Category Archives: سیاست

ادھورا احتجاج کیوں؟


 

آج کا دن کچھ مختلف سا لگا شاید اسلئے کہ مایوسی کی اس فضا میں کہیں سے بھی ہلکی سی بھی کوئی کرن نمودار ہو تو ہمیں امید نظر آنے لگتی ہے۔ آج بھِی ایسا ہی کچھ ہواتھا صبح حامد میر MQM-btngصاحب کے کالم “بکواس ” سے ہوئی ابھی وہ پڑھ کے فارغ ہی ہوئی تھی کہ عرفان صدیقی صاحب کا انقلاب کی حقیقت کو چاک کرتا ” انقلاب تاج برطانیہ” سامنے ہی تھا اور پھر انصار عباسی صاحب اور دیگر کے کالمز بھی اس عظیم تقریر پر سراپا احتجاج نظر آئے۔ آپ سمجھ تو گئے ہی ہونگے کہ میں کس تقریر کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ جی بلکل وہی جسےبراہ راست دکھانے میں ہمارے ہر چینل نے سب سے پہلے میں کی دوڑ کو جیتنے کی پوری کوشش کی تھِی اور اپنی اس وفاداری میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

 

ویسے تو ہمارے صحافی بھائی ہمیشہ ہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اگر پورا نہیں بھی تو کچھ سچ ضرور بتانے کی کوشش کرتے ہیں مگر آج کا لب و لہجہ ذرا الگ ہی تھا۔ بات بھی کوِئی معمولی نہیں تھِی آخر صحافت کو للکارا گیا تھا اور وہ بھی نام نہاد پڑھی لکھی پارٹی کے لیڈر جو پچھلے کئی عشروں سے لندن میں مقیم ہیں جہاں جانوروں سے مخاطب ہونے کے بھی اصول ہوتے ہیں مگر شاید ان کے وہاں گزارے گئے عشرے بھی انکا کچھ نہیں بگاڑ پائے کہ بقول شاعر:
خمیر ہی ایسا تھا

 

خیر مجھے جہاں ان سب صحافی بھائیوں کی سراپا احتجاج ہونے پر خوشی بھی تھی کہ یہ ان سب کے ضمیروں کے ابھی تک زندہ ہونے کا ثبوت تھا مگر وہیں مجھے تھوڑی حیرت اور کچھ دکھ نے بھی آن گھیرا تھا۔ حیرت اس بات کی کہ کیا واقعی یہ ان سب خبروں اور منظر عام پر آنے والی ان ویڈیوز سے اب تک انجان تھے جو بہت عرصے تک سوشل میڈیا کی زینت بھی بنی رہیں تھیں جن میں کہیں سلمان مجاہد بلوچ یوسی ناظم سٹی گورنمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنا بیلٹ اتار کرمخالف پارٹی کی رکن خاتون کی پٹائی کرتے
ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں مشہور و معروف ناظم  مصطفی کمال صاحب کسی ہسپتال میں بستر مرگ پر موجود اپنے باپ کے لیے روتی ہوئی خاتوں کو گالیاں دیتے اپنے پڑ ھے لکھے ہونے کا ثبوت پیش کرتے نظر آئے۔ مگر ان سب پر تو کوئی آواز نہ اٹھا ئی گئی نہ ہی کوئی برہم ہوا کہ جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ کیڑے  مکوڑے ہوں جن کی نہ کوئی اوقات ہو نہ ہی عزت  جس کا جب جی چاہے انہیں ذلیل و رسوا کر ڈالے۔

 

اورتو اور دکھ تو اس بات پر ہوا کہ آج بھی جب اس عظیم تقریرمیں کی گئی اس “بکواس “پر برہمی کا اظہار تو کیا گیا مگر کیسے؟؟؟ حامد بھائی آپ  نے اگر وہ عظیم تقریر پوری سنی ہو تو یقینا آپ نے اور باقی صحافی بھائیوں نے وہ سب بھِی سماعت فرمایا ہوگا جو ادارہ نور حق میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کو  مخاطب کر کے انہیں جن القابات سے نوازا گیا اور جس طرح سر عام اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری گئیں اور کس طرح کھلم کھلا دھمکیاں دی گئیں کہ کراچی کو چھوڑ دیا جائے اور یہ کہ اگر بھائی کو جلال آگیا تو وہ اپنے کارکنوں کو کھلا چھوڑ دینگَے یعنی کارکن نہ ہوئے۔۔۔

یہ تو مالک کے وفادار اور بندھے ہوئے۔۔۔ جو مالک کا اشارہ پاتے ہی مخالف کو اپنے پنجوں میں جکڑ لینگے۔۔۔

 

پارٹیوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں اختلاف کرنا ہر کسی کا حق ہے مگریہ سب  تہذیب کے دائرے میں ہونا شرط لازم ہے مگر یہ کونسی سیاست ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو ننگی گالیاں دی جائیں اور دھونس و دھاندلی سے انہیں شہر چھوڑنے کا حکم دینا اور شہر نہ چھوڑنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں۔۔۔

 

میں بہت دیر اس بات پرافسوس کرتی رہی کہ صحافی بھائیوں کو کیا اپنے ان کالمز میں اس سب  پر بھی احتجاج نہیں کر نا چاہیے تھا جو کہ ان کی صحافت کا فرض بھی بنتا تھا۔ مگر شا ید ہماری قوم کی بدلتی روایتوں میں ایک اور اضافہ یہ بھی ہوا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی بات  کا نوٹس نہیں لیتے جب تک وہ ہماری اپنی ذات پر نہ ہو مگر ہم یہ سب بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم نے کسی دوسرے پر اٹھنے والی انگلی کو نہ روکا تواس امر میں کوئی شک نہیں کہ اگلی بار وہ انگلی آپ پر اٹھے گی۔

 

آج ان کالمز کو پڑھ کر بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ صرف بکواس کہنے پر برہم ہونے والے یہ کیوں بھول گئے کہ آج  اگر انھوں نے ان گالیوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا کہ مخاطب  وہ نہیں بلکہ کوئی اور تھا توصاحب آپ ہرگز یہ مت بھولیے کہ اگر ایسے لوگوں کی زبان بندی نہ کی جائے تو مخاطب بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔

 

میں یہ سوچنے لگی کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کیا کوئی قانون نہیں جس کا جب جی چاہے سربازار دوسرں کی عزتوں پر حملہ کردے کوئی اسکو روکنے والا نہیں۔۔۔

یقینا قانون تو بہت ہیں مگر ان پر عمل کروانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔۔۔

کہا ں تھا پیمرا جب ہر چینل سے ہتک آمیز اور اخلاق سے عاری وہ غلاظت براہ راست اگلی جارہی تھی؟؟؟

کیوں ان چینل کی نشریات کو بند نہیں کردیا گیا؟؟؟ اور آج بھی اتنے دن گزر جانے کے باوجود کیا پیمرا نے کوئی نوٹس لیا؟؟؟

آخری امید کے طور پرمیری نگاہیں اب چیف جسٹس صاحب کی طرف لگی ہیں کہ دیکھیں وہ اس حملہ اور دھمکی پر کب سوموٹو ایکشن لینگے ، میں نہیں جانتی میری یہ امید پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں مگر بس اک آس سی ہے اور میری دعا ہے کہ یہ آس نہ ٹوٹے اور کوئی تو ہو جو کھلم کھلا دھمکی اور شرفاءکی عزتوں پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھوں کو روکنے والا ہو۔

دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو۔۔۔


 

پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ذیشان عباسی کو ناشتے کی ٹیبل پر گلاس میں پانی کی جگہ تیزاب دیا جسے پی کر انکی حالت بگڑ گئی اوروہاں ہسپتال لیجانے والا کوئی نہیں اور جب ہسپتال پہنچےتو وہاں اٹینڈ کرنے والا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں اور کافی دیر وہ اسی حالت میں ڈاکٹر کا انتظار کرتے رہے۔z

اوہ میرے خدایا۔۔ یہ خبر کیا تھی ایک انسانیت کے کمترین درجے سے بھی گری ہوئی حرکت کوئی دشمنی اسقدر اندھا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ انتہائی گھناونی حرکت اپنی ہار کا بدلہ۔۔۔۔ (جو ایک دن پہلے ہی پاکستان بلائنڈ ٹیم نے ہندوستان کو آٹھ وکٹوں سے ہرایا تھا)۔۔۔۔ مگر مجھے یقین کرنا پڑا خود کو اور بھی بہت کچھ یاد دلا کر۔۔۔۔ کہ یہ ہندو بنیا جس کی فطرت ہے “بغل میں چھری منہ میں رام رام” یہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔

 

آپ کتنے ہی امن کی آشا کے گیت گائیں اپنے چینلز کو بھگوان کی مورتیوں سے آراستہ کر لیں، اپنے خبرناموں تک کو انڈین گانوں سے سجا لیں یا اپنے گھروں میں صبح و شام بھجن بجوالیں۔

یاد رکھیں اس بنیے کی آپ سے دشمنی میں ہر گز کوئی کمی نہیں واقع ہوگی اور آپ اسی طرح اسکی دشمنی کے مظاہرے کبھی کشمیر کےحریت رہنماوں کے پاکستان آنے پر پابندی کی شکل میں تو کبھی کشمیر میں عمر قید کی سزاوں کی صورت میں (پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران مختلف بھارتی جیلوں میں قید کم از کم بیس کشمیریوں کو عمرقید کی سزائیں سنائی گئیں) الٹا بھارت ہر موقع پر الزام تراشیوں کو جواز بناکر عالمی سطح پر پاکستان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ہمارے حکمران عالمی سطح پر تو درکنار بھارت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اس کو ان سب ہتھکنڈوں پر تنبیہ کرنے کی ہمت بھی نہیں کرتے۔

 

کون نہیں جانتا کہ بھارت پاکستان کا ازلی اور بزدل دشمن ہے جو کبھی بھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا۔ من موہن سنگھ کا حالیہ بیان اس کی واضح دلیل ہے مگر ہمارے حکمرانوں نے تو بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دے کر اس کے ساتھ اوپن ٹریڈ شروع کر رکھی۔

 

آج اس بھیانک واقعہ نے امن کی آشا کا ایک اور تحفہ پاکستان کو دیا اورکیا کہوں کہ۔۔۔

افسوس ہوتا ہے ان دانشوروں پر جو امن کی آشا کی ڈگڈگی اپنے ہاتھوں میں لے کر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔

 

امن کی آشا کا راگ الاپنے والا میڈیا جوبال ٹھاکرے کی موت سے لیکر آخری رسومات ہوں یا ثانیہ مرزا کی شادی کی ہفتوں پہلے سے ایک ایک لمحہ کی لائیو کوریج دکھانے کی دوڑ میں سب سے آگے تھا  (تف ہے جب کچھ نہیں بچا تو انکے بیڈروم کے باتھ روم تک کی کوریج گئی) کیا پاکستانی کپتان کو تیزاب پلانے کی خبر کو بھی ایسے ہی کوریج دی گئی؟

دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو۔۔۔۔

کہ اتنا سب ہوجانے کے بعد بھی ہمارے ارباب اختیار کے حوصلوں کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے اس تکلیف دہ خبر کے بعد جو اگلی خبر آئی وہ ہماری بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہمارے چئیر مین بی سی پی صاحب کا فرمان جاری ہوا کہ اس واقعہ سے پاک بھارت کرکٹ سیریز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

تو جناب آپ نے بلکل بجا فرمایا کہ یقینا ایسے سانحات کسی باعزت اور خودار قوم کے اوپر تو اثر انداز ہو سکتے ہیں مگر بے حس اور مردہ قوموں پر یہ کیا اس سے بھی بڑے بڑے سانحات بھی  گزر جائیں تو بھی انکی حالت وہی ہوتی ہے جو آج ہماری ہے۔۔۔ اپنی ٹیم کے کپتان کو تیزاب پلوا کر بھی اب تک وہیں موجود ہیں۔۔۔

 

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ذیشان عباسی کو شفا کاملہ و عاجلہ نصیب فرمائے۔۔۔ آمین!

 

میں یہ سوچنے لگی اگر یہ واقعہ کسی اورٹیم کے ساتھ پاکستان میں پیش آتا تو اس وقت  صورتحال کیا ہوتی مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پوری دنیا کا میڈیا اس وقت صرف اس ایک ایشو پر لگا ہوتا ہمارا اپنا پورا میڈیا وہاں لائیو کوریج کے لیے موجود ہوتا اور طالبان نے بھی اب تک ذمہ داری قبول کر لی ہوتی تو صاحب زندہ قومیں ایسے ہی دنیا کو ہلا کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔

 

اور جو ہماری طرح امن کی آشا کے گیت گانے میں لگی ہوتیں ہیں وہ ایسے ہی تحفے وصول کرتی اور اس مشرقی بیوی کی طرح جو شوہر کی مار کھا کر بھی یہی کہتی ہے سرتاج آپ جو مرضی کر لیں مگر میرا دم آپ ہی کے قدموں میں نکلے گا۔۔۔

 

تو آ پ بھی انتظار کیجیے امن کی آشا کے مزید تحفوں کا!!

ووٹ دو یا جان


میرا ذہن ابھی تک لیکچر کے دوران اٹھا ےٗ گئے ان گھمبیرسوالات میں الجھا ہوا تھا جنھوں نے وہاں موجود ہر فرد کو پریشان کر رکھا تھا۔

یہ کوئی پہلا موقعہ نہ تھا کہ کسی نے سوال کیا ہو ہمیشہ ہی لیکچر کے دوران بھی اور آخر میں بھی سوال و جواب کا سلسلہ رہتا تھا مگر آج کا موضوع جو بہت اہم تھا کہ “تبدیلی مگر کیسے؟” میں نے وہاں موجود ہر ایک کے چہرے پر مایوسی، خوف اور فکر دیکھی۔۔۔ مجھے ابھی لیکچر شروع کیے کچھ ہی دیر گذری تھی اور میں ووٹ کی اہمیت پر بات کر رہی تھی کہ ایک آواز آئی، ہم بھی جانتے ہیں کے ملک میں تبدیلی ہمارے ہی ووٹوں کے ذریعے آئے گی مگر خدارا آپ بس یہ بتادیں کہ جب کنپٹی پر پستول ہو تو کیسے اس ووٹ کی امانت کا حق ادا کیا جائے؟

 

مجھے ایک دم فیس بک پر بہت ذیادہ شئیر ہونے والی وہ وڈیو یاد آگئی جس میں ایک طالبہ (خدا کرے کہ وہ سلامت ہو) کہ جس نے اپنی جان پر کھیل کرایسے ہی خوفناک حقائق سے پردہ اٹھایا تھا (میرے دل نے اسکی سلامتی کے لیے بہت دعائیں کیں) کیونکہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایسی جسارت کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے!!!

میں ابھی سوال کرنے والی خاتون کو مطمئن کرنے کی کوشش میں تھی کہ ایک اور مایوسی سے بھری آواز نے مجھے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔۔۔

آپ یہ بتائیں جب آپ کے سامنے آپ کا ووٹ ڈالا جارہا ہو اور آپ سے کہا جائے کہ جائیں آپ کا ووٹ ہو چکا اور کہنے والوں کے لہجے آپکو اور بھی بہت کچھ سمجھا رہے ہوں تو کہاں سے لائیں ہم تبدیلی؟؟؟

 

میں یہ سوچنے لگی کہ واقعی اور الیکشن کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک “ووٹ دو یا جان دو” کا فارمولا ختم نہیں کیا جائے گا۔ بہرحال میں انہیں موجودہ اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر جناب جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کے الیکشن کمیشن کا چارج لینے کے بعد انتخابی فہرستوں میں درستگی اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے حوالے سے کام میں جو تیزی آئی ہے جو ہر لحاظ سے احسن اقدام ہے آگاہی دینے لگی اس خیال سے کہ مایوسی کی فضا کچھ کم ہو مگر یہاں تو لوگ مجھ سے ذیادہ جاننے والے بیٹھے تھے۔

ایک اور سوال اٹھا وہ جو ایک گھر میں 633 ووٹوں والی کہانی پر بھی ذرا روشنی ڈال دیں میں نے ماحول کو خوشگوار بناتے ہوئے کہا ارے آپ لوگ نہیں جانتے اب کراچی پر بھوتوں کا قبضہ ہے صرف ایک گھر نہیں اب ایک ہوٹل کے بارے میں بھی یہ راز کھلا ہے کہ جہاں سے 180 ووٹوں کا اندراج ہوا ہے اور نجانے کتنے تو ایسے ہیں جن کے بارے میں اب تک کوئی نہیں جانتا تو غضب خدا کا کیا کیا سنیں گے یہ بیچارے کان اور کتنی بار آنکھیں بند کر کے خبریں پڑھوں کہ اب ووٹر لسٹیں بھی اپنے ہاتھوں سے اپنی من چاہی جگہوں پر۔۔۔

یعنی ووٹر لسٹیں نا ہوئی پہلی جماعت کے بچوں کی کاپیاں ہوگئیں جو مزے سے گھر لےجاکر چیک کرلیں اور اپنی مرضی سے جس پر چاہے جتنے نمبر لگادیے “اندھیر نگری چوپٹ راج” مگرخیر آپ لوگ پریشان نا ہوں جنّات قابو کیے جانے کی کوششیں جاری ہیں اللہ پاک حیاتی دے اپنے چیف جسٹس صاحب کو اور حوصلہ بھی کہ اس بار لگتا ہے انھوں نے لاتوں کا بھی انتظام کیا ہوا ہے بھوتوں کو بھگانے کے لیے اور نئی حلقہ بندیاں، اور گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدیق اسی کی طرف ایک قدم ہے (اب بھوت انکل چاہے اس پر کتنا ہی مچلیں) انشاء اللہ اس بار کراچی کو بھوتوں سے پاک بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدام نتیجہ خیز ثابت ہونگے۔

میرے اس تبصرے نے وہاں ماحول کو خوش گوار اور ناامیدی کی فضا کو تویقینا کچھ تو کم کیا مگر بہرحال آج کے سوالات، ہر ایک کے چہرے سے ٹپکتی (چاہنے کے باوجود کچھ نہ کرسکنے پر) بے بسی، خوف اور فکر نےمیرے لیے سوچوں کے کئی در کھول دیے تھے جن کے جواب مجھ سمیت ہر شخص چاہتا ہے۔

 

جو لوگ سب بھانڈا پھوٹ جانے کے بعد “جلے پیر کی بلی” کی مانند بےکل ہوئے جارہے ہیں کیا وہ یہ سب اتنی آسانی سے ممکن ہونے دینگے؟ اور میں دعا کرنے لگی کہ خدا کرے آنے والا وقت مزید کوئی تباہی نہ لیکرآئے کہ یہ شہر لہو کی بہت بھینٹ چڑھا چکا اب سکت نہیں۔

خدا کرے کہ یہ الیکشن خونی الیکشن نہ ہو ۔

آمین!!!

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں


پاکستان نے بیلسٹک میزائل حتف 5 غوری کاکامیاب تجربہ کیا ہے ۔  یہ میزائل 1300  کلو میٹر کی حدود میں اپنے حدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت  رکھتا ہے۔

غوری

بس یہی وہ خبر تھی جس نے ایک بار پھرمیرے قلم کو لکھنے پر مجبور کردیا۔ میں یہ سوچنے لگی کہ کوئی بھی ملک اس طرح کے ہتھیار کیوں بناتا ہے؟

جی ہاں یقیناً  ملکی سالمیت اور دفاع کے لیے اور دشمن پر اپنا خوف بٹھانے کے لیے بھی اپنے دفاعی ہتھیاروں میں اضافہ کیا جاتا ہے اور یہ ہر ” آزاد” ملک کا حق بھی ہے جو اس سے کوئی نہیں چھین سکتا  اور اسی لیے ہم بھی آےٴ دن کسی نہ کسی ہتھیار کا کامیاب  تجربہ کرتےرہتے ہیں۔ مگر بات ایسی ہی ہوتی تو میں بھی ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس وقت خوشی منا رہی  ہوتی کہ چلو ہمارے دشمن پرمزید دھاک بیٹھے گی مگر رکیے مجھے ذرا یہ تو جان لینے دیجے کہ ہمارا دشمن ہے کون؟
کیونکہ اب تک تو ہم  یہ تعین ہی نہیں کر پاےٴ کہ  دوست  کون اور دشمن کون؟
آپ کے ذہن میں بھی یقیناً میری ہی طرح کچھ ناموں کی بازگشت گونجی ہوگی  مگر وہ  ملک جسے آپ نے پسندیدہ ترین ملک کا تمغہ دیا ہو ،وہ  ملک جسکی ایکMissed call  پر بھی  آپ گھٹنے ٹیک دیتے ہوں یا وہ ملک جس کی کی جانے والی بر بر یت پر  آپ کوئی آواز تک اٹھانے کی ہمت نہیں کرسکتے تو پھرآپ یہ کیسے سوچے بیٹھے ہیں کہ آپ کے یہ ہتھیار ان پر کوئی دھاک بٹھا سکیں گے ہر گز نہیں۔۔۔ جب تک قوموں کے اندر خوداری اور غیرت و حمیت کا جذبہ نہ ہو وہ قومیں کتنے بھی ہتھیار بنالیں نہ وہ اپنے دشمن کومرعوب کر سکتیں ہیں نہ ہی اپنا دفاع میں کامیاب ہو سکتیں ہیں۔

اگر میری اس بات سے آپ کو اختلاف ہے تو آئیے دیکھے لیتے ہیں کہ ہم اپنے دشمن کو اپنے ان ہتھیاروں سے مرعوب کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے۔

ایک “بھیانک سانحہ ” آج بھی پوری قوم کی یاداشت میں ایک ناسور کی طرح دکھتا ہے جی چاہتا ہے کہیں منہ چھپانے کی جگہ مل جائے۔۔۔ سنیے اور صبر سے برداشت کیجے کہ جو قومیں صرف ہتھیار بنانا جانتی ہیں چلانا نہیں تو ان کی سالمیت پر پھر ایسے ہی حملے ہوا کرتے ہیں۔۔۔
سلالہ چیک پوسٹ”  کون نہیں واقف کہ یہ حملہ کس نے کیا؟
میرے  وطن کے محافظوں کو باقائدہ پلاننگ سے نشانہ بنایا گیا اور ہم سوتے رہے۔۔۔! کہاں تھے ہمارے  سب ہتھیار کیوں نہیں جواب دیا گیا دشمن کو؟ بہت سے سوال اٹھتے ہیں جن کے جواب کون دے گا؟

اِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
مہران بیس پر حملہ کا  آج تک ایک سوالیہ نشان لیے ہمارے سامنے موجود ہے۔
چلیں اسکو چھوڑ دیں کہ آپکو معلوم ہی نہ ہوا کہ دشمن کون تھا۔۔۔

سانحہ ایبٹ آباد ” کو تو فرا موش نہیں کیا جاسکتا کہ جب 2 مئی 2011 کی رات ایک بجے پاکستان کے حساس ترین علاقے کاکول  اکیڈمی کے دل میں جہاں  کی سیکورٹی کا یہ عالم ہوتا ہےکہ  چڑیا پر نہیں مار سکتی۔۔۔ مگردشمن جہازوں پر سوار نہ صرف یہ کہ وہاں داخل ہوا اور پاکستانی انٹیلی جنس  نیٹورک کو ڈسکنکٹ کر کے اسامہ بن لادن کو مارنے کا معرکہ سر انجام دے کر چلا بھی  گیا اور ہم سوتے رہے۔۔۔ یہ بھی مان لیا کہ آپکا رڈار سسٹم جام کر دیا گیا تھا تو آپکو کیسے پتہ چلتا۔۔۔ مگر خدارا یہ بتایئے ایک رڈار سسٹم آپکے کانوں میں بھی تو لگا ہے جس نے محافظوں کے سواء آس پاس کے تمام لوگوں کو بد حواس کر دیا تھا آپ اپنے ہتھیاروں سمیت کہاں تھے؟؟

رکیے۔۔۔  کہ ایک اور تکلیف دہ حقیقت جہاں آ کر میری سوچ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں کہ اگر ہتھیار دفاع کے لیے بناےٴ جاتے ہیں تو ہم  کب انکا استعمال سیکھیں گے وزیرستان میں جس طرح دشمن خون کی ہولی کھیل رہا ہے معصوم بچوں کو جس بے دردی سے ڈرون اٹیک میں مارا جارہا ہے میں یہ سوچنے لگی کہ کیا ہمارے پاس موجود ،غوری، غزنوی ، شاھین اور ان جیسے اور ہتھیاروں  میں کیا کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ ان ڈرون طیاروں کو گرا سکیں مگر معاف کیجے گا صلاحیتیں دراصل ہتھیاروں میں نہیں بلکہ  اس کے چلانے والوں میں ہوا کرتیں ہیں اور جو قومیں ان صلاحیتوں سے عاری ہوں انکے ہتیھیار لوہے کے وزن میں تو اضافے کا باعث بن سکتے ہیں مگر دشمن پر آپکی دھاک بٹھانے اور آپ پر حملہ سے روکنے کا باعث نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ تو دشمن بھی جانتا ہے کہ کوئی بھی ہتھیار خوبخود نہیں چلا کرتا۔۔۔

بہت خوب کہا علامہ اقبال نے
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
تصویر کا ایک اورزخمی رخ بھی دیکھتے جائیے۔۔۔

ایک طرف زخمی سوات ہے تو دوسری جانب لہولہان وانا ہے۔۔۔

پا کستان کے خوبصورت ترین علاقے!! میری نظروں نے یہ دلسوز منظر بھی دیکھا کہ دشمن کے لیے بناےٴ گیے وہ ہتھیار اپنوں پر کس بے دردی سے چلاےٴ جا رہے ہیں وہ ٹینک جو دشمن کو تباہ کرنے کے لیے تھے آج میرے ہی لوگوں کے گھروں کو گرا رہے تھے، اور دشمن جہاں ایک طرف ہماری سالمیت پرخود بھی حملہ آوار ہے وہیں دوسری طرف ہمیں آپس میں بھی باہم دست و گریباں کر کے ہماری قوت کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
یا د رکھیے اگر آپکو ان ہتھیاروں سے دشمن کو مرعوب کرنا مطلوب ہے تو  ان ہتھیاروں کے تجربے ضرور کیے جانے چاہیے مگر پہلے  آپ کو اپنی  بکھری ہوئی قوت کو یکجا کرنا ہوگا کہ
معاملات جیسے بھی ہوں مگر ایک ہی گھر میں رہنے والے کبھی بھی اپنے دفاع کے لیے رکھی جانے والی پستول کو دشمن کی چال میں آکر ایک دوسرے پر تا ن کر اپنی قوت کو کمزور نہیں کیا کرتے اور جو ایسا کرتے ہیں تو بس پھر  وہ کتنے بھی ہتھیاروں سے لیس ہو جائیں کتنی بھی بین لاقوامی دفاعی ہتھیاروں کی نمائیش منعقد کر لیں۔۔۔ انکے نصیبوں میں پھر ڈرون حملے، مہران بیس ، سلالہ چیک پوسٹ اور ایبٹ آباد جیسے سانحات ہی لکھےجا تے ہیں۔

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی


cng

ایک دو تین چار ۔۔۔۔۔۔۔ دس۔۔ پندرہ۔۔ بیس۔۔ تیس۔۔۔۔پچاس۔۔۔۔ سو۔۔۔۔۔!

نہیں آپ ہر گز یہ نا سمجھیں کہ میں نے ابھی نئی نئی گنتی سیکھی ہے اور آپکو سنانے لگی ہوں….. نہیں ۔

بلکہ یہ تو وہ گنتی ہے جو آج مجھ سمیت اس قوم کے ہر فرد کو گنوائی جارہی ہے ۔۔۔۔ یہ گنتی میں نے کب گنی؟

گاڑیوں اور بسوں کی ایک لمبی نا ختم ہونے والی قطار… مگر وہاں دور تک کوئی جلسہ جلوس یا کوئی شادی کی تقریب کچھ بھی تو نہ تھا اسی معمہ کو حل کرنے کی فکر میں تھی کہ ھماری گاڑی کچھ اورآگے کو بڑھی تب یہ راز کھلا کہ یہ تو ایک سی این جی پیٹرول پمپ ہے جس پر گاڑیوں اور بسوں کی الگ الگ لائن لگی ہوئی ھے میری نظر سب سے آخری گاڑی کے اندر بیٹھے ہوےٴ شخص کے چہرے پر پڑی، اپنے آگے چونتیس گاڑیوں کو دیکھ کر اسکے چہرے سے ٹپکتی بے بسی اور جھنجھلاہٹ کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا تھا مگر دیکھتا کون؟ کہ وہاں تو ہر ایک کا یہی حال تھا۔ میں سوچنے لگی اسکی باری کم ازکم تین گھنٹے سے پہلے تو نہیں آےٴ گی۔

میں اسی سوچ میں گم اپنے برابر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے صاحب سے مخاطب ہوئی ﴿جو کہ رشتے میں میرے شوہر نامدار ہیں﴾ کہ صاحب یہ بتائیں کہ یہ لوگ یہاں اتنی لمبی لمبی لائنوں میں لگے صرف ایک سی این جی کے لیے ﴿جو عام روٹین میں شائد پانچ سے دس منٹ کا بھی کام نہیں مگر اہم اتنا کہ اس کے بغیر آپ ایک قدم بھی گاڑی آگے نہیں بڑھا سکتے﴾ جب یہ یہاں سے فارغ ہو کر لوٹیں گے تو کیا یہ قابل ہوگے کہ یہ اس بات پر کوئی دھیان دے سکے کہ ملک میں آج مزید کس کس چیز پر پابندی لگا دی گئی ہے، بجلی کے نرخوں میں مزید کتنا اضافہ ہوچکا ہے ،اور یہ کہ آج پڑوس میں کس کو ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا یا آج کہاں کہاں بم دھماکہ ہوا؟؟؟
اپنے ان گھنٹوں کے ضائع ہوجانے ، اپنے نجانے کتنے ہی اہم کاموں کا حرج ہوجانے، آفس میں باس کی ڈانٹ کھانے کے بعد کیا انکے اعصاب اس قابل ہوں گے کہ وہ خود پر ہی ہونے والی ان زیادتیوں پر کوئی احتجاج کر سکیں کوئی آوز اٹھا سکیں؟؟؟
ہر گز نہیں وہ تو اپنی ذندگی کی ان مصیبتوں سے ہی نہیں نکل پائیں گے جو ” باقائدہ پلاننگ کے ساتھ ان پر مسلط کر دی گئی ہیں” تاکہ وہ اس کے آگے کچھ سوچ ہی نا پائیں کہ انھوں نے کل پھر اسی طرح کسی سی این جی پمپ کی لائن میں لگنا ہے اور اس سے اگلے دن سی این جی کی چھٹی کی وجہ سے بچوں کی اسکول کی وین نہیں آےٴ گی اسلیے انکو بھی اسکول چھوڑنے اور لانے کی ڈیوٹی نبھانی ہے۔ ویسے تو چھٹی کس کو بری لگتی ہے مگر مجھے آج تک اس چھٹی کی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ سمجھ تو اور بھی بہت سی باتوں کی نہیں آئی مگر بہر حال جو بھی ہے مجھے اس قوم کو ایک بعد ایک مسلہٴ میں الجھاےٴ رکھنے والوں کو انکی ذہانت کی داد دینے پڑتی ہے۔
مجھے اس وقت ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو میں نے شائد کہیں پڑھا تھا کہ ایک صاحب نے اپنے دوست سے اپنے چھوٹے بیٹے کی شرارتوں کی شکایت کی وہ کسی لمحہ چین سے نہیں بیٹھتا تھا کوئی نا کوئی نئی حرکت پورے گھر کو ہلاےٴ رکھتی ہے دوست مسکراےٴ اور کہا اسے کچھ اسطرح مصروف رکھیں کہ اسے ان شرارتوں کے لیے وقت ہی نا مل سکے، اتنا کہہ کر انہوں نے خود ہی مشورہ بھی دے دیا کہ آپ کل سے اسے اپنے بڑے بھائی کی پینٹ پہنادیں آپکا مسئلہ حل۔۔۔ صاحب بڑے حیران۔۔۔ خیر دوسرے دن انھوں نے یہی کیا اور وہ مزید حیران ہوئے اس وقت کہ واقعی بچے کی سب شرارتیں ختم تھیں۔۔۔
اس قوم کے ساتھ بھی آج کل صاحب اقتدار ایسا ہی کچھ کر رہے ہیں۔۔۔
آپ کہیں گے کہ اب اتنے مصائب کی چکی میں پسی ہوئی قوم جسکو کوئی راہ نہیں سجھائی دے رہی وہ ان سے نکلے کیسے؟
تو واقعی آپکا سوال بجا ہیکہ حالات چاہےکتنے بھی خراب کیوں نہ ہوں ان سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ تو لازمی ہونا ہی چاھیے مگریہاں سب سے اہم بات یہ کے کیا ہم اب بھی اپنے ساتھ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی اس غفلت کی نیند سے جاگنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں﴿ جس میں پڑے ہونے کی وجہ سے ہی آج یہ نوبت آ ئی ﴾ مانا کہ یہ سب حقیقت میں اتنا آسان بھی نہیں مگر آپ یقنا یہ بھی جانتے ہونگے کہ سوئی ہوئی قومیں جب ایک بڑی نیند لیکر بیدار ہوتیں ہیں تو انھیں اس کا کفارہ بھی بڑاہی ادا کرنا پڑتا ہے اور صورتحال آر یا پار کی سی ہوتی ھے جیسے ریسلینگ کے دوران رنگ میں زمین پر پڑا وہ ریسلر جو اپنے مخالف کے مکمل قابو میں ہونے کے باوجود آخری لمحات میں خود کو مخالف کے بازوں سے نکانے کی لیے اپنی پوری قوت جمع کر کے آخری زور ضرور لگاتا ہے اور اکثر کامیاب بھی رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ آخری چانس ہے اسکے بعد اسے یہ موقع کم از کم اس میچ میں تو نہیں مل سکے گا۔۔۔تو بس یہ سمجھ لیں کہ اس قوم کے پاس بھی خود کو ان خونخوار پنجوں سے نکانے کا وقت آیا ہی جاتا ہے جنھوں نے اس پر ذندگی اور موت دونوں ہی تنگ کر دی اب دیکھنا یہ ہیکہ کیا اب بھی یہ اپنی تقدیر بدلنے کے اپنا آخری زور لگانے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟؟؟

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی
ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے

اگرآپکا جواب ہاں میں ہے تو پیشگی مبارکباد قبول کیجے!

کہ چلو ۔۔ دیر آےٴ درست آےٴ

اور اگر آپکا ابھی مزید سونے کا اردہ ہے تو بس پھر رونا دھونا چھوڑیے اور خود کو کل آٹے دال اور پانی کی قطاروں کے لیے خود کو تیار کیجے کیونکہ بخدا کہ جو قومیں اپنا مقدر خود بدلنے کی اہلیت نہیں رکھتیں بس پھر وہ اسی طرح کبھی سی این جی کی چھٹی اور موبائل سروس بند ہونےکی، تو کبھی موٹر سائیکل کی سنگل سواری پر بھی پابندی جیسی خبریں ہی سنا اور سہا کرتیں ہیں۔

%d bloggers like this: