Category Archives: میڈیا

بازار سجے انسانوں کے


boli

پنہاں یہیں صیاد بھی ہے دام لگائے

ہرطرف اک شور بپا ہے بھانت بھانت کی بولیاں نہ صرف بولی جارہی ہیں بلکہ بولیاں لگائی بھی جارہی ہیں بوریوں کے منہ کھل چکے ہیں انسانوں کی اس منڈی میں نہ خریداروں کی کمی ہے نہ ہی فروخت ہونے والوں کی یہ کوئی اچھنبے والی بات نہیں قیمتیں تو لگا ہی کرتیں ہیں انسان کی زندگی انہیں سودے بازیوں سے بھری ہوئی ہے اہم بات یہ دیکھنا ہےکہ کس نے اپنی کیا قیمت لگائی ؟؟؟

صورتحال بہت تکلیف دہ ہے یہاں جو جتنا بڑا بدکار اور لٹیرا ٹہرا اسکی بولی اتنی ہی مہنگی لگی کوئی کروڑوں میں بکا تو کسی کی بولی لاکھومیں لگی اور کچھ تو ہزاروں اور سینکڑوں میں ہی اپنا سوداکر گئے تو کچھ کو برادریوں ، علاقوں اور ذاتوں کے عوض بکنا پڑا ۔۔۔۔۔مگر افسوس کیا ہی گھاٹے کا سودا کیا کرنے والوں نے اپنی قیمتیں لگاتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ ان گواہیوں کا تو رب کے ہاں حساب ہونا ہے کیا ہم حساب دے پائیں گے ؟

دنیا کی چند روزہ زندگی کو کیا ہمیشگی کی زندگی پر ترجیع دینا ہوش مندی ہے ؟ 

ہمیں کیوں نہیں یہ خیال آتا کہ دنیا سے جاتے ہوئے تو ہر ایک کو خالی ہاتھ ہی جانا پڑتا ہے اپنے اعمال کے سواء کچھ ساتھ نہیں جاتا وہ کسی کے بینکوں میں پڑے کروڑوں یا اربوں ڈالر ہوں یا عینک میں لگے ڈائمنڈ ہی کیوں نہ ہوں ہر چیز یہیں اسی دنیا میں واپس لوٹا کہ جانا ہوتا ہے ۔

آہ ! ہم کیوں اس حقیقت سے نظریں چرالیتے ہیں کہ بس ایک سانس کی ڈور ٹوٹنے کی دیر ہے ہمارا سب سے قریبی عزیز ہی سب سے پہلے ہمارے جسم سے ان سب قیمتی چیزوں کو دور کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور کون جانے یہ سانسیں کب تک ہیں ۔۔۔۔ پھر یہ سب کس کے لیے ؟

میں اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھتی ہوں تو دل انتہائی دکھی ہونے لگتا ہے کہ مفاد پرست لوگوں کا ٹولہ تو جس حال میں ہے وہ ہے ہی مگر یہاں تو وہ لوگ بھی جو کئی سالوں سے مصیبتوں کی چکی میں پس رہے ہیں وہ اب بھی خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔میں سوچ رہی تھی کیا ہم اتنی مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود اب بھی خود کو بیچنے کی ہمت کر سکتے ہیں اب بھی خود کو مزید آزمائیشوں اور مصیبتوں کے حوالے کرنے کے متحمل ہو سکتے ہین جبکہ ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قوم کو اب تو اپنے دشمنوں کو پہچاننا چاہیے تھا کہ یہی تو وقت ہے ان کو پہچاننے کا کہ جن کو سوائے اپنے بینک بیلنس ،اپنی جائدادیں بڑھانے کے اور کوئی غرض نہیں نہ سسکتی ہوئی عوام سے کوئی غرض ہے نہ روز گرتی ہوئی لاشوں سے کوئی سروکار ہے جنہوں نے عوام کی رگوں سے لہو کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کا تہیہ کر لیا ہو اس ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں میں گروی رکھ دیا ہو ۔اتنے عذاب بھگتنے کے بعد تو اس قوم کو چاہیے تھا کہ یہ اب ان چہروں کو بند آنکھوں سے بھی پہچان لیتی جو اپنی منڈیریں بدلتے کبھی ایک جھولی میں تو کبھی دوسرے کی جھولی میں گر رہے ہیں اور یہ پاگل عوام تبدیلی کے نعرے لگاتی تو کہیں بڑے بڑے پروجیکٹ کے جھانسوں میں آتی پھر ان ہی کے ہاتھوں خود کو یرغمال کروانے کے لیے تیار نظر آتِی ہے ۔

کاش کہ اس قوم میں یہ سمجھ ہو کہ تبدیلی کے لیے کردار شرط لازم ہے قیادتوں کا کردار ہی دراصل تبدیلی کی ضمانت ہو کرتا ہے مخلص اور امین رہنما ہی قوموں کی تقدیریں بدلنے پر قادر ہوا کرتے ہیں

 بھلا جن کی اپنی آستینیں ہی قوم کے لہو میں ڈوبی ہوں جنہوں نے غریب کے منہ سے روٹی ، دال ،سبزی تک چھین لی ہو { کہ ایک زمانے میں غریب کو یہ تو میسر تھا مگر اب یہ بھی نہیں } ،جنہوں نے زندہ رہنا ہی جرم بنا دیا ہو ،جنہوں نے گلی گلی موت کا رقص عام کر دیا ہو ،جنہوں نے نوجوانوں کے مستقبل تباہ کر دیے ہوں جو خود ہی لوگوں کی عزتوں کے لٹیرے ہوں جو صرف اپنے مفادات کی خاطر بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کبھی ایک چھتری تو کبھی دوسری چھتری کے سائے تلے پناہ لیتے ہوں اور کون جانے کب وہ اگلی پرواز کہاں کی  بھرنے والے ہوں کہ انہیں تو منڈیروں کی کوئی کمی نہیں نا۔

تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

ایک لمحے کو رک کر ذرا سوچیے تو وہ کیسے تبدیلی لاسکتے ہیں ؟؟؟

ہاں وہ تبدیلی لاسکتے ہیں مگر

آپ کی سوچوں میں تبدیلی،

آپ کی روایات میں تبدیلی ،

آپ کے نصاب میں تبدیلی ،

آپ کے نظریات میں تبدیلی،

آپ کی تہذیب وتمدن میں تبدیلی،

آپ کے ملک کے جغرافیہ میں تبدیلی ،

اور سن سکتے ہیں تو سنیے وہ ملک جہاں اللہ کی حاکمیت کے آئین پر سوال اٹھائے جائِیں

وہاں یہ آپ کے مذہب میں بھی تبدیلی لے آئیں تو کوئی بڑی بات نہیں

کیونکہ جو قومیں اپنی تقدیر کے فیصلوں کے وقتوں میں بھی اپنی بولیاں لگوایا کرتی ہیں پھر تبدیلی ان کے جغرافیہ اور ان کے نظریات میں تو آسکتی ہے مگر ان کی تقدیروں میں تبدیلی ممکن نہیں ۔۔۔۔

کسی کو چننا یا اپنے ووٹ کے ذریعے سے اقتدار کے کرسی پر بٹھا نا کوئی معمولی یا عام سی بات نہیں ایک اہم فرض ہے جس سے کسی بھی قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ۔۔۔جی ہاں آپ کا ووٹ ہی آپ کے مستقبل کا آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ضامن ہے 

اس لیے فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیجیےگا کہ فیصلوں کے وقت گزر جائِیں تو پلٹائے نہیں جاسکتے ایسا نہ ہوکہ آج کا کیا گیا آپکا فیصلہ آپکو اگلے 5برسوں کے لیے مصیبت اور پریشانیوں کے ساتھ پچھتاؤں کی آگ میں بھی نہ جھونک دے ۔۔۔

سوچیے اس سے پہلے کہ وقت آپ سے سوچنے لی مہلت بھی چھین لے  !!

شہر تو میرا لہو لہو ہے !


abas

اتوار کی چھٹی کی وجہ سے گھر میں خاص پکوان کی تیاری جاری تھی ، نماز مغرب ہوئی اور ایک زوردار دھما کے نے پل میں سارا منظر ہی بدل دیا ۔

روتے سسکتے لوگ ، کھنڈر ہوئے مکان اور دم توڑتے انسان ……..

کئی گھنٹوں تک جلنے والے فلیٹوں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں اور پھر وہاں زندگی نے دم توڑ دیا ،  کچھ کی خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی مگر آشیانہ نہ بچ سکا ، ساری زندگی کی کمائی ، ایک ایک پیسہ جوڑ کر اکھٹا کر کے بنایا جانے والا آشیانہ یوں پل میں بکھر گیا انسانی اعضا بکھر گئے اور اسی وقت اقتدار اعلی منگنی کی تقریب کے مزے لوٹنے میں مصروف رہے۔۔۔۔۔

میری تین ساتھی اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل میں ہی رہائش پذیر ہیں ، جس طرح ان کے گھروں کے شیشے ٹوٹے ، گھر والے لمحوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہائے وہ کرب کس طرح بیان کروں، جو ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں اٹھایا ، جو ایک باپ نے اپنی بیٹی کی کٹی ہوئی گردن کو اس کے جسم کے بغیر دیکھ کے سہا ، وہ کرب جس نے ایک شخص کو ناصرف گھر سے محروم کر کے اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا بلکہ اس سے اس کی بیوی اور نو ماہ کے بچے سے بھی محروم کر دیا.

پہلے نشانہ مساجد اور بازار بنے آج یہ عالم ہے کے گھروں پہ حملہ ، گوشت والا ، سبزی والا کوئی بھی تو محفوظ نہ رہا . نہ تجربہ کار لڑکوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کے ٹکرے کس حال میں جمع کئے ، کسی ماں نے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے میچ دیکھتے بیٹے کی خون سے لت پت لاش کو اپنی گود میں بھرتے ہوۓ اٹھایا وو دکھ میرا قلم بیان کرنے سے قاصر ہے .

ستم ظریفی تو یہ کے اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل کی طرف ڈھائی گھنٹے تک کسی نے رخ نہ کیا ، اقتدار اعلی کی ہمدردی ٹی وی پہ چلنے والی ہیڈ لائنز تک ہی محدود رہی ، کوئی پرسان حال نہیں. کون یتیم ہوا ؟ کس نے بیوگی کا دکھ سہا کس ؟ اس دکھ تو بھلا یہ کیا جانیں ؟

بالائے ستم یہ کہ وہ لوگ جو بری طرح زخمی ہوئے ان کے گھروں کو اس حال میں بھی لوٹنے والوں نے نہ چھوڑا ان کے گھروں سے لوگ زیورات ، نقدی ، قیمی سامان لے اڑے ،ہم ہی راہزن بن گئے .

افسوس صد افسوس یہ ظلم کا کونسا مقام ہے ؟؟

جب قصاب بکریوں کو ذبح کرنے کے لئے لے جاتا ہے تو باقی بکریاں شکر ادا کرتی ہیں لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منا پاتی ہے .

. شاید آج یہی حال ہمارا بھی ہے اگر آج یہ تباہی عبّاس ٹاؤن میں ہوئی ہے تو کل کسی بھی علاقے میں ہو سکتی ہے . وہ لوگ جو ان کاروائیوں میں مصروف ہیں انکا کوئی مذھب نہیں . کچھ لوگ اب بھی اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دے رہے ہیں ، لیکن یہاں تو سب ہی کے گھر لٹے سب ہی شہید ہوئے. تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بھی اپنا ہی جھنڈا لہرانے میں مصرورف ہیں. میرا دل چاہتا ہے ان شرم سے بالاتر حکمرانوں کا گریبان پکڑ کے پوچھوں کے یہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے ، پاکستان کا دل ہے .اگر کراچی برباد ہوتا ہے تو پاکستان کا دل بند ہوتا ہے ور اگر کسی کا دل بند ہو جائے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے. آخر انہیں کیوں سمجھ نہیں آتا کے وہ پاکستاں کو برباد کر رہے ہیں .

آخر وہ کونسی مخلوق ہے جو سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد لے کر شہر میں داخل ہو جاتی ہے اور کسی کو نظر ہی نہیں آتی روزانہ کسی ماں کا لال جان کی بازی ہار بیٹھتا ہے اور پھر اس پہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات ایک پھلجھڑی کا کام ہی انجام دیتے ہیں. وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ وزیر اطلات کا عہدہ سنبھال لیں ، جب وہ اپنے فرائض پورے کر ہی نہیں سکتے. ان کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ غیر مستحکم پاکستان عالمی قوتوں کے لئے کتنا موزوں ہے. اگر کراچی لہو لہو ہے تو پورا ملک اس سے متاثر ہے.

قرآن کریم کی سورہ الانعام کی آیات ٦٥ میں الله نے فرمایا

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُون

"کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں”.

روزانہ کی ٹارگٹ کلنگ ، بم بلاسٹ ،

الله تو بار بار راہ ہدایت دکھاتا ہے قرآن میں ، بار بار اپنے عذاب سے با خبر کرتا ہے لیکن ہم سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، اب بھی وقت ہے کے ہم سنبھل جائیں  ، ورنہ شاید ہمارا نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں . ہمیں اس وقت اجتمائی توبہ اور صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے . پورا کراچی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں آتا ہے

اجڑے رستے ، عجیب منظر ، ویران گلیاں، بازار بند ہیں ۔۔۔

کہاں کی خوشیاں ، کہاں کی محفل ، شہر تو میرا لہو لہو ہے ۔۔۔

وہ روتی ما ئیں ، بیہوش بہنیں ، لپٹ کے لاشوں سے کہ رہی ہیں ۔۔۔

اے پیارے بیٹے ، گیا تھا گھر سے ، سفید کرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

الہٰی اس چمن کو اس پت جھڑ کے غم سے نجات دے .

ہم تھک چکے ہیں روزانہ لاشیں اٹھاتے رحم فرما اے الله رحم . { آمین}

دعاؤں کی طلبگار زوجہ غضنفر فرہاج

ہم پہنچے ورکشاپ


ورک

صبح آٹھ بجے کی فلائیٹ تھی  گھر سے تک ائیر پورٹ کا دس منٹ کا سفر تھا مگر بس جانے کی لگن ایسی تھی کہ رات بھر صحیح سے نیند بھی نہیں آئی اپنی کچھ ساتھیوں کے ہمراہ سات بجے ائیر پورٹ پر تھی باقی سب بھی تھوڑی دیر تک پہنچ گئے سب کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی سب سے سلام دعا کے بعد بورڈنگ کارڈ لیا اور جہاز کی طرف چل پڑے اپنا سیٹ نمبر تلاش کرکے سیٹ کی جانب بڑھے ہمارے ساتھ اسکارف پہنے ایک بہت ہی اچھی لڑکی آبیٹھی راستے بھر ہم نے انکا بھی تعارف لیا اپنے بارے میں بھی بتایا اچھی دوستی ہوگئی اور ڈیڑھ گھنٹہ کیسے گزرا یہ پتا بھی نہیں چلا ہمسفر اچھے ہوں تو صدیوں کا سفربھی لمحوں کا محسوس ہوتا ہے یہ تو پھر ڈیڑھ گھنٹہ ہی تھا ۔ لاہور اِئیرپورٹ پر گاڑیاں موجود تھیں بس ذرا سی تلاش کے بعد ہمارا قافلہ منصورہ کی جانب گامزن تھا ۔ جب وہاں پہنچے تو ورکشاپ شروع ہو چکی تھی اس لیے سیدھے آڈیٹوریم کی جانب ہی چل پڑے وقاص جعفری بھائی کی گفتگو جاری تھی جو بہت اہم امور کی جانب توجہ دلارہے تھے سوشل میڈیا کے میدان میں ہمارے کاموں کو مضبوط بنانے کی پلاننگ اور طریقہ کار پر بہت موئثر باتیں ہوئیں اگلا پروگرام ناظم اعلیٰ جمیعت کا تھا جمیعت سے ہمیشہ ہی دلی وابستگی رہی ۔ میں نے اپنی ڈائری لکھنے کی عادت بھائیوں سے ہی لی جو جمیعت کے رکن تھے اور روازانہ رات میں فجر سے لیکر عشاء تک کی اپنی پورے دن کی روداد ڈائری میں لکھتے ۔
ناظم اعلیٰ نے بہت اچھی طرح پوری دنیا میں سوشل میڈِیا کو استعمال کرنے والوں کے اعداد و شمار اور سوشل میڈیا کو پاکستان میں متعارف کروانے والوں کے بارے میں آگاہی اور انکی تعداد اورطریقہ کار پر ایک اچھی اور پھر پور ورکشاپ کروائی ۔ وقت کم مقابلہ سخت کی سی کیفیت تھی اور اب اگلی ورکشاپ میں ویڈیو، ایڈیٹنگ ، فوٹو گرافی اور یو ٹیوب کا استعمال سکھایا جو یقینا فائدہ مند تھا اور دلچسب بھی لگا کیونکہ یہ میرا شوق بھی ہے اور اکثر ہی تجربات کرتی رہتی تھی سو اب ایک اچھی گائیڈ لائن مل رہی تھی انہوں نے چھوٹے چھوٹے کلپس ﴿SOT ﴾لینے کا طریقہ بتایا جسے ہم نے بعد میں پورے دو دن اپلائی کیا اور ہم آپس میں یہی کہتے چلو ایک SOTہوجائے ۔

اب ظہر و ظہرانے کا وقفہ تھا انتظامات بہت اچھے کیے گئے تھے ہماری سائیڈ کو قناعت لگا کر کور کر دیا گیا تھا اور داخلی دروازہ بھی الگ رکھا گیا تھا اور کسی بھی طرح کے اختلاط سے بچنے کے لیے مز ید ہدایات کی گئیں تھیں کہ ہم لوگ ذرا دیر بعد با ہر نکلیں جب بھائی جا چکے ہوں ۔
ہم اپنی رہاش گاہ کی جانب چلے تو راستے میں کچھ یادیں تازہ اور ایک شفیق ہستی کی بہت یاد آئی جی قاضی با با کے گھر سامنے سے گزرتے ہوئے بس وہی شفیق چہرہ نگاہوں کے سامنے آجاتا اور میری نگاہوں کے سامنے ویڈیو میں زاروقطار روتی ہوئی اس گھر کی ماسی گھوم رہی تھی جس کا دکھ اس کی آنکھوں سے بہہ رہاتھا دو دن کے دوران ہمیں ہر بار اسی رستے سے گزرنا ہوتا اور میں ہر مرتبہ میں اس گھر کے سامنے کچھ لمحے رکنے پر مجبور ہوجاتی اور سوچتی اے کاش ۔۔۔ کہ آج قاضی بابا ہوتے اور یہ خیال آتے ہی میری آنکھیں برسنے لگتیں ۔۔۔ آہ ۔۔مگر یہ موت ۔۔۔۔۔ ایک تلخ ہی سہی مگر حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ، میں اپنی یہ کیفیت سب سے چھپا کر الگ سی ہو کر چلنے لگتی ۔
وقفہ کے دوران سامان اپنے اپنے کمروں میں رکھا اور تمام صوبوں سے آئی ہوئی ساتھیوں سے ملاقات کرنے کا موقع ملا اور اسی وقت مجھے ایک حیران کن اور خوشگوار تجربہ ہوا میرے سا تھ جو ساتھی کھڑی تھیں انہوں نے میرے سکارف پر لگے بیج پر میرا نام پڑھا اور اک دم سے جذباتی سے لہجے میں بولیں آپ اسریٰ غوری ہیں ؟ ”میں نے جواب دیا ‘،جی ، بولیں آپ کراچی سے آئی ہیں آپ وہی اسریٰ غوری ہیں ؟ انکے لہجے سے محبت اور حیرانی ، خوشی ایک ساتھ عیاں تھی اسی لمحے انہوں نے اپنی باقی ساتھیوں کو بھی آواز لگائی ادھر آئیں یہ دیکھیں اسریٰ غوری بھی آئیں ہیں میں دل ہی دل میں شرمندہ کے میں کوئی اتنی اہم تو نہ تھی کہ ایسے سب کو بلایا جاتا مگر وہا ں تو جو محبتیں تھیں بے لوث بے غرض محبتیں جن کا قرض اتارنا ممکن ہی نہیں ان سب کے ساتھ بہت اچھی ملاقات رہی سب ایک دوسرے سے ایسے ہی مل رہے تھے جیسے برسوں کا ساتھ ہو ۔

اگلا پروگرام ڈاکٹر واسع بھائی کا تھا جو الیکشن سے متعلق تھا کہ ہم نے سوشل میڈیا پر کس طرح کام کرنا ہے ؟ ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہیے ؟ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے کس طرح افرادمیں آگاہی پیدا کرسکتے ہیں؟ ووٹرز میں ووٹ کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا کتنا ضروری ہے ؟ آنے والے الیکشن کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ورکشاپ تھی ۔
اب نماز عصر کا وقفہ اور پھر ایک بہت ہی محترم ہستی جن کی گفتگو تھی لیاقت بلوچ صاحب نجانے صرف مجھے ہی یہ محسوس ہوا یا شا ید کسی اور نے بھی کیا ہو یا یہ میری تلاش تھی جو ہر طرف قاضی با با کی کمی محسوس کر رہی تھی اس لیے مجھے ان میں قاضی با با کی جھلک نظر آئی ۔۔۔۔۔ کس قدر شفقت سے بھرا لہجہ اور طمانیت ماحول کو پر رونق بنا رہا رہا تھا ایک ایک لفظ پر ٹھراو ایسا گماں ہو رہا تھا جو کہا جارہا ہے وہ سب دل میں اتر تا  جا رہا ہے ہر سوال کا پھر پور اور تسلی بخش جواب دیا جارہا تھا ،  ایک سوال کا بہت ہی سادہ اور برجستہ جواب ان کی جانب سے آیا ۔۔۔جو خواتین کی جانب سے کیا گیا تھا کہ خواتین کے لیے بھی کوئی نصیحت ،کوئی ہدایت کیجیے ؟ جواب آیا  "وہی تمام باتیں ہیں جو ابھی کیں ہیں بس آپ لوگ جہا ں” کا ” کہا ہے وہاں ” کی ” کر لیں جہاں "تھا "کہا ہے وہاں "تھی ” کر لیں اور بس ” سب ہی اس جواب سے محظوظ ہوئے ۔۔۔۔ اس پروگرام کو ایک بارونق پروگرام کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا ۔
اب وقفہ نماز مغرب کے بعد ایک بار پھر ہم سب آڈیٹوریم میں موجود تھے اب جو ورکشاپ تھی عنوان ” ٹئوٹر کا استعمال ” اس میں بھی بہت سی چیزوں سے آگاہی حاصل ہوئی اور ٹیوٹر کے ٹرینڈ کے بارے میں جو غلطیاں ہم سے سرزرد ہوتیں تھیں ان کا بھی پتہ چلا ۔
عشاء اور رات کا کھانا اس کے بعد کوئی پروگرام تو نہیں تھا مگر عالیہ باجی {مرکزی نگراں} نے تمام صوبوں سے آئی ہوئی ساتھیوں کے ساتھ ایک تعارفی نشست رکھ لی تھی جو بہت اچھی رہی جن کو اب تک صرف اپنے لیپ ٹاپ کی نظر سے ہی دیکھا تھا اب ان سب کو قر یب سے جاننے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر بہت ہی خوشی ہو رہی تھی کہ جن کو ابھی سوشل میڈیا کا کام نہیں بھی آتا تھا مگر ان میں جو جذبہ تھا وہ قابل ستائش تھا اور ان کی خواہش یہی تھی کہ آپ ابھی ہمیں بھی سب سکھا دیں وقت چونکہ بلکل نہیں تھا اس لیے چاہنے کے باوجود بہت زیادہ نہیں بتا سکے ۔
نشست ختم ہوئی تو ہر ایک نے اپنے اپنے کمرے کی راہ لی ہم بھی  اپنے گروپ کے ساتھ کمرے میں چلے گئے بہت ہی اہتمام سے لگے بستر میزبانوں کی بہترین میزبانی کا منہ بولتا ثبوت تھے ہمارا گروپ بھی ہمارے ہی جیسا تھا کسی کو نیند نہیں آرہی تھی ایک ساتھی کو آرہی تھی تو انہیں ہم نے نہیں سونے دیا یقینا وہ ہماری اس گستاخی کو در گزر فرمائیں گی سینئرز تو پہلے ہی دوسرے کمرے میں جا چکے تھے سو ہم بھی بلکل بے فکر مگر جب آوازیں ذرا ذیادہ ہی تیز ہو گئین جس کا ہمیں اندازہ تب ہوا جب دروازے سے عالیہ باجی کی محبت بھری ڈانٹ کی آواز آئی  ” بس بہت ہوگیا اب اپ لوگ بھی لائٹس آف کریں اور سو جائیں ” نیند تو کس کو آنی تھی مگر چونکہ اطاعت کا حلف اٹھایا ہوا تھا سو لائٹس آف کردی گئیں اور اپنے اپنے لیپ ٹاپ آن کر لیے رات ڈیڑھ بجے لیپ ٹاپ کی بیٹری بھی جواب دے چکی تھی اس لیے سونا ہی پڑا  ۔

صبح سے وہی روٹین شروع تھا پہلی ورکشاپ نو بجے تھی چائے پی اور بھاگے آڈیٹوریم کی جانب پہلی ورکشاپ ہی بہت زبردست تھی جماعت کے فورم پر کس طرح کام کیا جائے اور فورم کو کیسے ایکٹیو کیا جائے اور لوگوں میں متعا رف کروایا جائے ۔۔اسکے بعد اگلی ورکشاپ فیس کے استعمال کو موئثر بنانے کی لیے تھی ۔
پھر بلاگز پر بہت ہی اچھی اور تفصیلی ورکشاپ بہت کچھ سیکھنے کو ملا اگلی ورکشاپ میں جو ایک پھر پور ایکٹیوٹی کی صورت میں کروائی گئی، تحریر کو موئثر اور قاری کے لیے اٹریکٹیو بنائے جانے کےبہت سے اصول سکھائے گئے اچھا پرفارم کرنے والے "بڑے بچوں” کو انعام کے طور پر ٹافیاں بھی دی گئیں ۔
دو روزہ ورکشاپ سے جو کچھ حاصل کیا اللہ کرے کہ ہم اس کو بہترین طور پر استعمال کرنے والے ہوں آمین ۔ ایسی ورکشاپس کا انعقاد ہوتا رہنا چاہیے ۔
ظہر و ظہرانہ کے وقفہ میں آئی ٹی کے ذمہ داران کی ساتھ ایک نشست ہوئی جس میں خواتین کے لیے طریقہ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات ہوئی اس نشست میں سمعیہ راحیل باجی اور دیگر مرکزی ذمہ داران بھی ہمراہ تھیں ، آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا دورہ کروایا گیا اور کاموں کے بارے میں آگاہی دی گئی۔
سمیعہ راحیل باجی سے میری ملاقات پہلے بھی تھی مگر آج کی ملاقات بہت اچھی رہی بہت محبت سے پہچانا انہوں نے” اسریٰ آپکا آغا جانی پر لکھا بلاگ پڑھا بہت پیارا لکھا ”  انکی پوتی کی مبارکباد دی ان کے ساتھ کچھ تصویریں بھی لیں  یادگار لمحات کو ایسے ہی قید کیا جاسکتا ہے ۔

اس کے بعد اگلے پروگرام میں بھائیوں نے اپنے اپنے مقامات پر کیے جانے والے کاموں کی رپورٹس پیش کیں ۔
اب آخری اور ورکشاپ کا سب اہم سیشن تھا جی یہ امیر محترم کی گفتگو تھی جن کے آڈیٹوریم میں داخل ہوتے ہی ایک جذباتی سا ماحول ہو گیا تھا اور نعروں کی گونج میں امیر محترم اپنی سیٹ پر تشریف فرما ہوئے اور گفتگو کا آغاز کیا تو ہال میں سناٹا ہر ایک ہمہ تن گوش اپنے قائد کی کفتگو سن رہا تھا قائد محترم بھی اپنے سوشل میڈیا کے مجاہدوں کی کوششوں اور محنتوں کو سراہ رہے تھے اور آئندہ کے لیے اپنی بہترین تجاویزوں سے نواز رہے تھے اور جب خلوص دل سے کی گئی کاوشوں کو سراہا جائے تو    ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے ساری محنت وصول ہو گئی بس یہاں بھی ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا بہت مفید مشورے اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا آخر میں امیر محترم نے دعا کروائی جسے اللہ پاک قبول فرمائے ﴿آمین﴾ وقت چونکہ بلکل کم تھا اب واپسی کی تیاری تھی مگر جب آئے تھے تو منشورات گئے بغیر واپس جانے کو دل نہیں مانا بس بھاگم بھاگ منشورات گئے کچھ کتابیں لیں اور واپسی کی تیاری شروع کر دی ۔
اس ورکشاپ میں وہی ماحول تھا جو اکثر تربیت گاہوں اور اجتماعات کے مواقع پر دیکھنے کو ملا کرتا ہیں اس قدر اپنائیت اور محبت پورے ملک سے آئے ہوئی بہنیں مگر بلکل اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا اگر با ہر سے کوئی فرد آکر دیکھے تو وہ یقینا یہی گمان کرےگا کہ یہ سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں اور میں ایسے موقوں پر ضرور اللہ پاک سے یہ التجا کرتی ہوں کہ یا ربی ! یہ سب محبتیں بے غرض بے لوث صرف آپ کے لیے ہیں یہاں کوئی بھی اپنی کسی غرض سے کسی سے محبت نہیں کرتا بلکہ وجہ محبت صرف آپ ہی ہیں تو بس پھر ہمیں ان محبتوں کے بدلے میں ضرور اپنے عرش کے سایے سے نوازیےگا ہمیں وہاں بھی ایسے ہی اکھٹا کیجیے گا {آمین ﴾
میزبانو ں کے لیے بھی خصوصی دعاوں کے ساتھ اور اس دعا کیساتھ کہ اللہ پاک ہمارا یہاں آ نا قبول فرمالے اور وقت اور صلاحیتوں میں برکت عطا فرما دے ہم سے اپنے دین کا وہ کام لے جو وہ ہم سے چاہتا ہے اور ہمیں قرآن کی اس آیت کی مثل بنا دے  "مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے معاون اور مدد گار ہوتے ہیں برائیوں روکتے اور نیکیوں کا حکم دیتے ہیں ” ﴿آمین ﴾ واپسی کے لیے روانہ ہو گئے

محبت کا پیام


 

بچپن سے سال مین دو دنوں کا بہت انتظار ہوتا تھا۔ پورا سال ان 2 دنوں کی پلاننگ کرتے، انہیں سوچتے گزر جاتا تھا۔ جوں جوں وہ دن قر یب آ رہے ہوتے دل ایک عجیب سی سرشاری میں ڈوبا ہوتا تھا، انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی ہوتی تھی اور وہ بہت خاص دن ہوتے تھے عیدالاضحی اور عیدالفطرکے۔

آج جب بچپن کی دہلیز سے آگے قدم رکھ چکے تو آنکھیں یہ منظر دیکھنے پر مجبور ہو رہی ہیں کہ اپنے اسلامی تہوار منانے کے جذبے تو ماند پڑ رہے ہیں، ان کے آنے پر تو چہروں کی دمک پھیکی پڑ رہی ہے لیکن یہ چہرے آئے دن کچھ اور دنوں کے آنے پر خوشی سے پاگل ہو رہے ہیں، یہ قوم آئے روز ایک نئے دن کبھی ویلنٹائن ڈے، کبھی ہیپی نیو ائیر کو پروموٹ کر کے ایسے پاگل ہو رہی جیسے یہی سب تو مقصدِ زندگی رہ گیا ہے۔ میڈیا ایسے ان خرافات کو پروموٹ کر رہا جیسے ان کا یہی فرضِ اولین ہے۔۔

آپ خوشی، تفریح کے نام پر مہذب طریقے سے ان دنوں کو منانا حق سمجھتے ہیں تو ٹھرئیں۔۔! صرف پچھلے ایک سال پر نظر دوڑائیں، ہمارے ساتھ کیا کیا ہوا اپنے زخموں پر صرف ایک دفعہ ایک طبیب کی سی نظر ڈالیں۔۔۔

اسی سال ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ وسلم) کی ذاتِ اقدس کی توہین کی گئی، ان کی ذات کو مذاق کا نشانہ بناکر ان پر مووی بنائی گئی (نعوز باللہ)۔۔ اسی سال فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھا دیئے گئے، خونِ مسلم کی ندیاں بہا دی گئیں۔۔ اسی سال بلکہ اسی ماہ کشمیری مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے افضل گرو کو ناحق پھانسی دے دی گئی۔۔۔

یہ اس سال کی چند وہ جھلکیاں ہیں جو منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن پر ہم سب کا دل تڑپا، جن کو دیکھ سن کر ہم میں سے ہر ایک کی آنکھ اشک بار ہوئی لیکن یہ کیسے آنسو ہیں، یہ کیسا دکھ ہے جو آج ہم دکھ دینے والے کے ہی ساتھ مل کر پیار کی پتنگیں اڑانے لگ گئے، آج ہم آنسو دینے والے کو خوش کرنے کی خاطر اپنی پہچان، روایات بھول رہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہمارا اپنی تہذیب، اپنی روایا ت پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے؟ ہم تو سراسر محبت کے پیامی ہیں، ہمارا مذہب تو ہے ہی محبت، ہردن، ہر لمحہ محبت پھیلانے کا درس ریتا پھر آج کیوں ہم محبتوں کے پیام کی تشہیر کے لیئے غیروں کے دن کے محتاج ہو گئے؟؟

خدارا۔۔۔۔ ! آنے والی نسلوں کو غیروں کی غلامی اور نقالی میں جانے سے بچا لیجئے، اپنے دین پر، اپنی روایات پر خود پراعتماد بنیں اور ایک پر اعتماد نسل کو پروان چڑھا ئیں۔۔ آج امتِ مسلمہ کی حالتِ زار کی یہی ایک وجہ ہے:

ترا نقشِ پا تھا جو رہنما، تو غبارِ راہ تھی کہکشاں

اسے کھو دیا تو زمانے بھر نے ہمیں نظر سے گرا دیا

(نمرہ سرور- گجرات)

خاک ہوجائے گے افسانوں میں ڈھل جاؤگے


 

no5

ہم حجاب ڈے کے حوالے سے آج نیوز کا ایک پروگرام ریکارڈ کروانے کے لیے جمع  تھےوہاں پروگرام میں شریک  خواتین سے بات ہونے لگی ایک خاتون جن کا تعلق کسی مڈل کلاس گھرانے سے تھا اپنے حلیے سے بہت مذہبی بھی نہیں لگ رہیں تھیں مگر ماحول میں پھیلی بے حیائی پر بہت فکر مند بہت ہی دکھ سے بولیں ؛ کیا کریں کہاں لیکر جائیں بچوں کو کیسے بچائیں اور کہاں کہاں بچائیں میرا بچہ تیسری جماعت میں پڑھتا ہے اور عام سا اسکول ہے مگر ویلینٹائین سے ایک دن پہلے اسکول سے آکر کہنے لگا  ًامی کل مجھے لال شرٹ پہن کر جانی ہے اور ایک پھول لیکر جانا ہے ً بولیں میں نے حیرانی سے پوچھا کس لیے بیٹا  ؟  امی ہماری ٹیچر نے کہا ہے کل کلاس میں وہ ویلنٹائین ڈے منائیں گے تووہ  کپل بنائیں گی اور مجھے اپنی کپل کو پھول دینا ہے ً وہ خاتون تو اپنا دکھ بیان کر گئیں مگر مجھے لگا کہ ہم ایک ایسی گہری کھائی میں گر رہے ہیں جس کی پستی کا ابھی اس وقت شا ید کسی کو اندازہ نہیں یا کرنا نہیں چاہتے مگر جب آنکھ کھلے گی تو وقت گزر چکا ہوگا ۔

اسکول  جو ماں کی گود کے بعد بچے کی تربیت اورشخصیت سازی کی اہم ترین جگہ ثا بت ہوا کرتے تھے  استاد جن کو روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے کہ یہ انکے فرائض میں شامل ہوتا ہے کہ وہ بچے کو ہر برائی سے روکیں اور اس میں اچھائیاں پیدا کریں مگر یہ کیا ۔۔۔۔۔آج کے استاد نے اپنا کام صرف چھوڑ دیا ہوتا  تو بھی اتنا نقصان نہیں ہوتا مگر اس نے تو اپنی راہ ہی بدل لی  اور راہوں کے بدلنے کا کفارہ من حیث القوم دینا پڑ تا ہے جن قوموں کی تقلید میں ہم اپنا دین ، ایمان ، غیرت  ، حیا سب داوٴ پر لگا دیتے ہیں وہ پھر بھی ہمیں قبول نہیں کرتی  اور سب کچھ کھو کر بھی  ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔

۔مجھے میری دعوے عشق نے نہ صنم دیا نہ خدا دیا

آج  ہر اسکول ،کالج ،یونیورسٹیوں میں منایا جانے والا بے غیرتی کا یہ تہوار ایک مسلم معاشرے کے لیے زہر قاتل کی طرح ہے اور نوجوان نسل ہی کیا اب تو معصوم ذہنوں کو بھی پراگندہ کرنے میں کسی نے  کوئی کسر نہیں چھوڑی چاہے وہ نام نہاد آزاد میڈیا ہو جہاں ہر چینل پر بیٹھے غیرت سے عاری جوڑے ہوں جو ایک طرف خاندانی نظام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو دوسری طرف  آنے والی نسل کو اخلاقی بانجھ پن کا شکار کر رہے ہیں  یا وہ خوغرض سرمایہ دار ہوں جو اپنا  کثیر سرمایہ بے حیائی کی ترویج کے لیے اس تہوار پر لگاتے ہیں جن کی بدولت   بڑےشاپنگ مالز سے لیکر گلی محلے کی دوکانوں میں بھی ویلنٹائین کے کارڈز ہوں دل بنے غبارے ہوں یا پھول ہر طرف سرخ رنگ کی بہتات نظر آ تی ہے اور ہر ایک کے لیے اسکو منانا اتنا آسان کردیا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہر ایک کے دروازے تک پہنچا دیا تو بے جا نہ ہوگا  جس نے پورے کے پورے معاشرے کو بے حیا بنا دیا  ۔ 

  اور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس کو دنیا کے کسی ملک میں اتنی کوریج اور اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی کہ ہمارے ملک میں کیوں ہم تو وہ کہنہ مشق بھکاری ہیں کہ جو غیروں کی اندھی تقلید میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے اگر اسی پر ایک نظر ڈال لیتے تو شا ید حیا اور شرم یہ سب منانے سے روک دیتی ۔

اس تہوار کے بہت سے  تاریخی پس منظر بیان کیے جاتے ہیں مگر ان میں کو ئی بھی ایسا نہیں جو حیا سے عاری نہ ہو اور نوجوان نسل کو بے راہ روی کے ترغیب نہ دیتا ہو مگر ہماری نوجوان نسل جو اپنی عید کا پورا دن سونے میں گزارتی ہیں مگر اس تہوار کو وہ بہت ہی اہتمام کے ساتھ مناتی ہے  ۔

اس تہوار کے منانے والے اللہ کے نبی کی اس تنبیہ کو یاد رکھیں

رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہےوہ انہی میں سے ہے۔ (ترمذی ، مسند احمد50) سنن ابوداؤد 4021(

چونکہ شیطان کا پہلا وار ہیانسان کی حیا پر کیا گیا تھا اور اسی لیے رب نے خود بنی آدم کو تنبیہ کی تھی کہ 

 اے اوﻻد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا اس نے تمہارے ماں باپ کوجنت   سے نکلوادیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وه ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وه اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو۔ ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں ﻻتے۔ (سورۃ الاعراف) 

ً فرمانِ نبویﷺ ہے : "جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہارا جی چاہے کرو۔” (بخاری)ً اس لیے کہ حیا ایمان کی ایک شاخ قرار دی گئی اور حیا اور ایمان دونوں کو لازم و ملززم قرار دے دیا گیا  اور واضع کر دیا گیا کہ جب ایک اٹح جاتا ہے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے ۔پس ثا بت ہوا کہ حیا ہی وہ فرق ہے جو انسان کو حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے اور جب حیا نہ رہے تو انسان کو حیوان بنتے دیر نہیں لگتی اور رشتوں کا تقدس و احترام سب جاتا رہتا ہے 

 

نام نہاد روشن خیال لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ محبت کا دن ہے اور اسے ضرور منانا چاہیے تو ان کے لیے یہ ایک اہم خبر ہے کہ اسلام کی تو بنیاد  ہی محبت و اخوت پر ہے اس میں تو سال کا ہر دن محبتوں سے لبریز ہوتا ہے ہاں بس فرق اتنا ہے کہ اسلام جائز رشتوں جائز طریقوں سے محبت کا حکم دیتا ہے اور ہر لمحے کے لیے دیتا ہے سال میں صرف ایک دن کے لیے نہیں ۔

ہاں کچھ حدیں ہیں اللہ نے خود متعین کی ہیں اور یہ کرنٹ وائیرز کی طرح ہیں جن کو چھونے کو ہی منع نہیں کیا گیا بلکہ ان کے قر یب سے بھی گزرنے سے روک دیا  گیا اور وعید سنا دی گئی

ارشاد ربانی ہے : "اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہلِ ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔(النور: 19۔

یہی وہ حدود ہیں کہ جن کو توڑنے کے نتیجے میں رب نے ہم سے پہلے کی قوموں کے بارے میں ارشاد فرمایا

ً اورآخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی۔ سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، سنو! دور پھینک دیے گئے عاد، ہودؑ کی قوم کے لوگ ۛ

جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے ۔ سنو ! مدین والے بھی دور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے

﴿ سورہ ہود﴾

یہ وہ سورتیں تھیں کہ جن کے نزول کے بعد آپ ص کے بالوں میں یکدم سفیدی نظر آئی تو حضرت ابو بکر رضہ نے دریافت کیا ؛

یا رسول اللہ کیا وجہ ہیکہ آپ کے بالوں میں اتنی سفیدی ۔۔۔۔ آپً نے ارشاد فرمایا؛  ابو بکر مجھے ً  یونس اور ہود ً نے بوڑھا کردیا ہے ۔۔۔۔۔  یہ سورتیں اللہ کی نافرنی کرنے اور اپنی من مانی کرنے والی قوموں کے خوفناک انجام کا پتہ دیتی ہیں اور وعید ہے کہ جب اللہ کی حدود کو کھلم کھلا توڑا جائے تو نتیجہ کیا ہوتا ہےاس لیے کہ رب کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی اس سے پہلے کہ اس قوم کے دور پھینک دینے کا فیصلہ کر دیا جائے اور توبہ کی مہلت بھی نہ مل سکے ہمیں پلٹنا ہوگا رجوع کرنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ ہمارا ذکر بھی نہ ہو داستانوں میں  فیصلہ کیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم الله تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوجائیں اور آئندہ آنے والی نسلیں ان ایام کو سوگ کے دن قرار دینے پر مجبور ہو جائیں ۔۔۔۔!

شاہ دولہ کے چوہے


میں نے اپنی زندگی کاایک بڑا عرصہ پنجاب میں گزارااور شروع  شروع میں کئی بار سفر ٹرین کے ذریعے بھی کیا  پنڈی سےکراچی تک کے ٹرین کے اس سفر میں بہت کچھ وہ دیکھنے کو ملا جو عام زندگی میں شاید کبھی ممکن نہیں ۔ اسی سفر کے دوران ایک ایسی مخلوق دیکھنے کو ملی جسے دیکھ کر میں اتنی خوفزدہ ہوئی کہ دودن کے اس سفرکا ایک پورا دن میں نے اوپر برتھ پر گزار دیا اور میری ہمت نہیں تھی کہ میں نیچے اتر سکوں ۔۔ وہ کوئی آسمانی مخلوق نہیں تھی نہ ہی جنات کی کوئی قسم تھی بلکہ وہ میرے اور آپ کے جیسی ہی پیدا کی گئی اشرف المخلوقات کا شرف بخشی گئی مخلوق تھی مگر یہاں اس زمین پر انسان کی اس سے زیادہ بد ترین شکل شائد ہی کوِئی اور ہو جسے انسان نما وحشیوں نے” شاہ دولہ کے چوہوں “کا لقب دے دیا تھا میں نے اپنا وہ سفر کسی سے بات کئے بغیر  بس اسی سوچ میں گزارا کہ وہ میرا پیارا رب جس نے اس انسان کو بہترین شکل میں پیدا کیا اس کے اعضاء کو کس خوبصورتی سے سنوارا اور جسے وہ خالق خود یوں بیان کرتا ہے

الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ ﴿٧﴾ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ (سورۃ النفطار)

جس (رب نے) تجھے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر (درست اور) برابر بنایا

مگر آج اس انسان نے کس بیدردی سے ہییت ہی بدل کر رکھ دی خدا کی سب سے خوبصورت تخلیق کی۔۔۔

شاہ دولہ کے چوہے جن کی کہانی یہ ہے کہ گجرات میں ایک مزار ہے جس کا نام شاہ دولہ ہے اور وہاں عورتیں و مرد اپنی مرادیں مانگنے جاتے ہیں بے اولاد اولاد مانگنے اور اسکے لیے وہ یہ منت مانتے ہیں کہ اپنی پہلی اولاد کو شاہ دولہ کے مزار پر ہی چھوڑ دیں گے۔۔۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے مگر بات یہیں  تک نہیں کہ آگے کی کہانی اس سے کئی گناہ بھیانک اور انسانیت کی گری ہوئی شکل ہے۔۔۔کہ جن بچوں کو منت کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے انکے سروں پر اسی وقت لوہے کی ٹوپی پہنا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے انکا جسم تو بڑھتا ہے مگر ان کا سر اور دماغ ایک پیدا ہونے والے بچے جتنا ہی رہتا ہے اور پھر انکے بڑے ہوجانے پر ایک فرد ان کے ساتھ لیکر بھیک مانگتا ہے اور ہر جگہ ان کے ساتھ رہتا ہے کیونکہ وہ اس قابل نہیں کہ خود سے کچھ کر سکیں اس لیے اب ان کی زندگیاں ایسے ہی گزرتی ہیں جس میں ہاتھ پکڑ کر چلانے والے تو بدلتے رہتے ہیں مگر انکی تقدیریں نہیں بدلتیں۔۔۔

میں تین دن سے سینکڑوں مریدوں کو ایک ڈبہ پیک قائد کے ہاتھوں ایسے ہی استعمال ہوتا دیکھ رہی تھی اور ڈھول کی تھاپ پر  لایا جانے والا وہ اسلامی انقلاب جس میں اسلام ڈھونڈے سے بھی نہیں نظر آتا۔ جس میں قافلہ  کربلا کا دعوی کرنے والے قائد صاحب خود پلٹ پروف کنٹینر میں بیٹھ کر کہتے ہیں میں اپنی لاش لینے آیا ہوں۔۔۔ اور یہ کہ گولی مجھے مارنا میرے بچوں کو نہ مارنا اور یہ کہہ کر اپنے بم پروف کنٹینر میں آرام دہ سیٹ پربیٹھ کر اس مست ہجوم کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور تو اور جب خطاب کے لیے مجبوری میں باہر بھی نکلنا پڑا تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ اسٹیج تک کس طرح لائے گئے کہ گاڑی سے نکلتے ہی انکے اطراف میں بلٹ پروف شیٹس لیے گارڈز اس قدر چوکس تھے کہ جسے ایک لمحے کی بھی غلطی کی گنجائش نہ ہو اور خطاب کے دوران بار بار گاڑھی انگریزی استعمال کرتے آقاوں کو  اپنی وفاداریوں کا پیغام دیتے یہ امام صاحب ہزاروں لوگوں کی نمازیں قضاء کراتے ہیں جن پر نہ خود شیغ الاسلام کو کوئی رنج نہ اس قافلہ کے باسیوں کو ہی کوئی غم ہے ۔یہ کیسا قافلہ کربلا ہے جس میں ایک بھی حسین نہیں۔۔۔

اور اس انقلابی ڈرامے کا ایک اور کلیدی کردار جس نے پوری قوم  کہ نفسیاتی طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے وہ ہے اس تماشے کی لمحے لمحے کی کوریج کرتا  میڈیا جسے  ہزاروں کے مجمعے کو لاکھوں اور لاکھوں کے مجمعے کو سینکڑوں کا دکھانے کا فن خوب آتا ہے ۔۔

 

میں یہ سب بڑے افسوس کے ساتھ دیکھتی رہی  اور کئی سالوں پہلے کی تصویر کا ایک دردناک منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب ایک سفید داڑھی والا قائد اسی ڈی چوک تک پہنچنے کی کوشش میں پولیس کی لاٹھیوں کا نشانہ بن رہا ہے جس کی دستار سر سے گری ہوئی ہے اور بغیر کسی بلٹ پروف گاڑی اور جیکٹ کے ایسے ہی سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان کس عزم اور حوصلے سے اپنے کارکنوں کے ساتھ اپنی پیٹھ پر لاٹھیوں کے زخم کھاتا یہ قائد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔ بدنصیب قوم ۔۔۔۔۔ میں درد کی کیفیت میں اپنی نگاہیں اس تصو یر سے ہٹا لیتی ہوں کہ تاب نہیں اپنی بدنصیبیوں پر ماتم کرنے کی مگر صرف نظریں ہٹالینے سے تلخ حقیقتیں بدل تو نہیں جایا کرتیں۔۔۔۔ ایک اور تصویر ساتھ ہی نظر آتی ہے جس میں آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے بہتی ہوئی سرخ آنکھیں اس کی بہادری اور عزم کی داستاں سنا رہی ہیں۔۔۔

اس پاکستانی شہریت رکھنے والے محب وطن قائد کو  تو کسی نے اسٹیج لگانے کی اجازت نہیں دی اسکے کارکنوں کو تو کسی نے بستر فراہم نہیں کیے تھے بلکہ ان کے لیے تو جیلیں تھیں ، لاٹھیاں ، آنسو گیس کے شیل اور شہادتیں تھیں مگر پھر بھی انکے حوصلوں کو کوئی شکست نہ دے سکا۔۔۔

میں ہر گز موازنہ نہیں کر رہی کہ موازنہ ہو بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔ بلٹ بروف کنٹینروں میں بد مست ہاتھیوں کی طرح جھومتے قائد اور اسکے مریدوں کا کیا مقابلہ ان سینہ سپروں سے کہ جنھوں نے گولیاں سینوں پر کھائیں۔۔۔

 

میں سوچ رہی تھی یہ کیسی قوم ہے جو آج ایک ایسے زمانے میں رہ رہی ہے جہاں بچے بھی ہر بات پر سو سوال کرتے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں جو یہ نہیں کہتے کہ آپ لاش لینے آئے ہیں تو باہر آئیں نا ۔۔۔۔۔۔ گولی آپکو کیسے لگے گی بابا جی آپ تو جہاں بیٹھے ہیں وہاں بم نہیں اثر کر سکتا اور یہ کہ عورتیں اور بچے تو خون کو بھی جما دینے والی سردی میں باہر روڈ پر ہوں اور انکا امام اندر ہیٹر لگے کنٹینر میں گرم بستروں میں آرام فرما رہا  ہو ۔۔۔۔۔۔مگر کیاکیجیے کہ جی مرید ایسے ہی ہوتے ہیں ۔صم بکم۔۔۔۔۔ اپنی اولادوں تک کو بھینٹ چڑھا دینے والے۔۔۔

ایک صحافی بھائی کی کہی ہوئی بات جو سو فیصد سچ لگتی ہے کہ آپ کتنا بھی انکو وہ ویڈیوز دکھادیں جس میں یہ صاحب خود کو جھٹلاتے سجدہ کراتے یا نبی ص کو پاکستان آنے اور جانے کا ٹکٹ اور کھانے پینے کا انتظام کا دعوی کرتے نظر آئیں گے مگر آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے اور یہ کہ مجھے تو اب ان پر ترس آتا ہے۔۔۔

تب مجھے لگا کہ یہ تو شاہ دولہ کے وہ چوہے ہیں جن کے سروں میں دماغ نہیں انکی ڈور پکڑ جو چاہے جدھر گھما دے انکو انکار کرنے کی جرات ہے نہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بس انکی ڈور پکڑنے والے بدلتے رہتے ہیں جو کبھی کسی راہ پر لے جاتے ہیں کبھی کسی راہ پر مگر انکی تقدیریں نہیں بدل سکتیں۔۔۔ کیوں کہ تقدیریں بدلنے کے لیے اندھی تقلید نہیں بلکہ سوچ، سمجھ اور عقل شرط لازم ہیں۔

ابھی نہیں تو کبھی نہیں


 

abhi

 

لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر میرے اطراف میں پھیلے ہوئے کالم ،اخبارات میں اب تک آتی سر خیاں میڈیا پر ہر ایک کے منہ سے نکلتی دکھ بھری حقیقتیں جو یقینا تاریغ میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی مجھے پھر اسی طرف لے آتی ہیں اور میں حیران پریشان سی اپنے ذہن میں اٹھنے والے ان گنت سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کہ جب یہاں ہر ایک اس حقیقت سے واقف ہے کہ کون مخلص ہے , کون محب وطن ہے , کون ہے وہ جن کی زندگیاں ہر الزام سے پاک ہر اک کے سامنے شفاف آئینوں کی طرح چمکتی ہوئی ہیں مخالف بھی جن کی زندگیوں پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتے ۔

اسکا ایک منہ بولتا ثبوت جس کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا جس نے مجھے بھی حیران کردیا کہ وہ ذاکر صاحب ہوں پروفیسر غفور صاحب  یا قاضی بابا انکے لیے دائیں بازو والوں نے تو جو کچھ لکھا سو لکھا  مگر یہاں تو بائیں بازو والے بھِی ان باکردار لوگوں کی جدوجہد اور مخلصی کی ان گنت داستانیں سناتے نظر آتے ہیں اور بہت سی ایسی بھی سچائیا ں جس سے میرے جیسے بہت سے لوگ اب تک ناواقف تھے انہیں منظر عام پر لانے والا انہی کا قلم  تھا  ۔ ۔ ۔ ۔

میں خود کو سوچوں کے ایسے بھنور میں محسوس کر رہی تھی جس نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی کہ جب ہر اک اتنا باخبر ہے اتنا قدر دان ہے تو پھر بے خبر اور ناقدرا کون ؟؟

کون ہے جس نے اس قوم کے نصیب کی ڈوریاں پاکیزہ اور بے داغ لوگوں کے بجائے چوروں اور لٹیروں ملک کے غداروں اور دشمن کے ایجنٹوں کے حوالے کردیں ؟   اور آج عالم ہوا ہے کہ

جینا تو مشکل ہے ہی
مرنا بھی نہیں آساں

جوقومیں غفلت کی نیندیں سو جایا کرتیں ہیں تو پھر انکی تقدیروں میں وہی کچھ  لکھ دیا جاتا ہے جو آج نہ چا ہتے ہوتے بھی ہما ری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ۔

اک خیال تھا جو رہ رہ کر ستا رہا تھا کہ

کیوں ہم ان لوگوں کی قربانیوں کو اک جہد مسلسل کو پہچاننے سے عاری ہیں وہ صحراوں میں کنویں کھودتے ذاکر صاحب پروفیسر غفور احمد اور قاضی بابا کی شکل میں ہوں یا سید منور حسن سے لیکر سراج الحق ہوں یا لاکھوں لوگوں کی {سیلاب زدگان ہوں یا زلزلہ زدگان } ہر جگہ اور ہر وقت امداد کے لیے تیار والے نعمت اللہ جن کی عمر اسّی سال سے اوپر ہے ہاتھ میں لاٹھی تو آگئی مگر خدمت خلق کے جذبوں میں کوئی کمی نظر نہیں آتی ان سب کی خدمات کو ایک بلاگ میں رقم بند کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ انکی خدمتوں اور کارناموں پر تو کئی کتابیں لکھی جاسکتیں ہیں ۔

مگر جواب بہت افسوس ناک تھا کہ اس قوم سے زیادہ بد نصیب اور کون ہوگا  جسکا یہ حال ہوچکا ہو کہ جس کے باکردار اور دیانتدار لوگوں کو مرنے کے بعد ہی پہچانا جائے اور دنیا سے رخصت ہونے پر انکی مخلصی کے قصیدے لکھے اور پڑھے جائیں ۔

اور اس قوم میں جو جتنا بدتر ہو وہ اتنا ہی اونچے عہدے پر فائز ہو  اور جو جتنا بڑا مداری ہو وہ میڈیا میں اتنی زیادہ جگہ پائے اور لوگوں پر مسلط کر دیا جاۓ گا چاہے  وہ  اپنے مداری پن میں اس حد تک چلا جا یے کہ اپنی غداریوں پر پردہ  ڈالنے کی ناکام کو شش میں قوم کی تقدیر بدلنے اک پہچان دینے والے  والے بانی اور عظیم قائد پر ڈرون حملوں کے نام سے بدترین الزامات کی بوچھاڑ کردے اور پوری قوم کی برداشت کا امتحاں لے اورافسوس اس بات پر کہ ہمارے بکاؤ میڈیا کی کیا مجال  کہ  وہ یہ سب دکھانے سے انکار کر سکے کہ یہ کسی ایسی پارٹی کا پروگروم تو نہیں تھا جسے آن ائیر جانے سے درمیان ہی میں روک دیا گیا ۔۔۔۔۔۔  بڑ ے آقاؤں کی ناراضگی کا خطر ہ کیسے مول لیا  جا سکتا ہے  …..  بابا ئے قوم کی روح اگر تڑپتی ہی تو تڑپتی رہے ۔۔۔

یہ سب سن کر اور دیکھ کر جہاں دل دکھی تھا وہیں ایک آلاو بھی تھا جو اندر ہی اندر پک رہا تھا اور اس میں  کچھ کمی اس وقت آ ئی اور شکر ادا کیا کہ چلو صحافی برادری میں سے کسی نے تو اس حملے کا  پھر پور جواب دیا تھا اور قائد پر الزام لگانے والوں کو کھلا چیلنج تو دیا بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ دیوانگی ہے مگر میرے دل سے یہ دعا نکلی کہ اگر یہ دیوانگی  ہے تو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کرے کہ یہ دیوانگی رہے باقی ۔۔۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ کیا یہ قوم اب بھی نہیں جاگے گی تو پھر شائد کبھی جاگنے کی مہلت بھی نہ پاسکے کہ اب تو ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کل تک جو کینیڈا اور لندن سے چلنے والے انقلاب  کے دعوے دار جنھوں نے پوری قوم کو نفسیاتی طور پر یرغمال بنایا ہوا تھا پورے کراچی میں جگہ جگہ  کیمپس لگا کر اور راہ چلتی گاڑیوں کو روک روک کر انقلاب کے نام پر بھتہ وصول کرنے والے آج صبح بھی جنگ اخبار پر جلی حروف سے لکھی گئی وہ شہہ سرخی میرے سامنے موجود ہے جسمیں یہ اعلان کیا گیا کہ” حکومت گورنر سندھ کو ہٹانا چاہے تو ہٹا دے مگر لانگ مارچ میں ہر قیمت پر شریک ہونگے ” مگر یہ کیا چند ہی گھنٹوں بعد یہ خبر کہ ہم لانگ مارچ میں حصہ نہیں لے رہے پہلی خبر کا منہ چڑاتی نظر آئی ۔۔۔۔ کیا یہ اس قوم کے ساتھ بھیانک مذاق نہیں ۔۔۔۔۔ ؟؟

مگر جب تک یہ قوم اپنے ساتھ یہ مذاق کروانے کے لیے خود کو طشتری میں رکھ کر پیش کرتی رہےگی اسکے ساتھ ماضی میں بھی یہی سب دہرایا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا {اور اسکا خمیازہ اور کفارہ آنے والی نسلوں تک کو دینا پڑے گا } جب تک لوگ دیانت دار لوگوں کو مرنے سے پہلے نہیں پہچانیں گے اور بعد میں صرف انکے گن گانے ، داستانیں سنانےکے بجائے انکی زندگیوں میں انکو اپنا امام بنانے کے لیے خود میدان میں نہیں نکلیں گے تب تک انکے نصیبوں میں ایسے مداریوں کے تماشے “جنکی ڈگڈگی کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے ” اور جیل سے فارغ ہوکر ایوان صدر کا رخ کرنے والے ہی لکھے جائیں گے کہ فیصلہ کا وقت آیا ہی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بس یاد رکھیے گا کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ۔۔۔۔۔!!۔

یتیمی کیسی ہوتی ہے


یتیمی کی اذیت کس کو کہتے ہیں یہ آج میں نے جانا!!

میں نے اپنے بابا کو نہیں دیکھا میری پیدائش انکے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوئی مگر نہیں مجھے تو  لگ رہا تھا میں آج ہی یتیم ہوئی جو زخم مجھے آج لگا تھا وہ کبھی نہیں بھر سکتا نہ ہی اسکا کوئی نعم البدل ہوسکتا تھا۔۔۔qazi
رات ڈیڑھ بجے کا وقت خبر کیا تھی منہ سے نکالتے ہوئے بھی دل لرز رہا تھا ڈرتے ڈرتے بھائی سے پوچھا وہ بھی لاعلم پھر ٹی وی چینلز کو نیٹ پر ہی سرچ کیا اور دل لگا تھا غم کی شدت سے کہیں مزید چلنے سے انکار نہ کردے کہ سامنے ہی یہ دردناک خبر چل رہی تھی کہ میرے قائد میرے شفیق باپ جن کا خمیرمحبتوں سے گوندھا گیا تھا جن کی رگ رگ میں امت کے اتحاد کی تڑپ تھی وہ اس بے وفا دنیا سے منہ موڑ چکے تھے اپنے رب اعلیٰ کی مہمان نوازی کے لیے۔

میں ایک چھوٹے سے بچے کی مانند سسک رہی تھی اور میں ہی کیا یہاں تو ہر ایک تڑپ رہا تھا جس سے بات کرو ہی سسک رہا تھا لگتا تھا یہ قوم یتیم ہوگئی تھی کچھ نہیں سمجھ آرہا تھا کیا کہہ کر خود کو تسلی دی جائے دل کچھ سننے کو تیار نہیں کچھ زخم ایسے ہوتے جو انسان کو توڑ دیتے ہیں یہ بھی ایسا ہی کاری گھاؤ تھا جو ہر ایک نے اپنے دل پر محسوس کیا ٹی وی پر چلنے والے وہ مناظر جس میں ہر ایک یوں زارو قطار رو رہا تھا جیسے یہ مجاہد اسلام بس اسی کے دل کی دھڑکن تھے میں بھی یہی سمجھی کہ میرا دکھ سب سے زیادہ ہے مگر وہ تو یہاں ہر ایک کے سینے میں دل کی جگہ دھڑکتے تھے۔

 

یہ حقیقت برحق سہی کہ” کل نفس ذائقۃ الموت ” اور کتنے ہی لوگوں کو اپنے پیاروں کو بچھڑتے دیکھا۔ مگر یہ کیسی جدائی  تھی جو مارے دے رہی تھی روح تک زخم زخم تھی۔

 
یہ رات میری بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی کی اذیت ناک ترین رات تھی جس نے سن لیا وہ نہیں سویا اسکی رات آنکھوں میں کٹی تھی نیند کہاں سے آتی یہاں تو عالم یہ تھا کہ اگر مرنے والے کے ساتھ مرا جاسکتا تو آج نجانے  کتنے جنازے اٹھتے۔۔۔

 
صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر کونے میں بیٹھے اورسسکتے کون تھے یہ عاشقان قاضی ایسا کیا دیا گیا تھا انکو کہ انکی تڑپ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی؟؟؟

 

ہوتی بھی کیسے جن کا بچپن اور جوانیاں فخر سے یہ دعوے کرتے گزریں تھیں کہ ” ہم بیٹے کس  کے ؟ قاضی کے” وہ کیسے نہ تڑپتے اپنے اس باپ کے لیے جو حقیقی باپوں سے بڑھ کر تھے۔ جن کی رگوں میں اس مرد مجاہد کی محبت خون کے ساتھ سرایت کر چکی تھی آج انکے لیے خود کو سنبھالنا ایسے ہی تھا جیسے کسی مچھلی کو پانی سے باہر تڑپنے کے لیے چھوڑ   دیا جائے۔

آج مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی تھی کہ صبر کا درجہ میرے مالک نے کیوں اتنا بلند رکھا ۔۔۔۔آہ ۔۔ مگر صبر کہاں سےلائیں ۔۔۔

 

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا  فراز

ظالم اب کہ بھی نہ رویا تو مر جائے گا

 

مرے مرشد کے بارے میں کون نہیں جانتا میرا انکے لیے کچھ کہنا ایسا  ہی ہے جیسے سورج کو روشنی دکھانا۔۔۔

آج پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون انکا مخالف ہے اور کون چاہنے والا ہر ایک ہی کے اشک اسکے اندر کے دکھ کی کہانی سنارہے تھے اپنے تو خیر اپنے تھے مگر یہاں تو مخالف بھی رو رہے تھے بس ایک ہی بات تھی کہ یہ امت مسلمہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔

 

بات بھی سو فیصد سچ تھی کہ وہ جن کے دل میں امت کی اتحاد کی تڑپ انہیں اس عمر اور سخت گرتی ہوئی صحت کے باوجود چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی اور انھوں نے اسکی جدوجہد میں ہر اپنی زندگی کا ہر لمحہ لگادیا۔

 

مجھے انکے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں وہ تو اک ایسا چمکتا ہوا روشن ستارہ تھے جس سے ہر ایک نے روشنی ہی پائی۔

یقینا میرے رب نے ان کے لیے بہترین جنتوں کا مہمان بنانے کی تیاری کر لی ہوگی انکے استقبال کے لیے انکے رفقاء کو بھی اطلاع کر دی گئی ہوگی ۔
خود رب کا فرمان ہے (ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان)
بس میری رب سے دعا ہے مولا ہمارے والد کی  بہترین میزبانی فرمایئے گا اپنی جنتوں میں سے بہترین جنت کا مہمان بنائیے گا اور دکھ کی اس گھڑی جب کہ اس صدمے سے  ہم بکھر  چکے ہیں ، مولا ہمیں صبر جمیل عطا فرما یئے ۔

 

مولا ہمیں قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے تلے اکھٹا کیجیے گا کہ ہم نے تیرے لیےمحبت کی اور خالص کی اور جن چراغوں کو وہ جلا کر گئے انکو روشن رکھنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمانا آمین!

 

یتیمی کیسی ہوتی ہے؟
دکھ کس کو کہتے ہیں؟
زخم کیسے لگتا ہے؟
درد کیسے رلاتا ہے؟
تڑپا کیسے جاتا ہے؟
یہ آج میں نے جانا
مانا موت برحق ہے
لیکن!
غم کی اس شدت میں

درد بھری حقیقت میں
کیسے خود کو سنبھالے کوئی؟
کیا کہہ کر بہلا ئے کوئی؟
دیکھو تو ٹوٹ گیا کوئی
چھن گیا مجھ سے

سائباں وہ محبتوں کا
بس ایک انبار ہے اسریٰ

ان گنت یادوں کا۔۔۔

ادھورا احتجاج کیوں؟


 

آج کا دن کچھ مختلف سا لگا شاید اسلئے کہ مایوسی کی اس فضا میں کہیں سے بھی ہلکی سی بھی کوئی کرن نمودار ہو تو ہمیں امید نظر آنے لگتی ہے۔ آج بھِی ایسا ہی کچھ ہواتھا صبح حامد میر MQM-btngصاحب کے کالم “بکواس ” سے ہوئی ابھی وہ پڑھ کے فارغ ہی ہوئی تھی کہ عرفان صدیقی صاحب کا انقلاب کی حقیقت کو چاک کرتا ” انقلاب تاج برطانیہ” سامنے ہی تھا اور پھر انصار عباسی صاحب اور دیگر کے کالمز بھی اس عظیم تقریر پر سراپا احتجاج نظر آئے۔ آپ سمجھ تو گئے ہی ہونگے کہ میں کس تقریر کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ جی بلکل وہی جسےبراہ راست دکھانے میں ہمارے ہر چینل نے سب سے پہلے میں کی دوڑ کو جیتنے کی پوری کوشش کی تھِی اور اپنی اس وفاداری میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

 

ویسے تو ہمارے صحافی بھائی ہمیشہ ہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اگر پورا نہیں بھی تو کچھ سچ ضرور بتانے کی کوشش کرتے ہیں مگر آج کا لب و لہجہ ذرا الگ ہی تھا۔ بات بھی کوِئی معمولی نہیں تھِی آخر صحافت کو للکارا گیا تھا اور وہ بھی نام نہاد پڑھی لکھی پارٹی کے لیڈر جو پچھلے کئی عشروں سے لندن میں مقیم ہیں جہاں جانوروں سے مخاطب ہونے کے بھی اصول ہوتے ہیں مگر شاید ان کے وہاں گزارے گئے عشرے بھی انکا کچھ نہیں بگاڑ پائے کہ بقول شاعر:
خمیر ہی ایسا تھا

 

خیر مجھے جہاں ان سب صحافی بھائیوں کی سراپا احتجاج ہونے پر خوشی بھی تھی کہ یہ ان سب کے ضمیروں کے ابھی تک زندہ ہونے کا ثبوت تھا مگر وہیں مجھے تھوڑی حیرت اور کچھ دکھ نے بھی آن گھیرا تھا۔ حیرت اس بات کی کہ کیا واقعی یہ ان سب خبروں اور منظر عام پر آنے والی ان ویڈیوز سے اب تک انجان تھے جو بہت عرصے تک سوشل میڈیا کی زینت بھی بنی رہیں تھیں جن میں کہیں سلمان مجاہد بلوچ یوسی ناظم سٹی گورنمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنا بیلٹ اتار کرمخالف پارٹی کی رکن خاتون کی پٹائی کرتے
ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں مشہور و معروف ناظم  مصطفی کمال صاحب کسی ہسپتال میں بستر مرگ پر موجود اپنے باپ کے لیے روتی ہوئی خاتوں کو گالیاں دیتے اپنے پڑ ھے لکھے ہونے کا ثبوت پیش کرتے نظر آئے۔ مگر ان سب پر تو کوئی آواز نہ اٹھا ئی گئی نہ ہی کوئی برہم ہوا کہ جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ کیڑے  مکوڑے ہوں جن کی نہ کوئی اوقات ہو نہ ہی عزت  جس کا جب جی چاہے انہیں ذلیل و رسوا کر ڈالے۔

 

اورتو اور دکھ تو اس بات پر ہوا کہ آج بھی جب اس عظیم تقریرمیں کی گئی اس “بکواس “پر برہمی کا اظہار تو کیا گیا مگر کیسے؟؟؟ حامد بھائی آپ  نے اگر وہ عظیم تقریر پوری سنی ہو تو یقینا آپ نے اور باقی صحافی بھائیوں نے وہ سب بھِی سماعت فرمایا ہوگا جو ادارہ نور حق میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کو  مخاطب کر کے انہیں جن القابات سے نوازا گیا اور جس طرح سر عام اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری گئیں اور کس طرح کھلم کھلا دھمکیاں دی گئیں کہ کراچی کو چھوڑ دیا جائے اور یہ کہ اگر بھائی کو جلال آگیا تو وہ اپنے کارکنوں کو کھلا چھوڑ دینگَے یعنی کارکن نہ ہوئے۔۔۔

یہ تو مالک کے وفادار اور بندھے ہوئے۔۔۔ جو مالک کا اشارہ پاتے ہی مخالف کو اپنے پنجوں میں جکڑ لینگے۔۔۔

 

پارٹیوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں اختلاف کرنا ہر کسی کا حق ہے مگریہ سب  تہذیب کے دائرے میں ہونا شرط لازم ہے مگر یہ کونسی سیاست ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو ننگی گالیاں دی جائیں اور دھونس و دھاندلی سے انہیں شہر چھوڑنے کا حکم دینا اور شہر نہ چھوڑنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں۔۔۔

 

میں بہت دیر اس بات پرافسوس کرتی رہی کہ صحافی بھائیوں کو کیا اپنے ان کالمز میں اس سب  پر بھی احتجاج نہیں کر نا چاہیے تھا جو کہ ان کی صحافت کا فرض بھی بنتا تھا۔ مگر شا ید ہماری قوم کی بدلتی روایتوں میں ایک اور اضافہ یہ بھی ہوا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی بات  کا نوٹس نہیں لیتے جب تک وہ ہماری اپنی ذات پر نہ ہو مگر ہم یہ سب بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم نے کسی دوسرے پر اٹھنے والی انگلی کو نہ روکا تواس امر میں کوئی شک نہیں کہ اگلی بار وہ انگلی آپ پر اٹھے گی۔

 

آج ان کالمز کو پڑھ کر بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ صرف بکواس کہنے پر برہم ہونے والے یہ کیوں بھول گئے کہ آج  اگر انھوں نے ان گالیوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا کہ مخاطب  وہ نہیں بلکہ کوئی اور تھا توصاحب آپ ہرگز یہ مت بھولیے کہ اگر ایسے لوگوں کی زبان بندی نہ کی جائے تو مخاطب بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔

 

میں یہ سوچنے لگی کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کیا کوئی قانون نہیں جس کا جب جی چاہے سربازار دوسرں کی عزتوں پر حملہ کردے کوئی اسکو روکنے والا نہیں۔۔۔

یقینا قانون تو بہت ہیں مگر ان پر عمل کروانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔۔۔

کہا ں تھا پیمرا جب ہر چینل سے ہتک آمیز اور اخلاق سے عاری وہ غلاظت براہ راست اگلی جارہی تھی؟؟؟

کیوں ان چینل کی نشریات کو بند نہیں کردیا گیا؟؟؟ اور آج بھی اتنے دن گزر جانے کے باوجود کیا پیمرا نے کوئی نوٹس لیا؟؟؟

آخری امید کے طور پرمیری نگاہیں اب چیف جسٹس صاحب کی طرف لگی ہیں کہ دیکھیں وہ اس حملہ اور دھمکی پر کب سوموٹو ایکشن لینگے ، میں نہیں جانتی میری یہ امید پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں مگر بس اک آس سی ہے اور میری دعا ہے کہ یہ آس نہ ٹوٹے اور کوئی تو ہو جو کھلم کھلا دھمکی اور شرفاءکی عزتوں پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھوں کو روکنے والا ہو۔

رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع


 

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ میں کہاں سے اور کیسے شروع کروں ؟

 

آج مجھے الفاظ کا چناوٴ انتہائی دشوار لگ رہا تھا شائد یہی وہ دشواری تھی جس کو ختم کرنے کے لیے ہمارا میڈیا نے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ جو جس کے جی میں آےٴ وہی کرے وہی بولے بس کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اور ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جاےٴ۔ishq-e-mamnoon

 

آج ہمارا میڈیا ان احادیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے  اور

جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمھارے جی میں آےٴ کرو۔ ﴿بخاری،مشکواة،باب الرفیق والحیاء﴾

یعنی حیا ہی دراصل وہ رکاوٹ ہے جو  انسان کو بر ے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے۔ میرے سامنے وہ تصویر کئی بار آئی جس میں اس وقت   ًعشق ممنوع ً کے نام سے چلنے والے ترکی کے مشہور اور حیا باختہ ڈرامے کی مذمت کی گئی میں نے چونکہ ڈرامہ نہیں دیکھا اس لیے اسکے بارے میں ذیادہ معلومات نہیں تھی مگر جب میں نے اسکے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور جو کچھ میں نے سنا اسکو بیان کرنے کے میرے پاس الفاظ نہیں۔

 

کون ہے جو اس تباہی کا اندازہ لگاے جو باقائدہ پلاننگ کے ساتھ صرف ہماری نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کو کس پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے  اور اس میدان میں ہمارے اپنے میڈیا نے کیا کم کارنامے انجام دیے ہیں؟ جس نے جنس مخالف کو بس ایک جنس پر کشش بنا کر پیش کیا۔

 

یہ بہت پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا بچہ جو اپنے سے ذرا بڑی لڑکی کو باجی اور ایک تیس سے اوپر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا آج میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا عورت صرف عورت ہوتی ہے جس میں صرف کشش ہوتی ہے اسے اسی نگاہ سے دیکھو اور اس سے کسی بھی عمر میں عشق کیا جاسکتا ہے۔ باجی، بہنا، سسٹر ، آنٹی، خالہ۔۔۔ یہ سب بس القابات ہیں انکے کوئی حقیقی معنیٰ نہیں۔۔۔

 

مجھے اس خوفناک صورتحال کا اندازہ تب ہوا جب کچھ عرصہ پہلے  مجھے سکول میں جاب کا شوق ہوا ﴿یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمارے یہاں کے ویل ایجوکیٹڈ کلاس سمجھے جانے والے ایک ادارے کا اسکول تھا﴾

 

میرا پہلا دن تھا کلاس دوم دی گئی تھی، بچے بچیاں سب ہی تھے سب سے تعارف ہوا جب پیریڈ ختم ہونے لگا کچھ بچے قریب آےٴ میں کاپیز چیک کرنے میں مصروف ایک آواز آئی۔۔۔ ٹیچر ۔۔۔

میں نے گردن اٹھاےٴ بغیر جواب دیا۔۔۔ جی بیٹا جان بولیے۔۔۔

مگر میرے ہاتھ سے پین گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔ یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے ایک اور بچہ جو شاید اس بچے کے ساتھ تھا اس سے بولا۔۔۔ اوئے ہوےٴ دیکھ تجھے جان بولا ٹیچر نے۔۔۔ چل اب تو ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو۔۔۔ دوسری جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بیٹے سے عمر میں چھوٹا اور شائد آٹھ سال کا تھا۔

 

ایک بار جی چاہا کہ زوردار تھپڑ لگاوٴں مگر اگلے ہی لمحے خیال آیا یہ معصوم ذہن انکا کیا قصور؟؟؟

تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں پاب، وہ معاشرہ، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اسقدر پراگندہ کر دیا کہ رشتوں اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا۔

 

مجھ میں مزید کچھ سننے کی سکت نہیں تھی۔۔۔میں دکھ اور افسوس کی کیفیت میں بریک میں بھی کلاس ہی میں بیٹھی رہی کہ اسٹاف روم جانے کی ہمت نہیں تھی ،اچانک میری نظر کھڑکی کے باہر کی جانب پڑی تو وہی بچہ ہاتھ میں پھول لیے کھڑا تھا اور اسکی دیکھا دیکھ اور کئی بچے اور بچیاں بھی ھاتھوں میں پھول لیے کلاس روم میں داخل ہوےٴ اور سب نے ٹیبل پر پھول رکھے اور کہا ۔۔ ٹیچر یہ آپ کے لیے ۔۔۔ اب وہ سب منتظر تھے کہ ٹیچر خوش ہونگی ۔ میں نے تھینکس کہا اور پڑھائی شروع کرادی۔

 

چھٹی ٹائم ایک بچی قریب آئی اور بڑے سلیقے سے سارے پھولوں کو سمیٹ کر گلدستہ کی شکل دے کر  میرے ہاتھ میں دیتے ہوےٴ بڑے لاڈ سے بولی ٹیچر یہ لیجانا مت بھولیےگا اس کے ساتھ باقی سارے بچے بھی میرے گرد جمع ہوچکے تھے میں نے وہ گلدستہ ہاتھ میں لیا اور کھلتے ہوےٴ رنگ برنگی پھولوں کو دیکھا پھر ایک نگاہ ان معصوم پھولوں پر ڈالی جنکی معصومیت، پاکیزگی کو کس بے دردی سے کچلا جا رہا ہے اور اس گلستاں کا مالی کسقدر بے خبر ہے۔ مالی تو اپنے باغ کے ایک ایک پھول سے باخبر ہوتا ہے اور کوئی پھول ذرا وقت سے پہلے مرجھانے لگے تو مالی کی جان پر بن آتی ہے مگر میرے گلشن کا یہ کیسا مالی ہے جس کو خبر ہی نہیں کہ اس کے باغ کو کو ئی اجاڑ رہا ہے برباد کر رہا ہے۔

 

دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم

﴾ ﴿سارا دل داغ داغ ہوگیا،پھاہا کہاں کہاں رکھوں

 

اس دن مجھے سمجھ آئی کہ  میڈ یا پر ایک انجن آئل کے اشتہار سے لیکر اور ایک روپے کی ٹافی تک میں عورت کی اس نمائش اور ڈراموں میں حیا سوز منظردکھاےٴ جانے کے اس نسل پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

 

ہم تو ابھی انھیں زخموں کو سہہ نہیں پاےٴ تھے کے یہ ایک اور کاری ضرب اس لادین میڈیا نے ًعشق ممنوعہ ً کی صورت میں ہمارے رشتوں پر لگائی۔۔۔

 

بخدا مجھے اس لائن سے آگے لکھنے کے لیے اپنی ساری قوت جمع کرنی پڑی کہ

چچی اور بھتیجے کا رشتہ یا میرے خدایا۔۔۔

ماں کے برابر رشتے کی ایسے آبرو ریزی۔۔۔

یعنی اب ہمارے خاندانوں کے تقدس کو اس طرح پامال کیا جائیگا؟؟؟

ایک وقت میں کئی کئی عشق کیے جانے کا سبق ۔۔۔

کم عمر اور کچے ذہنوں کو کس بری طرح دلدل کی نذر کیا جارہا ہے۔۔۔

 

اور میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے یہ پتہ چلا کے یہ ڈرامہ اس وقت کا مقبول ترین ڈرامہ بن چکا ہےاور بہت بے غیرتی کے ساتھ وہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔ میں یہ سوچنے لگی کہ ہمارے میڈیا کو اپنی گندگی میں کمی محسوس ہوئی کہ اب ہم  پر دوسروں کی گند گیوں کو بھی انڈیلا جا رہا ہے۔

 

مگر شائد جب تک ہم غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے رہیں گے یہ یلغارہم پر یوں ہی جاری رہےگی اس لیے کیونکہ ہم میں﴿ تھرڈ کلاس﴾ تیسرے درجے کا ایمان بھی نہیں رہا کہ کم از کم ہم برائی کو برائی سمجھیں بلکہ ہم تو اسکی تاویلیں تلاش کرنے لگتے ہیں، مجھے بھی ایسی تاویلیں سننے کو ملیں کہ اس ڈرامے کا انجام بہت برا دکھایا گیا ہے اور سبق آموز ہے مگر آپ یہ یاد رکھیے  برائی کی تشہیر برائی کو کئی گناہ بڑھانے کا تو باعث بن سکتی ہے مگر اس میں کمی کا سبب ہرگز نہیں بن سکتی اسی لیے برائی کی تشہیر کا نہیں اس کو دبا دینے کا حکم ہے۔

 

رب کی وہ تنبیہ بھی یاد کر لیجیے

جو لوگ اہل ایمان میں بیحیائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ﴿النور؛  ١۹ ﴾

 

اور  مجھے خوفزدہ کر دیا حدیث نبوی ّ کے ان الفاظ نے کہ

الله تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔

 

میرا دل خوف سے ڈ وبنے لگا کہ کیا ہمارے لیے بھی فیصلہ کرد دیا گیا؟؟؟

کیا ہم پر بھی بے حیا وٴں کی مہر ثبت ہو گئی۔۔۔

اس سے آگے میں کچھ نہیں سوچ پائی۔۔۔

 

آپ اگر سوچ سکیں تو ضرور سوچیں اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت بھی نہ ملے۔۔۔

 

%d bloggers like this: