Category Archives: تہزیب و ثقافت

محبت کا پیام


 

بچپن سے سال مین دو دنوں کا بہت انتظار ہوتا تھا۔ پورا سال ان 2 دنوں کی پلاننگ کرتے، انہیں سوچتے گزر جاتا تھا۔ جوں جوں وہ دن قر یب آ رہے ہوتے دل ایک عجیب سی سرشاری میں ڈوبا ہوتا تھا، انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی ہوتی تھی اور وہ بہت خاص دن ہوتے تھے عیدالاضحی اور عیدالفطرکے۔

آج جب بچپن کی دہلیز سے آگے قدم رکھ چکے تو آنکھیں یہ منظر دیکھنے پر مجبور ہو رہی ہیں کہ اپنے اسلامی تہوار منانے کے جذبے تو ماند پڑ رہے ہیں، ان کے آنے پر تو چہروں کی دمک پھیکی پڑ رہی ہے لیکن یہ چہرے آئے دن کچھ اور دنوں کے آنے پر خوشی سے پاگل ہو رہے ہیں، یہ قوم آئے روز ایک نئے دن کبھی ویلنٹائن ڈے، کبھی ہیپی نیو ائیر کو پروموٹ کر کے ایسے پاگل ہو رہی جیسے یہی سب تو مقصدِ زندگی رہ گیا ہے۔ میڈیا ایسے ان خرافات کو پروموٹ کر رہا جیسے ان کا یہی فرضِ اولین ہے۔۔

آپ خوشی، تفریح کے نام پر مہذب طریقے سے ان دنوں کو منانا حق سمجھتے ہیں تو ٹھرئیں۔۔! صرف پچھلے ایک سال پر نظر دوڑائیں، ہمارے ساتھ کیا کیا ہوا اپنے زخموں پر صرف ایک دفعہ ایک طبیب کی سی نظر ڈالیں۔۔۔

اسی سال ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ وسلم) کی ذاتِ اقدس کی توہین کی گئی، ان کی ذات کو مذاق کا نشانہ بناکر ان پر مووی بنائی گئی (نعوز باللہ)۔۔ اسی سال فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا دیئے گئے، خونِ مسلم کی ندیاں بہا دی گئیں۔۔ اسی سال بلکہ اسی ماہ کشمیری مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے افضل گرو کو ناحق پھانسی دے دی گئی۔۔۔

یہ اس سال کی چند وہ جھلکیاں ہیں جو منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن پر ہم سب کا دل تڑپا، جن کو دیکھ سن کر ہم میں سے ہر ایک کی آنکھ اشک بار ہوئی لیکن یہ کیسے آنسو ہیں، یہ کیسا دکھ ہے جو آج ہم دکھ دینے والے کے ہی ساتھ مل کر پیار کی پتنگیں اڑانے لگ گئے، آج ہم آنسو دینے والے کو خوش کرنے کی خاطر اپنی پہچان، روایات بھول رہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہمارا اپنی تہذیب، اپنی روایا ت پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے؟ ہم تو سراسر محبت کے پیامی ہیں، ہمارا مذہب تو ہے ہی محبت، ہردن، ہر لمحہ محبت پھیلانے کا درس ریتا پھر آج کیوں ہم محبتوں کے پیام کی تشہیر کے لیئے غیروں کے دن کے محتاج ہو گئے؟؟

خدارا۔۔۔۔ ! آنے والی نسلوں کو غیروں کی غلامی اور نقالی میں جانے سے بچا لیجئے، اپنے دین پر، اپنی روایات پر خود پراعتماد بنیں اور ایک پر اعتماد نسل کو پروان چڑھا ئیں۔۔ آج امتِ مسلمہ کی حالتِ زار کی یہی ایک وجہ ہے:

ترا نقشِ پا تھا جو رہنما، تو غبارِ راہ تھی کہکشاں

اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا

(نمرہ سرور- گجرات)

خاک ہوجائے گے افسانوں میں ڈھل جاؤگے


 

no5

ہم حجاب ڈے کے حوالے سے آج نیوز کا ایک پروگرام ریکارڈ کروانے کے لیے جمع  تھےوہاں پروگرام میں شریک  خواتین سے بات ہونے لگی ایک خاتون جن کا تعلق کسی مڈل کلاس گھرانے سے تھا اپنے حلیے سے بہت مذہبی بھی نہیں لگ رہیں تھیں مگر ماحول میں پھیلی بے حیائی پر بہت فکر مند بہت ہی دکھ سے بولیں ؛ کیا کریں کہاں لیکر جائیں بچوں کو کیسے بچائیں اور کہاں کہاں بچائیں میرا بچہ تیسری جماعت میں پڑھتا ہے اور عام سا اسکول ہے مگر ویلینٹائین سے ایک دن پہلے اسکول سے آکر کہنے لگا  ًامی کل مجھے لال شرٹ پہن کر جانی ہے اور ایک پھول لیکر جانا ہے ً بولیں میں نے حیرانی سے پوچھا کس لیے بیٹا  ؟  امی ہماری ٹیچر نے کہا ہے کل کلاس میں وہ ویلنٹائین ڈے منائیں گے تووہ  کپل بنائیں گی اور مجھے اپنی کپل کو پھول دینا ہے ً وہ خاتون تو اپنا دکھ بیان کر گئیں مگر مجھے لگا کہ ہم ایک ایسی گہری کھائی میں گر رہے ہیں جس کی پستی کا ابھی اس وقت شا ید کسی کو اندازہ نہیں یا کرنا نہیں چاہتے مگر جب آنکھ کھلے گی تو وقت گزر چکا ہوگا ۔

اسکول  جو ماں کی گود کے بعد بچے کی تربیت اورشخصیت سازی کی اہم ترین جگہ ثا بت ہوا کرتے تھے  استاد جن کو روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے کہ یہ انکے فرائض میں شامل ہوتا ہے کہ وہ بچے کو ہر برائی سے روکیں اور اس میں اچھائیاں پیدا کریں مگر یہ کیا ۔۔۔۔۔آج کے استاد نے اپنا کام صرف چھوڑ دیا ہوتا  تو بھی اتنا نقصان نہیں ہوتا مگر اس نے تو اپنی راہ ہی بدل لی  اور راہوں کے بدلنے کا کفارہ من حیث القوم دینا پڑ تا ہے جن قوموں کی تقلید میں ہم اپنا دین ، ایمان ، غیرت  ، حیا سب داوٴ پر لگا دیتے ہیں وہ پھر بھی ہمیں قبول نہیں کرتی  اور سب کچھ کھو کر بھی  ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔

۔مجھے میری دعوے عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

آج  ہر اسکول ،کالج ،یونیورسٹیوں میں منایا جانے والا بے غیرتی کا یہ تہوار ایک مسلم معاشرے کے لیے زہر قاتل کی طرح ہے اور نوجوان نسل ہی کیا اب تو معصوم ذہنوں کو بھی پراگندہ کرنے میں کسی نے  کوئی کسر نہیں چھوڑی چاہے وہ نام نہاد آزاد میڈیا ہو جہاں ہر چینل پر بیٹھے غیرت سے عاری جوڑے ہوں جو ایک طرف خاندانی نظام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو دوسری طرف  آنے والی نسل کو اخلاقی بانجھ پن کا شکار کر رہے ہیں  یا وہ خوغرض سرمایہ دار ہوں جو اپنا  کثیر سرمایہ بے حیائی کی ترویج کے لیے اس تہوار پر لگاتے ہیں جن کی بدولت   بڑےشاپنگ مالز سے لیکر گلی محلے کی دوکانوں میں بھی ویلنٹائین کے کارڈز ہوں دل بنے غبارے ہوں یا پھول ہر طرف سرخ رنگ کی بہتات نظر آ تی ہے اور ہر ایک کے لیے اسکو منانا اتنا آسان کردیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہر ایک کے دروازے تک پہنچا دیا تو بے جا نہ ہوگا  جس نے پورے کے پورے معاشرے کو بے حیا بنا دیا  ۔ 

  اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس کو دنیا کے کسی ملک میں اتنی کوریج اور اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی کہ ہمارے ملک میں کیوں ہم تو وہ کہنہ مشق بھکاری ہیں کہ جو غیروں کی اندھی تقلید میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے اگر اسی پر ایک نظر ڈال لیتے تو شا ید حیا اور شرم یہ سب منانے سے روک دیتی ۔

اس تہوار کے بہت سے  تاریخی پس منظر بیان کیے جاتے ہیں مگر ان میں کو ئی بھی ایسا نہیں جو حیا سے عاری نہ ہو اور نوجوان نسل کو بے راہ روی کے ترغیب نہ دیتا ہو مگر ہماری نوجوان نسل جو اپنی عید کا پورا دن سونے میں گزارتی ہیں مگر اس تہوار کو وہ بہت ہی اہتمام کے ساتھ مناتی ہے  ۔

اس تہوار کے منانے والے اللہ کے نبی کی اس تنبیہ کو یاد رکھیں

رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہےوہ انہی میں سے ہے۔ (ترمذی ، مسند احمد50) سنن ابوداؤد 4021(

چونکہ شیطان کا پہلا وار ہیانسان کی حیا پر کیا گیا تھا اور اسی لیے رب نے خود بنی آدم کو تنبیہ کی تھی کہ 

 اے اوﻻد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت   سے نکلوادیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وه ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وه اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو۔ ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں ﻻتے۔ (سورۃ الاعراف) 

ً فرمانِ نبویﷺ ہے : "جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہارا جی چاہے کرو۔” (بخاری)ً اس لیے کہ حیا ایمان کی ایک شاخ قرار دی گئی اور حیا اور ایمان دونوں کو لازم و ملززم قرار دے دیا گیا  اور واضع کر دیا گیا کہ جب ایک اٹح جاتا ہے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے ۔پس ثا بت ہوا کہ حیا ہی وہ فرق ہے جو انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے اور جب حیا نہ رہے تو انسان کو حیوان بنتے دیر نہیں لگتی اور رشتوں کا تقدس و احترام سب جاتا رہتا ہے 

 

نام نہاد روشن خیال لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ محبت کا دن ہے اور اسے ضرور منانا چاہیے تو ان کے لیے یہ ایک اہم خبر ہے کہ اسلام کی تو بنیاد  ہی محبت و اخوت پر ہے اس میں تو سال کا ہر دن محبتوں سے لبریز ہوتا ہے ہاں بس فرق اتنا ہے کہ اسلام جائز رشتوں جائز طریقوں سے محبت کا حکم دیتا ہے اور ہر لمحے کے لیے دیتا ہے سال میں صرف ایک دن کے لیے نہیں ۔

ہاں کچھ حدیں ہیں اللہ نے خود متعین کی ہیں اور یہ کرنٹ وائیرز کی طرح ہیں جن کو چھونے کو ہی منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کے قر یب سے بھی گزرنے سے روک دیا  گیا اور وعید سنا دی گئی

ارشاد ربانی ہے : "اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔(النور: 19۔

یہی وہ حدود ہیں کہ جن کو توڑنے کے نتیجے میں رب نے ہم سے پہلے کی قوموں کے بارے میں ارشاد فرمایا

ً اورآخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی۔ سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، سنو! دور پھینک دیے گئے عاد، ہودؑ کی قوم کے لوگ ۛ

جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے ۔ سنو ! مدین والے بھی دور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے

﴿ سورہ ہود﴾

یہ وہ سورتیں تھیں کہ جن کے نزول کے بعد آپ ص کے بالوں میں یکدم سفیدی نظر آئی تو حضرت ابو بکر رضہ نے دریافت کیا ؛

یا رسول اللہ کیا وجہ ہیکہ آپ کے بالوں میں اتنی سفیدی ۔۔۔۔ آپً نے ارشاد فرمایا؛  ابو بکر مجھے ً  یونس اور ہود ً نے بوڑھا کردیا ہے ۔۔۔۔۔  یہ سورتیں اللہ کی نافرنی کرنے اور اپنی من مانی کرنے والی قوموں کے خوفناک انجام کا پتہ دیتی ہیں اور وعید ہے کہ جب اللہ کی حدود کو کھلم کھلا توڑا جائے تو نتیجہ کیا ہوتا ہےاس لیے کہ رب کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی اس سے پہلے کہ اس قوم کے دور پھینک دینے کا فیصلہ کر دیا جائے اور توبہ کی مہلت بھی نہ مل سکے ہمیں پلٹنا ہوگا رجوع کرنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ ہمارا ذکر بھی نہ ہو داستانوں میں  فیصلہ کیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم الله تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوجائیں اور آئندہ آنے والی نسلیں ان ایام کو سوگ کے دن قرار دینے پر مجبور ہو جائیں ۔۔۔۔!

ادھورا احتجاج کیوں؟


 

آج کا دن کچھ مختلف سا لگا شاید اسلئے کہ مایوسی کی اس فضا میں کہیں سے بھی ہلکی سی بھی کوئی کرن نمودار ہو تو ہمیں امید نظر آنے لگتی ہے۔ آج بھِی ایسا ہی کچھ ہواتھا صبح حامد میر MQM-btngصاحب کے کالم “بکواس ” سے ہوئی ابھی وہ پڑھ کے فارغ ہی ہوئی تھی کہ عرفان صدیقی صاحب کا انقلاب کی حقیقت کو چاک کرتا ” انقلاب تاج برطانیہ” سامنے ہی تھا اور پھر انصار عباسی صاحب اور دیگر کے کالمز بھی اس عظیم تقریر پر سراپا احتجاج نظر آئے۔ آپ سمجھ تو گئے ہی ہونگے کہ میں کس تقریر کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ جی بلکل وہی جسےبراہ راست دکھانے میں ہمارے ہر چینل نے سب سے پہلے میں کی دوڑ کو جیتنے کی پوری کوشش کی تھِی اور اپنی اس وفاداری میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

 

ویسے تو ہمارے صحافی بھائی ہمیشہ ہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اگر پورا نہیں بھی تو کچھ سچ ضرور بتانے کی کوشش کرتے ہیں مگر آج کا لب و لہجہ ذرا الگ ہی تھا۔ بات بھی کوِئی معمولی نہیں تھِی آخر صحافت کو للکارا گیا تھا اور وہ بھی نام نہاد پڑھی لکھی پارٹی کے لیڈر جو پچھلے کئی عشروں سے لندن میں مقیم ہیں جہاں جانوروں سے مخاطب ہونے کے بھی اصول ہوتے ہیں مگر شاید ان کے وہاں گزارے گئے عشرے بھی انکا کچھ نہیں بگاڑ پائے کہ بقول شاعر:
خمیر ہی ایسا تھا

 

خیر مجھے جہاں ان سب صحافی بھائیوں کی سراپا احتجاج ہونے پر خوشی بھی تھی کہ یہ ان سب کے ضمیروں کے ابھی تک زندہ ہونے کا ثبوت تھا مگر وہیں مجھے تھوڑی حیرت اور کچھ دکھ نے بھی آن گھیرا تھا۔ حیرت اس بات کی کہ کیا واقعی یہ ان سب خبروں اور منظر عام پر آنے والی ان ویڈیوز سے اب تک انجان تھے جو بہت عرصے تک سوشل میڈیا کی زینت بھی بنی رہیں تھیں جن میں کہیں سلمان مجاہد بلوچ یوسی ناظم سٹی گورنمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنا بیلٹ اتار کرمخالف پارٹی کی رکن خاتون کی پٹائی کرتے
ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں مشہور و معروف ناظم  مصطفی کمال صاحب کسی ہسپتال میں بستر مرگ پر موجود اپنے باپ کے لیے روتی ہوئی خاتوں کو گالیاں دیتے اپنے پڑ ھے لکھے ہونے کا ثبوت پیش کرتے نظر آئے۔ مگر ان سب پر تو کوئی آواز نہ اٹھا ئی گئی نہ ہی کوئی برہم ہوا کہ جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ کیڑے  مکوڑے ہوں جن کی نہ کوئی اوقات ہو نہ ہی عزت  جس کا جب جی چاہے انہیں ذلیل و رسوا کر ڈالے۔

 

اورتو اور دکھ تو اس بات پر ہوا کہ آج بھی جب اس عظیم تقریرمیں کی گئی اس “بکواس “پر برہمی کا اظہار تو کیا گیا مگر کیسے؟؟؟ حامد بھائی آپ  نے اگر وہ عظیم تقریر پوری سنی ہو تو یقینا آپ نے اور باقی صحافی بھائیوں نے وہ سب بھِی سماعت فرمایا ہوگا جو ادارہ نور حق میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کو  مخاطب کر کے انہیں جن القابات سے نوازا گیا اور جس طرح سر عام اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری گئیں اور کس طرح کھلم کھلا دھمکیاں دی گئیں کہ کراچی کو چھوڑ دیا جائے اور یہ کہ اگر بھائی کو جلال آگیا تو وہ اپنے کارکنوں کو کھلا چھوڑ دینگَے یعنی کارکن نہ ہوئے۔۔۔

یہ تو مالک کے وفادار اور بندھے ہوئے۔۔۔ جو مالک کا اشارہ پاتے ہی مخالف کو اپنے پنجوں میں جکڑ لینگے۔۔۔

 

پارٹیوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں اختلاف کرنا ہر کسی کا حق ہے مگریہ سب  تہذیب کے دائرے میں ہونا شرط لازم ہے مگر یہ کونسی سیاست ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو ننگی گالیاں دی جائیں اور دھونس و دھاندلی سے انہیں شہر چھوڑنے کا حکم دینا اور شہر نہ چھوڑنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں۔۔۔

 

میں بہت دیر اس بات پرافسوس کرتی رہی کہ صحافی بھائیوں کو کیا اپنے ان کالمز میں اس سب  پر بھی احتجاج نہیں کر نا چاہیے تھا جو کہ ان کی صحافت کا فرض بھی بنتا تھا۔ مگر شا ید ہماری قوم کی بدلتی روایتوں میں ایک اور اضافہ یہ بھی ہوا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی بات  کا نوٹس نہیں لیتے جب تک وہ ہماری اپنی ذات پر نہ ہو مگر ہم یہ سب بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم نے کسی دوسرے پر اٹھنے والی انگلی کو نہ روکا تواس امر میں کوئی شک نہیں کہ اگلی بار وہ انگلی آپ پر اٹھے گی۔

 

آج ان کالمز کو پڑھ کر بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ صرف بکواس کہنے پر برہم ہونے والے یہ کیوں بھول گئے کہ آج  اگر انھوں نے ان گالیوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا کہ مخاطب  وہ نہیں بلکہ کوئی اور تھا توصاحب آپ ہرگز یہ مت بھولیے کہ اگر ایسے لوگوں کی زبان بندی نہ کی جائے تو مخاطب بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔

 

میں یہ سوچنے لگی کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کیا کوئی قانون نہیں جس کا جب جی چاہے سربازار دوسرں کی عزتوں پر حملہ کردے کوئی اسکو روکنے والا نہیں۔۔۔

یقینا قانون تو بہت ہیں مگر ان پر عمل کروانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔۔۔

کہا ں تھا پیمرا جب ہر چینل سے ہتک آمیز اور اخلاق سے عاری وہ غلاظت براہ راست اگلی جارہی تھی؟؟؟

کیوں ان چینل کی نشریات کو بند نہیں کردیا گیا؟؟؟ اور آج بھی اتنے دن گزر جانے کے باوجود کیا پیمرا نے کوئی نوٹس لیا؟؟؟

آخری امید کے طور پرمیری نگاہیں اب چیف جسٹس صاحب کی طرف لگی ہیں کہ دیکھیں وہ اس حملہ اور دھمکی پر کب سوموٹو ایکشن لینگے ، میں نہیں جانتی میری یہ امید پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں مگر بس اک آس سی ہے اور میری دعا ہے کہ یہ آس نہ ٹوٹے اور کوئی تو ہو جو کھلم کھلا دھمکی اور شرفاءکی عزتوں پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھوں کو روکنے والا ہو۔

رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع


 

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ میں کہاں سے اور کیسے شروع کروں ؟

 

آج مجھے الفاظ کا چناوٴ انتہائی دشوار لگ رہا تھا شائد یہی وہ دشواری تھی جس کو ختم کرنے کے لیے ہمارا میڈیا نے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ جو جس کے جی میں آےٴ وہی کرے وہی بولے بس کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اور ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جاےٴ۔ishq-e-mamnoon

 

آج ہمارا میڈیا ان احادیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے  اور

جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمھارے جی میں آےٴ کرو۔ ﴿بخاری،مشکواة،باب الرفیق والحیاء﴾

یعنی حیا ہی دراصل وہ رکاوٹ ہے جو  انسان کو بر ے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے۔ میرے سامنے وہ تصویر کئی بار آئی جس میں اس وقت   ًعشق ممنوع ً کے نام سے چلنے والے ترکی کے مشہور اور حیا باختہ ڈرامے کی مذمت کی گئی میں نے چونکہ ڈرامہ نہیں دیکھا اس لیے اسکے بارے میں ذیادہ معلومات نہیں تھی مگر جب میں نے اسکے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور جو کچھ میں نے سنا اسکو بیان کرنے کے میرے پاس الفاظ نہیں۔

 

کون ہے جو اس تباہی کا اندازہ لگاے جو باقائدہ پلاننگ کے ساتھ صرف ہماری نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کو کس پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے  اور اس میدان میں ہمارے اپنے میڈیا نے کیا کم کارنامے انجام دیے ہیں؟ جس نے جنس مخالف کو بس ایک جنس پر کشش بنا کر پیش کیا۔

 

یہ بہت پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا بچہ جو اپنے سے ذرا بڑی لڑکی کو باجی اور ایک تیس سے اوپر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا آج میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا عورت صرف عورت ہوتی ہے جس میں صرف کشش ہوتی ہے اسے اسی نگاہ سے دیکھو اور اس سے کسی بھی عمر میں عشق کیا جاسکتا ہے۔ باجی، بہنا، سسٹر ، آنٹی، خالہ۔۔۔ یہ سب بس القابات ہیں انکے کوئی حقیقی معنیٰ نہیں۔۔۔

 

مجھے اس خوفناک صورتحال کا اندازہ تب ہوا جب کچھ عرصہ پہلے  مجھے سکول میں جاب کا شوق ہوا ﴿یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمارے یہاں کے ویل ایجوکیٹڈ کلاس سمجھے جانے والے ایک ادارے کا اسکول تھا﴾

 

میرا پہلا دن تھا کلاس دوم دی گئی تھی، بچے بچیاں سب ہی تھے سب سے تعارف ہوا جب پیریڈ ختم ہونے لگا کچھ بچے قریب آےٴ میں کاپیز چیک کرنے میں مصروف ایک آواز آئی۔۔۔ ٹیچر ۔۔۔

میں نے گردن اٹھاےٴ بغیر جواب دیا۔۔۔ جی بیٹا جان بولیے۔۔۔

مگر میرے ہاتھ سے پین گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔ یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے ایک اور بچہ جو شاید اس بچے کے ساتھ تھا اس سے بولا۔۔۔ اوئے ہوےٴ دیکھ تجھے جان بولا ٹیچر نے۔۔۔ چل اب تو ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو۔۔۔ دوسری جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بیٹے سے عمر میں چھوٹا اور شائد آٹھ سال کا تھا۔

 

ایک بار جی چاہا کہ زوردار تھپڑ لگاوٴں مگر اگلے ہی لمحے خیال آیا یہ معصوم ذہن انکا کیا قصور؟؟؟

تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں پاب، وہ معاشرہ، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اسقدر پراگندہ کر دیا کہ رشتوں اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا۔

 

مجھ میں مزید کچھ سننے کی سکت نہیں تھی۔۔۔میں دکھ اور افسوس کی کیفیت میں بریک میں بھی کلاس ہی میں بیٹھی رہی کہ اسٹاف روم جانے کی ہمت نہیں تھی ،اچانک میری نظر کھڑکی کے باہر کی جانب پڑی تو وہی بچہ ہاتھ میں پھول لیے کھڑا تھا اور اسکی دیکھا دیکھ اور کئی بچے اور بچیاں بھی ھاتھوں میں پھول لیے کلاس روم میں داخل ہوےٴ اور سب نے ٹیبل پر پھول رکھے اور کہا ۔۔ ٹیچر یہ آپ کے لیے ۔۔۔ اب وہ سب منتظر تھے کہ ٹیچر خوش ہونگی ۔ میں نے تھینکس کہا اور پڑھائی شروع کرادی۔

 

چھٹی ٹائم ایک بچی قریب آئی اور بڑے سلیقے سے سارے پھولوں کو سمیٹ کر گلدستہ کی شکل دے کر  میرے ہاتھ میں دیتے ہوےٴ بڑے لاڈ سے بولی ٹیچر یہ لیجانا مت بھولیےگا اس کے ساتھ باقی سارے بچے بھی میرے گرد جمع ہوچکے تھے میں نے وہ گلدستہ ہاتھ میں لیا اور کھلتے ہوےٴ رنگ برنگی پھولوں کو دیکھا پھر ایک نگاہ ان معصوم پھولوں پر ڈالی جنکی معصومیت، پاکیزگی کو کس بے دردی سے کچلا جا رہا ہے اور اس گلستاں کا مالی کسقدر بے خبر ہے۔ مالی تو اپنے باغ کے ایک ایک پھول سے باخبر ہوتا ہے اور کوئی پھول ذرا وقت سے پہلے مرجھانے لگے تو مالی کی جان پر بن آتی ہے مگر میرے گلشن کا یہ کیسا مالی ہے جس کو خبر ہی نہیں کہ اس کے باغ کو کو ئی اجاڑ رہا ہے برباد کر رہا ہے۔

 

دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم

﴾ ﴿سارا دل داغ داغ ہوگیا،پھاہا کہاں کہاں رکھوں

 

اس دن مجھے سمجھ آئی کہ  میڈ یا پر ایک انجن آئل کے اشتہار سے لیکر اور ایک روپے کی ٹافی تک میں عورت کی اس نمائش اور ڈراموں میں حیا سوز منظردکھاےٴ جانے کے اس نسل پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

 

ہم تو ابھی انھیں زخموں کو سہہ نہیں پاےٴ تھے کے یہ ایک اور کاری ضرب اس لادین میڈیا نے ًعشق ممنوعہ ً کی صورت میں ہمارے رشتوں پر لگائی۔۔۔

 

بخدا مجھے اس لائن سے آگے لکھنے کے لیے اپنی ساری قوت جمع کرنی پڑی کہ

چچی اور بھتیجے کا رشتہ یا میرے خدایا۔۔۔

ماں کے برابر رشتے کی ایسے آبرو ریزی۔۔۔

یعنی اب ہمارے خاندانوں کے تقدس کو اس طرح پامال کیا جائیگا؟؟؟

ایک وقت میں کئی کئی عشق کیے جانے کا سبق ۔۔۔

کم عمر اور کچے ذہنوں کو کس بری طرح دلدل کی نذر کیا جارہا ہے۔۔۔

 

اور میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے یہ پتہ چلا کے یہ ڈرامہ اس وقت کا مقبول ترین ڈرامہ بن چکا ہےاور بہت بے غیرتی کے ساتھ وہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔ میں یہ سوچنے لگی کہ ہمارے میڈیا کو اپنی گندگی میں کمی محسوس ہوئی کہ اب ہم  پر دوسروں کی گند گیوں کو بھی انڈیلا جا رہا ہے۔

 

مگر شائد جب تک ہم غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے رہیں گے یہ یلغارہم پر یوں ہی جاری رہےگی اس لیے کیونکہ ہم میں﴿ تھرڈ کلاس﴾ تیسرے درجے کا ایمان بھی نہیں رہا کہ کم از کم ہم برائی کو برائی سمجھیں بلکہ ہم تو اسکی تاویلیں تلاش کرنے لگتے ہیں، مجھے بھی ایسی تاویلیں سننے کو ملیں کہ اس ڈرامے کا انجام بہت برا دکھایا گیا ہے اور سبق آموز ہے مگر آپ یہ یاد رکھیے  برائی کی تشہیر برائی کو کئی گناہ بڑھانے کا تو باعث بن سکتی ہے مگر اس میں کمی کا سبب ہرگز نہیں بن سکتی اسی لیے برائی کی تشہیر کا نہیں اس کو دبا دینے کا حکم ہے۔

 

رب کی وہ تنبیہ بھی یاد کر لیجیے

جو لوگ اہل ایمان میں بیحیائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ﴿النور؛  ١۹ ﴾

 

اور  مجھے خوفزدہ کر دیا حدیث نبوی ّ کے ان الفاظ نے کہ

الله تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔

 

میرا دل خوف سے ڈ وبنے لگا کہ کیا ہمارے لیے بھی فیصلہ کرد دیا گیا؟؟؟

کیا ہم پر بھی بے حیا وٴں کی مہر ثبت ہو گئی۔۔۔

اس سے آگے میں کچھ نہیں سوچ پائی۔۔۔

 

آپ اگر سوچ سکیں تو ضرور سوچیں اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت بھی نہ ملے۔۔۔

 

%d bloggers like this: