Category Archives: فلسطین

نوحہ فلسطین یا نوحہ کراچی؟


  فلسطین کے تڑپتے لہو میں نہاےٴ وہ معصوم بچے، عورتوں کی چیختی ہوئی آہیں ، جواں لاشے اور میری بے بسی۔۔۔! یہ سب وہ مناظر تھے جنھوں نے مجھ سے ایک مضمون لکھوادیا۔ مضمون کیا تھا صرف میرے احساسات تھے جن کو میں نے اپنے قلم میں سیاہی کی جگہ بھر کہ کاغذ کے حوالے کر دیا۔ یہ تو میں بھی جانتی تھی کہ میرے جیسے بہت لوگ ہیں مگر بخدا میں یہ نہیں جانتی تھی کہ میرا یہ درد اتنے دلوں کی آواز کی صورت اختیار کر لےگی۔ یقینا اس میں لکھنے والے کا کوئی کمال نہ تھا کہ جب دکھ اور احساس کی کیفیت ایک سی ہو تو ہم لوگوں کے دل کی آواز بن ہی جاتے ہیں۔

ایک طرف جہاں اس مضمون کو پسند کرنے والوں کی تعداد بہت  تھی وہیں کچھ سوالات بھی اٹھائےگئے تھے اور مجھے یہ لگا کہ جب قلم کو تھاما ہی ہے تو اسکے تقاضے بھی نبھانے چاہیے اور قاری کو اپنے اٹھائے گئے سوالوں کے جواب ملنا چاہیے ایک سوال جو بہت ذیادہ اٹھایا گیا وہ یہ تھا کہ ہمارے اپنے ہی گھر میں ﴿کراچی﴾ میں آگ لگی ہے اور ہم دنیا کا رونا رو رہے ہیں۔بات تو یقینا درست ہے اور سیدھی دل کو لگتی ہے لیکن اگر جذبات کی عینک اتار کر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو حقا ئق ایک طرف اگر بہت دردناک ہیں تو دوسری جانب بہت بھیانک نظر آتے ہیں۔ میری کوشش ہوگی کہ آپکے سامنے انکا کچھ حصہ واضع کرسکوں۔

مجھے بتائیں میں کیسے فلسطین کے معصوموں کا نوحہ نہ لکھوں جبکہ میرے سامنے چار یا پانچ سال کا وہ ننھا مجاہد جسکے ہاتھوں میں کھلونے لینے کے دن تھے مگر یہ کیا اس کے ہاتھوں میں تو پتھر ہیں اور یہ ننھا مجاہد اپنے قد سے بھی کئی گناہ ٹینک کے سامنے کس عزم اور حوصلے سے کھڑا ہے۔

بات صرف اتنی ہوتی تو میں نظر انداز کر دیتی مگر یہ کیا وہ ٹینک لمحہ بہ لمحہ اس ننھے مجاہد کی جانب بڑھا آ رہا ہے اور کون نہیں جانتا کہ ایسے کتنے معصوم ایسے ٹینکوں تلے۔۔۔۔مگر یہ اس مجاہد میں موجود غیرت و حمیت ہی ہے جو عزم و حوصلے میں کوئی کمی واقع نہیں ہونے دےرہی وگرنہ کیا مقابلہ آگ اگلتے دیو ہیکل ٹینکوں کا اور اس کے ننھے ننھے ہاتھوں میں اٹھائے پتھروں کا۔۔۔!!
عقل ہے محو تماشہ لب بام ابھی

میں کیسے فلسطین کی ان ماوٴں کو فراموش کر دوں کہ جنہیں یہ علم تک نہیں کے انکے لاڈلے کی اور کتنی سانسیں دنیا میں باقی ہیں۔
میں کیسے اپنی آنکھوں سے اس ننھے فرشتے کی تصویر محو کردوں جس نےرحم مادر ہی میں شہادت حاصل کرلی دنیا میں قدم ہی اس وقت رکھا جب وہ شہیدوں کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا مانا کہ شہیدوں پر رویا نہیں جاتا مگر بخدا میں اس نیو بورن بےبی کو گولیوں سے چھلنی دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی لگتا تھا دل پھٹ جائے گا  اور دنیا کی کون سی ماں ہوگی، ایسی تصویر دیکھ کر جس کا دل نہ بے قرار ہوا ہو۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان گوری چمڑی والی ماوں پر، ماں تو آخر ماں ہوتی ہے، کیوں ایسے معصوم بچوں کو دیکھ کر ان کے دل نہیں پسیجتے۔ وہ کیوں اپنے حکمرانوں کے خلاف میدان عمل میں نہیں نکل آئے ؟ کوئی تو بتائے یہ کونسی جنگ ہے ؟ کیسی جنگ ہے ؟ جہاں دنیا کا کوئی قاعدہ کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا اس دنیا میں جہاں کتوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔۔۔صرف اس لیے کہ یہ بے دریغ بہنے والا لہو مسلماں کا ہے۔

کوئی تو آےٴ مجھے بتاےٴ۔۔۔۔۔!!
میرے  بین کرتے سوال، جواب مانگیں
تم ہی بتاوٴ کس سے آخر یہ حساب مانگیں
کوئی تو آےٴ مجھے بتاےٴ۔۔۔۔۔

اگر مثا لیں گنوانے لگوں تو کئی صفحات ختم ہو جائیں گےاس لیے میرا خیال ہے آگےچلیے اورتصویر کا بھیانک رخ دیکھنے کے لیے خود کو تیار کیجیے کہ بات اب کسی اور کی نہیں آپکی اپنی ہونے لگی ہے ، جی لہو لہو کراچی کی بات۔۔۔

بہت دور نہیں جانے کی ضرورت بلدیہ ٹاوٴن کی فیکٹری کا ملبہ اب بھی اپنی جگہ موجود نوحہ خواں ہے۔اور بہت سے شہیدوں کی میتیں بھی ۔۔۔
یقینا بہت سے زخم تازہ ہو جائیں گے جس پر پیشگی معذرت۔۔ مگر کیا کیجے کہ جب تک زخموں کی آگاہی نہ ہو علاج ممکن نہیں۔

سوالوں کے جواب ملنا مشکل ہیں۔ کون نہیں جانتا فیکٹری میں کام کرنے والے بدنصیبوں پر کیا قیامت ٹوٹی ؟ مجھے یاد ہے جب ہم اس حادثہ کے بعد ان شہیدوں کے لواحقین کے گھروں پر گئے۔ ان پر ٹوٹ پڑنے والی قیامت اور اس قیامت کی نذر ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات اور اس ملاقات میں ان کے دکھ اور درد کو بانٹنے کی ایک کوشش ہم نے کی تھی۔

یہ اورنگی ٹاون کی ایک کالونی ہے۔ شکستہ، غمزدہ اور دو دو کمروں پر مشتمل کالونی۔ یہاں رہنے والوں کے چہرے غمزدہ تھے، وہ اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا سوگ منارہے تھے۔ ہم گیارہ بجے اس کالونی میں پہنچے تھے، مگر جب میں گھر لوٹی تو مغرب کی اذانیں ہورہی تھیں۔ یہ سات گھنٹے میری زندگی کا اذیت ناک وقت تھا۔ ایسی اذیت کہ الفاظ جن کا درد سہنے کی سکت نہیں رکھتے ۔۔۔۔! پتا یہ چلا کہ اس ایک محلہ سے پچاس جنازے ایک ساتھ اٹھے ہیں۔۔۔۔ !! یہ تو وہ جن کی لاشیں مل گئیں۔۔۔ جس گھر میں قدم رکھتے وہی ایک کہرام مچا تھا۔ آپ کو صرف چند گھروں میں لے کر چلتی ہوں۔

آئیے یہ ایک گھر جہاں ایک معمر خاتون دکھوں سے چور، کراہتی آواز میں کہہ رہی یہ میرا تو سب کچھ ہی لٹ گیا، یہ الفاظ ادا کرتی ہے، دہائی دیتی اور غش کھاکر گرجاتی ہے۔ آس پاس پانچ اور خواتین اذیت اور غم سے پتھر کی مورتیاں بنی نظر آتی ہیں۔ معلوم ہوا ان میں سے چار اس معمر خاتون کی بیٹیاں اور ایک بہو ہے اور سب کا ایک ایک بیٹا اس شہر کراچی کے ٹھیکیداروں کی تحفے میں دی ہوئی آگ کی نذر ہوگیا ہے۔ اس معمر خاتون کا بار بار بے ہوش ہوجانے کا راز یہ کھلا کہ ایک ساتھ چار نواسے اور ایک پوتے کا غم اسے ہوش میں نہیں رہنے دیتا ۔۔۔۔۔ ایک آواز آتی ہے۔۔! بھتہ کیوں نہیں دیا ؟ ھمارے بچوں کی جان لے لی۔ میں حیران ہوکر پلٹی کیا یہ بھی جانتے ہیں بھتے کی کہانی ۔۔۔۔۔؟

ہاتھ میں بابو کی تصویر لیے ایک اور ماں کی آواز تھی۔ سسکیوں میں ڈوبی۔۔ میرا بابو رات دو بجے تک فون کرتا رہا اماں ھم زندہ ہیں، ہم کو یہاں سے نکالو ۔۔۔آہ .!! کیسا ہوگا وہ منظر ۔۔۔۔زندگی کی خواہش رکھنے والے جوان، زندگیوں کا موت کو یوں گلے لگانا ، اسکی اذیت وہی جان سکتا ہے جس نے اسے گلے لگایا ہوآپ اور میں چاہ کے بھی نہیں محسوس کرسکتے ، ہاتھ میں پکڑے جلے ہوئے کارڈ اورتنخواہ کے جلے ہوئے نوٹوں اور اس طرح کی اورکئی تصویریں لیتے ہوئے میرےہاتھ کئی بار لرزے اور میرے آنکھوں سے بہتے ہوئے اشکوں نے ہر چیز کو دھندلادیا۔۔

                                                                                                                                                                                     

جلے ہوئے کارڈ

ایک اور دہائی۔۔۔ کہاں تھی گورنمنٹ ، پولیس ،آگ بجھانے والی گاڑیاں کیوں ھمارے بچوں کو بھینٹ چڑھایا ؟؟؟ شکوے تھے جو ہر ایک کی زباں ادا کر رہی تھی ہر آنکھ اشک بار۔۔

جوں جوں وقت گزرتا گیا میری حیرانگی میں اضافی ہوتا گیا یہاں تو اور بھی بہت کچھ جانتے ہیں لوگ انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ وہاں سے کچھ فاصلے پر رینجرزخاموش تماشائی بنی کھڑی رہی کہ ہمیں آڈرز نہیں ۔۔۔! آگ بجھانے والی گاڑی کب آئی ؟ اور یہ لوگ یہ بھی جانتے ہیں بھتہ مانگنے کی یہ کاروائی پہلی بار نہیں ہوئی اور سب سے اہم بات کہ بھتہ مانگا کس نے تھا ۔۔۔۔۔!

میں یہ سوچنے لگی کہ جب یہ دو کمروں میں رہنے والے تین تین ہزار کی نوکریاں کرنے والے جنہیں اپنی بھوک ختم کرنے اور اپنے بچوں کے تن پر کپڑا پورا کرنے فکر نہیں ختم ہوتی اگر یہ اتنے با خبر ہیں تو بے خبر کون ہے اور کیوں ہے ؟ بارہ سالہ ہاشم بیوہ ماں کا واحد سہارا ، بائیس سالہ سعود کی سترہ سالہ معصوم بیوہ گود میں چار ماہ کا ارحم لیے صرف ہر ایک کے چہروں کو تک رہی اک سمندر تھا اسکی آنکھوں سے جو رکنے کا نام نہیں لیتا ، بس ایسی غم کی داستانوں کو سنتے اور اجڑے گھروں میں جاتے جاتے شام بھی ساتھ چھوڑنے لگی تھی لگتا تھا اس میں بھی اب مز ید سننے کا یاراں نہیں ہے۔۔۔

یہ شائد آخری گھر ہے ماں کی دکھ میں ڈوبی آواز ۔۔۔! وہ تو چنگچی چلاتا تھا مگر ان ظالموں نے پرچی بھیجنی سروع کر دی دو سو روپے روز کے کمانے والا تین سو کہاں سے دیتا۔۔۔۔۔۔!! ﴿ جی ہاں میں اسی پرچی کی بات کر رہی ہوں جس سے انکار یا اقرار پر لوگوں کی ذندگی کا انحصار ہوتا ہے ﴾  اسنے چنگچی بیچ کے اس فیکٹری میں نوکری کی یہ تو پہلی تنخواہ لینےگیا تھا آہیں تھیں یا شکوے ﴿کہ خدارا ہم غربت کے ماروں کو زندہ رہنے دو﴾۔

ظلم وجبر کی ایسی لامتناہی داستانوں کا مجھ سمیت ہرشخص چشم دید گواہ ہے لیکن  وقت کے ان فرعونوں کو ہاتھ روکنے کی صلاحیت سے محروم۔۔۔آخرمیں ایسے ہی گھر کا نقشہ آپ کے سامنے رکھ کہ جواب آپ پر چھوڑتی ہوں ۔

اسی کورنگی کا رہائشی جس نے ابھی نیا گھر بنایا ﴿اور یہی اسکا جرم بن گیا ﴾۔ ایک دن پرچی آتی ہے بھتہ ۔۔!! اہل خانہ کے جواب نا دینے پر اس گھر کے بزرگ کو کچھ غنڈوں نے آکر ذودوکوب کرنا شروع کیا گھر میں موجود بیٹی نے باپ کا بچانے کی لیے بیچ میں آنا چاہا تو پانچ چھ غنوں نے اس سات ماہ کی حاملہ عورت کو اپنے دفتر میں لیجاکر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی یا اللہ ! یہ ہے میرا او ر آپکا شہر، شہر کراچی ۔۔۔! بات صرف یہیں تک نہیں اگلے دن گاڑیاں بھر کے آتیں ہیں اور باپ کے سامنے ڈنڈوں اور لاتوں سے جواں سالہ بیٹے کواس قدر مارا جارہا ہے بیکہ وہ لہو لہان ہو گیا باپ نے گلی میں جاکر چیخ و پکار کی اورتڑپ کر کہا۔۔کوئی ہے جو میرے بیٹے کو بچائے اگر آج تم نے میرے بیٹے کو نہ بچایا اور ظالم کا ہاتھ نا پکڑا تو یاد رکھو کل یہ سب تمھارے بیٹوں کے ساتھ بھی ھوگا مگر اس بوڑھے روتے ہوئے کی دہائیاں سب بیکار گئی۔۔۔۔کہ

سب ہی کو جان تھی پیاری سب ہی تھے لب بستہ

مگر کاش کہ وہ یہ جان پاتے کہ اگر آج انھوں نے بظاہراپنی جان بچا کر یہ جاناکہ وہ بچ گئے ؟ نہیں ! بلکہ اس ظالم بھیڑیے کا اگلا شکار وہ خود ہونگے ۔۔۔ یہ ایک نہیں ایسی انگنت کہانیاں ہیں جو اس شہر کراچی کی علامت بن گئی ہیں ۔۔۔ مگر ٹھریے مجھے بس اتنا بتاتے جایئے کہ۔۔۔

اس سارے واقعے میں ذیادہ قصور وار کون؟

کیا وہ بھیڑیا جس کی فطرت میں ہی خونخواری ہے؟

یا اس بھیڑیے کو روز ایک نئی بکری کی خوراک دے کر پال پوس کر طاقت ور بنانے والے؟
جب قصور پالنے والوں کا تو شکایتیں کیسی۔۔۔۔؟؟

اب آپ ہی بتا ئیے میرا نوحہ اس ننھے مجاہد کے لیے ہو جو پتھر ہاتھ میں لیے وہ ظالم کی آنکھ میں آنکھ ڈالے بغیر پرواہ کیے کے اسکی پشت پر کوئی ہے بچانے ولا یا نہیں یہ عزم کئے ہوئے ہے کہ اپنی جان تو دے دسکتا ہے مگر ظالم کے آگے جھک نہیں سکتا ۔۔۔یا میرا نوحہ روزانہ بھیڑ یے کے آگے سجا کر خوراک پیش کرنے والوں کے لیے ہو۔۔۔؟

جواب آپ خود تلاش کیجیے۔۔!!۔

Advertisements

ہم کچھ نہیں کر پائے


فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے پندرہ لاکھ ڈالر مالیت کا گولڈن بوٹ غزہ کے بچوں کے نام کر دیا
اس خبر نے جہاں بہت سے لوگوں متاثر کیا وہیں مجھے بہت رلایا ،میرے یہ آنسو جہاں ایک طرف فلسطین کے لیے کی جانے والی مدد پر خوشی کے تھے مگر وہیں دوسری طرف یہ آنسو مجھے اپنےدعوے(مسلمانی) کی شرمندگی پر تھے ، میرا یہ فخر( کہ میں الحمد للہ مسلمان ہوں) آج مجھے بے پناہ رلا رہا تھا ، ایک عیسائی کھلاڑی مجھے میرے اس دعوے کے باوجود شکست دے گیا تھا وہ عیسائی ہو کراکیلا وہ کچھ کر گیا جو ہم مسلمان من حیث الامت بھی نہیں کر پائے،اس نے اپنی عزیز چیز ان بے بس اور تڑپتے بلکتے معصوم بچوں کے نام کر دی مگرہم تو سوائے ٹی وی پر لگی سیاسی کشتیاں دیکھنے اور بال ٹھاکرے کی موت کا سوگ اور آخری رسومات( جو لائیو دکھائی جارہیں تھیں ) دیکھنے کے کچھ نہیں کر پائے۔

قیمتی چیزیں تو میرے پاس بھی تھیں مگر میں تو سوچتی ہی رہ گئی اوروہ بازی لے گیا ،مجھے یہ احساس جرم مارے ڈال رہا ہے کیا اسکا جذبہ ایمان مجھ (ایک مسلماں) سے ذیادہ نکلا ؟؟؟ شاید ہم پیدائشی مسلمانوں کی سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم بس یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ ہم بس اتنے ہی کے مکلف ہیں آج بھی ہم فلسطین کے بےبس اور مظلوموں کے لیےٹوئٹر پر آٹھ دس ٹویٹ کر کے اور اتنی ہی پوسٹ فیس بک پرشیئر کر کہ حکمرانوں کو گالیاں دے کر ہم سمجھتے ہیں ہمارا فرض بس اتنا ہی تھا جو ادا ہو گیا۔۔۔

 

مجھے حکمرانوں کی بات نہیں کرنی کہ انکے دلوں میں کتنا امت کا غم ہے یہ سب جانتے ہیں! مجھے تو اپنی اور اپنے جیسے ان مسلمانوں کی بات کر نی ہے جو آج کل میری ہی جیسی کیفیت سے دوچار ہیں کہ۔۔۔ چین سے سو تو نہیں پاتے مگر اس سے آگے کچھ نہیں کر پاتے۔۔۔ جبکہ ایک نو مسلم (اور غیر مسلم بھی) عمل میں ہم سے کئی گناہ آگے ہیں اسکی زندہ مثال پچھلے کئی دنوں سے میں (مریم)ایوان ریڈلی (جی وہی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی کھوج لگانے اور دنیا کے سامنے اس حقیقت کو کھولنے والی) کی ٹوئٹر پر چلنے والی اس مہم کو دیکھ رہی ہوں جس میں وہ مستقل فلسطینی عورتوں اور بچوں کے لیےفنڈنگ کر رہی ہے اور لوگوں کو کس طرح اسکی ترغیب دے رہی ہے۔ اسکی ٹویٹس سے اسکی تڑپ اور بے قراری کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔۔۔

 

(جبکہ ہم تو اب تک یہ ہی طے نہیں کر پائے کہ ہمیں انکی مدد کے لیے فنڈنگ کرنی بھی چا ہیے اور اگر ہاں تو وہ کب اور کیسے شروع کی جائے) میں سوچنے لگی یہ سب شاید اس لیے کہ اسے اسلام وراثت میں نہیں ملا (جیسے ہمیں ملا ہے)یہ اسلام اسکی اپنی محنت اور لگن کا تحفہ ہے اور وہ اسکی قدر بھی جانتی ہے مگر ہم نے اس کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا ہے جو اولاد وراثت میں ملے ہوئے مال کے ساتھ کرتی ہے۔۔۔ مگر جو شخص خود اپنی محنت سے کچھ کماتا ہے وہ اسکی قدر سے واقف ہوتا ہے اسی لیے اسے کس طرح سنبھال کے رکھتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔

 

میں سوچنے لگی کہ کیا ہمارے ایمان میں کمی ہے یا ہمارے جذبوں میں۔۔۔؟   شاید دونوں میں نہیں! مگر ہم اپنے جذبوں اور ایمان کسی اور ترازو میں تولتے ہیں اور ایک اسلام کو سمجھ کے مسلمان ہونے والے کا میزان کچھ اورہی ہے۔۔۔

 

اس میزان کو میں نے تب پہچانا جب میں راتوں کو فلسطین کے معصوم بچوں اور عورتوں پر ہونے والے ظلم پر زاروقطار رو رہی تھی تو اسی وقت دوسری طرف ایک نو مسلمہ ایوان ریڈلے ان ہی فلسطینوں کی مدد کے لیے ایک مہم چلا رہی تھی اور رونالڈو اپنی قیمتی ترین چیز کو ان بچوں کے لیے دینے کے پلان بنا رہا تھا۔۔۔ جس طرح دونوں رویوں میں فرق تھا یقینا نتائج میں بھی۔۔۔ میں آج بھی وہیں ہوں اور وہ سب مجھے شکست دیتے ہوئے بہت پیچھے کہیں چھوڑ گئے۔۔۔

 

بس یہی فرق ہے وہ جس کی وجہ سے ہم عمل کی دنیا میں اب تک اسقدر پیچھے ہیں اور بخدا اسوقت رہیں گے جب تک ہم اپنے ایمان کو پرکھنے کے لیے اپنا میزان بدل نہیں لینگے اور زبانی آہ وبکا پرعمل کو ترجیح نہیں دینگے۔

سنو اہل فلسطین سنو ۔۔۔

تم جلتے رہے آگ و بارود میں
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
سسکتی رہیں بہنیں سرہانے لاشوں کے
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
ڈرے سہمے وہ معصوم چہرے
تڑپتے رہے آنکھوں کے وہ تارے
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
فریاد کرتی سسکتی رہیں مائیں
اٹھائےلاشے جگر گوشوں کے
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
بھگوتے رہے اپنے آنسووٴں سے دامن
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے
تم اگر نہیں سوئے راتوں کو
تو یقین جانو ۔۔۔
کہ کاٹی ہم نے بھی راتیں
سسک سسک کر اسریٰ
بخدا سو ہم بھی نہیں پائے
مگر ہم کچھ نہیں کر پائے۔۔۔۔۔۔!!

 

 

 

%d bloggers like this: