Category Archives: حمد و نعت

تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا


نعت        

flwr

تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا

کوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا

سانس لیتا تُو اور میں جی اٹھتا

کاش مکہ کی میں فضا ہوتا

ہجرتوں میں پڑا ہوتا میں

اور تُو کچھ دیر کو رکا ہوتا

تیرے حجرے کے آس پاس کہیں

میں کوئی کچا راستہ ہوتا

بیچ طائف بوقتِ سنگ زنی

تیرے لب پہ سجی دعا ہوتا

کسی غزوہ میں زخمی ہو کر میں

تیرے قدموں میں جا گرا ہوتا

کاش احد میں شریک ہو سکتا

اور باقی نہ پھر بچا ہوتا

تری کملی کا سوت کیوں نہ ہوا

تیرے شانوں پہ جھولتا ہوتا

چوب ہوتا میں تری چوکھٹ کی

یا تیرے ہاتھ کا عصّا ہوتا

تیری پاکیزہ زندگی کا میں

کوئی گمنام واقعہ ہوتا

لفظ ہوتا کسی میں آیت کا

جو تیرے ہونٹ سے ادا ہوتا

میں کوئی جنگجو عرب ہوتا

اور تیرے سامنے جھکا ہوتا

میں بھی ہوتا تیرا غلام کوئی

لاکھ کہتا نہ میں رہا ہوتا

سوچتا ہوں تب جنم لیا ہوتا

جانے پھر کیا سے کیا ہوا ہوتا

چاند ہوتا تیرے زمانے کا

پھر تیرے حکم سے بٹا ہوتا

پانی ہوتا اداس چشموں کا

تیرے قدموں میں بہہ گیا ہوتا

پودا ہوتا میں جلتے صحرا میں

اور تیرے ہاتھ سے لگا ہوتا

تیری صحبت مجھے ملی ہوتی

میں بھی تب کتنا خوشنما ہوتا

مجھ پہ پڑتی جو تیری چشمِ کرم

آدمی کیا میں معجزہ ہوتا

ٹکڑا ہوتا میں ایک بادل کا

اور ترے ساتھ گھومتا ہوتا

آسمان ہوتا عہدِ نبویﷺ کا

تجھ کو حیرت سے دیکھتا ہوتا

خاک ہوتا میں تیری گلیوں کی

اور تیرے پاﺅں چومتا ہوتا

پیڑ ہوتا کھجور کا میں کوئی

جس کا پھل تُو نے کھا لیا ہوتا

بچہ ہوتا غریب بیوہ کا

سر تیری گود میں چھپا ہوتا

رستہ ہوتا تیرے گزرنے کا

اور تیرا رستہ دیکھتا ہوتا

بت ہی ہوتا میں خانہ کعبہ میں

جو تیرے ہاتھ سے فنا ہوتا

مجھ کو خالق بناتا غار حَسن

اور میرا نام بھی حرا ہوتا

(حسن نثار)

Advertisements

کسی غمگسار کی محنتوں کا


محمد

کسی غمگسار کی محنتوں کا یہ خوب میں نے صلہ دیا

کہ جو میرے غم میں گھلا کیا اسے میں نے دل سے بھلا دیا

جو جمال روئے حیات تھا، جو دلیل راہ نجات تھا

اسی راہبر کے نقوش پا کو مسافروں نے مٹا دیا

میں تیرے مزار کی جالیوں ہی کی مدحتوں میں مگن رہا

تیرے دشمنوں نے تیرے چمن میں خزاں کا جال بچھا دیا

تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی

میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا

تیرے ثور و بدر کے باب کے میں ورق الٹ کے گزر گیا

مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزا دیا

میرے تیرا شکریہ کروں کس زباں سے بھلا ادا ؟

میری زندگی کی اندھیری شب میں چراغ فکر جلا دیا

کبھی اے عنایت کم نظر! تیرے دل میں یہ بھی کسک ہوئی

جو تبسم رخ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا ۔۔۔۔!!!

%d bloggers like this: