Category Archives: عالم اسلام

کلام دلفریب


181096_329490790496748_654071339_n

پانچ دن مسلسل چلنے والی انقلابی ڈرامے کی وہ سیریل باآلاخر اپنے منطقی انجام تک پہنچی اور مجھ سمیت پوری قوم نے ہی اس ڈرامے کو جہاں بہت تنقید کا نشانہ بنایا وہاں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہر ایک نے دل کھول کے انجوائے کیا یہ  شو سوائے اس میں شامل افراد کے  ہر ایک کے لیے ایک شغل بھی تھا چاہے وہ  میڈیا میں بیٹھے معنی خیز مسکراہٹوں کے ساتھ لائیو کوریج اور تبصرے کرتے ٹی وی اینکرز ہوں یا اپنے گھروں میں ٹی وِ ی  پر مستقل نظریں جمائے ناظرین ۔

ایک تماشا تھا جو اس قوم کے لیے خاص طور پر لکھا اور بڑی ہی خوبصورتی سے تشکیل دیا گیا گیا تھا اور یہ بات ماننی پڑیگی کہ تیزاب کے کینٹینر رکھوانے کا اعلان کرنے والے وزیر داخلہ سے لیکر ایک دن پہلے تک بابا جی کی نقلیں اتارتے اوربعد میں انہی سے جپھیاں پاتے وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ ہوں یا ایک طرف حکومت کا حصہ بننے والے اور دوسری طرف وہی انقلابی بھائی بھی ہوں ہر ایک نے اپنے کردار کے ساتھ خوب انصاف کیا .اور آخر میں ہر ایک کو روحانی کنٹینر کے اندر صدارتی ایوارڈ سےنوازا گیا ۔

اللہ کی شان دیکھیے کہ خود کو قافلہ کربلا کا حسین کہنے والے اور پانچ دن پوری گورنمنٹ کو یزیدیوں کا ٹولا کہنے والےکس منہ سے انہی یزیدی لشکروں کو محبت سے گلے لگا رہے تھے اور اسی زبان سے جس سے انہوں نے پچھلے پانچ دن ان پر لفظوں کی گولہ باری کی تھی آج انکی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھک رہے تھے اور جس شان سے وہ اس مغلا ئی کرسی پر براجمان تھے لگتا تھا بس اسی کرسی کے لیے انہوں نے کینیڈا سے پاکستان تک سفر کرنے کا رسک لیا تھا ۔

بدلتا ہی رنگ آسماں کیسے کیسے ۔۔

یہ بات تو اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ یہ ایک بہترین اور بظاہر کامیاب ڈرامہ رہا اور مجھے اس ڈرامے پر کچھ نہیں کہنا کہ اس پر کہنے کو شاید اب کچھ رہا ہی نہیں کہ قادری صاحب کے آنے سے لیکر واپسی تک کے ٹکٹ تک ہر چیز سب کے سامنے آچکی ہے ۔

میں قادری صاحب کو پانچ دن فائیو سٹار کنٹینر میں سیر کرتے دیکھ رہی تھی تو مجھے جنگ خندق کا وہ میدان شدت سے یاد آریا تھا جب ایک صحابی {رضی}خندق کھودنے کے دوران بھوک کی شدت سے نڈھال ہوئے تو سرکار دوعالم کے پاس جا کر  اپنا کرتا اوپر کر کے اپنا پیٹ دکھاتے ہیں جہاں پتھر بندھا ہوا تھا آقا کچھ نہیں کہتے صرف اپنے کرتےکو اوپر کرتے ہیں جہاں دو پتھر بندھے نظر آتے ہیں ۔۔۔ یہ تھا وہ امت کا سردار جس نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے تھے اور جنگ کے میدان میں عام سپاہیوں کی طرح خندقیں کھود رہا تھا اور قیامت تک آنے والی قوموں کو اسلام کی تعلیمات سکھا رہا تھا ۔

اسلام ہی تو دنیا کو وہ خوبصورت ترین مذہب ہے جو امیر غریب بڑے چھوٹے کے فرق کو مٹا دیتا ہے اور اسکی کیا خوب

منظر کشی کر گئے اقبال

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ ہی کوئی بندہ نواز

مجھےانتہائی دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ اسلام کے نام کو کس بیدردی سے استعمال کیا گیا یہ تو انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گرا ہوا انقلاب تھا کجا یہ اسکو اسلامی کہہ کر اسلام کی توہین کی جائے کہ قادری اپنے بلٹ پروف اور ہیٹید کنٹینر میں گرمی کی شدت سے بار بار اپنے پسینے صاف کرتے پھر کوٹ اتارنے کے باوجود جب کچھ کمی نہ ہوئی تو بار بار دروازہ کھولنے کا کہا گیا مگر کربلا کے اس امام کو اپنے بے زبان مریدوں پر ذرا برابر ترس نہیں آیا جب بوڑھے عورتیں اور معصوم بچے سردی میں تیز بارش کے نیچے خود کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے اور قادری صاحب اپنے گرم کینٹر میں اس بارش کو بھی  باران رحمت قرار دیتے رہے مگر خود اس رحمت سے محروم ہی رہے ۔

 

۔مجھے یہ سارا ڈرامہ سورۃ القمان کی آیت نمبر 5 کی تشریح نظر آرہا تھا  جس میں رب نے اس صورتحال کو کچھ ایسے بیان کیا ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍۖۗ وَّ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا ؕ

اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہےجو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکادے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے ۔ { سورۃ القمان }

یہ آیت مجھے بہت پیچھے لے گئی ۔یہ وہ وقت تھا جب جہالت کےگھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی انسانیت غفلت کی ایک بڑی نیند لینے کے بعد جاگ رہی ہے اور میرے محبوب نبی اکرم {صہ}اس سوئی ہوئی انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے دن رات تگ و دو میں سر گرداں ہیں مگر دوسری طرف جہالت کے ٹھیکدار جن کو یہ بیداری کسی طور پسند نہ تھی انہوں نے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی جس میں ایک منافق اور دشمن رسولّ نے یہ ہتھکنڈا بھی استعمال کیا تھا کہ وہ اس دعوت کے مقابلے میں گانے بجانے والی لونڈیوں کو خرید کر لاتا اور جب کوئی دعوت پیش کی جاتی تو اسکے مقابلے میں دوسری طرف وہ اس لونڈی کا گانا شروع کروادیتا اور لوگوں کی توجہ کو اصل دعوت کی طرف سے ہٹا دیتا اس کی اس سازش کو رب نے یوں بے نقاب کیا ۔۔۔۔۔ کہ تم سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے ۔۔۔۔۔

تو آج بھی ایسا لگ رہا تھا کہ عرب بہار کی وہ لہر جس نے پوری مسلم دنیا میں اسلامی انقلاب کی ایک فضاء پیدا کردی تھی اور یقینا پاکستان پر بھی اس کے گہرے اثرات نظر آنے لگے تھے ۔لوگ انتظار میں تھے کہ یہاں بھی کسی تحریر اسکوائر پر کوئی مرسی مسیحا کی شکل میں آئے گا اور انکو مصیبتوں سے نکال کر ان کے پچھلے سارے دکھوں کا مداوا کرے گا ۔۔۔

اسی فضاء کو ختم کرنے کا بہت بھیانک منصوبہ قادری کے بلٹ پروف انقلاب کی شکل  میں خرید کر لایا گیا وہ کلام دلفریب جس نے حقیقت میں لوگوں کو ایک بہت بڑا فریب دیا اور اس کے نتیجہ میں لوگوں کو دلوں سے انقلاب کی محبت اور  اس انتظار کو کھرچ کر نکال دینے کی بھر پور کوشش کی گئی اور خود کو اسلام کا سپوت کہنے والے خود غرض انسان کے ہاتھوں اسلامی انقلاب کے نام پر اس قوم کے اوپر جو ظلم ڈھایا گیا اس نے اسے ایک گالی بنا دیا  ۔

اور ایک طرف اس قوم کو پھر سے ایک بڑے وقت کے لیے آزمائش میں ڈال دیا کہ اس انقلابی ڈرامے  کے زخم بھرنے کے لیے اب کافی وقت درکار ہوگا ۔ وہیں دوسری طرف اب لوگوں کو صحیح حقیقی انقلاب کے لیے پکارنے والوں کی ذمہ داری کئی گناہ بڑھ گئی کیونکہ اب جب بھی کبھی انقلاب کا نام لیا جائے گا تو لوگوں کے ذہنوں میں اس ڈبہ پیک انقلاب کی یادیں ضرور تازہ ہوجائینگی ۔

دیکھنا یہ ہے کہ یہ قوم کب حقیقی انقلاب کے لیے بھی ایسے ہی اپنے گھروں سےنکل کر سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کے لیے خود کو میدان میں لانے کے لیے تیار ہوتی ہے اسلیے کہ وقت یہ ثابت کر چکا کہ تماش بینوں کے ساتھ تماشے کا حصہ بننا کوئی کامیابی نہیں بلکہ اصل کامیابی تو تب ہے جب آپ حق کی راہ پر چلنے والوں کے دنیائے فانی سے کوچ کرجانے کے بعد انکے قصیدے لکھنے ، پڑھنے یا اپنی محفلوں میں انکی جدوجہد کی داستانیں سنانے کے بجائے انکی ذندگی میں انکی سچی جدوجہد میں میں انکا ساتھ دیں تو یقین جانیے اس قوم کے نصیب کا مرسی دور نہیں بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے  اور یہ صرف اس قوم پر منحصر ہے کہ یہ کب اپنی آنکھوں سے غفلت کی پٹی کو اتار کر پھینکتی ہے  کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے جسے وہ اپنے پاک کلام میں  یوں بیان کرتا ہے

” کہ یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اُسے تبدیل نہ کریں جو اُن کے نفوس میں ہے”

{

الرّعد}

 

Advertisements

یتیمی کیسی ہوتی ہے


یتیمی کی اذیت کس کو کہتے ہیں یہ آج میں نے جانا!!

میں نے اپنے بابا کو نہیں دیکھا میری پیدائش انکے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوئی مگر نہیں مجھے تو  لگ رہا تھا میں آج ہی یتیم ہوئی جو زخم مجھے آج لگا تھا وہ کبھی نہیں بھر سکتا نہ ہی اسکا کوئی نعم البدل ہوسکتا تھا۔۔۔qazi
رات ڈیڑھ بجے کا وقت خبر کیا تھی منہ سے نکالتے ہوئے بھی دل لرز رہا تھا ڈرتے ڈرتے بھائی سے پوچھا وہ بھی لاعلم پھر ٹی وی چینلز کو نیٹ پر ہی سرچ کیا اور دل لگا تھا غم کی شدت سے کہیں مزید چلنے سے انکار نہ کردے کہ سامنے ہی یہ دردناک خبر چل رہی تھی کہ میرے قائد میرے شفیق باپ جن کا خمیرمحبتوں سے گوندھا گیا تھا جن کی رگ رگ میں امت کے اتحاد کی تڑپ تھی وہ اس بے وفا دنیا سے منہ موڑ چکے تھے اپنے رب اعلیٰ کی مہمان نوازی کے لیے۔

میں ایک چھوٹے سے بچے کی مانند سسک رہی تھی اور میں ہی کیا یہاں تو ہر ایک تڑپ رہا تھا جس سے بات کرو ہی سسک رہا تھا لگتا تھا یہ قوم یتیم ہوگئی تھی کچھ نہیں سمجھ آرہا تھا کیا کہہ کر خود کو تسلی دی جائے دل کچھ سننے کو تیار نہیں کچھ زخم ایسے ہوتے جو انسان کو توڑ دیتے ہیں یہ بھی ایسا ہی کاری گھاؤ تھا جو ہر ایک نے اپنے دل پر محسوس کیا ٹی وی پر چلنے والے وہ مناظر جس میں ہر ایک یوں زارو قطار رو رہا تھا جیسے یہ مجاہد اسلام بس اسی کے دل کی دھڑکن تھے میں بھی یہی سمجھی کہ میرا دکھ سب سے زیادہ ہے مگر وہ تو یہاں ہر ایک کے سینے میں دل کی جگہ دھڑکتے تھے۔

 

یہ حقیقت برحق سہی کہ” کل نفس ذائقۃ الموت ” اور کتنے ہی لوگوں کو اپنے پیاروں کو بچھڑتے دیکھا۔ مگر یہ کیسی جدائی  تھی جو مارے دے رہی تھی روح تک زخم زخم تھی۔

 
یہ رات میری بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی کی اذیت ناک ترین رات تھی جس نے سن لیا وہ نہیں سویا اسکی رات آنکھوں میں کٹی تھی نیند کہاں سے آتی یہاں تو عالم یہ تھا کہ اگر مرنے والے کے ساتھ مرا جاسکتا تو آج نجانے  کتنے جنازے اٹھتے۔۔۔

 
صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر کونے میں بیٹھے اورسسکتے کون تھے یہ عاشقان قاضی ایسا کیا دیا گیا تھا انکو کہ انکی تڑپ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی؟؟؟

 

ہوتی بھی کیسے جن کا بچپن اور جوانیاں فخر سے یہ دعوے کرتے گزریں تھیں کہ ” ہم بیٹے کس  کے ؟ قاضی کے” وہ کیسے نہ تڑپتے اپنے اس باپ کے لیے جو حقیقی باپوں سے بڑھ کر تھے۔ جن کی رگوں میں اس مرد مجاہد کی محبت خون کے ساتھ سرایت کر چکی تھی آج انکے لیے خود کو سنبھالنا ایسے ہی تھا جیسے کسی مچھلی کو پانی سے باہر تڑپنے کے لیے چھوڑ   دیا جائے۔

آج مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی تھی کہ صبر کا درجہ میرے مالک نے کیوں اتنا بلند رکھا ۔۔۔۔آہ ۔۔ مگر صبر کہاں سےلائیں ۔۔۔

 

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا  فراز

ظالم اب کہ بھی نہ رویا تو مر جائے گا

 

مرے مرشد کے بارے میں کون نہیں جانتا میرا انکے لیے کچھ کہنا ایسا  ہی ہے جیسے سورج کو روشنی دکھانا۔۔۔

آج پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون انکا مخالف ہے اور کون چاہنے والا ہر ایک ہی کے اشک اسکے اندر کے دکھ کی کہانی سنارہے تھے اپنے تو خیر اپنے تھے مگر یہاں تو مخالف بھی رو رہے تھے بس ایک ہی بات تھی کہ یہ امت مسلمہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔

 

بات بھی سو فیصد سچ تھی کہ وہ جن کے دل میں امت کی اتحاد کی تڑپ انہیں اس عمر اور سخت گرتی ہوئی صحت کے باوجود چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی اور انھوں نے اسکی جدوجہد میں ہر اپنی زندگی کا ہر لمحہ لگادیا۔

 

مجھے انکے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں وہ تو اک ایسا چمکتا ہوا روشن ستارہ تھے جس سے ہر ایک نے روشنی ہی پائی۔

یقینا میرے رب نے ان کے لیے بہترین جنتوں کا مہمان بنانے کی تیاری کر لی ہوگی انکے استقبال کے لیے انکے رفقاء کو بھی اطلاع کر دی گئی ہوگی ۔
خود رب کا فرمان ہے (ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان)
بس میری رب سے دعا ہے مولا ہمارے والد کی  بہترین میزبانی فرمایئے گا اپنی جنتوں میں سے بہترین جنت کا مہمان بنائیے گا اور دکھ کی اس گھڑی جب کہ اس صدمے سے  ہم بکھر  چکے ہیں ، مولا ہمیں صبر جمیل عطا فرما یئے ۔

 

مولا ہمیں قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے تلے اکھٹا کیجیے گا کہ ہم نے تیرے لیےمحبت کی اور خالص کی اور جن چراغوں کو وہ جلا کر گئے انکو روشن رکھنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمانا آمین!

 

یتیمی کیسی ہوتی ہے؟
دکھ کس کو کہتے ہیں؟
زخم کیسے لگتا ہے؟
درد کیسے رلاتا ہے؟
تڑپا کیسے جاتا ہے؟
یہ آج میں نے جانا
مانا موت برحق ہے
لیکن!
غم کی اس شدت میں

درد بھری حقیقت میں
کیسے خود کو سنبھالے کوئی؟
کیا کہہ کر بہلا ئے کوئی؟
دیکھو تو ٹوٹ گیا کوئی
چھن گیا مجھ سے

سائباں وہ محبتوں کا
بس ایک انبار ہے اسریٰ

ان گنت یادوں کا۔۔۔

نوحہ فلسطین یا نوحہ کراچی؟


  فلسطین کے تڑپتے لہو میں نہاےٴ وہ معصوم بچے، عورتوں کی چیختی ہوئی آہیں ، جواں لاشے اور میری بے بسی۔۔۔! یہ سب وہ مناظر تھے جنھوں نے مجھ سے ایک مضمون لکھوادیا۔ مضمون کیا تھا صرف میرے احساسات تھے جن کو میں نے اپنے قلم میں سیاہی کی جگہ بھر کہ کاغذ کے حوالے کر دیا۔ یہ تو میں بھی جانتی تھی کہ میرے جیسے بہت لوگ ہیں مگر بخدا میں یہ نہیں جانتی تھی کہ میرا یہ درد اتنے دلوں کی آواز کی صورت اختیار کر لےگی۔ یقینا اس میں لکھنے والے کا کوئی کمال نہ تھا کہ جب دکھ اور احساس کی کیفیت ایک سی ہو تو ہم لوگوں کے دل کی آواز بن ہی جاتے ہیں۔

ایک طرف جہاں اس مضمون کو پسند کرنے والوں کی تعداد بہت  تھی وہیں کچھ سوالات بھی اٹھائےگئے تھے اور مجھے یہ لگا کہ جب قلم کو تھاما ہی ہے تو اسکے تقاضے بھی نبھانے چاہیے اور قاری کو اپنے اٹھائے گئے سوالوں کے جواب ملنا چاہیے ایک سوال جو بہت ذیادہ اٹھایا گیا وہ یہ تھا کہ ہمارے اپنے ہی گھر میں ﴿کراچی﴾ میں آگ لگی ہے اور ہم دنیا کا رونا رو رہے ہیں۔بات تو یقینا درست ہے اور سیدھی دل کو لگتی ہے لیکن اگر جذبات کی عینک اتار کر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو حقا ئق ایک طرف اگر بہت دردناک ہیں تو دوسری جانب بہت بھیانک نظر آتے ہیں۔ میری کوشش ہوگی کہ آپکے سامنے انکا کچھ حصہ واضع کرسکوں۔

مجھے بتائیں میں کیسے فلسطین کے معصوموں کا نوحہ نہ لکھوں جبکہ میرے سامنے چار یا پانچ سال کا وہ ننھا مجاہد جسکے ہاتھوں میں کھلونے لینے کے دن تھے مگر یہ کیا اس کے ہاتھوں میں تو پتھر ہیں اور یہ ننھا مجاہد اپنے قد سے بھی کئی گناہ ٹینک کے سامنے کس عزم اور حوصلے سے کھڑا ہے۔

بات صرف اتنی ہوتی تو میں نظر انداز کر دیتی مگر یہ کیا وہ ٹینک لمحہ بہ لمحہ اس ننھے مجاہد کی جانب بڑھا آ رہا ہے اور کون نہیں جانتا کہ ایسے کتنے معصوم ایسے ٹینکوں تلے۔۔۔۔مگر یہ اس مجاہد میں موجود غیرت و حمیت ہی ہے جو عزم و حوصلے میں کوئی کمی واقع نہیں ہونے دےرہی وگرنہ کیا مقابلہ آگ اگلتے دیو ہیکل ٹینکوں کا اور اس کے ننھے ننھے ہاتھوں میں اٹھائے پتھروں کا۔۔۔!!
عقل ہے محو تماشہ لب بام ابھی

میں کیسے فلسطین کی ان ماوٴں کو فراموش کر دوں کہ جنہیں یہ علم تک نہیں کے انکے لاڈلے کی اور کتنی سانسیں دنیا میں باقی ہیں۔
میں کیسے اپنی آنکھوں سے اس ننھے فرشتے کی تصویر محو کردوں جس نےرحم مادر ہی میں شہادت حاصل کرلی دنیا میں قدم ہی اس وقت رکھا جب وہ شہیدوں کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا مانا کہ شہیدوں پر رویا نہیں جاتا مگر بخدا میں اس نیو بورن بےبی کو گولیوں سے چھلنی دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی لگتا تھا دل پھٹ جائے گا  اور دنیا کی کون سی ماں ہوگی، ایسی تصویر دیکھ کر جس کا دل نہ بے قرار ہوا ہو۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان گوری چمڑی والی ماوں پر، ماں تو آخر ماں ہوتی ہے، کیوں ایسے معصوم بچوں کو دیکھ کر ان کے دل نہیں پسیجتے۔ وہ کیوں اپنے حکمرانوں کے خلاف میدان عمل میں نہیں نکل آئے ؟ کوئی تو بتائے یہ کونسی جنگ ہے ؟ کیسی جنگ ہے ؟ جہاں دنیا کا کوئی قاعدہ کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا اس دنیا میں جہاں کتوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔۔۔صرف اس لیے کہ یہ بے دریغ بہنے والا لہو مسلماں کا ہے۔

کوئی تو آےٴ مجھے بتاےٴ۔۔۔۔۔!!
میرے  بین کرتے سوال، جواب مانگیں
تم ہی بتاوٴ کس سے آخر یہ حساب مانگیں
کوئی تو آےٴ مجھے بتاےٴ۔۔۔۔۔

اگر مثا لیں گنوانے لگوں تو کئی صفحات ختم ہو جائیں گےاس لیے میرا خیال ہے آگےچلیے اورتصویر کا بھیانک رخ دیکھنے کے لیے خود کو تیار کیجیے کہ بات اب کسی اور کی نہیں آپکی اپنی ہونے لگی ہے ، جی لہو لہو کراچی کی بات۔۔۔

بہت دور نہیں جانے کی ضرورت بلدیہ ٹاوٴن کی فیکٹری کا ملبہ اب بھی اپنی جگہ موجود نوحہ خواں ہے۔اور بہت سے شہیدوں کی میتیں بھی ۔۔۔
یقینا بہت سے زخم تازہ ہو جائیں گے جس پر پیشگی معذرت۔۔ مگر کیا کیجے کہ جب تک زخموں کی آگاہی نہ ہو علاج ممکن نہیں۔

سوالوں کے جواب ملنا مشکل ہیں۔ کون نہیں جانتا فیکٹری میں کام کرنے والے بدنصیبوں پر کیا قیامت ٹوٹی ؟ مجھے یاد ہے جب ہم اس حادثہ کے بعد ان شہیدوں کے لواحقین کے گھروں پر گئے۔ ان پر ٹوٹ پڑنے والی قیامت اور اس قیامت کی نذر ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات اور اس ملاقات میں ان کے دکھ اور درد کو بانٹنے کی ایک کوشش ہم نے کی تھی۔

یہ اورنگی ٹاون کی ایک کالونی ہے۔ شکستہ، غمزدہ اور دو دو کمروں پر مشتمل کالونی۔ یہاں رہنے والوں کے چہرے غمزدہ تھے، وہ اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا سوگ منارہے تھے۔ ہم گیارہ بجے اس کالونی میں پہنچے تھے، مگر جب میں گھر لوٹی تو مغرب کی اذانیں ہورہی تھیں۔ یہ سات گھنٹے میری زندگی کا اذیت ناک وقت تھا۔ ایسی اذیت کہ الفاظ جن کا درد سہنے کی سکت نہیں رکھتے ۔۔۔۔! پتا یہ چلا کہ اس ایک محلہ سے پچاس جنازے ایک ساتھ اٹھے ہیں۔۔۔۔ !! یہ تو وہ جن کی لاشیں مل گئیں۔۔۔ جس گھر میں قدم رکھتے وہی ایک کہرام مچا تھا۔ آپ کو صرف چند گھروں میں لے کر چلتی ہوں۔

آئیے یہ ایک گھر جہاں ایک معمر خاتون دکھوں سے چور، کراہتی آواز میں کہہ رہی یہ میرا تو سب کچھ ہی لٹ گیا، یہ الفاظ ادا کرتی ہے، دہائی دیتی اور غش کھاکر گرجاتی ہے۔ آس پاس پانچ اور خواتین اذیت اور غم سے پتھر کی مورتیاں بنی نظر آتی ہیں۔ معلوم ہوا ان میں سے چار اس معمر خاتون کی بیٹیاں اور ایک بہو ہے اور سب کا ایک ایک بیٹا اس شہر کراچی کے ٹھیکیداروں کی تحفے میں دی ہوئی آگ کی نذر ہوگیا ہے۔ اس معمر خاتون کا بار بار بے ہوش ہوجانے کا راز یہ کھلا کہ ایک ساتھ چار نواسے اور ایک پوتے کا غم اسے ہوش میں نہیں رہنے دیتا ۔۔۔۔۔ ایک آواز آتی ہے۔۔! بھتہ کیوں نہیں دیا ؟ ھمارے بچوں کی جان لے لی۔ میں حیران ہوکر پلٹی کیا یہ بھی جانتے ہیں بھتے کی کہانی ۔۔۔۔۔؟

ہاتھ میں بابو کی تصویر لیے ایک اور ماں کی آواز تھی۔ سسکیوں میں ڈوبی۔۔ میرا بابو رات دو بجے تک فون کرتا رہا اماں ھم زندہ ہیں، ہم کو یہاں سے نکالو ۔۔۔آہ .!! کیسا ہوگا وہ منظر ۔۔۔۔زندگی کی خواہش رکھنے والے جوان، زندگیوں کا موت کو یوں گلے لگانا ، اسکی اذیت وہی جان سکتا ہے جس نے اسے گلے لگایا ہوآپ اور میں چاہ کے بھی نہیں محسوس کرسکتے ، ہاتھ میں پکڑے جلے ہوئے کارڈ اورتنخواہ کے جلے ہوئے نوٹوں اور اس طرح کی اورکئی تصویریں لیتے ہوئے میرےہاتھ کئی بار لرزے اور میرے آنکھوں سے بہتے ہوئے اشکوں نے ہر چیز کو دھندلادیا۔۔

                                                                                                                                                                                     

جلے ہوئے کارڈ

ایک اور دہائی۔۔۔ کہاں تھی گورنمنٹ ، پولیس ،آگ بجھانے والی گاڑیاں کیوں ھمارے بچوں کو بھینٹ چڑھایا ؟؟؟ شکوے تھے جو ہر ایک کی زباں ادا کر رہی تھی ہر آنکھ اشک بار۔۔

جوں جوں وقت گزرتا گیا میری حیرانگی میں اضافی ہوتا گیا یہاں تو اور بھی بہت کچھ جانتے ہیں لوگ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ وہاں سے کچھ فاصلے پر رینجرزخاموش تماشائی بنی کھڑی رہی کہ ہمیں آڈرز نہیں ۔۔۔! آگ بجھانے والی گاڑی کب آئی ؟ اور یہ لوگ یہ بھی جانتے ہیں بھتہ مانگنے کی یہ کاروائی پہلی بار نہیں ہوئی اور سب سے اہم بات کہ بھتہ مانگا کس نے تھا ۔۔۔۔۔!

میں یہ سوچنے لگی کہ جب یہ دو کمروں میں رہنے والے تین تین ہزار کی نوکریاں کرنے والے جنہیں اپنی بھوک ختم کرنے اور اپنے بچوں کے تن پر کپڑا پورا کرنے فکر نہیں ختم ہوتی اگر یہ اتنے با خبر ہیں تو بے خبر کون ہے اور کیوں ہے ؟ بارہ سالہ ہاشم بیوہ ماں کا واحد سہارا ، بائیس سالہ سعود کی سترہ سالہ معصوم بیوہ گود میں چار ماہ کا ارحم لیے صرف ہر ایک کے چہروں کو تک رہی اک سمندر تھا اسکی آنکھوں سے جو رکنے کا نام نہیں لیتا ، بس ایسی غم کی داستانوں کو سنتے اور اجڑے گھروں میں جاتے جاتے شام بھی ساتھ چھوڑنے لگی تھی لگتا تھا اس میں بھی اب مز ید سننے کا یاراں نہیں ہے۔۔۔

یہ شائد آخری گھر ہے ماں کی دکھ میں ڈوبی آواز ۔۔۔! وہ تو چنگچی چلاتا تھا مگر ان ظالموں نے پرچی بھیجنی سروع کر دی دو سو روپے روز کے کمانے والا تین سو کہاں سے دیتا۔۔۔۔۔۔!! ﴿ جی ہاں میں اسی پرچی کی بات کر رہی ہوں جس سے انکار یا اقرار پر لوگوں کی ذندگی کا انحصار ہوتا ہے ﴾  اسنے چنگچی بیچ کے اس فیکٹری میں نوکری کی یہ تو پہلی تنخواہ لینےگیا تھا آہیں تھیں یا شکوے ﴿کہ خدارا ہم غربت کے ماروں کو زندہ رہنے دو﴾۔

ظلم وجبر کی ایسی لامتناہی داستانوں کا مجھ سمیت ہرشخص چشم دید گواہ ہے لیکن  وقت کے ان فرعونوں کو ہاتھ روکنے کی صلاحیت سے محروم۔۔۔آخرمیں ایسے ہی گھر کا نقشہ آپ کے سامنے رکھ کہ جواب آپ پر چھوڑتی ہوں ۔

اسی کورنگی کا رہائشی جس نے ابھی نیا گھر بنایا ﴿اور یہی اسکا جرم بن گیا ﴾۔ ایک دن پرچی آتی ہے بھتہ ۔۔!! اہل خانہ کے جواب نا دینے پر اس گھر کے بزرگ کو کچھ غنڈوں نے آکر ذودوکوب کرنا شروع کیا گھر میں موجود بیٹی نے باپ کا بچانے کی لیے بیچ میں آنا چاہا تو پانچ چھ غنوں نے اس سات ماہ کی حاملہ عورت کو اپنے دفتر میں لیجاکر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی یا اللہ ! یہ ہے میرا او ر آپکا شہر، شہر کراچی ۔۔۔! بات صرف یہیں تک نہیں اگلے دن گاڑیاں بھر کے آتیں ہیں اور باپ کے سامنے ڈنڈوں اور لاتوں سے جواں سالہ بیٹے کواس قدر مارا جارہا ہے بیکہ وہ لہو لہان ہو گیا باپ نے گلی میں جاکر چیخ و پکار کی اورتڑپ کر کہا۔۔کوئی ہے جو میرے بیٹے کو بچائے اگر آج تم نے میرے بیٹے کو نہ بچایا اور ظالم کا ہاتھ نا پکڑا تو یاد رکھو کل یہ سب تمھارے بیٹوں کے ساتھ بھی ھوگا مگر اس بوڑھے روتے ہوئے کی دہائیاں سب بیکار گئی۔۔۔۔کہ

سب ہی کو جان تھی پیاری سب ہی تھے لب بستہ

مگر کاش کہ وہ یہ جان پاتے کہ اگر آج انھوں نے بظاہراپنی جان بچا کر یہ جاناکہ وہ بچ گئے ؟ نہیں ! بلکہ اس ظالم بھیڑیے کا اگلا شکار وہ خود ہونگے ۔۔۔ یہ ایک نہیں ایسی انگنت کہانیاں ہیں جو اس شہر کراچی کی علامت بن گئی ہیں ۔۔۔ مگر ٹھریے مجھے بس اتنا بتاتے جایئے کہ۔۔۔

اس سارے واقعے میں ذیادہ قصور وار کون؟

کیا وہ بھیڑیا جس کی فطرت میں ہی خونخواری ہے؟

یا اس بھیڑیے کو روز ایک نئی بکری کی خوراک دے کر پال پوس کر طاقت ور بنانے والے؟
جب قصور پالنے والوں کا تو شکایتیں کیسی۔۔۔۔؟؟

اب آپ ہی بتا ئیے میرا نوحہ اس ننھے مجاہد کے لیے ہو جو پتھر ہاتھ میں لیے وہ ظالم کی آنکھ میں آنکھ ڈالے بغیر پرواہ کیے کے اسکی پشت پر کوئی ہے بچانے ولا یا نہیں یہ عزم کئے ہوئے ہے کہ اپنی جان تو دے دسکتا ہے مگر ظالم کے آگے جھک نہیں سکتا ۔۔۔یا میرا نوحہ روزانہ بھیڑ یے کے آگے سجا کر خوراک پیش کرنے والوں کے لیے ہو۔۔۔؟

جواب آپ خود تلاش کیجیے۔۔!!۔

ہم کچھ نہیں کر پائے


فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے پندرہ لاکھ ڈالر مالیت کا گولڈن بوٹ غزہ کے بچوں کے نام کر دیا
اس خبر نے جہاں بہت سے لوگوں متاثر کیا وہیں مجھے بہت رلایا ،میرے یہ آنسو جہاں ایک طرف فلسطین کے لیے کی جانے والی مدد پر خوشی کے تھے مگر وہیں دوسری طرف یہ آنسو مجھے اپنےدعوے(مسلمانی) کی شرمندگی پر تھے ، میرا یہ فخر( کہ میں الحمد للہ مسلمان ہوں) آج مجھے بے پناہ رلا رہا تھا ، ایک عیسائی کھلاڑی مجھے میرے اس دعوے کے باوجود شکست دے گیا تھا وہ عیسائی ہو کراکیلا وہ کچھ کر گیا جو ہم مسلمان من حیث الامت بھی نہیں کر پائے،اس نے اپنی عزیز چیز ان بے بس اور تڑپتے بلکتے معصوم بچوں کے نام کر دی مگرہم تو سوائے ٹی وی پر لگی سیاسی کشتیاں دیکھنے اور بال ٹھاکرے کی موت کا سوگ اور آخری رسومات( جو لائیو دکھائی جارہیں تھیں ) دیکھنے کے کچھ نہیں کر پائے۔

قیمتی چیزیں تو میرے پاس بھی تھیں مگر میں تو سوچتی ہی رہ گئی اوروہ بازی لے گیا ،مجھے یہ احساس جرم مارے ڈال رہا ہے کیا اسکا جذبہ ایمان مجھ (ایک مسلماں) سے ذیادہ نکلا ؟؟؟ شاید ہم پیدائشی مسلمانوں کی سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم بس یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ ہم بس اتنے ہی کے مکلف ہیں آج بھی ہم فلسطین کے بےبس اور مظلوموں کے لیےٹوئٹر پر آٹھ دس ٹویٹ کر کے اور اتنی ہی پوسٹ فیس بک پرشیئر کر کہ حکمرانوں کو گالیاں دے کر ہم سمجھتے ہیں ہمارا فرض بس اتنا ہی تھا جو ادا ہو گیا۔۔۔

 

مجھے حکمرانوں کی بات نہیں کرنی کہ انکے دلوں میں کتنا امت کا غم ہے یہ سب جانتے ہیں! مجھے تو اپنی اور اپنے جیسے ان مسلمانوں کی بات کر نی ہے جو آج کل میری ہی جیسی کیفیت سے دوچار ہیں کہ۔۔۔ چین سے سو تو نہیں پاتے مگر اس سے آگے کچھ نہیں کر پاتے۔۔۔ جبکہ ایک نو مسلم (اور غیر مسلم بھی) عمل میں ہم سے کئی گناہ آگے ہیں اسکی زندہ مثال پچھلے کئی دنوں سے میں (مریم)ایوان ریڈلی (جی وہی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی کھوج لگانے اور دنیا کے سامنے اس حقیقت کو کھولنے والی) کی ٹوئٹر پر چلنے والی اس مہم کو دیکھ رہی ہوں جس میں وہ مستقل فلسطینی عورتوں اور بچوں کے لیےفنڈنگ کر رہی ہے اور لوگوں کو کس طرح اسکی ترغیب دے رہی ہے۔ اسکی ٹویٹس سے اسکی تڑپ اور بے قراری کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔۔۔

 

(جبکہ ہم تو اب تک یہ ہی طے نہیں کر پائے کہ ہمیں انکی مدد کے لیے فنڈنگ کرنی بھی چا ہیے اور اگر ہاں تو وہ کب اور کیسے شروع کی جائے) میں سوچنے لگی یہ سب شاید اس لیے کہ اسے اسلام وراثت میں نہیں ملا (جیسے ہمیں ملا ہے)یہ اسلام اسکی اپنی محنت اور لگن کا تحفہ ہے اور وہ اسکی قدر بھی جانتی ہے مگر ہم نے اس کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا ہے جو اولاد وراثت میں ملے ہوئے مال کے ساتھ کرتی ہے۔۔۔ مگر جو شخص خود اپنی محنت سے کچھ کماتا ہے وہ اسکی قدر سے واقف ہوتا ہے اسی لیے اسے کس طرح سنبھال کے رکھتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔

 

میں سوچنے لگی کہ کیا ہمارے ایمان میں کمی ہے یا ہمارے جذبوں میں۔۔۔؟   شاید دونوں میں نہیں! مگر ہم اپنے جذبوں اور ایمان کسی اور ترازو میں تولتے ہیں اور ایک اسلام کو سمجھ کے مسلمان ہونے والے کا میزان کچھ اورہی ہے۔۔۔

 

اس میزان کو میں نے تب پہچانا جب میں راتوں کو فلسطین کے معصوم بچوں اور عورتوں پر ہونے والے ظلم پر زاروقطار رو رہی تھی تو اسی وقت دوسری طرف ایک نو مسلمہ ایوان ریڈلے ان ہی فلسطینوں کی مدد کے لیے ایک مہم چلا رہی تھی اور رونالڈو اپنی قیمتی ترین چیز کو ان بچوں کے لیے دینے کے پلان بنا رہا تھا۔۔۔ جس طرح دونوں رویوں میں فرق تھا یقینا نتائج میں بھی۔۔۔ میں آج بھی وہیں ہوں اور وہ سب مجھے شکست دیتے ہوئے بہت پیچھے کہیں چھوڑ گئے۔۔۔

 

بس یہی فرق ہے وہ جس کی وجہ سے ہم عمل کی دنیا میں اب تک اسقدر پیچھے ہیں اور بخدا اسوقت رہیں گے جب تک ہم اپنے ایمان کو پرکھنے کے لیے اپنا میزان بدل نہیں لینگے اور زبانی آہ وبکا پرعمل کو ترجیح نہیں دینگے۔

سنو اہل فلسطین سنو ۔۔۔

تم جلتے رہے آگ و بارود میں
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
سسکتی رہیں بہنیں سرہانے لاشوں کے
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
ڈرے سہمے وہ معصوم چہرے
تڑپتے رہے آنکھوں کے وہ تارے
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
فریاد کرتی سسکتی رہیں مائیں
اٹھائےلاشے جگر گوشوں کے
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
بھگوتے رہے اپنے آنسووٴں سے دامن
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
تم اگر نہیں سوئے راتوں کو
تو یقین جانو ۔۔۔
کہ کاٹی ہم نے بھی راتیں
سسک سسک کر اسریٰ
بخدا سو ہم بھی نہیں پائے
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے۔۔۔۔۔۔!!

 

 

 

%d bloggers like this: