراد اور دعوت کے ذزایو کے ذریے بے شمار اسلامی تحریکوں کا پھلنا پھولنا وار تقویت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خیر کثیر ہے جو جماعت کے حصّے میں آیا ہے. یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقتدار و اختیار کے ایوانوں میں رسائی کے سلسلے میں اس جماعت کو جس قدر تسلسل کے ساتھ ناکامیاں دیکھنی پڑی ہیں، اس کے باوجود نہ اس کا سفر رکا اور نہ ہی وہ کسی بری تقسیم کا شکار ہوئی، بلکہ روز بروز آگے بڑھتی جا رہی ہے. اس کے برعکس دوسری پارٹیز نے ہمیشہ اقتدار کے مزے بھی لوٹے، بیرونی طاقتوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی، دولت کے سر چشموں کو سے بھی مستفید ہوتے رہیں، اور معاشرے میں پائی جانے والی کمزوریوں کا بھی ہمیشہ ان ہوں نے فائدہ اٹھایا. اس کے باوجود وہ مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم دار تقسیم سے بھی دو چار ہیں.

 

ان اتخابات کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اٹھ رہا ہے کہ جماعت اسلامی جیسا نصب العین اور طریقہ کر رکھنے والی تحریک کے لئے انتخابات والا option کام آ بھی سکتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے، لکن اس سوال کا اٹھنا بذات خود اس بات کا مظہر ہے، کہ انتخابات میں ناکامی کی وجہ محض دعوت کے نفوذ اور محنتوں میں کمی ہی نہیں بلکہ یہ دوسرے عوامل بھی اہم ہیں.

 

یہاں ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہیں کہ غلطیوں کا ہونا اپنی جگہ مسلم ہے اور اصلاح بھی بہت ضروری ہے، لکن شدید بےچینی اور کسی حد تک مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم انتخابات کی ناکامی کو اپنی جماعت کی ناکامی یا کامیابی کا معیار بنا رہے ہیں. ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لمحات کو طول دیے بغیر نئے عزم و حوصلے کے ساتھ تعمیری تنقید اور اصلاح کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھایا جے.

 

دوسرا سوال جماعت کے افکار و طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت اور جماعت کی طرف سے اس سے گریز سے متعلق ہے. اس سلسلے میں جو بحث جاری ہے اس کا حاصل یہ کہ جماعت کو وقت کے تقاضوں اور ناکامیوں کی پیش نظر تبدیلیوں کے لئے تیّار بھی رہنا چاہیے، اپنے اندر جذب بھی کرنا چھیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کو اختیار بھی کرنا چاہیے. اس بحث کا ایک "silent observer” کی حیثیت سے ہم نے جو جایزہ لیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کا یہ مطالبہ دو مختلف گروپس کی جانب سے ہے. بادی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بری تعداد میں لوگ تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر کچھ وجوہات کی بنا پر ان پر غور نہیں کیا جارہا. لیکن ذرا سا گہرا مطالعہ اور مشاھدہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ ان دونوں گروپس کے نظریات و مطالبات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. یہ دوطرح کی سوچیں intellectual سطح سے لے کر عام ذہنی سطح تک نظر اتی ہیں. اس لئے تبدیلی کا یہ عمل اتنا آسان نہیں جتنا بظاھر معلوم ہوتا ہے.

 

ایک گروہ وہ ہے جو برس ہا برس کی روایات ، طے شدہ اصولوں اور معیارات پر سختی سے قائم ہے،اور لچک اور وسعت کو طغیانی، اور اصل سے انحراف سے تعبیر کرتا ہے، ان کے مطابق ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ، لچک اور وسعت کے نام پر ہم اپنے اصولوں سے انحراف کرتے رہے ہیں، اگر :حقیقی کامیابی” مطلوب ہے تو "اصل” کی طرف واپس لوٹنا ہو گا. دنیا اور اس کے حالات کو سمجھ کر اپنی reshaping کے بجاے دنیا کو اپنی دعوت اور standards کے مطابق ڈھالا جاے. اور اسی حوالے سے اپنی دعوت کو موثر بنایا جاے. اس نقطہ نظر کے بہت سے shades ہیں، جو مختلف روےیوں میں نظر اتے ہیں. اس گروہ کی قیادت علمی شخصیات کے ہاتھ میں ہے، جن کا علمی اور نظری سرمایا اسلاف کا علمی زخیرہ ہے، اور بادی نظر میں ان کا موقف قرآن و سنّت کے این مطابق بھی نظر اتا ہے.

 

دوسرا گروہ وہ ہے جو بدلتے ہوے حالات ، اور اس کے تقاضوں کو مد نظر رکھنے ، اسلام کی آفاقیت اور اجتہادی قوت کو بروے کار لانے، بنیادی اسلامی اخلاقیات کو مرکز دعوت بنانے اور اسی حوالے سے نظریات اور معاملات کو وسعت اور لچک دینے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے. مقصد زیادہ سے زیادہ لوگو ں کو ہمرکاب بنانا اور اسلام کے دامن رحمت میں سمیٹنا ہے.اس گروہ کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کو خطے سے بہار نکل کر نئی دنیاؤں میں کام کرنے کے مواقع میسّر آہے ہیں.اور اس کے لئے وہ عالم اسلام میں برپا اسلامی تحریکوں کی بدلتی ہوی پالیسیز ، stretegies اور ان کے مثبت نتایج کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں.

 

ان دونوں گروپس کے اخلاص، اپنے اپنے دائروں میں کی گئی محنت تجربات اور دلائل کے معقول ہونے سے انکار ممکن نہیں. ان کا اصرار بھی سمجھ میں اتا ہے. لکن ان کا اختلاف اس بات کا مظہر ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو من و عن اپنا لینا اور دوسرے کو خاطر میں نہ لانا ممکن نہیں ہے. گو کہ ہر دو کا اصرار یہی ہے، لکن تحریک کی قیادت کے لیے یہ ہی کرنے کا کام ہے کہ دونو کے بین بین کیسے درمیانی راستہ نکالا جاے. اور یہی قیادتوں کا امتحان ہوا کرتا ہے کہ وہ لمحہ موجود سے بلند ہو کر انے والے وقتوں کے لئے تحریک کا صحیح رخ متعین کر دیں. لکن ساتھ ساتھ خود ان گروپس کے افراد کو بھی درمیانی راستہ اختیار کرنے کے لئے ایک دوسرے ک راے کا احترام اور اپنے موقف کی کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہو گی.ورنہ یہ سب صرف اختلاف اور شور ہی رہے گا، اور اس سے انتشار، تلخیوں، بد گمانیوں اور تقسیم کے سوا کیا حاصل ہو گا ہم نہیں جانتے. اسی لیے ہم کہا کرتے ہیں، مسائل کے حل کو ذرا ایک طرف رکھئے، پہلے آئیے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں.”

Advertisements

Tagged: , ,

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: