Category Archives: پاکستان

"انتخابات 2013 اور جماعت اسلامی ” ایک تجزیہ


مصنف : جویرہ سعید

٢٠١٣کے انتخابات کئی اعتبار سے جماعت اسلامی کے لئے اہم تھے اور کارکنان کو بہت پر امید اور پر جوش کیے ہوے تھے. پہلی مرتبہ کسی سے اتحاد کیے بغیر اپنے نام اور منشور کے ساتھ اتخابات میں شرکت، پچھلے برسوں میں مختلف شعبہ ہاے زندگی میں کی گئی محنت، مثلا بہت سے فلاحی اور تعلیمی اداروں کا قیام،اور بے شمار منصوبوں اور پروجیکٹس،کی بنا پر عوام میں بڑھتا ہوا نفوذ، MMA کے دور حکومت اور کراچی کی میر شپ کے دوران حکومت کا تجربہ،اور کمائی جانے والی نیک نامی وہ امید کی کرنیں تھی جو کارکنان کو سرگرم کر رہی تھیں. دوسری طرف ملک کے بدترین حالات، لاقانونیت، کرپشن، مہنگائی، ملکی سلامتی کو در پیش خطرات کے سبب عوام میں بڑھتا ہوا غم و غصہ اور بظاھر روایتی سیاسی جماعتوں سے بے زاری بھی امید دلا رہی تھی کہ عوام متبادل قوتوں کے منتظر ہیں، اور جماعت کی گزشتہ برسوں میں کی گئی محنت اس کو اس متبادل قوت کے طور پر سامنے لا رہی ہے. لہٰذا کارکنان اور خصوصا نوجوان نسل نے بری محنت اور جوش و جذبے سے کام کیا اور اب تک مختلف پہلوؤں سے جو کمیاں محسوس ہوتی تھیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی. جیسا کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے جماعت کے مکمل black out کے نقصانات کو زبردست سوشل میڈیا مہم کے ذریے پورے کرنے کی کوسش قابل ذکر بھی ہے اور قابل ستائش بھی

 

لیکن ان سب کے بعد انتخابات کے نتایج اور کراچی میں انتخابی عمل کے boycott نے ان پر جوش کارکنان میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی. جماعت کے زبردست نظام سمع و اطاعت اور تربیت نے الحمدللہ کوئی انتشار یا بد مزگی تو نہیں پیدا ہونے دی، لیکن اندرون خانہ کارکنان سے لے کر ہمدردوں اور متاثرین تک میں صدمے، اضطراب،اور مایوسی کی تند و تیز لہریں اٹھتی رہی ہیں. خصوصا ان افراد میں جنہوں نے انتخابات میں بہت جوش و جذبے اور اچھے نتایج کے یقین کے ساتھ حصہ لیا تھا. مختلف سوالات ہیں جو مضطرب ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں،ان میں دو سوالات اہم ہیں،

 

١) انتخابات میں ناکامی کہیں خود جماعت کی ناکامی تو نہیں، یہ اس بات کا مظہر تو نہیں کہ جماعت اپنی دعوت کے نفوز میں ناکام رہی ہے. اور کیا جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ عمومی تاثر درست ہے کہ یہ ایک ناکام جماعت ہے جو کبھی بھی خاطر خواہ سیٹیں نہیں لے سکی اور عوام کی نمایندہ جماعت نہیں بن سکی؟ ٢) جماعت کو ان ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، جس کے لئے اس کو ایک زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے، اور یہ تبدیلی افکار و طریقہ کار اور mind set سب میں ناگزیر ہے. اور جماعت ان کو اختیار کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟

 

ہم نے یہاں سوالات کا الگ الگ تجزیہ کرنے کی کوسش کی ہے. پہلا سوال اب تک کی گئی جدو جہد سے متعلق ہے اور دوسرا سوال آنے والے وقتوں میں درست سمت میں چلنے کے لئے تبدیلی اختیار کرنے سے تعلق رکھتا ہے.

 

پاکستان میں انتخابات کا عمل، عوام کی اس میں شرکت، اور اس کے نتایج دو اور دو چار کی طرح سیدھا معاملہ نہیں ہے. اس میں بہت سے عوامل دخل انداز ہوتے ہیں. لسانی ، صوبائی، مسلکی عصبیتیں، جاگیر دارانہ نظام اور وڈیرہ شاہی، دولت کا عمل دخل، لاقانونیت، عوام میں خواندگی کی شرح اور سیاسی بیداری کی کمی، بیرونی طاقتوں کی ملکی حالات پر گرفت، ملکی اداروں کا ان کے زیر اثر اور جانبدار ہونا ،سب ہی اہم ہیں. مذہبی جماعتوں سے پاکستانی قوم کی عقیدت اور وابستگی اپنی جگہ اور عملی زندگی میں الگ معیارات ہوتے ہے. اس اعتبار سے پاکستانی قوم ایک منفرد قوم ہے. مصر، ترکی، اور دوسرے ممالک کے بر عکس اس قوم نے اسلام مخالف قوتوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا. مذہبی معاملات پر یہ مخالف قوتوں کے خلاف مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر سینہ سپر ہو جاتی ہے، کہ مذہب بے زر قوتوں کو بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتی ہے اورانھیں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنا کام کرنا پر تاہے.دوسری طرف اپنی اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو مذہب کے مطابق ڈھالنے اور روایتی مذہبیت سے بڑھ کر عملی تقاضوں کو پورا کرنے میں وہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں اتی. یہی تناقص سیاسی میدان میں مذہبی جماعتوں کا ساتھ دینے میں بھی مانع رہا ہے.

 

ان سب زمینی حقائق کے پیش نظر جماعت اسلامی جیسی اصولی موقف اور طریقہ کر رکھنے والی پارٹی کے لئے انتخابات ایک بہت بڑا چیلنج ہوا کرتے ہیں.اتنے بہت سے محازوں پر چو مکھی لڑائی لڑنا،اور اپنے دامن کو ان سری آلائشوں سے بچاتے ہوے کامیابی کے لئے کوششیں کرنا اتنا آسان نہیں. اور اسی بنا پر دوسری جماعتوں کے ساتھ موازنہ بھی معقول نہیں لگتا. اس سری صورتحال میں ہمارا ایک ووٹ بھی بھرتی کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے بری عرق ریزی اور محنت ہوتی ہے.

 

ان سب باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جماعت سے غلطیاں نہیں ہوئیں. ظاہر ہے کہ کوئی بھی صاحب عقل ایسی بات نہیں کر سکتا. بلا شبہ غلطیاں بھی ہوئی ہیں، اور ان کا گہرائی سے تجزیہ اور بروقت اصلاح بھی ضروری ہے، لیکن یہاں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ غلطیوں کا تجزیہ اور تنقید بارے اصلاح اور چیز ہے اور انتخابات میں ناکامی کی بنا پر پوری تحریک اور اس کی جدوجہد کو سوالیہ نشان بنا دینا اور بات ہے.

 

بیان کیے گئے عوامل کے پیش نظر ہماری راہے یہ ہے کہ انتخابات میں ناکامی یا کامیابی کو جماعت کی دعوت کے نفوذ کا معیار نہ ہی بنایا جاے تو بہتر ہے.بلکہ اس کو کچھ اور ہی اثرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے.

 

گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے حالات اور چلینجز کو دیکھیں، اور اس کے مقابلے میں مذہبی قوتوں اور خصوصا جماعت اسلامی کی جدوجہد کا جایزہ لیں تو یہ کہے بغیر رہنا ممکن نہیں کہ یہ الحمدللہ جماعت کی دعوت کی روز افزوں ترقی کا سفر ہے. جو جماعت ستر افراد اور ستر روپوں سے شروع ہوئی ، تمامتر کٹھنائیوں کے باوجود آج اس کے کارکنان، ہمدردوں اور متاثرین کی تعداد اور اثاثوں کا اندازہ لگائیں. اسلامی دستور کی تیّاری، کمیونزم اور سیکولرازم ،غیر ملکی مداخلت کے مقابلے میں کامیاب جدوجہد ، ہر شعبہ زندگی میں اسلام پسند رحجانات اور افراد کا پایا جانا، اسلامی نظام، احکامات، اصطلاحات اور شعائر کے حوالے سے عمومی نقطۂ نظر میں مثبت تبدیلیاں (acceptance) ، نظری اور عملی اعتبار سے ان کے قابل عمل اور مفید ہونے کا اعتراف (اقتدار و اختیار کی طاقت کے بغیر ہی ) اور ان کے حوالے سے stereotypes میں تبدیلیاں،بے شمار فلاحی و تعلیمی اداروں اور منصوبوں کا قیام  پرہے لکھے اور دیانت دار افراد کی ایک کھیپ کا تیّر ہو کر ہر شعبہ زندگی میں مصروف عمل ہونا، اور پوری دنیا  ان افراد اور دعوت کے ذزایو کے ذریے بے شمار اسلامی تحریکوں کا پھلنا پھولنا وار تقویت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خیر کثیر ہے جو جماعت کے حصّے میں آیا ہے. یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقتدار و اختیار کے ایوانوں میں رسائی کے سلسلے میں اس جماعت کو جس قدر تسلسل کے ساتھ ناکامیاں دیکھنی پڑی ہیں، اس کے باوجود نہ اس کا سفر رکا اور نہ ہی وہ کسی بری تقسیم کا شکار ہوئی، بلکہ روز بروز آگے بڑھتی جا رہی ہے. اس کے برعکس دوسری پارٹیز نے ہمیشہ اقتدار کے مزے بھی لوٹے، بیرونی طاقتوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی، دولت کے سر چشموں کو سے بھی مستفید ہوتے رہیں، اور معاشرے میں پائی جانے والی کمزوریوں کا بھی ہمیشہ ان ہوں نے فائدہ اٹھایا. اس کے باوجود وہ مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم دار تقسیم سے بھی دو چار ہیں.

 

ان اتخابات کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اٹھ رہا ہے کہ جماعت اسلامی جیسا نصب العین اور طریقہ کر رکھنے والی تحریک کے لئے انتخابات والا option کام آ بھی سکتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے، لکن اس سوال کا اٹھنا بذات خود اس بات کا مظہر ہے، کہ انتخابات میں ناکامی کی وجہ محض دعوت کے نفوذ اور محنتوں میں کمی ہی نہیں بلکہ یہ دوسرے عوامل بھی اہم ہیں.

 

یہاں ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہیں کہ غلطیوں کا ہونا اپنی جگہ مسلم ہے اور اصلاح بھی بہت ضروری ہے، لکن شدید بےچینی اور کسی حد تک مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم انتخابات کی ناکامی کو اپنی جماعت کی ناکامی یا کامیابی کا معیار بنا رہے ہیں. ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لمحات کو طول دیے بغیر نئے عزم و حوصلے کے ساتھ تعمیری تنقید اور اصلاح کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھایا جے.

 

دوسرا سوال جماعت کے افکار و طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت اور جماعت کی طرف سے اس سے گریز سے متعلق ہے. اس سلسلے میں جو بحث جاری ہے اس کا حاصل یہ کہ جماعت کو وقت کے تقاضوں اور ناکامیوں کی پیش نظر تبدیلیوں کے لئے تیّار بھی رہنا چاہیے، اپنے اندر جذب بھی کرنا چھیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کو اختیار بھی کرنا چاہیے. اس بحث کا ایک "silent observer” کی حیثیت سے ہم نے جو جایزہ لیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کا یہ مطالبہ دو مختلف گروپس کی جانب سے ہے. بادی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بری تعداد میں لوگ تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر کچھ وجوہات کی بنا پر ان پر غور نہیں کیا جارہا. لیکن ذرا سا گہرا مطالعہ اور مشاھدہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ ان دونوں گروپس کے نظریات و مطالبات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. یہ دوطرح کی سوچیں intellectual سطح سے لے کر عام ذہنی سطح تک نظر اتی ہیں. اس لئے تبدیلی کا یہ عمل اتنا آسان نہیں جتنا بظاھر معلوم ہوتا ہے.

 

ایک گروہ وہ ہے جو برس ہا برس کی روایات ، طے شدہ اصولوں اور معیارات پر سختی سے قائم ہے،اور لچک اور وسعت کو طغیانی، اور اصل سے انحراف سے تعبیر کرتا ہے، ان کے مطابق ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ، لچک اور وسعت کے نام پر ہم اپنے اصولوں سے انحراف کرتے رہے ہیں، اگر :حقیقی کامیابی” مطلوب ہے تو "اصل” کی طرف واپس لوٹنا ہو گا. دنیا اور اس کے حالات کو سمجھ کر اپنی reshaping کے بجاے دنیا کو اپنی دعوت اور standards کے مطابق ڈھالا جاے. اور اسی حوالے سے اپنی دعوت کو موثر بنایا جاے. اس نقطہ نظر کے بہت سے shades ہیں، جو مختلف روےیوں میں نظر اتے ہیں. اس گروہ کی قیادت علمی شخصیات کے ہاتھ میں ہے، جن کا علمی اور نظری سرمایا اسلاف کا علمی زخیرہ ہے، اور بادی نظر میں ان کا موقف قرآن و سنّت کے این مطابق بھی نظر اتا ہے.

 

دوسرا گروہ وہ ہے جو بدلتے ہوے حالات ، اور اس کے تقاضوں کو مد نظر رکھنے ، اسلام کی آفاقیت اور اجتہادی قوت کو بروے کار لانے، بنیادی اسلامی اخلاقیات کو مرکز دعوت بنانے اور اسی حوالے سے نظریات اور معاملات کو وسعت اور لچک دینے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے. مقصد زیادہ سے زیادہ لوگو ں کو ہمرکاب بنانا اور اسلام کے دامن رحمت میں سمیٹنا ہے.اس گروہ کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کو خطے سے بہار نکل کر نئی دنیاؤں میں کام کرنے کے مواقع میسّر آہے ہیں.اور اس کے لئے وہ عالم اسلام میں برپا اسلامی تحریکوں کی بدلتی ہوی پالیسیز ، stretegies اور ان کے مثبت نتایج کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں.

 

ان دونوں گروپس کے اخلاص، اپنے اپنے دائروں میں کی گئی محنت تجربات اور دلائل کے معقول ہونے سے انکار ممکن نہیں. ان کا اصرار بھی سمجھ میں اتا ہے. لکن ان کا اختلاف اس بات کا مظہر ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو من و عن اپنا لینا اور دوسرے کو خاطر میں نہ لانا ممکن نہیں ہے. گو کہ ہر دو کا اصرار یہی ہے، لکن تحریک کی قیادت کے لیے یہ ہی کرنے کا کام ہے کہ دونو کے بین بین کیسے درمیانی راستہ نکالا جاے. اور یہی قیادتوں کا امتحان ہوا کرتا ہے کہ وہ لمحہ موجود سے بلند ہو کر انے والے وقتوں کے لئے تحریک کا صحیح رخ متعین کر دیں. لکن ساتھ ساتھ خود ان گروپس کے افراد کو بھی درمیانی راستہ اختیار کرنے کے لئے ایک دوسرے ک راے کا احترام اور اپنے موقف کی کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہو گی.ورنہ یہ سب صرف اختلاف اور شور ہی رہے گا، اور اس سے انتشار، تلخیوں، بد گمانیوں اور تقسیم کے سوا کیا حاصل ہو گا ہم نہیں جانتے. اسی لیے ہم کہا کرتے ہیں، مسائل کے حل کو ذرا ایک طرف رکھئے، پہلے آئیے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں.”

Advertisements

امید سے نا امیدی تک


PTI,MQM

عمران خان لفٹر سے گر زخمی ہو گئے یہ خبر صرف عمران خان کے ووٹرز کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک دردناک خبر تھی اور ہر کی زباں سے ان کے لیے ایک دعائے خیر نکل رہی تھی کیونکہ عمران صرف ایک پارٹی لیڈر ہی نہیں بلکہ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور کسی بھی ملک کا قومی ہیرو اس ملک کے باسیوں کا اثاثہ ہوا کرتا ہے ۔

میں بھی باقی سب پاکستانیوں کی طرح فکر مند اور دعائیں کرتی رہی کہ اللہ پاک انکو مکمل صحت یاب کرے۔

میں خود عمران کا نیا پاکستان والا نعرہ کا سن کر بہت خوش ہوتی اور ایک امید ہوتی کہ پاکستان کا درد رکھنے والا یہ شخص تبدیلی کا خواہاں ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پوری نوجوان قوم کو جمع کرنے کا سہرا عمران ہی کے سر جاتا ہے  میری طرح پوری قوم کو عمران سے بہت امید تھی ۔

مگر میری خوشی اس وقت دکھ میں بدلنی شروع ہو گئی جب عمران نے اپنے ساتھ وہی پرانے شکاری جمع کر لیے اور ان کی اکثریت کو دیکھ کرمیں یہ سوچتی کہ ایک عمران کو اگر نکال دیا جائے تو اس پارٹی کا کو ئِی بھی نام رکھا جا سکتا ہے پوری پارٹی میں ایک عمران کے سواء کوئِی دوسرا چہرا مجھے ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا اور جب اتنے لوگ ایک ہی سوچ کے جمع کر لیے جائیں تو پارٹی میں ایک فرد کو اپنا فیصلہ منوانا کتنا دشوار ہوتا ہے چاہے وہ اس پارٹی کا صدر ہی کیوں نہ ہو کہ اسکا نمونہ ہم کئی مواقع پر دیکھ ہی چکے ہیں  وہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ والے معاملہ ہو یا کوئی اور فیصلہ کہ عمران شروع سے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹ منٹ کا عندیہ دینے والے اور شدید خواہش رکھنے کے باوجود {اسکا اظہار وہ کئی پروگرامات میں برملا کر چکے تھے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی اور سے ممکن ہی نہیں کو ئِ سیٹ ایڈجسٹ منٹ ہو }وہ کچھ نہیں کر پائے اس لیے کہ پارٹی کے باقی لوگ کسی اور ہی نظریہ اور سوچ کہ ہیں اور مجھے انتہائی دکھ سے لکھنا پڑھ رہا ہے کہ پی ٹی آئِ کی مرکزی رہنما کی بیٹی  ایمان مزاری کی وہ ٹیوٹس کہ جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹ منٹ سے بہتر ہے تحریک انصاف احمدیوں سے مل جائے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران جو ایک اسلامی ریاست ، مدینہ جیسی ریاست بننے کا خواب دیکھ رہا تھا وہ کیسے ریزہ ریزہ ہونے جارہا ہے  اس وقت جبکہ عمران خود ان کے درمیان موجود ہے اس پارٹی کا صدر ہے اس کے باوجود وہ کوئی فیصلہ خود اپنی سوچ اور اپنے نظریہ سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں جسکا ایک اور ثبوت پیپلز پارٹی سے سیٹ ایڈ جسٹ منٹ کی صورت میں نظر آتا ہے  میرا دل نہیں مانتا کہ عمران یہ سب کر سکتا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ان ہی لوگوں کے ساتھ کیسے ایڈجسٹمنٹ کر سکتا ہے نہیں وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتا مگر اس کے جمع کیا ہوا ٹولہ جن کے لیے ہارون الرشید بڑے دکھ سےکہتے ہیں کہ ” یہ عمران غلط  ہاتھوں میں چلا گیا ۔”
ایک اور خبر جو کراچی کی دکھوں اور مصیبتوں کی چکی میں پسی عوام کے لیے انتہائی رنج اور دکھ کا سبب بنی وہ یہ کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں ایک خفیہ معاہدہ طے پا چکا ہے

آہ۔۔ کیا خبر تھی جو کسی بم سے کم نہ تھی کراچی عوام جس پر پہلے ہی بہت بم گرائے جاتے رہے ہیں کیا وہ ایسے نازک وقت میں یہ تکلیف دہ خبر سننے کی متحمل ہو سکتی تھی ؟؟

ایم کیو ایم  کی خونی تاریغ سے کون نہیں واقف اور عمران جیسا شخص جس نے ہمیشہ ہی ایم کیو ایم کو للکارا اور میں عمران کی وہ تقریر دیکھتی ہوں تو یقین نہیں آتا نہیں ہمارا ہیرو بوریوں سے ڈرنے والا تو نہیں تھا پھر یہ کیا ہوا ؟؟؟ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایک دم یہ توپیں کیوں خاموش ہو گئیں تھیں کل بھی رات کے اندھیرے میں آکر بغیر  خطاب کے کیوں واپسی ہوگئی ؟؟یہ کیسے پلٹا کھایا ؟اور جب یہ بات آرہی تھی کہ کیا ایم کیو ایم ایک سے کوئی معاہدہ تو نہیں کرلیا تو عمران اسماعیل  پی ٹی آئی کے جنرل سیکٹری نے پوری قوم کے سامنے ایک ٹی وی پروگرام میں اس بات کی تردید کی 

مگر آج کا دور تو میڈیا کا دور ہے وہ چاہے سوشل میڈیا ہو جہاں بات لمحوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے یا الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا ہو اب کچھ چھپ نہیں سکتا چاہے وہ معاپدات کتنے ہی خفیہ کیوں نہ ہوں اسی لیے  آج ڈان کی اس خبر نے سب عیاں کر دیا تھا کچھ بھی تو نہیں چھپا تھا ۔

یہ بات تو میثاق جمہوریت میں واضع طور پر درج ہے کہ کوئی پارٹی ایم کیو ایم سے الائینس نہیں کریگی اور پی ٹی آئی اس میثاق جمہوریت کا حصہ ہے یہ تو اس قوم کے ساتھ  کھلی غداری تھی جس کا جواب دینا ہوگا ۔۔۔ ایک دکھ تھا جو ختم  نہیں  ہو رہا تھا ۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ہمارے ہی قاتلوں سے دوستیاں کر لیں آپ کیسے بھول گئے ان بوڑھے کاندھوں کو جنھوں نے جوان لاشے اٹھائے ، کیا جواب دے سکیں گے ان ماوں کو جو یہ آس لگائے ہوئے تھیں کہ اب دکھ کے دن تھوڑے ہیں کیسے سامنا کر سکیں گے اب کراچی والوں کا ۔

 اب سمجھ آرہی تھی کہ کراچی میں پی ٹی آئی ایم کے خلاف دس جماعتی اتحاد کا حصہ کیوں نہیں بنی تھی اور کراچی جہاں ایم کیو ایم کو صرف اور صرف ایک ہی جماعت منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے پی ٹی آئی نے اس سے اتحاد کرنے کے بجائے اسکا ووٹ کیوں کاٹا ۔۔۔اس لیےکہ اس کا سارا کا سارا فائدہ ایم کیو ایم کو جاتا ہے ۔۔۔

مگر اب بھی مجھے عمران کی نیت پر شک نہیں مجھے یقین ہے وہ پھر ایک بار مجبور کیا ہو گیا ہوگا اپنی پارٹی کے اسی ٹولے کے ہاتھوں مجھے لگا کتنا سچ تھا جو ہارون الرشید نے کہا ۔۔۔۔۔

سوالات کا ایک انبار تھا جن کے جوابات تلاش کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آرہے تھے ۔۔ابھی پارٹی کی یہ صورتحال ہے جہاں پارٹی کا صدر اتنا بے بس ہو ایسی پارٹی اگر اقتدار میں آجاتی ہے تو کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اس قوم کےلیے ۔۔۔۔

کل عمران کے زخمی ہونے کے بعد سے ایک اور سوال تھا جو مجھے رہ رہ کرستا رہا تھا کہ زندگی اور موت تو کسی کے بھی اپنے اختیار میں نہیں ہے اگر اس حادثہ میں خدا نخواستہ عمران کو کچھ ہو جاتا تو اس کی پارٹی میں پیچھے کون ہے جو عمران جیسا مخلص ہو ،؟ کون ہے جو عمران کی طرح اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواہش مند ہو ؟؟ یہ وہ سوال تھا جس کا جواب مجھے نہیں مل پایا کہ کیا پارٹی صرف ایک فرد کا نام ہوتی ہے ؟ نہیں پارٹی تو ایک نظریہ کا نام ہوتی ہے ایک فکر کا نام ہوتی ہے اس پارٹی میں ایک فرد کے چلے جانے سے نظریہ یا فکر نہیں بدل جایا کرتیں ۔ اس لیے اب فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا زمینی حقائق کو صرف اس لیے نہیں نظر انداز کیا جاسکتا کہ ہم کسی ایک فرد کے فین ہیں نہیں بلکہ ہمارے لیے وہ پارٹی اہم ہونی چاہیے جس کا ایک عام فرد بھی اپنے لیڈر کا نظریہ ویسی ہی سوچ اور فکر رکھتا ہو اور اس کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان عمل میں سرکرداں ہو جو کسی سے ڈر کر اپنے نظریہ اپنی سوچ کو نہیں بدلتا ہو لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو خود نہیں بدلتا بلکہ قوم کے تقدیر بدلنے کے لیے پہاڑ جیسی قوتوں سے بھی ٹکرا جاتا ہے ۔۔۔اور اتنا سب سامنے آنے کے بعد بھی کیا اب کوئی شک رہ جاتا ہے اس بات میں کہ عمران خود بھی اپنی پارٹی میں کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

سوچیے کہیں ایسا نہ ہو کہ آج جن لوگوں کو ہم چن لیں کل ہم ہی انکی پالیسیوں پر انکو گالیاں دینے والے ہوں  کیوں کہ جہاں ذاتی مفادات کو برتری حاصل ہو ں وہاں سب کچھ ممکن ہے ۔۔۔۔ وقت بہت کم ہےاور اس وقت لوگ جذباتی کیفیت سے دوچار ہیں مگر یاد رکھیے فیصلے جذبات سے نہیں کیے جاتے بلکہ ہوش وحواس سے کیے جانے والے فیصلے ہی دیر پا نتائج رکھتے ہیں  ۔۔۔سوچیے ضرور

جاگ اٹھو اے نادانو ۔۔۔۔


kachi

راتوں کو میلے یہ خوب  لگائیں 

دن بھر لاشوں کے انبار لگائیں

 

 

خود ہی مارے اپنے لوگ

پھر بولیں اب  مناو سوگ

 

 

معصوموں کی بھینٹ چڑھائیں

آپ بیٹھے لندن میں موج منائیں

 

کیسے یہ پیو باری ہیں

انسانوں کے شکاری ہیں

کتنے اور انسانوں کو

لاشوں میں یہ بدلیں گے ؟

روشنیوں کے اس شہر میں

کب تک گھپ اندھیرا ہوگا

قاتل ، چور ،  لٹیرا ،راہزن

شہر کا رکھوالا ہوگا

 

کیا اب بھی نہیں پہچانو گے ؟

کیا اب بھی نہیں تم جانو گے ؟

 

 

کیا اب بھی  ہمت ہے تم میں ؟

کہ دیکھ سکو یہ منظر پھر

 

 

کہ ہنسے کھیلتے جانے والے

واپس آئیں بوری میں

کہرام مچے پھر گھر گھر میں

اور دام لگیں پھر لاشوں کے

 

 

جاگ اٹھو اے نادانو کہ

کہ وقت کی ڈور پھسلی جائے

ایسا نہ ہو کہ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی سرا بھی ہاتھ نہ آئے

 

 

جاگ اٹھو, اٹھو اے نادانو ۔

 

 

اسریٰ غوری

بازار سجے انسانوں کے


boli

پنہاں یہیں صیاد بھی ہے دام لگائے

ہرطرف اک شور بپا ہے بھانت بھانت کی بولیاں نہ صرف بولی جارہی ہیں بلکہ بولیاں لگائی بھی جارہی ہیں بوریوں کے منہ کھل چکے ہیں انسانوں کی اس منڈی میں نہ خریداروں کی کمی ہے نہ ہی فروخت ہونے والوں کی یہ کوئی اچھنبے والی بات نہیں قیمتیں تو لگا ہی کرتیں ہیں انسان کی زندگی انہیں سودے بازیوں سے بھری ہوئی ہے اہم بات یہ دیکھنا ہےکہ کس نے اپنی کیا قیمت لگائی ؟؟؟

صورتحال بہت تکلیف دہ ہے یہاں جو جتنا بڑا بدکار اور لٹیرا ٹہرا اسکی بولی اتنی ہی مہنگی لگی کوئی کروڑوں میں بکا تو کسی کی بولی لاکھومیں لگی اور کچھ تو ہزاروں اور سینکڑوں میں ہی اپنا سوداکر گئے تو کچھ کو برادریوں ، علاقوں اور ذاتوں کے عوض بکنا پڑا ۔۔۔۔۔مگر افسوس کیا ہی گھاٹے کا سودا کیا کرنے والوں نے اپنی قیمتیں لگاتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ ان گواہیوں کا تو رب کے ہاں حساب ہونا ہے کیا ہم حساب دے پائیں گے ؟

دنیا کی چند روزہ زندگی کو کیا ہمیشگی کی زندگی پر ترجیع دینا ہوش مندی ہے ؟ 

ہمیں کیوں نہیں یہ خیال آتا کہ دنیا سے جاتے ہوئے تو ہر ایک کو خالی ہاتھ ہی جانا پڑتا ہے اپنے اعمال کے سواء کچھ ساتھ نہیں جاتا وہ کسی کے بینکوں میں پڑے کروڑوں یا اربوں ڈالر ہوں یا عینک میں لگے ڈائمنڈ ہی کیوں نہ ہوں ہر چیز یہیں اسی دنیا میں واپس لوٹا کہ جانا ہوتا ہے ۔

آہ ! ہم کیوں اس حقیقت سے نظریں چرالیتے ہیں کہ بس ایک سانس کی ڈور ٹوٹنے کی دیر ہے ہمارا سب سے قریبی عزیز ہی سب سے پہلے ہمارے جسم سے ان سب قیمتی چیزوں کو دور کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور کون جانے یہ سانسیں کب تک ہیں ۔۔۔۔ پھر یہ سب کس کے لیے ؟

میں اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھتی ہوں تو دل انتہائی دکھی ہونے لگتا ہے کہ مفاد پرست لوگوں کا ٹولہ تو جس حال میں ہے وہ ہے ہی مگر یہاں تو وہ لوگ بھی جو کئی سالوں سے مصیبتوں کی چکی میں پس رہے ہیں وہ اب بھی خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔میں سوچ رہی تھی کیا ہم اتنی مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود اب بھی خود کو بیچنے کی ہمت کر سکتے ہیں اب بھی خود کو مزید آزمائیشوں اور مصیبتوں کے حوالے کرنے کے متحمل ہو سکتے ہین جبکہ ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قوم کو اب تو اپنے دشمنوں کو پہچاننا چاہیے تھا کہ یہی تو وقت ہے ان کو پہچاننے کا کہ جن کو سوائے اپنے بینک بیلنس ،اپنی جائدادیں بڑھانے کے اور کوئی غرض نہیں نہ سسکتی ہوئی عوام سے کوئی غرض ہے نہ روز گرتی ہوئی لاشوں سے کوئی سروکار ہے جنہوں نے عوام کی رگوں سے لہو کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کا تہیہ کر لیا ہو اس ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں میں گروی رکھ دیا ہو ۔اتنے عذاب بھگتنے کے بعد تو اس قوم کو چاہیے تھا کہ یہ اب ان چہروں کو بند آنکھوں سے بھی پہچان لیتی جو اپنی منڈیریں بدلتے کبھی ایک جھولی میں تو کبھی دوسرے کی جھولی میں گر رہے ہیں اور یہ پاگل عوام تبدیلی کے نعرے لگاتی تو کہیں بڑے بڑے پروجیکٹ کے جھانسوں میں آتی پھر ان ہی کے ہاتھوں خود کو یرغمال کروانے کے لیے تیار نظر آتِی ہے ۔

کاش کہ اس قوم میں یہ سمجھ ہو کہ تبدیلی کے لیے کردار شرط لازم ہے قیادتوں کا کردار ہی دراصل تبدیلی کی ضمانت ہو کرتا ہے مخلص اور امین رہنما ہی قوموں کی تقدیریں بدلنے پر قادر ہوا کرتے ہیں

 بھلا جن کی اپنی آستینیں ہی قوم کے لہو میں ڈوبی ہوں جنہوں نے غریب کے منہ سے روٹی ، دال ،سبزی تک چھین لی ہو { کہ ایک زمانے میں غریب کو یہ تو میسر تھا مگر اب یہ بھی نہیں } ،جنہوں نے زندہ رہنا ہی جرم بنا دیا ہو ،جنہوں نے گلی گلی موت کا رقص عام کر دیا ہو ،جنہوں نے نوجوانوں کے مستقبل تباہ کر دیے ہوں جو خود ہی لوگوں کی عزتوں کے لٹیرے ہوں جو صرف اپنے مفادات کی خاطر بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کبھی ایک چھتری تو کبھی دوسری چھتری کے سائے تلے پناہ لیتے ہوں اور کون جانے کب وہ اگلی پرواز کہاں کی  بھرنے والے ہوں کہ انہیں تو منڈیروں کی کوئی کمی نہیں نا۔

تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

ایک لمحے کو رک کر ذرا سوچیے تو وہ کیسے تبدیلی لاسکتے ہیں ؟؟؟

ہاں وہ تبدیلی لاسکتے ہیں مگر

آپ کی سوچوں میں تبدیلی،

آپ کی روایات میں تبدیلی ،

آپ کے نصاب میں تبدیلی ،

آپ کے نظریات میں تبدیلی،

آپ کی تہذیب وتمدن میں تبدیلی،

آپ کے ملک کے جغرافیہ میں تبدیلی ،

اور سن سکتے ہیں تو سنیے وہ ملک جہاں اللہ کی حاکمیت کے آئین پر سوال اٹھائے جائِیں

وہاں یہ آپ کے مذہب میں بھی تبدیلی لے آئیں تو کوئی بڑی بات نہیں

کیونکہ جو قومیں اپنی تقدیر کے فیصلوں کے وقتوں میں بھی اپنی بولیاں لگوایا کرتی ہیں پھر تبدیلی ان کے جغرافیہ اور ان کے نظریات میں تو آسکتی ہے مگر ان کی تقدیروں میں تبدیلی ممکن نہیں ۔۔۔۔

کسی کو چننا یا اپنے ووٹ کے ذریعے سے اقتدار کے کرسی پر بٹھا نا کوئی معمولی یا عام سی بات نہیں ایک اہم فرض ہے جس سے کسی بھی قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ۔۔۔جی ہاں آپ کا ووٹ ہی آپ کے مستقبل کا آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ضامن ہے 

اس لیے فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیجیےگا کہ فیصلوں کے وقت گزر جائِیں تو پلٹائے نہیں جاسکتے ایسا نہ ہوکہ آج کا کیا گیا آپکا فیصلہ آپکو اگلے 5برسوں کے لیے مصیبت اور پریشانیوں کے ساتھ پچھتاؤں کی آگ میں بھی نہ جھونک دے ۔۔۔

سوچیے اس سے پہلے کہ وقت آپ سے سوچنے لی مہلت بھی چھین لے  !!

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا


 لہجہ

ایک خبر تھی جو جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل رہی تھی اور آخر کیوں نہ پھیلتی  کہ ایک جرنیل کمرہ عدالت سے  فرار ہوا تھا کوئی معولی بات نہیں تھی مگر یہ فرار کب تک ۔۔!!

جرم کوئی چھوٹے تو نہیں تھے جنہیں فراموش کر دیا جاتا جرنیل صاحب اگر یہ سوچ کر آئے تھے کہ زرداری کی ڈسی ہوئی  یہ قوم ان  کو پھولوں کے ہار پہنائے گی تو یہ بہت بڑی بھول تھی مانا کہ یہ قوم ایک بڑی لمبی نیند سوئی ہے مگر ابھی یہ مردہ نہیں ہو ئی اور جہاں زندگی کی ذرا سی بھی رمق باقی وہاں امیدیں قائم رہتی ہیں پھر یہ قوم اتنا شعور تو رکھتی کہ زرداری بھی آپ ہی کے دیے گئے تحفوں میں سے ( این آر او کی شکل میں دیا گیا) ایک تحفہ ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک طرف میں اس بریکنگ نیوز کے کو سن رہی تھی تو دوسری جانب قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ قیدی نمبر 650 کی دلخراش چیخیں صرف میرے کانوں سے ہی آر پار نہیں ہو رہیں بلکہ میرے کلیجے کو بھی چھلنی کیے دے رہی ہیں کتنے ہی معصوم چہرے تھے میری نگاہوں کے سامنے جنہیں یتیم بنا دیا گیا تھا  ، روتی ہوئی ماوں کے کتنے ہی لعل چھین کر انکی گودیں ویران کردی گئیں تھیں ۔۔۔ اپنے شوہروں کی واپسی آس لگائے کتنی سہاگنوں آج بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا لاڈلی بہنیں جو بھائیوں کے گلے کا ہار ہوا کرتیں تھیں مگر آج ان آنکھوں میں اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ ان سن کی خوشیاں تو ڈالروں کے عوض بیچ دی گئیں تھیں اور بیچنے والے نے بڑی رعونت سے اقرار کیا کہ ہم نے ڈالر لیے ہیں ایس ہی حوالے نہیں کیا گیا ۔۔آہ ۔۔ کیسا شرمناک اقرار تھا اپنے جرموں کا وہ بھی بغیر کسی احساس جرم کہ ۔۔۔!!

مجھے لگ رہا تھا اس خبر کے ساتھ ہی میرے جیسے کتنے ہی ایسے ہونگے جنہیں یہ محسوس ہوا ہوگا کہ ان کے زخموں سے کھرنڈ جیسے کسی نے نوچ ڈالے ہوں اور یہ زخم پھر سے تازہ ہو کر رسنے لگے ۔۔۔ زخم تو معمولی سا بھی ہو تو برسوں نہیں بھرتا یہ تو پھر روح پر لگنے والے زخم تھے یہ بھلا کیسے بھر جاتے ۔۔۔۔!!

"جامعہ حفصہ "ایک اور ٹھیس اٹھی تھی  زخموں سے ۔۔۔۔۔ یہ کسی ٹی وی چینل سے دکھایا جانے والا ایک پروگرام تھا ۔۔۔۔۔۔ جلی ہوئی ہڈیاں اور بال تھے جلے ہوئے اور خون میں لت پت آنچل تھے جو ایک ڈھیر کی صورت میں ملک کے دارلخلافے میں ہونے والے ظلم کی داستانیں سنا رہے تھے اس ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے بوڑھے ماں باپ اپنی بیٹیوں کی جلی ہوئی ہڈیاں تلاش کررہے تھے گم سے نڈھال آنکھوں سے عیاں ہوتا درد ، آسمان کی طرف اٹھتے ہاتھوں کو دیکھ میں لرز گئی کیسے ان مظلوموں کی آہیں رائیگاں جائینگی کہ مظلوموں کی آہیں تو عرش کا کلیجہ چیر دیا کرتیں ہیں ۔۔۔۔؟؟؟

اپنے ہی گھر میں اپنوں کی ہی مسلط کردہ جنگ ۔۔۔۔۔۔ {جن کا جُرم تو صرف اتنا تھا کہ وہ معاشرے سے بد کاری کے خاتمے کا عزم لئے۔باہر نکلیں اور ایک قحبہ خانہ چلاتی عورت کو سبق سکھانے اپنے ساتھ لے آئیں اور دو تین روز بعد اُسے برقعہ پہنا کر۔۔۔توبہ کروا کے چھوڑ دیا۔۔!! پھر ایک مالش کے مرکزپر جا پہنچیں اور وہاں جسم فروشی کرتی خواتین کو اپنے ہمراہ لا کر خوب جھاڑ پلائی۔۔۔اور پھر نصیحت کے بعد روانہ کر دیا!!ڈنڈے لے کر گھومتیں مگر کسی کا سر تو نہ پھاڑا!! اُس وطنِ عزیز میں جہاں حکمرانوں اور طاقتوروں میں سے ہر دوسری شخصیت کسی لینڈ مافیا سے وابستہ ہے۔}”شاہد مسعود "

یہ ایسا تو جرم نہیں تھا کہ جس کے بدلے میں کئی دن بجلی پانی بند کرنے کے بعد ان پر جنگ مسلط کر دی جاتی۔۔  { وہ عسکری کارروائی شروع ہو گئی جس کی قوت کے بارے میں، موقع پر موجود ایک سرکاری افسرکا بیان تھا "لگتا ہے پوری بھارتی فوج نے چھوٹے ملک بھوٹان پر چڑھائی کر دی ہے” فائرنگ ۔۔دھماکے ۔۔گولہ باری ۔۔شیلنگ ۔۔جاسوس طیارے ۔۔گن شپ ہیلی کاپٹرز۔۔۔خُدا جانے کیا کچھ !! } "شاہد مسعود ”

مجھے آج بھی یاد ہے سید محمد بلال اور خواتین کا ایک گروپ ڈاکٹر کوثر فردوس ،سمیعہ راحیل کی قیادت میں ان بے بس بچیوں کے لیے راشن اور دوائیں لے جانے کے لیے گولیوں کی گھن گرج میں وہاں منتیں کرتا رہا کہ ان کے پاس صرف کھانا اور دوائیں ہیں انہیں اندرجانے دیاجائے ۔۔۔۔۔ اس ظلم و بر بر یت کی داستاں غم سمیعہ راحیل کی اپنی زبانی جس نے جہاں ہر ایک کی اصلیت کو ظاہر کیا وہیں ہر آنکھ کو اشک بار کردیا

S14S15

S16S17

ایک طرف یہ عالم تو دوسری جانب وہاں موجود سیاستدان جو نام نہاد مصالحتوں کے دعوے دار تھے رات کو دوکانیں کھلوا کر فالودے اور آئس کریمیں کھاتے رہے  ۔۔۔۔۔

ایسا بھیانک سلوک تو کوئی اپنے خطرناک اور بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی کرتے ہوئے کئی ہزار بار سوچتا مگر یہ میرے ہی ملک کے فوجی جوان تھے جو جراتوں کے نشان ہوا کرتے تھے یہ وہی قاسم کے بیٹے تھے جنہیں بہن کی آبرو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی تھی  ۔۔۔ مگر ایک فرعون کے اشارے پر یہ کیا کچھ کر گزرے کہ

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہودو ہنود

درندہ تھا کہ انسان میں آج تک اس سوال کا جواب تلاش نہیں کرپائی ..

ابھی کچھ دنوں پہلے ہی چودھری شجاعت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے مشرف کو بہت سمجھایا کہ جامعہ حفصہ میں یہ سب نہ کیا جائے مگر وہ اس وقت طاقت کے نشہ میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی طاقت کا نشہ ہے جو ایک انسان کو فرعون بنا دیتا ہے جس کے سامنے ڈالروں کی اہمیت انسانی جانوں سے بھی کئی گناہ زیادہ ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔ مشرف کا اس پاکستان کو ایک اور تحفہ ڈرون حملوں کی شکل میں ملا جس کے نتیجے میں ہنستے بستے گھروں کے گھر اور بستیوں کی بستیاں راکھ کے ڈھیر بنا ئے جارہے ہیں اور ستم یہ کہ ان پر رونے والا اور اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ۔۔۔۔

مشرف کی واپسی کو ئی حادثاتی یا ایک جرنیل کی بہادری کا نتیجہ نہیں جیسا کہ کراچی ائیر پورٹ پر پہنچتے ہی مشرف نے یہ نعرہ لگایا کہ دیکھ لو میں آگیا لوگ کہتے تھے میں نہیں آونگا ۔۔۔۔۔۔۔ جس لمحے یہ سب دیکھ رہی میرا جی چاہا تھا کہ کاش میں مشرف کو یہ بتا سکتی کہ مشرف صاحب آپ آئے نہیں ہیں لائے گئے ہیں ۔۔۔۔۔ میرا یقین کامل تھا کہ میرا رب آپ کو ضرور لائے گا وہ کیسے یونہی آپ کو چھوڑ دے گا ابھی تو بہت سے قرض ہیں جو آپ نے چکانے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیسے رائیگاں جائیگا اتنی معصوم جانوں کا بے دردی سے بہایا گیا لہو کہ اگر ان سب کا لہو ایک جگہ جمع کیا جائے اور جرنیل صاحب آپ کو آپکی وردی سمیت اس میں کھڑا کیا جائے تو آپ کی پور پور اس میں ڈوب جائےگی ۔۔۔۔ کیسے نہ لاتا وہ رب آپ کو واپس ۔۔۔۔۔؟؟

اپنے آقاوں کو خوش کرنے میں آپ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ جس نے آواز اٹھائی وہی مجرم ٹھرا اور قابل سزا قرار دیا کسی کے نصیب میں جیلیں آئیِں تو کسی کو اگلے دن کا سورج بھی نصیب نہ ہوسکا اس قوم کو آج بھی وہ لہجہ نہیں بھولا ہوگا جب نواب اکبر خان بگٹی کو للکارتے ہوئے کہا گیا تھا “ یہ 77 کا عشرہ نہیں کہ یہ پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی” ۔۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ جن کو خوش کرنے کے لیے عزت مآب پاک دامن بیٹیوں سے لیکر ماوں کی گودوں تک کا سودا کر دینے، اپنے ہی ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں رہن رکھ دینے کے باوجود وہ دشمن تو آج بھی دشمن ہی رہا ۔۔۔۔

کیونکہ رب اعلیٰ نے تو یہ بات کھول کر بیان کر دی تھی ’’یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔

آج اسی طاقت کے نشہ میں چور شخص کا عدالت سے یوں فرار ثابت کرتا ہے کہ بے شک رب کے ہاں مکافات عمل کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے جو لوگ دوسروں کی عبرت سے نصیحت نہیں حاصل کرتے اور خود کو زمین کا خدا سمجھ بیٹھتے ہیں تاریغ بتاتی ہے کہ  پھر قدرت انہیں نمونہ عبرت بنا دیتی ہے  ۔۔۔!!

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

وہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجہ میں

آنے والے دنوں میں مشرف کے ساتھ جو بھی ہونے والا مگر ایک سوال جو مجھے رہ رہ کر ستا رہا ہے وہ یہ کہ بے شک جرنیل مشرف ایک ڈکٹیٹر ایک ظالم اور جو بھی کہہ لیں اور جتنے بھی جرائم اس نے کیے جن کی ایک لمبی فہرست یقیننااس قوم کی یاداشتوں میں ثبت ہوگی مگر سوچیے کیا ان سب جرائم میں ایک اکیلا مشرف ہی ذمہ دار تھا یا ایک پورا ٹولہ جو کل مشرف کے ساتھ تھا جس ٹولے نے ایک ظالم کے ظلم پر صحیح کی مہر ثبت کی وہ ٹولہ آج کہاں ہے ؟ ؟؟

یہ سوال بہت اہم ہے قوم اگر مشرف کا انجام دیکھنے کی خواہش مند ہے اور تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ کل کے مشرفی آج کے تحریکی اور لیگی اور عوامی کی ٹوپیاں پہنے یہ وہی سب ہیں جنہوں ایک ڈکٹیٹر کو اسکے عزائم میں کامیاب ہونے کا پورا پورا موقع فراہم کیا ۔۔۔۔۔ اور آج ایک بار پھر وہ کسی اور چھتری تلے عوام کو پھر سے بے وقوف بنانے چلے مگر کیا دکھوں کی ماری عوام ایک بار  پھر یہ دھوکہ برداشت کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے ۔۔۔؟؟؟؟؟؟ سوچیے اور پہچانیے  آپ کی اپنی صفوں میں چھپے ان بھیڑیوں کو ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ پہچاننے کی مہلت بھی ختم ہو جائے ۔۔!!

شہر تو میرا لہو لہو ہے !


abas

اتوار کی چھٹی کی وجہ سے گھر میں خاص پکوان کی تیاری جاری تھی ، نماز مغرب ہوئی اور ایک زوردار دھما کے نے پل میں سارا منظر ہی بدل دیا ۔

روتے سسکتے لوگ ، کھنڈر ہوئے مکان اور دم توڑتے انسان ……..

کئی گھنٹوں تک جلنے والے فلیٹوں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں اور پھر وہاں زندگی نے دم توڑ دیا ،  کچھ کی خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی مگر آشیانہ نہ بچ سکا ، ساری زندگی کی کمائی ، ایک ایک پیسہ جوڑ کر اکھٹا کر کے بنایا جانے والا آشیانہ یوں پل میں بکھر گیا انسانی اعضا بکھر گئے اور اسی وقت اقتدار اعلی منگنی کی تقریب کے مزے لوٹنے میں مصروف رہے۔۔۔۔۔

میری تین ساتھی اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل میں ہی رہائش پذیر ہیں ، جس طرح ان کے گھروں کے شیشے ٹوٹے ، گھر والے لمحوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہائے وہ کرب کس طرح بیان کروں، جو ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں اٹھایا ، جو ایک باپ نے اپنی بیٹی کی کٹی ہوئی گردن کو اس کے جسم کے بغیر دیکھ کے سہا ، وہ کرب جس نے ایک شخص کو ناصرف گھر سے محروم کر کے اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا بلکہ اس سے اس کی بیوی اور نو ماہ کے بچے سے بھی محروم کر دیا.

پہلے نشانہ مساجد اور بازار بنے آج یہ عالم ہے کے گھروں پہ حملہ ، گوشت والا ، سبزی والا کوئی بھی تو محفوظ نہ رہا . نہ تجربہ کار لڑکوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کے ٹکرے کس حال میں جمع کئے ، کسی ماں نے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے میچ دیکھتے بیٹے کی خون سے لت پت لاش کو اپنی گود میں بھرتے ہوۓ اٹھایا وو دکھ میرا قلم بیان کرنے سے قاصر ہے .

ستم ظریفی تو یہ کے اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل کی طرف ڈھائی گھنٹے تک کسی نے رخ نہ کیا ، اقتدار اعلی کی ہمدردی ٹی وی پہ چلنے والی ہیڈ لائنز تک ہی محدود رہی ، کوئی پرسان حال نہیں. کون یتیم ہوا ؟ کس نے بیوگی کا دکھ سہا کس ؟ اس دکھ تو بھلا یہ کیا جانیں ؟

بالائے ستم یہ کہ وہ لوگ جو بری طرح زخمی ہوئے ان کے گھروں کو اس حال میں بھی لوٹنے والوں نے نہ چھوڑا ان کے گھروں سے لوگ زیورات ، نقدی ، قیمی سامان لے اڑے ،ہم ہی راہزن بن گئے .

افسوس صد افسوس یہ ظلم کا کونسا مقام ہے ؟؟

جب قصاب بکریوں کو ذبح کرنے کے لئے لے جاتا ہے تو باقی بکریاں شکر ادا کرتی ہیں لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منا پاتی ہے .

. شاید آج یہی حال ہمارا بھی ہے اگر آج یہ تباہی عبّاس ٹاؤن میں ہوئی ہے تو کل کسی بھی علاقے میں ہو سکتی ہے . وہ لوگ جو ان کاروائیوں میں مصروف ہیں انکا کوئی مذھب نہیں . کچھ لوگ اب بھی اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دے رہے ہیں ، لیکن یہاں تو سب ہی کے گھر لٹے سب ہی شہید ہوئے. تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بھی اپنا ہی جھنڈا لہرانے میں مصرورف ہیں. میرا دل چاہتا ہے ان شرم سے بالاتر حکمرانوں کا گریبان پکڑ کے پوچھوں کے یہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے ، پاکستان کا دل ہے .اگر کراچی برباد ہوتا ہے تو پاکستان کا دل بند ہوتا ہے ور اگر کسی کا دل بند ہو جائے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے. آخر انہیں کیوں سمجھ نہیں آتا کے وہ پاکستاں کو برباد کر رہے ہیں .

آخر وہ کونسی مخلوق ہے جو سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد لے کر شہر میں داخل ہو جاتی ہے اور کسی کو نظر ہی نہیں آتی روزانہ کسی ماں کا لال جان کی بازی ہار بیٹھتا ہے اور پھر اس پہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات ایک پھلجھڑی کا کام ہی انجام دیتے ہیں. وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ وزیر اطلات کا عہدہ سنبھال لیں ، جب وہ اپنے فرائض پورے کر ہی نہیں سکتے. ان کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ غیر مستحکم پاکستان عالمی قوتوں کے لئے کتنا موزوں ہے. اگر کراچی لہو لہو ہے تو پورا ملک اس سے متاثر ہے.

قرآن کریم کی سورہ الانعام کی آیات ٦٥ میں الله نے فرمایا

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُون

"کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں”.

روزانہ کی ٹارگٹ کلنگ ، بم بلاسٹ ،

الله تو بار بار راہ ہدایت دکھاتا ہے قرآن میں ، بار بار اپنے عذاب سے با خبر کرتا ہے لیکن ہم سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، اب بھی وقت ہے کے ہم سنبھل جائیں  ، ورنہ شاید ہمارا نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں . ہمیں اس وقت اجتمائی توبہ اور صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے . پورا کراچی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں آتا ہے

اجڑے رستے ، عجیب منظر ، ویران گلیاں، بازار بند ہیں ۔۔۔

کہاں کی خوشیاں ، کہاں کی محفل ، شہر تو میرا لہو لہو ہے ۔۔۔

وہ روتی ما ئیں ، بیہوش بہنیں ، لپٹ کے لاشوں سے کہ رہی ہیں ۔۔۔

اے پیارے بیٹے ، گیا تھا گھر سے ، سفید کرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

الہٰی اس چمن کو اس پت جھڑ کے غم سے نجات دے .

ہم تھک چکے ہیں روزانہ لاشیں اٹھاتے رحم فرما اے الله رحم . { آمین}

دعاؤں کی طلبگار زوجہ غضنفر فرہاج

پاکستان کے ” گونتانامو بے” کی تلخ حقیقتیں ..!!


q2

ابھی تو دل اس قیامت پر ہی نوحہ کناں تھا جو کوئٹہ میں آٹھ سو سے ایک ہزار کلو بارود کے دھماکہ کے نتیجے میں برپا ہوئی اورکتنی ہی انسانی جانیں لمحوں لقمہ اجل بن گئیں اور  اسی آگ نے پورے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا دو دن ہوچکے تھے اپنے ہی ملک اپنے ہی شہر میں محسور بےبسی کی تصویر بنے صرف خبریں سنتے رہے کہ اب فلاں جگہ آگ لگادی گئی اب تک اتنے لوگوں کو مارا جا چکا ہے کسی چینل پر فریاد کرتی سسکتی ہوئی وہ معصوم بچی جو پوچھ رہی تھی کہ ہمیں کیوں مار رہے ہیں ؟؟ مجھے لگا جیسے اس رب کا دربار لگا ہوا ہے اور حساب کتاب کا دفتر کھلا ہے اور زندہ گاڑی ہو ئی بچی سے پوچھا جا رہا ہے وہ کس جرم میں ماری گئی ۔۔۔۔ ؟ 

یقننا یہ بھی اک دن ہونا ہے اور یہی وہ دن ہوگا جب کوئی جابر اور ظالم نہیں بچ سکے گا آج سب کے قرض چکا دیے جائیں گے ۔۔۔۔

میری طرح نجانے کتنے ہی لوگوں کو اس بچی کے آنسووں سے پوچھے گئے سوالوں نے سونے نہیں دیا ہوگا مگر ان سوالوں کے جواب کہاں سے لائیں ؟؟

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں  دستانے

ابھی تو  میں خود کو اسی دکھ اور سوچ سے نکال نہیں پارہی تھی کہ یہ کیا تھا جو میری آنکھوں نے دیکھا اور پڑھا ۔

یہ ایک آب بیتی تھی کوئٹہ ڈگری کالج کے سابق طالبِ علم انتیس سالہ نصراللہ بنگلزئی اور اسکے گم شدہ چچا علی اصغر بنگلزئی کی جو نصراللہ بنگلز ئی کی اپنی زبانی ہے "

اس کہانی نے اس ملک کے ٹھیکیداروں کے اصلی چہروں کو سرعام بے نقاب کردیا ۔

جوں جوں میں ظلم و بے حسی کی اس داستاں کو پڑھتی جارہی تھی میری حالت غیر ہوتی جارہی تھی میری کیفیت ایسی تھی کہ گویا جیسے میرے جسم میں جاں نہ رہی ہو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس داستان میں بیان کیا گیا درد میری روح تک کو زخمی کر گیا کئی بار میری انکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں نے مجھے آگے پڑھنے سے روک دیا اوراحتجاجا میری راہ میں حائل ہوگئے تھے ہر لفظ دھندلا رہا تھا بڑی مشکل سے میں یہ پوری داستاں پڑھ سکی خود سے ایک جنگ کر کے ۔۔۔ صرف اس لیے کہ مجھے بھی اس کا قرض ا تارنا تھا اپنے قلم کے ذریعے ۔

یہ مراد کرناز کی وہ داستاں نہیں جو انہوں نے گوانتانامو بے میں ظلم و ستم کے 5 سال گزارنے کے بعد لکھی تھی نہ ہی یہ معظم بیگ کی درد بھری روداد ہے یہ 40 سالہ افغان باشندے عبدالرحیم کی آب بیتی بھی نہیں ہے جس نے گوانتا نامو بے میں اذیّت ناک 3 سال گزارے جی ہاں یہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخوں سے گونجتی وہ اذیت ناک کتاب بھی نہیں جسے لکھنے والوں نے آنسووں سے لکھا تو پڑھنے والوں نے سسکیوں سے پڑھا نہ یہ ہی کسی ایسے قیدی کی کہانی تھِی جو غیروں کے ہاتھوںظلم کا نشان بنا ہو { اگرچہ ان سب کے پیچھے بھی انہیں اپنوں کی بڑی مہربانیاں شامل ہیں }

جی ہا ں اگر سن سکتے ہیں تو سنیے یہ آپ کے اور میرے محب وطن سالاروں اور محافظوں کے اپنے بنائے ہوئے گوانتاناموبے کی دردناک کہانی ہے جو خود کو اس زمین کا خدا سمجھتے ہی نہیں بلکہ فرعون کی طرح دوسروں کو بھی یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بس جو ہم ہیں وہ کوئی اور نہیں اور یہ کہ ہمارا ایک عام سا افسر بھی اس ملک خداد کے اعلیٰ ترین رتبے پر پر فائز ہے کہ جسے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا وہ اس ملک کے سیاہ سفید کا مالک وہ جب چاہے جس کے گھر کا چاہے چراغ گل کردے اسکے کارڈ پر لکھے تین ایلفابیٹ اس کو اسکے ہر عمل کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں ۔

آج” لاپتہ افراد ” کی اصطلاح سے کون ہے جو واقف نہیں ہوگا ۔۔؟ یہ تو اس بدنصیب ملک کی مشہور ترین اصطلاحات میں سے ایک ہے ۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ کس قدر کرب پنہاں ہے ان دو لفظوں میں اس کرب کی شدت اگر محسوس کرنا چاہیں تو جائیں کسی روز عافیہ صدیقی کی ماں سے ملیں جو اپنی بیٹی پر دس برس سے ڈھائے جانے والےمظالم کی داستان سن سن کر ایک زندہ لاش نظر آتی ہے ،

عافیہ کے معصوم بچوں سے ملیں جن سے انکی ماں کی شفیق آغوش چھین لی گئی یا پھر آمنہ مسعود جنجوعہ سے ملیں جن کے زندگی کے ساتھی کو لاپتہ کیے بھی اب تو ایک عشرے سے ذیادہ ہو چلا {اور ابھی کچھ دن پہلے یہ خبر بہت ساری خبروں میں دب گئی کہ ڈاکٹر مسعود جنجوعہ کی بوڑھی ماں برسوں سے بیٹے کی راہ تکتے تکے آخر کار رب کے پاس اپنا مقدمہ درج کروانے چلی گئیں مجھے یقین ہے یہ مقدمہ ضرور درج ہوا ہوگا کیوں کہ میرا وہ مہربان رب کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرتا } آمنہ مسعود شاید اپنے گھر پر نہ سہی مگر وہ آپکو کسی جگہ کیمپ میں {سینکڑوں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمرا ہ اپنے پیاروں کا قصور تلاش کرتے ہوئے } مل سکتی ہیں کہ اب ان کی زندگی کا مقصد ہی یہی بن گیا ہے ۔

اور اگر ان دو لفظوں کی اذیت سہنے والوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو جائیں روہیفہ بی بی کی قبر پر جا کر ان کی موت کا سبب پوچھیں  جو ان کی اذیت کو سہہ نہ سکی اور اپنی زندگی کی بازی اس وقت ہار گئی جب ان کے تین بیٹوں عبدالصبور، عبدالماجد اور عبدالباسط میں سے ایک کو مار دیا گیا اور دو کی حالت زار ماں سے دیکھی نہ گئی اور وہ ان الفاظ کے ساتھ اپنے رب کی عدالت میں پیش ہونے چلی گئی کہ ” یہ سب جھوٹ ہے، اللہ کے آگے یہ بھی قسم کھائیں، قیامت والے دن ان کو چھوڑوں گی نہیں، پیروں پیغمروں پر بھی ایسی ہی گذری جیسے ہم پر گذرتی ہے، اللہ ان کو تباہ کرے گا۔میرا بیٹا صبور شہید ہوگیا ، باسط اور ماجد بہت بیمار ہیں‘ گزشتہ سال ستمبر میں اپنے بیٹوں سے حراست کے دوران ملاقات کو یاد کرتے ہویے بی بی نے کہا ’دو کی حالت خراب تھی اور ایک بالکل ٹھیک تھا اور اسی کو انھوں نے شہیدکردیا۔”

یہ بدنصیب ماں کے تینوں بیٹے ان گیارہ افراد میں شامل تھے جن کو اس ملک کے محافظوں نے بغیر کسی ثبوت کے ایک عرصہ دراز تک ذیر حراست رکھا اور جب سپریم کورٹ کے حکم پر رہا کرنا پڑا تو انہیں مئی دو ہزار دس کو راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کے باہر ہی سے سادہ کپٹروں میں ملبوس لوگ اٹھا کر لے گیے تھے” کون نہیں جانتا کہ یہ سادہ کپڑوں ملبوس فرشتے کون ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ان گیا رہ میں سے چار افراد زیر حراست ہی اپنی جان کھو بیٹھے اور مجھے یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیر حراست مرنے والے کیسے مرا کرتے ہیں ۔۔

اور اگر ہمت ہے تو پڑھیں نصراللہ بنگلزئی کی اپنے لاپتہ چچا کی تلاش میں غیروں کے نہیں بلکہ اپنوں کے ہاتھوں اٹھائے گئے ان دکھوں کی درد ناک داستاں جس میں ہر ایک سطر اپنا نوحہ خود سناتی ہوئی نظر آتی ہے ۔۔۔ یہ ایک نصراللہ نہیں یہاں پورے ملک کے کونے کونے میں آپ کو سینکڑوں ایسے نام ملیں گے جن کی دردناک داستانیں پڑھ کر آپ کی راتیں بستر پر کروٹیں بدلتے گزر جائیں گی اور جن کے دکھ آپ کے تکیوں کو بھگو دیں گے جب کارواں اپنے ہی پاسبانوں کے ہاتھوں لٹنے لگیں تو زبانیں نہیں آنکھیں اور دلوں سے نکلی ہوئی آہیں دہائی دیتی ہیں جو رب کے دربار میں کبھِی رائیگاں نہیں جاتیں ۔

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں صدا اپنا ہی خنجر اترا

جب محافظ لٹیرے بن جائیں اور جو جتنا بڑا لٹیرا اور غدار وطن ہو وہ اتنا ہی آقا کا منظور نذر کہلائے گا اور وفاداریاں نبھائے گا اس کے اوپر جانے گے اتنے ہی امکانات بڑھ جائیں گے جس کا منہ بولتا ثبو ت آج ہمارے ایک اہم ادراے کے سربراہ خود ہیں کون نہیں جانتا کہ مشرف کے بھیانک دور میں جب مسلمان ہونا جرم ٹھرا تھا جب ” لاپتہ افراد “ کی ایک نئی اصطلا ح کانوں میں پڑی تھی جب ایک جانب خود اپنے ہی افراد کو چند ڈالرز کے عوض بیچا جا رہا تھا تو دوسری جانب ڈرون حملوں کی اجازت دے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دینے کا پرمٹ دے دیا گیا تھا اور آقا کی خوشنودگی میں کیا کچھ نہ قیامت ڈھائی گئی جس کی دردناک یادیں آج بھی کسی ناسور کی طرح دکھتی ہیں جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو کئی دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد ایسے کیمیکل کے ذریعے ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا جس کو خظرناک اور بدترین دشمن پر بھی استعمال کرتے ہوئے سو سو بار سوچا جائے ۔

اس وقت مشرف کے تمام کارناموں میں دائیں بازو کا کردار ادا کرنے والے اور آئی ایس آئی کے چیف یہی موصوف تھے { اور جن کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ ان موصوف نے وہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہےجہاں مشرف کے بھی پر جلتے تھے } جن کے ہاتھوں پر عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر مسعود سمیت سینکڑوں بے گناہوں کا لہو ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان بے قصور لوگوں کا یہ لہو روہیفہ بی بی کے آہیں ، عافیہ کی دلخراش چیخیں ، جامعہ حفصہ کی بچیوں کے جلے ہوئے اعضاء اور علی اصغر کے زخم نصراللہ کے دکھ انکے گلوں کا طوق بنے گے اور ان سب خداوں کو میرا رب عبرت کا نشان بنائے گا کہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں وہ ظالم کی رسی دراز تو کرتا ہے مگر یہ رسی کھینچنے پر آتا ہے تو اک لمحہ نہیں لگاتا اور ہر دور کے فرعونوں اور نمرودوں کا انجام رہتی دینا تک کے لیے ایک عبرت بنا دیتا ہے چاہے وہ صدام حسین کی شکل میں ہو یا قذافی کی صورت میں جو اپنے اسی آقا کے بہت وفادار سمجھے جاتے تھے جنہوں نے ایسے ہی خود کو زمیں کا خدا سمجھ لیا تھا مگر دنیا نے ان کا بھیا نک اور ذلت آمیز انجام دیکھا اور انکی آماجگاہیں خود ان کے لیے اک عبرت کدہ بن گئیں ۔ مجھے لگا یہاں بھی بس اب وہی سب ہونے کو ہے کہ اگر دوسروں کے انجام دیکھ کر بھی کوئی عبرت نہ حاصل کرےتو پھر انتظار کیجیے رب کے اس فیصلے کا جو آیا ہی چاہتا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

%d bloggers like this: