Category Archives: ابلاغ

ادھورا احتجاج کیوں؟


 

آج کا دن کچھ مختلف سا لگا شاید اسلئے کہ مایوسی کی اس فضا میں کہیں سے بھی ہلکی سی بھی کوئی کرن نمودار ہو تو ہمیں امید نظر آنے لگتی ہے۔ آج بھِی ایسا ہی کچھ ہواتھا صبح حامد میر MQM-btngصاحب کے کالم “بکواس ” سے ہوئی ابھی وہ پڑھ کے فارغ ہی ہوئی تھی کہ عرفان صدیقی صاحب کا انقلاب کی حقیقت کو چاک کرتا ” انقلاب تاج برطانیہ” سامنے ہی تھا اور پھر انصار عباسی صاحب اور دیگر کے کالمز بھی اس عظیم تقریر پر سراپا احتجاج نظر آئے۔ آپ سمجھ تو گئے ہی ہونگے کہ میں کس تقریر کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ جی بلکل وہی جسےبراہ راست دکھانے میں ہمارے ہر چینل نے سب سے پہلے میں کی دوڑ کو جیتنے کی پوری کوشش کی تھِی اور اپنی اس وفاداری میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

 

ویسے تو ہمارے صحافی بھائی ہمیشہ ہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اگر پورا نہیں بھی تو کچھ سچ ضرور بتانے کی کوشش کرتے ہیں مگر آج کا لب و لہجہ ذرا الگ ہی تھا۔ بات بھی کوِئی معمولی نہیں تھِی آخر صحافت کو للکارا گیا تھا اور وہ بھی نام نہاد پڑھی لکھی پارٹی کے لیڈر جو پچھلے کئی عشروں سے لندن میں مقیم ہیں جہاں جانوروں سے مخاطب ہونے کے بھی اصول ہوتے ہیں مگر شاید ان کے وہاں گزارے گئے عشرے بھی انکا کچھ نہیں بگاڑ پائے کہ بقول شاعر:
خمیر ہی ایسا تھا

 

خیر مجھے جہاں ان سب صحافی بھائیوں کی سراپا احتجاج ہونے پر خوشی بھی تھی کہ یہ ان سب کے ضمیروں کے ابھی تک زندہ ہونے کا ثبوت تھا مگر وہیں مجھے تھوڑی حیرت اور کچھ دکھ نے بھی آن گھیرا تھا۔ حیرت اس بات کی کہ کیا واقعی یہ ان سب خبروں اور منظر عام پر آنے والی ان ویڈیوز سے اب تک انجان تھے جو بہت عرصے تک سوشل میڈیا کی زینت بھی بنی رہیں تھیں جن میں کہیں سلمان مجاہد بلوچ یوسی ناظم سٹی گورنمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنا بیلٹ اتار کرمخالف پارٹی کی رکن خاتون کی پٹائی کرتے
ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں مشہور و معروف ناظم  مصطفی کمال صاحب کسی ہسپتال میں بستر مرگ پر موجود اپنے باپ کے لیے روتی ہوئی خاتوں کو گالیاں دیتے اپنے پڑ ھے لکھے ہونے کا ثبوت پیش کرتے نظر آئے۔ مگر ان سب پر تو کوئی آواز نہ اٹھا ئی گئی نہ ہی کوئی برہم ہوا کہ جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ کیڑے  مکوڑے ہوں جن کی نہ کوئی اوقات ہو نہ ہی عزت  جس کا جب جی چاہے انہیں ذلیل و رسوا کر ڈالے۔

 

اورتو اور دکھ تو اس بات پر ہوا کہ آج بھی جب اس عظیم تقریرمیں کی گئی اس “بکواس “پر برہمی کا اظہار تو کیا گیا مگر کیسے؟؟؟ حامد بھائی آپ  نے اگر وہ عظیم تقریر پوری سنی ہو تو یقینا آپ نے اور باقی صحافی بھائیوں نے وہ سب بھِی سماعت فرمایا ہوگا جو ادارہ نور حق میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کو  مخاطب کر کے انہیں جن القابات سے نوازا گیا اور جس طرح سر عام اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری گئیں اور کس طرح کھلم کھلا دھمکیاں دی گئیں کہ کراچی کو چھوڑ دیا جائے اور یہ کہ اگر بھائی کو جلال آگیا تو وہ اپنے کارکنوں کو کھلا چھوڑ دینگَے یعنی کارکن نہ ہوئے۔۔۔

یہ تو مالک کے وفادار اور بندھے ہوئے۔۔۔ جو مالک کا اشارہ پاتے ہی مخالف کو اپنے پنجوں میں جکڑ لینگے۔۔۔

 

پارٹیوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں اختلاف کرنا ہر کسی کا حق ہے مگریہ سب  تہذیب کے دائرے میں ہونا شرط لازم ہے مگر یہ کونسی سیاست ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو ننگی گالیاں دی جائیں اور دھونس و دھاندلی سے انہیں شہر چھوڑنے کا حکم دینا اور شہر نہ چھوڑنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں۔۔۔

 

میں بہت دیر اس بات پرافسوس کرتی رہی کہ صحافی بھائیوں کو کیا اپنے ان کالمز میں اس سب  پر بھی احتجاج نہیں کر نا چاہیے تھا جو کہ ان کی صحافت کا فرض بھی بنتا تھا۔ مگر شا ید ہماری قوم کی بدلتی روایتوں میں ایک اور اضافہ یہ بھی ہوا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی بات  کا نوٹس نہیں لیتے جب تک وہ ہماری اپنی ذات پر نہ ہو مگر ہم یہ سب بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم نے کسی دوسرے پر اٹھنے والی انگلی کو نہ روکا تواس امر میں کوئی شک نہیں کہ اگلی بار وہ انگلی آپ پر اٹھے گی۔

 

آج ان کالمز کو پڑھ کر بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ صرف بکواس کہنے پر برہم ہونے والے یہ کیوں بھول گئے کہ آج  اگر انھوں نے ان گالیوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا کہ مخاطب  وہ نہیں بلکہ کوئی اور تھا توصاحب آپ ہرگز یہ مت بھولیے کہ اگر ایسے لوگوں کی زبان بندی نہ کی جائے تو مخاطب بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔

 

میں یہ سوچنے لگی کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کیا کوئی قانون نہیں جس کا جب جی چاہے سربازار دوسرں کی عزتوں پر حملہ کردے کوئی اسکو روکنے والا نہیں۔۔۔

یقینا قانون تو بہت ہیں مگر ان پر عمل کروانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔۔۔

کہا ں تھا پیمرا جب ہر چینل سے ہتک آمیز اور اخلاق سے عاری وہ غلاظت براہ راست اگلی جارہی تھی؟؟؟

کیوں ان چینل کی نشریات کو بند نہیں کردیا گیا؟؟؟ اور آج بھی اتنے دن گزر جانے کے باوجود کیا پیمرا نے کوئی نوٹس لیا؟؟؟

آخری امید کے طور پرمیری نگاہیں اب چیف جسٹس صاحب کی طرف لگی ہیں کہ دیکھیں وہ اس حملہ اور دھمکی پر کب سوموٹو ایکشن لینگے ، میں نہیں جانتی میری یہ امید پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں مگر بس اک آس سی ہے اور میری دعا ہے کہ یہ آس نہ ٹوٹے اور کوئی تو ہو جو کھلم کھلا دھمکی اور شرفاءکی عزتوں پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھوں کو روکنے والا ہو۔

کھوتا پیر یا بابا کھمبا پیر


 

بہت ہی بھیانک منظر تھا میں کچھ لمحوں سے زیادہ نہیں دیکھ پائی اور میرا ہاتھ فورا ہی کی بورڈ کی طرفبڑھا اور میں نے سامنے چلنے والی وڈیو کو اس قدر تیزی سے بند کیا کہ اگر اسے بند نہ کیا تو کہیں میرے ایمان خطرے میں نہ پڑ جاے۔۔۔۔۔۔!!۔بابا

 

یہ شاید ایک سال پہلے یا اس سے بھی کچھ پہلے کا واقعہ ہے جب میں نے ایک دن اپنا میل بکس چیک کیا  توبہت سی میلز کے ساتھ ایک میل ایسی  بھی تھی جس میں ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا اور اوپر جن القابات سے نوازا گیا تھا ان کی وجہ سے میں نے تذبذب کی سی کیفیت میں وہ وڈیو اوپن تو کر لی مگر یہ کیا دیکھا تھا میری نظروں نے ۔۔۔ !!

 

یہ سب توہم نے فرعونوں کی تاریخ میں کہیں پڑھا تھا ایسا منظر تو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

قوالی کے الفاظ کچھ یوں تھے ؛ جس جا نظر آتے ہو سجدے وہیں کرتا ہوں ، ان سے نہیں کچھ مطلب کعبہ ہو یا بت خانہ ۔۔۔ وہ آج کا فرعون تھا جو ایک کرسی پر بیٹھا تھا محفل سماع تھی اور ایک کر کے مرید نامی (پاگل) جانوروں کی طرح چار پیروں پر چلتے ہوے آتے اورآج کے اس فرعون کو سجدہ کرتے {انا للہ وانا الیہ راجعون} اور اس وقت تک سجدے سے سر نہ اٹھاتے جب تک وہ ان کے سروں پر تھپکی دے کر یا سینے سے لگا کر یہ پیغام نہ دے دیتا کہ تم کامیاب ہو گئے۔۔۔ میں اللہ پاک کے قہر اور غضب کا تصور کر کے خوف سے لرز گئی کس قدر کھلم کھلا اسکی خدائی کو چلینج کیا جارہا تھا۔ یہ تکبر یہ غرور اور یہ مقام تو بس اسی کے لیے خالص ہے کسی انسان کی کیا اوقات کہ وہ اس مقام پر آنے کی جسارت کرے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’عزت میری اِزار (تہہ بند) ہے اور تکبر میری (اوڑھنے کی) چادر ہے جس شخص نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو مجھ سے چھینا میں اسے سخت سزا دوں گا‘‘۔ (رواہ مسلم)۔

(جس طرح کوئی آدمی اِزار اور چادر پہنتا ہے تو اس میں کسی دوسرے آدمی کو شریک نہیں کرتا، اسی طرح عزت اور کبریاء اللہ تعالیٰ کی اِزار اور چادر ہیں، لائق نہیں کہ وہ ان میں کسی کو شریک کرے۔ اللہ تعالیٰ نے تشبیہ کے ساتھ مثال بیان کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مثال سب سے اعلیٰ ہے۔ کسی معزز اور ذی شان آدمی کی اِزار (تہہ بند) اور اوڑھی ہوئی چادر کوئی شخص چھیننے اور کھینچنے ی کوشش کرے تو اس کا غصہ اور غضب قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ اور چھیننے والا غالباً قتل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کی عزت پر ہاتھ ڈالے وہ سخت عذاب سے کیسے بچ سکتا ہے؟ (مترجم)۔

ایسی خدائی کے دعوے تو میرے محبوب نبیؐ آخرالزماں نے بھی کبھی نہیں کیے بلکہ آپؐ کی سیرت سے تو پتہ چلتا ہے کہ آپؐ ہمیشہ اپنے صحابہء کرام کو اپنی آمد پر کھڑے ہو کر استقبال سے بھی منع فرمایا کرتے ۔

اور مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار ریاض الجنۃ میں نوافل ادا کرنے کے بعد واپس پلٹی تو حیرانگی سے کچھ خواتین کو دیکھا جو روضہ اقدس کی جانب پیٹھ نہیں کرکے نہیں بلکہ الٹا چل کہ واپس جاتِیں۔۔۔ شروع میں تو میں سمجھی کہ یہ شاید اس لیے اس جانب رخ کیے ہوے ہیں کہ ان کی نظر باہر نکلتے ہوے آخری لمحے تک روضہ اقدس پر ہی رہے مگرمجھے اپنے اس خیال کو اسوقت بدلنا پڑا جب میں نے اگلی بار وہاں موجود منتظمین خواتین کو ایسی حرکت کرنے والی خواتین کو پکڑ پکڑ کر سیدھا کرتے ہوے اور غصہ سے حرام حرام کہتے سنا اور ایک پاکستانی خاتون نے کافی تفصیل سے اس بدعت پر روشنی ڈالی مجھے خیال آیا کہ جب صحابہ کرام اللہ کے نبیؐ کی محفل سے اٹھ کر جاتے ہونگے تو کیا وہ ایسا ہی کچھ کیاکرتےہونگے۔۔۔  اس کا جواب پانےکےلیے سیرتؐ سے مدد لی توجواب نفی میں ملا۔

 

یہ غرور تکبر اور جھوٹی خدائی کے دعوے تو ہر دور کے فرعونوں کا وطیرہ رہے ہیں ۔ جسے رب ذوالجلال خود بھی نے یوں بیان فرمایا

فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى
پھر اس نے کہا: میں تمہارا سب سے بلند و بالا رب ہوں [ ۳۰ :النازعات:۲۴]

یہی تو تھا وہ دعوی فرعون جو اپنے سامنے موجود انسانوں کو زمین پر رینگنے والے جانورں سے زیادہ حیثیت نہیں دیتا تھا۔۔۔ اور اس دن میں یہ وڈیو دیکھ کر ایک تکلیف اور افسوس دہ کیفیت میں یہی سوچتی رہی کہ انسان کو رب نے کتنا اعلی مقام دیا مسجود ملائک بنایا اورمجھے یہ بتانے کی ضرورت ہر گز نہیں کہ کسی بھی انسان کے لیے  خود کو کسی دوسرے کے آگے جھکا دینا اس کےلیے موت سے کم نہیں ہوتا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ انسان اپنی ناک کو کسی سامنے زمین پر رکھدے یہ ناک اسے بہت عزیز ہوتی ہے۔ اسی لیے کتنا پیارا ہے وہ رب جس نے اپنے سواء کسی اور کے سامنے جھکنا ناقابل معافی جرم قرار دے دیا۔۔۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَالِكَ لِمَن يَشَآءُ‌ۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِاللَّهِ فَقَدِ افۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا 48

بے شک الله اُسے نہیں بخشتا جو اس کا شریک کرے اور شرک کے ماسوا دوسرےگناہ جسے چاہے بخشتا ہے اور جس نے الله کا شریک ٹھیرایا اُس نے بڑا ہی گناہ کیا سورة النساء(48
اور کتنا ناشکرا اور بد نصیب ہے وہ انسان جو خود کو چوپایہ بنائے ہوئے کیسی بدمستی کی کیفیت میں ایک انسان کے پیروں کو چومتا ہے ، یعنی وہ اپنے اشرف المخلوقات ہونے کے شرف کو ہی بھلا بیٹھا۔

اسی لیے رب اعلیٰ نے فرمایا ۔۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (4) ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (5) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
سورة التِّین——— از تفسیر احسن البیان
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا (4
پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا (5
لیکن جو لوگ ایمان لائے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا (6

تفسیر

۔4. اللہ تعالٰی نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قد، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتا ہے، پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔ ہر اہم عضو دو دو بنائے اور ان میں نہایت مناسب فاصلہ رکھا ، پھر اس میں عقل و تدبر ، فہم و حکمت اور سمع و بصر کی قوتیں ودیعت کیں ، جو دراصل یہ انسان اللہ کی قدرت کا مظہر اور اس  کا پر تو ہے ۔ بعض علما نے اس حدیث کو بھی اسی معنی و مفہوم پر محمول کیا ہے ، جس میں ہے کہ اِنَ اللہ خَلَقَ آدَمَ عَلَٰی صُورَتِہِ ( مسلم ، کتاب البروالصلاۃ والاداب )“ اللہ تعالٰی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا “ انسان کی پیدائش میں ان تمام چیزوں کا اہتمام ہی احسن تقویم ہے ، جس کا ذکر اللہ نے تین قسموں کے بعد فرمایا ۔(فتح القدیر)

۔5. یہ اشارہ ہے انسان کی ارذل العمر (بہت زیادہ عمر )کی طرف جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آ جاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی گیا گزرا ہو جاتا ہے اور بعض نے اس سے ذلت ورسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لیے ہے، گویا انسان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انحراف کر کے اپنے احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کے اسفل السافلین میں ڈال لیتا ہے۔

۔ 6 ۔ آیت ماقبل کے پہلے مفہوم کے اعتبار سے یہ جملہ مبینہ ہے مومنوں کی کیفیت بیان کر رہا ہے ، اور دوسرے تیسرے مفہوم کے اعتبار سے ما قبل کی تاکید ہے کہ اس انجام سے اس نے مومنوں کا اسثنا کر دیا ۔ (فتح القدیر

 

اس ایک ویڈیو کے بعد میں نےاور بہت سی وڈیوز دیکھیں جن میں یہ حضرت کہیں گانوں کی تھال پرسالگرہ کا کیک کاٹتے تو اور مریدوں کے ساتھ جھومتے ناچتے نظر آتے ہیں تو کہیں مردہ کو قبر کے اندر کلمہ پڑھانے  کا معجزہ دکھاتے تو کہیں اپنے ہی دیئے ہوئے فتووں کی دوسری کسی ویڈیو میں نفی کرتے ہو ئے غرض کسی بھی معمولی سی عقل رکھنے والے کے لیے بہت کچھ موجود ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ خودسمجھنا چاہے۔

 

اتنا سب منظر عام پر آجانے کے بعد بھی جب میں نے عاشقوں کا ایک ہجوم بیکراں دیکھا تو خاموش رہنا ممکن  نہ رہا کہ:
ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

 

مجھے افسوس اس پر نہیں تھا کہ ایک شخص نے کتنے روپ دھارے ہوے ہیں  میرا موضوع یہ بھی  نہیں کہ وہ کیا مقاصدہیں جنھوں نے ایک کینڈا کی شہریت  رکھنے والے کو یکایک بےتاب کردیا ، یا یہ انقلاب کن کا اسپانسر کیا ہوا ہے ، نہ ہی مجھے اس پر بات کرنی ہیکہ اب یہ کس کاروحانی ظہور ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ اس کنگا میں کون کون ہاتھ دھونے والا ہے [ کہ ان سب کے لیے اگلا کوئی بلاگ سہی ] مگر ابھی تو میرا دکھ کچھ اور ہے اور میرا قلم تو دراصل آج لاکھوں کے اس مجمع پر ماتم کنعہ ہے جو نجانے کہاں سے لائے گئے [ خود کو بہلانے کو میں نے یہ گمان کیا کہ انہیں لایا گیا ہے۔

 

مگر میں زیادہ دیر خود کو ان گمانوں سے بہلا نہ سکی کہ مجھے ابھی کچھ دن پہلے گردش کرتی ہوئی یہ خبر شرمناک حقیقت کو آشکار کرتی نظر آٗئی  کہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے مضافات میں بارہ کہو کے قریب بجلی کے ایک کھمبے کو مزار میں تبدیل کردیا گیا ہے اور یہاں لوگ بڑی تعداد میں منتیں مرادیں مانگنے بھی آرہے ہیں۔ اس مزار کو درگاہ بابا کھمبے کا نام دیا گیا ہے۔ بجلی کے اس کھمبے کی چاردیواری کر کے یہاں مجاور بھی بیٹھ گئے ہیں جو یہاں آنے والوں سے نذرانے اور چڑھاوے وصول کرتے ہیں۔ ان مجاوروں کا دعوی ہے کہ یہاں آنے والوں کی ہر دلی مراد باباجی کے حکم سے پوری ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے جب واپڈا حکام سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ مذہبی معاملہ ہے اس لئے وہ اس میں دخل نہیں دے سکتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس کھمبے سے بجلی   کی  تاریں دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہےہیں تاکہ بابا کھمبے کے مزار پر آنے والوں عقیدت مندوں کو کرنٹ نہ لگے۔
اور پھر مجھے یاد آیا کہ ایک بار ایبٹ آباد جاتے ہوئے راستے میں ہم نے ایک مزار دیکھا جو’ کھوتا پیر ‘کے نام سے مشہور ہے ۔۔اور معلوم کرنے پر جب اس مزارکی عظیم تاریغ کا علم ہوا تو جو حالت دل و دماغ کی ہوئی وہ ناقابل بیان۔۔۔ کہ کئی دن تو خود کو یہ یقین دلانے میں صرف۔۔۔ ہوئے کہ نہیں الحمد للہ ہم اب تک انسان ہی ہیں۔

 

تاریخ کچھ یوں تھِی کہ اس جگہ ایک شخص کو اپنے گدھے سے بہت محبت تھِی جب گدھا مرگیا تو اسنے جوش محبت میں اسکی قبر بنا دی جس کا علم گردو نواح کے تمام لوگوں کو ہے مگر وہ قبر آہستہ آہستی ایک مزار کی صورت اختیار کر گئی اور اب اسکا نام ہی’ کھوتا پیر’ ہے اور بابا کھوتا پیر کے مزار پرعقدت مندوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

 

میں یہ سوچنے لگی کہ جو قوم کتے کے گوشت کو بکرے کا بنا کر بیچ سکتی ہے ، مردہ مرغیوں کو سستے داموں خرید کرہوٹلوں کی نذر کر سکتی ہے ، غیروں کی پاگل گائے بیلوں کو عزت کیساتھ اپنے ملک میں قبول کر سکتی ہے ، بجلی کے کھمبوں سے دعائیں مانگ سکتی ہے۔۔۔تو پھر وہ اپنے ہی جیسے انسان نما فرعونوں کو سجدے اور گدھوں کو پیر بھی بنا سکتی ہے۔

 

میں بہت دیر اضطراب کی سی کیفیت میں بیٹھِی بس یہی سوچتی رہی کہ ہم کب تک اپنی سوچوں اور عقلوں کو تالے لگا کرکولہو کے اس بیل کی مانند  رہیں گے جس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک ناختم ہونے والے گول چکر میں ڈال دیا جاتا ہے اور وہ بیل بس چلتا ہی رہتا ہے چلتا یہ رہتا ہے شاید یہ سمجھ کر کہ اسکا راستہ بس طے ہونے ہی والا ہے مگر وہ اس دردناک حقیقت سے زندگی بھر واقف نہیں ہو پاتا کہ راستہ تودراصل ابھی شروعہی نہیں ہوا!!

 

اک سوچ تھی جو بار بار ستا رہی تھی کہ کیا اس قوم کے بدلنے کی کوئی آس ہے ۔۔مگر جواب بڑا ہی تکلیف دہ تھا۔

کوئی امّید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

 

جو قوم کھمبوں اور گدھوں کو پیر بنانے لگے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ یہ تو اللہ کی بھی سنت ہیکہ وہ ایسی نا ہنجاز قوموں کی جگہ پھر دوسری قوم اٹھاتا ہے۔۔۔ اور اس امر میں کوئی شک نظر نہیں آتا کہ اگر اب بھِی ہم نے من حیث القوم اپنی روش نہ بدلی توایک بھیانک انجام ہمارا منتظر سامنے ہی کھڑا ہے۔

 

میں اس انجام کا سوچ کر خوف کی حالت میں بس یہی دعا کر پائی۔۔۔ اللھم لا تقتلنا بغضبک ولا تھلکنا بعذابک و عافنا قبل ذٰلک
یا اللہ ہمیں اپنے غضب سے ہلاک نہ کرنا اور اپنے عذاب سے ہلاک کرنا اور اس سے قبل ہی ہمیں بچا لینا۔آمین

رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع


 

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ میں کہاں سے اور کیسے شروع کروں ؟

 

آج مجھے الفاظ کا چناوٴ انتہائی دشوار لگ رہا تھا شائد یہی وہ دشواری تھی جس کو ختم کرنے کے لیے ہمارا میڈیا نے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ جو جس کے جی میں آےٴ وہی کرے وہی بولے بس کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اور ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جاےٴ۔ishq-e-mamnoon

 

آج ہمارا میڈیا ان احادیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے  اور

جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمھارے جی میں آےٴ کرو۔ ﴿بخاری،مشکواة،باب الرفیق والحیاء﴾

یعنی حیا ہی دراصل وہ رکاوٹ ہے جو  انسان کو بر ے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے۔ میرے سامنے وہ تصویر کئی بار آئی جس میں اس وقت   ًعشق ممنوع ً کے نام سے چلنے والے ترکی کے مشہور اور حیا باختہ ڈرامے کی مذمت کی گئی میں نے چونکہ ڈرامہ نہیں دیکھا اس لیے اسکے بارے میں ذیادہ معلومات نہیں تھی مگر جب میں نے اسکے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور جو کچھ میں نے سنا اسکو بیان کرنے کے میرے پاس الفاظ نہیں۔

 

کون ہے جو اس تباہی کا اندازہ لگاے جو باقائدہ پلاننگ کے ساتھ صرف ہماری نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کو کس پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے  اور اس میدان میں ہمارے اپنے میڈیا نے کیا کم کارنامے انجام دیے ہیں؟ جس نے جنس مخالف کو بس ایک جنس پر کشش بنا کر پیش کیا۔

 

یہ بہت پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا بچہ جو اپنے سے ذرا بڑی لڑکی کو باجی اور ایک تیس سے اوپر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا آج میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا عورت صرف عورت ہوتی ہے جس میں صرف کشش ہوتی ہے اسے اسی نگاہ سے دیکھو اور اس سے کسی بھی عمر میں عشق کیا جاسکتا ہے۔ باجی، بہنا، سسٹر ، آنٹی، خالہ۔۔۔ یہ سب بس القابات ہیں انکے کوئی حقیقی معنیٰ نہیں۔۔۔

 

مجھے اس خوفناک صورتحال کا اندازہ تب ہوا جب کچھ عرصہ پہلے  مجھے سکول میں جاب کا شوق ہوا ﴿یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمارے یہاں کے ویل ایجوکیٹڈ کلاس سمجھے جانے والے ایک ادارے کا اسکول تھا﴾

 

میرا پہلا دن تھا کلاس دوم دی گئی تھی، بچے بچیاں سب ہی تھے سب سے تعارف ہوا جب پیریڈ ختم ہونے لگا کچھ بچے قریب آےٴ میں کاپیز چیک کرنے میں مصروف ایک آواز آئی۔۔۔ ٹیچر ۔۔۔

میں نے گردن اٹھاےٴ بغیر جواب دیا۔۔۔ جی بیٹا جان بولیے۔۔۔

مگر میرے ہاتھ سے پین گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔ یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے ایک اور بچہ جو شاید اس بچے کے ساتھ تھا اس سے بولا۔۔۔ اوئے ہوےٴ دیکھ تجھے جان بولا ٹیچر نے۔۔۔ چل اب تو ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو۔۔۔ دوسری جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بیٹے سے عمر میں چھوٹا اور شائد آٹھ سال کا تھا۔

 

ایک بار جی چاہا کہ زوردار تھپڑ لگاوٴں مگر اگلے ہی لمحے خیال آیا یہ معصوم ذہن انکا کیا قصور؟؟؟

تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں پاب، وہ معاشرہ، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اسقدر پراگندہ کر دیا کہ رشتوں اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا۔

 

مجھ میں مزید کچھ سننے کی سکت نہیں تھی۔۔۔میں دکھ اور افسوس کی کیفیت میں بریک میں بھی کلاس ہی میں بیٹھی رہی کہ اسٹاف روم جانے کی ہمت نہیں تھی ،اچانک میری نظر کھڑکی کے باہر کی جانب پڑی تو وہی بچہ ہاتھ میں پھول لیے کھڑا تھا اور اسکی دیکھا دیکھ اور کئی بچے اور بچیاں بھی ھاتھوں میں پھول لیے کلاس روم میں داخل ہوےٴ اور سب نے ٹیبل پر پھول رکھے اور کہا ۔۔ ٹیچر یہ آپ کے لیے ۔۔۔ اب وہ سب منتظر تھے کہ ٹیچر خوش ہونگی ۔ میں نے تھینکس کہا اور پڑھائی شروع کرادی۔

 

چھٹی ٹائم ایک بچی قریب آئی اور بڑے سلیقے سے سارے پھولوں کو سمیٹ کر گلدستہ کی شکل دے کر  میرے ہاتھ میں دیتے ہوےٴ بڑے لاڈ سے بولی ٹیچر یہ لیجانا مت بھولیےگا اس کے ساتھ باقی سارے بچے بھی میرے گرد جمع ہوچکے تھے میں نے وہ گلدستہ ہاتھ میں لیا اور کھلتے ہوےٴ رنگ برنگی پھولوں کو دیکھا پھر ایک نگاہ ان معصوم پھولوں پر ڈالی جنکی معصومیت، پاکیزگی کو کس بے دردی سے کچلا جا رہا ہے اور اس گلستاں کا مالی کسقدر بے خبر ہے۔ مالی تو اپنے باغ کے ایک ایک پھول سے باخبر ہوتا ہے اور کوئی پھول ذرا وقت سے پہلے مرجھانے لگے تو مالی کی جان پر بن آتی ہے مگر میرے گلشن کا یہ کیسا مالی ہے جس کو خبر ہی نہیں کہ اس کے باغ کو کو ئی اجاڑ رہا ہے برباد کر رہا ہے۔

 

دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم

﴾ ﴿سارا دل داغ داغ ہوگیا،پھاہا کہاں کہاں رکھوں

 

اس دن مجھے سمجھ آئی کہ  میڈ یا پر ایک انجن آئل کے اشتہار سے لیکر اور ایک روپے کی ٹافی تک میں عورت کی اس نمائش اور ڈراموں میں حیا سوز منظردکھاےٴ جانے کے اس نسل پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

 

ہم تو ابھی انھیں زخموں کو سہہ نہیں پاےٴ تھے کے یہ ایک اور کاری ضرب اس لادین میڈیا نے ًعشق ممنوعہ ً کی صورت میں ہمارے رشتوں پر لگائی۔۔۔

 

بخدا مجھے اس لائن سے آگے لکھنے کے لیے اپنی ساری قوت جمع کرنی پڑی کہ

چچی اور بھتیجے کا رشتہ یا میرے خدایا۔۔۔

ماں کے برابر رشتے کی ایسے آبرو ریزی۔۔۔

یعنی اب ہمارے خاندانوں کے تقدس کو اس طرح پامال کیا جائیگا؟؟؟

ایک وقت میں کئی کئی عشق کیے جانے کا سبق ۔۔۔

کم عمر اور کچے ذہنوں کو کس بری طرح دلدل کی نذر کیا جارہا ہے۔۔۔

 

اور میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے یہ پتہ چلا کے یہ ڈرامہ اس وقت کا مقبول ترین ڈرامہ بن چکا ہےاور بہت بے غیرتی کے ساتھ وہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔ میں یہ سوچنے لگی کہ ہمارے میڈیا کو اپنی گندگی میں کمی محسوس ہوئی کہ اب ہم  پر دوسروں کی گند گیوں کو بھی انڈیلا جا رہا ہے۔

 

مگر شائد جب تک ہم غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے رہیں گے یہ یلغارہم پر یوں ہی جاری رہےگی اس لیے کیونکہ ہم میں﴿ تھرڈ کلاس﴾ تیسرے درجے کا ایمان بھی نہیں رہا کہ کم از کم ہم برائی کو برائی سمجھیں بلکہ ہم تو اسکی تاویلیں تلاش کرنے لگتے ہیں، مجھے بھی ایسی تاویلیں سننے کو ملیں کہ اس ڈرامے کا انجام بہت برا دکھایا گیا ہے اور سبق آموز ہے مگر آپ یہ یاد رکھیے  برائی کی تشہیر برائی کو کئی گناہ بڑھانے کا تو باعث بن سکتی ہے مگر اس میں کمی کا سبب ہرگز نہیں بن سکتی اسی لیے برائی کی تشہیر کا نہیں اس کو دبا دینے کا حکم ہے۔

 

رب کی وہ تنبیہ بھی یاد کر لیجیے

جو لوگ اہل ایمان میں بیحیائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ﴿النور؛  ١۹ ﴾

 

اور  مجھے خوفزدہ کر دیا حدیث نبوی ّ کے ان الفاظ نے کہ

الله تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔

 

میرا دل خوف سے ڈ وبنے لگا کہ کیا ہمارے لیے بھی فیصلہ کرد دیا گیا؟؟؟

کیا ہم پر بھی بے حیا وٴں کی مہر ثبت ہو گئی۔۔۔

اس سے آگے میں کچھ نہیں سوچ پائی۔۔۔

 

آپ اگر سوچ سکیں تو ضرور سوچیں اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت بھی نہ ملے۔۔۔

 

دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو۔۔۔


 

پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ذیشان عباسی کو ناشتے کی ٹیبل پر گلاس میں پانی کی جگہ تیزاب دیا جسے پی کر انکی حالت بگڑ گئی اوروہاں ہسپتال لیجانے والا کوئی نہیں اور جب ہسپتال پہنچےتو وہاں اٹینڈ کرنے والا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں اور کافی دیر وہ اسی حالت میں ڈاکٹر کا انتظار کرتے رہے۔z

اوہ میرے خدایا۔۔ یہ خبر کیا تھی ایک انسانیت کے کمترین درجے سے بھی گری ہوئی حرکت کوئی دشمنی اسقدر اندھا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ انتہائی گھناونی حرکت اپنی ہار کا بدلہ۔۔۔۔ (جو ایک دن پہلے ہی پاکستان بلائنڈ ٹیم نے ہندوستان کو آٹھ وکٹوں سے ہرایا تھا)۔۔۔۔ مگر مجھے یقین کرنا پڑا خود کو اور بھی بہت کچھ یاد دلا کر۔۔۔۔ کہ یہ ہندو بنیا جس کی فطرت ہے “بغل میں چھری منہ میں رام رام” یہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔

 

آپ کتنے ہی امن کی آشا کے گیت گائیں اپنے چینلز کو بھگوان کی مورتیوں سے آراستہ کر لیں، اپنے خبرناموں تک کو انڈین گانوں سے سجا لیں یا اپنے گھروں میں صبح و شام بھجن بجوالیں۔

یاد رکھیں اس بنیے کی آپ سے دشمنی میں ہر گز کوئی کمی نہیں واقع ہوگی اور آپ اسی طرح اسکی دشمنی کے مظاہرے کبھی کشمیر کےحریت رہنماوں کے پاکستان آنے پر پابندی کی شکل میں تو کبھی کشمیر میں عمر قید کی سزاوں کی صورت میں (پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران مختلف بھارتی جیلوں میں قید کم از کم بیس کشمیریوں کو عمرقید کی سزائیں سنائی گئیں) الٹا بھارت ہر موقع پر الزام تراشیوں کو جواز بناکر عالمی سطح پر پاکستان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ہمارے حکمران عالمی سطح پر تو درکنار بھارت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اس کو ان سب ہتھکنڈوں پر تنبیہ کرنے کی ہمت بھی نہیں کرتے۔

 

کون نہیں جانتا کہ بھارت پاکستان کا ازلی اور بزدل دشمن ہے جو کبھی بھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا۔ من موہن سنگھ کا حالیہ بیان اس کی واضح دلیل ہے مگر ہمارے حکمرانوں نے تو بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دے کر اس کے ساتھ اوپن ٹریڈ شروع کر رکھی۔

 

آج اس بھیانک واقعہ نے امن کی آشا کا ایک اور تحفہ پاکستان کو دیا اورکیا کہوں کہ۔۔۔

افسوس ہوتا ہے ان دانشوروں پر جو امن کی آشا کی ڈگڈگی اپنے ہاتھوں میں لے کر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔

 

امن کی آشا کا راگ الاپنے والا میڈیا جوبال ٹھاکرے کی موت سے لیکر آخری رسومات ہوں یا ثانیہ مرزا کی شادی کی ہفتوں پہلے سے ایک ایک لمحہ کی لائیو کوریج دکھانے کی دوڑ میں سب سے آگے تھا  (تف ہے جب کچھ نہیں بچا تو انکے بیڈروم کے باتھ روم تک کی کوریج گئی) کیا پاکستانی کپتان کو تیزاب پلانے کی خبر کو بھی ایسے ہی کوریج دی گئی؟

دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو۔۔۔۔

کہ اتنا سب ہوجانے کے بعد بھی ہمارے ارباب اختیار کے حوصلوں کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے اس تکلیف دہ خبر کے بعد جو اگلی خبر آئی وہ ہماری بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہمارے چئیر مین بی سی پی صاحب کا فرمان جاری ہوا کہ اس واقعہ سے پاک بھارت کرکٹ سیریز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

تو جناب آپ نے بلکل بجا فرمایا کہ یقینا ایسے سانحات کسی باعزت اور خودار قوم کے اوپر تو اثر انداز ہو سکتے ہیں مگر بے حس اور مردہ قوموں پر یہ کیا اس سے بھی بڑے بڑے سانحات بھی  گزر جائیں تو بھی انکی حالت وہی ہوتی ہے جو آج ہماری ہے۔۔۔ اپنی ٹیم کے کپتان کو تیزاب پلوا کر بھی اب تک وہیں موجود ہیں۔۔۔

 

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ذیشان عباسی کو شفا کاملہ و عاجلہ نصیب فرمائے۔۔۔ آمین!

 

میں یہ سوچنے لگی اگر یہ واقعہ کسی اورٹیم کے ساتھ پاکستان میں پیش آتا تو اس وقت  صورتحال کیا ہوتی مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پوری دنیا کا میڈیا اس وقت صرف اس ایک ایشو پر لگا ہوتا ہمارا اپنا پورا میڈیا وہاں لائیو کوریج کے لیے موجود ہوتا اور طالبان نے بھی اب تک ذمہ داری قبول کر لی ہوتی تو صاحب زندہ قومیں ایسے ہی دنیا کو ہلا کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔

 

اور جو ہماری طرح امن کی آشا کے گیت گانے میں لگی ہوتیں ہیں وہ ایسے ہی تحفے وصول کرتی اور اس مشرقی بیوی کی طرح جو شوہر کی مار کھا کر بھی یہی کہتی ہے سرتاج آپ جو مرضی کر لیں مگر میرا دم آپ ہی کے قدموں میں نکلے گا۔۔۔

 

تو آ پ بھی انتظار کیجیے امن کی آشا کے مزید تحفوں کا!!

ووٹ دو یا جان


میرا ذہن ابھی تک لیکچر کے دوران اٹھا ےٗ گئے ان گھمبیرسوالات میں الجھا ہوا تھا جنھوں نے وہاں موجود ہر فرد کو پریشان کر رکھا تھا۔

یہ کوئی پہلا موقعہ نہ تھا کہ کسی نے سوال کیا ہو ہمیشہ ہی لیکچر کے دوران بھی اور آخر میں بھی سوال و جواب کا سلسلہ رہتا تھا مگر آج کا موضوع جو بہت اہم تھا کہ “تبدیلی مگر کیسے؟” میں نے وہاں موجود ہر ایک کے چہرے پر مایوسی، خوف اور فکر دیکھی۔۔۔ مجھے ابھی لیکچر شروع کیے کچھ ہی دیر گذری تھی اور میں ووٹ کی اہمیت پر بات کر رہی تھی کہ ایک آواز آئی، ہم بھی جانتے ہیں کے ملک میں تبدیلی ہمارے ہی ووٹوں کے ذریعے آئے گی مگر خدارا آپ بس یہ بتادیں کہ جب کنپٹی پر پستول ہو تو کیسے اس ووٹ کی امانت کا حق ادا کیا جائے؟

 

مجھے ایک دم فیس بک پر بہت ذیادہ شئیر ہونے والی وہ وڈیو یاد آگئی جس میں ایک طالبہ (خدا کرے کہ وہ سلامت ہو) کہ جس نے اپنی جان پر کھیل کرایسے ہی خوفناک حقائق سے پردہ اٹھایا تھا (میرے دل نے اسکی سلامتی کے لیے بہت دعائیں کیں) کیونکہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایسی جسارت کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے!!!

میں ابھی سوال کرنے والی خاتون کو مطمئن کرنے کی کوشش میں تھی کہ ایک اور مایوسی سے بھری آواز نے مجھے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔۔۔

آپ یہ بتائیں جب آپ کے سامنے آپ کا ووٹ ڈالا جارہا ہو اور آپ سے کہا جائے کہ جائیں آپ کا ووٹ ہو چکا اور کہنے والوں کے لہجے آپکو اور بھی بہت کچھ سمجھا رہے ہوں تو کہاں سے لائیں ہم تبدیلی؟؟؟

 

میں یہ سوچنے لگی کہ واقعی اور الیکشن کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک “ووٹ دو یا جان دو” کا فارمولا ختم نہیں کیا جائے گا۔ بہرحال میں انہیں موجودہ اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر جناب جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کے الیکشن کمیشن کا چارج لینے کے بعد انتخابی فہرستوں میں درستگی اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے حوالے سے کام میں جو تیزی آئی ہے جو ہر لحاظ سے احسن اقدام ہے آگاہی دینے لگی اس خیال سے کہ مایوسی کی فضا کچھ کم ہو مگر یہاں تو لوگ مجھ سے ذیادہ جاننے والے بیٹھے تھے۔

ایک اور سوال اٹھا وہ جو ایک گھر میں 633 ووٹوں والی کہانی پر بھی ذرا روشنی ڈال دیں میں نے ماحول کو خوشگوار بناتے ہوئے کہا ارے آپ لوگ نہیں جانتے اب کراچی پر بھوتوں کا قبضہ ہے صرف ایک گھر نہیں اب ایک ہوٹل کے بارے میں بھی یہ راز کھلا ہے کہ جہاں سے 180 ووٹوں کا اندراج ہوا ہے اور نجانے کتنے تو ایسے ہیں جن کے بارے میں اب تک کوئی نہیں جانتا تو غضب خدا کا کیا کیا سنیں گے یہ بیچارے کان اور کتنی بار آنکھیں بند کر کے خبریں پڑھوں کہ اب ووٹر لسٹیں بھی اپنے ہاتھوں سے اپنی من چاہی جگہوں پر۔۔۔

یعنی ووٹر لسٹیں نا ہوئی پہلی جماعت کے بچوں کی کاپیاں ہوگئیں جو مزے سے گھر لےجاکر چیک کرلیں اور اپنی مرضی سے جس پر چاہے جتنے نمبر لگادیے “اندھیر نگری چوپٹ راج” مگرخیر آپ لوگ پریشان نا ہوں جنّات قابو کیے جانے کی کوششیں جاری ہیں اللہ پاک حیاتی دے اپنے چیف جسٹس صاحب کو اور حوصلہ بھی کہ اس بار لگتا ہے انھوں نے لاتوں کا بھی انتظام کیا ہوا ہے بھوتوں کو بھگانے کے لیے اور نئی حلقہ بندیاں، اور گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدیق اسی کی طرف ایک قدم ہے (اب بھوت انکل چاہے اس پر کتنا ہی مچلیں) انشاء اللہ اس بار کراچی کو بھوتوں سے پاک بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدام نتیجہ خیز ثابت ہونگے۔

میرے اس تبصرے نے وہاں ماحول کو خوش گوار اور ناامیدی کی فضا کو تویقینا کچھ تو کم کیا مگر بہرحال آج کے سوالات، ہر ایک کے چہرے سے ٹپکتی (چاہنے کے باوجود کچھ نہ کرسکنے پر) بے بسی، خوف اور فکر نےمیرے لیے سوچوں کے کئی در کھول دیے تھے جن کے جواب مجھ سمیت ہر شخص چاہتا ہے۔

 

جو لوگ سب بھانڈا پھوٹ جانے کے بعد “جلے پیر کی بلی” کی مانند بےکل ہوئے جارہے ہیں کیا وہ یہ سب اتنی آسانی سے ممکن ہونے دینگے؟ اور میں دعا کرنے لگی کہ خدا کرے آنے والا وقت مزید کوئی تباہی نہ لیکرآئے کہ یہ شہر لہو کی بہت بھینٹ چڑھا چکا اب سکت نہیں۔

خدا کرے کہ یہ الیکشن خونی الیکشن نہ ہو ۔

آمین!!!

اللہ کو یہی منظور تھا


یکے بعد دیگرے کئی دردناک مضامین لکھتے لکھتے آج میرا قلم بھی سراپا احتجاج تھا جس نے ابھی نیا نیا چلنا ہی سیکھا تھا کہ اتنے تکلیف دہ مناظرکو قلم بند کرنا یقینا اس کے حوصلے کا امتحان تھا مگر میں کیا کروں کہ۔

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں اویس

کہاں سے لاوٴں خوشیوں کے ترانے ؟ جب کہ ہر طرف ایک یا سیت کی فضا سی پھیلی ہوئی ہے جس سمت دیکھو بے حسی اپنی ڈیرے جماےٴ بیٹھی ہے۔

ایسی ہی  اجتماعی بےحسی کی بھینٹ چڑھنے والا اویس بیگ نامی نوجوان جس نے   2009 میں کراچی یونیورسٹی سے بی کام کے امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی اور ایم بی اے کرنے کی خواہش رکھتا تھا ۔ اویس بیگ 3 بھائیوں اور3 بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھا والد پرائیوٹ فیکٹری میں ملازمت کرتے ہیں جو کہ اکثر بیمار بھی رہتے ہیں۔ اویس بیگ کی فیس بک میں ایک البم کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ سیلاب ذدگان کی مدد کی لیے سامان جمع کرتا رہا اور پھر ان علاقوں میں خود بھی گیا۔ کہیں دواوٴں کے کرٹن پہنچاےٴ تو کہیں کھانا اور ضروریات زندگی کا سامان پہنچاتا یہ نوجوان جو کسی این جی او سے بھی تعلق نہیں رکھتا تھا صرف اپنے جذبہ مسلمانی کی تڑپ نے اس سے یہ سب کام کروایا جو آج کی برق رفتار زندگی میں انتہائی مشکل امر ہے۔

یہ نو جوان جو چند دن پہلے تک گمنام تھا جسے اسکی موت نے نام دیا۔۔۔

آہ …!!

مگر یہ کیسا نام تھا جس نے ہر شخص کو دکھی کر دیا یوں تو اس شہر میں موت اب بہت سستی ہے مگر ایسی اندوہناک موت..!!

وہ بھی اتنےبڑے  مجمعے کی آنکھوں کے سامنے بے بسی سے تڑپ تڑپ کر جان دے دینا من حیث القوم ہماری بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

جس وقت عمارت میں آگ بھڑکی اویس جو کہ ملازمت کیلیے فائنل انٹرویو دینے آیا تھا۔ جیسے ہی عمارت میں آگ لگنے کا شور مچا تو پوری عمارت کی بجلی بند کر دی گئی اور عمارت میں ہر جانب دھواں ہی دھواں بھر گیا۔ اویس نے آٹھویں منزل کی کھڑکی کے روشن دان سے خود کوباہر نکلا اور ہاتھوں کی مدد سے لٹک گیا تاہم زیادہ دیر تک وہ اس پوزیشن میں نہیں رہ سکا اور ہاتھ چھوٹ جانے کے باعث بلندی سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو کر خالق حقیقی سے جا ملا۔۔۔

چار جملوں میں سماجانے والا یہ قصہ بس اتنا ہی نہیں تھا بلکہ اس قصہ نے جن بھیانک رویوں کو برہنہ کر دیا مجھےآج بس ان رویوں کی بات کرنی ہے۔ سینکڑوں کے اس مجمعے میں جس طرح کے رویے دیکھنے کو ملے ان میں ایک ان لوگوں کا رویہ  جو اپنے چینل کے لئیے انہونی خبریں دکھا کر ﴿سب سے پہلے ہم کی دوڑ جیتنے کی فکر میں لگے رہے﴾ اگر اویس اتنی دیر اس کھڑکی سے لٹکا رہا کہ ٹی وی چینلز اپنی لائیو کوریج دکھانے کے لیے پہنچ چکے تھے  تو کیا اسکو بچانے کے لیے کوئی اقدام اٹھانے والا کوئی نہیں آسکا؟
اویس تڑپتا رہا اور لوگ اپنے موبائل سے اسکی ویڈیو اور تصویریں بناتے رہے۔۔۔

آہ۔۔۔

بس ایک بات کا جواب اگر مل جاےٴ کہ اگر اویس ان میں سے کسی کا اپنا بھائی یا جگر کا ٹکڑا ہوتا تب بھی کیا اسی طرح کا رویہ ہوتا؟؟؟

شائدعلامہ اقبال ایسے وقت کے لیے کہہ گئے

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اسی ہولناک منظر کو دیکھتے ہوےٴ میرے ذہن میں ایک سوال  ابھرا کہ اگر یہی واقعہ امریکہ یا یورب کے کسی ملک میں پیش آتا تو کیا صورتحال ایسی ہی ہوتی؟ مگر  مجھے فوراً ہی خود کو جھٹلانا پڑا کہ ہرگز نہیں کیونکہ میں کافی عرصہ پہلے ریسکیو 911کے نام سے دکھایا جانے والا ایک پروگرام بہت شوق سے دیکھا کرتی تھی جس میں اسی طرح کے انہونے واقعات اور ان میں ریسکیو کے لیے جانے والی ٹیم کی کوششیں جن میں اکثر ناممکن کو ممکن بنا دیا جاتا تھا اور انسانی جان تو کیا وہ ایک جانور کی جان بچانے کے لیے بھی اتنی ہی تگ و دو کرتے نظر آتے اور اکثر کامیاب بھی رہتے کیوں کہ وہ لوگ صرف آسمان کی طرف دیکھ کر آنکھیں بند کرنے کے بجاےٴ اپنی تمام تر توجہ مسئلے کا حل نکالنے پر مرکوز رکھتے ہیں۔

میں یہ سوچنے لگی کہ جب ہماری قوم مغرب کی اتباع کرنے میں اسقدر اندھی نظر آتی کہ اپنے کپڑے اتارنے سے لیکر ہم جنس پرستی کے مذاکرے جیسے شرمناک عمل سے بھی نہیں گریز کر رہی اور اپنی تمام اخلاقی اور مذہبی اقدار کو خدا حافظ کہنے پر تلی ہوئی ہے اسے ان قوموں کے یہ پہلو کیوں نہیں دکھائی دیتے؟ ان سے یہ سب کیوں نہیں سیکھتے؟ کیوں ہم یا تو تماشائی بنے ہوتے ہیں یا سب اﷲ پر چھوڑکر فارغ ہوجاتے ہیں؟ اور ہمارے اسی رویے نے ایک معصوم انسان کی جان لے لی ایکٴ ماں سے ﴿جو  بیٹے کی نوکری  لگ جانے کی آس لگاےٴبیٹھی تھی﴾ اسکے جوان لعل کو چھین لیا۔ کوئی پوچھے اس ماں کے چھلنی کلیجے سے بیٹا کیسے جوان ہوتا ہے۔۔۔ ایک باپ کا بڑھاپے کا سہارا چھین لیا، بہنوں کی آ نکھوں میں سجی خوشیاں چھین لیں۔۔۔

بہت سے لوگ یہ کہہ کر فارغ ہوجاتے ہیں کہ اﷲ کو یہی منظور تھا۔۔۔

مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا ہم اپنی ہر ناکامی کو اﷲ کے کھاتے میں ڈال کر اسقدر مطمئن کیوں ہو جاتے ہیں؟ دراصل یہی ہمارے زوال کی وجہ ہے۔ نقصانات سے انسان سبق حاصل کرتا ہے مگر ہمارا یہ اطمنان ہمیں اسی سوراخ سے دوبارہ ڈسوانے کے لیے  پھر تیار کردیتا ہے۔

یا د رکھیے دعائیں بھی تب اثر کرتیں ہیں جب ان کے ساتھ کچھ دوا بھی کی جاےٴ ورنہ آپ اپنے سامنے کھانا رکھ کرچلہ کاٹنے بیٹھ جائیں یا اعتکاف میں بیٹھ جائیں کہ اب یہ کھانا اس چلے یا اعتکاف کی برکت سے آپ کے پیٹ میں خود بخود چلا جاےٴ گا تو آپ ایسے لاکھوں چلے کاٹ لیں یا قیامت تک اعتکاف میں بیٹھیں رہیں کھانا آپ کے پیٹ میں تب ہی جاےٴ گا جب آپ خود اسکو کھانے کے لیے اپنے ہاتھوں کو زحمت دینگے اور یقین جانیے کہ حالات تب تک نہیں بدلیں گے جب تک ہم آسمان کی طرف دیکھ کر بس فارغ ہو جا نے کے بجاےٴ خود مسائل سے نکلنے کا حل تلاش کرنے کی فکر نہیں کرینگے۔

%d bloggers like this: