Category Archives: پاکستان

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے


kahan tak

اعتراف جرم کو ئی معمو لی بات نہیں اور نہ ہی یہ ہر ایک کے بس کا کام ہے یقینا یہ بہادروں کا کام ہے اور ایسے بہادر اس ملک و قوم  کے نصیب میں آتے رہے ہیں آج کل بھی ایسے ہی ایک بہادر سپاہی کا چرچا زبان زد عام ہے جن کے ہر چینل پر نشر ہوتے انٹرویوز اور تہلکہ مچاتی کتاب "یہ خاموشی کہاں تک ”  بہت سی خاموشیوں کا پردہ چاک کر رہی ہے اور خامشیوں کو جب زباں دی جاتی تو  اس کے نتیجے میں اٹھنے والے شور اور ان گنت سوالوں کو کوئی نہیں روک سکتا ایسے ہی بہت سے سوالات نے اب بھی جنم لیا ہے ۔

یہ کتاب اس لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ  اس کا مصنف کوئی عام آدمی نہیں  بلکہ اس ملک کے اہم اور حساس ترین ادارے "فوج ” کے سابق جرنیل جو اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں ۔

جرنیل صاحب نے اپنے اعتراف جرم سے آغاز کیا اور اس کے بعد وہ فوج کی ہر خامی کو ایسے بیان کرتے چلے گئے جیسے یہ کوئی سبق ہو جو انھوں نے اپنی فوج کی 30 سالہ نوکری کے دوران یاد کیا تھا اور اسے سنانے کا موقع انہیں پورے 30 سال میں تو کبھی نہیں مل سکا مگر اب وہ اس سبق کو بھولنا نہیں چاہتے ۔

جرنیل صاحب کی کسی بات سے اختلاف نہیں بڑے دکھ سے ہی سہی مگر ہم یہ مانتے ہیں کہ فوج میں یقینا یہ سب خامیا ں ہیں اور بڑے پیمانے پر ہیں ۔۔۔ مگر صاحب  سوال تو بس اتنا ہے کہ سب خامیاں اور خرابیاں  ایک جرنیل کو اس وقت کیوں نہیں دکھائی نہیں دیتی جب وہ اپنی کالر پر تلوار اور اسٹک کے ساتھ چاند، تارے سجائے ہوتے ہیں اور ان تلواروں کی کاٹ انکی شخصیت کا خاصہ بن جاتی ہے اور چاند تاروں کی چکاچوند انہیں ناخدا بنا دیتی ہے جس کی وجہ سے{ فوج میں عام طور استعمال ہونے والے محاورہ} گردنوں میں بھی سریہ آجاتا ہے اور شاید یہی وہ سریہ ہے جو ان  گردنوں کو جھکنے ، خود احتسابی ، اور اعتراف جرم نہیں کرنے دیتا اور یہ” سریہ “ یونیفارم کے ساتھ ہی رخصت ہوتا ہے اس سے پہلے نہیں ۔ اور تب ہی ہمارے بہادر سپاہیوں کو محب وطنی اور مسلمانیت یاد آتی ہے اور وہ اپنے کالموں میں تو کبھی اپنے انٹرویوز میں اور کچھ تو اس احساس جرم میں پوری پوری کتابیں لکھ ڈالتے ہیں جن میں اپنے ان ہی ساتھیوں {جن کے ساتھ ملکر وہ یہ سب کارمانہ ہائے انجام دے چکے ہوتے ہیں} کی زیادتیوں اور امریکی ظلم و بربریت کی کہانیاں سناتے نظر آتے ہیں مگر افسوس کہ وقت تو گزر چکا ہوتا ہے ۔

 یہ سب بھیانک حقیقتیں ایک جرنیل پر کیا اسی لمحے آشکار ہوتی ہیں جب وہ اپنی "وردی کے خمار ” سے باہر نکل کر سویلین ماحول کے تھپیڑوں کی زد میں آتا ہے ؟؟

جی ہاں” وردی کا خمار ” بڑا ظالم ہوتا ہے یہ خمار سر چڑھ کے بولتا ہے اور یہی وہ خمار ہے جو صرف 90 دن کے وعدے پر آنے والے  ڈکٹیٹروں کو 11  سالوں تک وردی کو اپنی کھال کا حصہ سمجھنے پر مجبور کردیتا ہے اور حال یہ ہوجاتا ہے کہ چمڑی جائے پر وردی نہ جائے ۔

بہت سے اعترافات کے ساتھ ایک دلسوز اعتراف کہ ہم امریکیوں کے ساتھ ملکر افغانستان اور پاکستان میں بے بس مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ۔۔۔

آہ۔۔۔

تو جرنیل صاحب اس قتل عام میں تو آپ کے اپنے ہاتھ بھی لہو رنگ نظر آتے ہیں اتنے سالوں تک آپ نے اپنے ضمیر کی اس آواز کو کیسے دبایا ؟

جس کی ضرورت اس وقت تھی جب آپ ایک کے بعد دوسرے اہم عہدے پر فائز ہوتے جا رہے تھے کیا آپ کی ضمیر کی اس آواز نے ایک بار بھی آپ کو اس وقت راتوں کو نہیں جاگنے پر ایسی ہی کوئی کتاب لکھنے مجبور نہیں کیا  جب کئی ہزار معصوم  آپکی وردی کے سائے تلے  بے دردی میں شہید کر دیے گِئے ؟

جنرل مجھے یہ پوچھنے دیجیے کہ اس وقت کس چیز نے آپ کو حق کو حق کہنے اور ظلم و بربریت کی اس داستاں {جسے آج آپ منظر عام پر لائے} بیان کرنے سے روکا ؟

وہ کونسی مجبوری تھی جو آپکی راہ کی رکاوٹ بنی ؟

مت سنائیں یہ فوج کی وفاداریوں کے قصے کہ اب ہم میں  مزید یہ قصے سننے اور سہنے کی سکت نہیں   ان سے پوچھیے جنھوں نے  آپ اور آپ جیسے بہت سے وفاداروں کی وفاوں کے عذاب اس طرح سہے کہ انکے گھروں کے گھر اور بستیوں کی بستیاں اجڑ گئی  اور ان وفاداریوں نے  خونی درندوں کو بے گناہ مسلمانوں کا خون طشتریوں رکھ کر پیش کیا اور اسے اس خون کا عادی بنادیا  جس کو روکنا اب مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آتا ہے کہ وفاداروں کی کمی تو کسی دور میں نہیں ہوتی کل آپ تھے آج آپکی جگہ کوئی اور ۔۔۔مگر جس نے اپنے رب سے ہی وفا نہیں کی اسکی وفاوں پر ماتم کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا  ۔۔۔۔۔ کہ رب یہ کہتا ہے کہ اگر تمھارے ماں باپ بھی تمہیں اس چیز کا حکم دیں جو تمھارے رب کے احکامات کے خلاف ہو تو تم اس پر ہر گز عمل نہ کرو ۔۔۔۔۔۔

جرنیل صاحب جو احساس جرم ” آج ” آپ کو  مارے ڈال رہا ہے بات تو تب تھی کہ جب یہی  احساس جرم آپ کو اس ظلم کا حصہ بننے سے روک دیتا اور آپ خود کو وردی کی اس وفا اور ان تمام عہدوں اور آسائیشوں کو ٹھکرا دیتے تو آپ کا یہ عمل  دنیا اور آخرت کی لکھی جانے والی تاریخ میں سنہری حرفوں سے رقم کیا جاتا اور آنے والوں کے لیے بھی ایک مشعل راہ ثابت ہوتا ۔

انٹر ویو کے دوران میزبان کے سوالوں کے جو جوابات جرنیل صاحب کی جانب سے دیئے گئے ان میں سے کوئی ایک جواب بھی ان کو بری الزماں نہ کرسکا ۔۔۔۔۔۔ ہر جواب سے یہی محسوس ہوا کہ بس میں مجبور تھا یا کردیا گیا ۔۔۔۔۔ تو صاحب حق کی راہ پر چلنے والے جو اپنی راہیں خود متعین کرتے ہیں انہیں کوئی عہدہ ،  رینک یا مراعات مجبور نہیں کرسکتیں نہ ہی انہیں خریدا جاسکتا ہے جیسا کہ خود جنرل صاحب نے کہا کہ انہیں امریکہ میں  کورسز کے دوران تین مختلف مواقعوں پر خریدنے کی کوشش کی وردی سمیت بھی اور وردی کے بغیر بھی قبول کرنے کی پیشکش جس میں انہوں نے اپنے ساتھ ایک اور بھی نام لیا اور بغیر کچھ بیان کیےبھی وہ سمجھنے والوں کو بہت کچھ سمجھا گئے ۔۔۔۔۔۔ اس وقت وہ خود کو بچانے میں کامیاب ہو گئے مگر بعد میں شاید اس سے بھی کم قیمت لگا بیٹھے ۔۔۔۔

اور یہ ایک جرنیل شاہد ہی کی کہانی نہیں یہاں ایک لمبی لسٹ ہے ایسے لوگوں کی جن کے ضمیر اس وقت جاگتے ہیں جب ان کے اپنے سونے کا وقت قریب آجاتا ہے ۔

دل کو رووَں کہ پیٹوں جگر کو

بات صرف یہیں تک نہیں بلکہ سن سکتے ہیں تو سنیے اپنی بربادیوں کی کہانی کہ اس قوم سے ذیادہ بدنصیب اور کون ہوگا جس کی محافظ فوج کا سربراہ اپنے عہدے سے فارغ ہوتے ہی اگلے ہی دن دشمن کے تھنک ٹینک کا حصہ بن جاتا ہے ۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ اعترافوں کا یہ سلسلہ آخر کب تک یوں ہی چلتا رہے گا ؟

کب تک یہ گونگی بہری قوم اسکا خمیازہ اٹھاتی رہے گی ؟

کب تک قافلے اپنے ہی پاسبانوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے ؟

کب تک ہم اپنوں کے ہاتھوں زخم کھا تے رہیں گے ؟

آخرکب تک ہم اپنی بے حسیوں کی داستانوں کوغلطیوں کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کرتے رہیں گے؟

جرنیل شاہد صاحب کی کتاب یقینا  اشک بار کرتی اگر یہ ایک ریٹائیڈ جرنیل کی ہوشربا داستان نہیں بلکہ ایک ایسے افسر کی دکھی بپتا ہوتی جس نے اس کتاب میں بیان کیے گئے ظلم وستم پر احتجاجا اپنا عہدہ ، رینک اور تمام مراعات کو ٹھکرا دیا ہوتا مگر افسوس ۔۔۔۔۔۔

کیا اس قوم کے نصیب میں ایسی بھی کوئی کتاب آئے گی جس میں یہ حقیقتیں داستانوں کی صورت میں نہ درج ہوں بلکہ سازشوں کو عین وقت پر بے نقاب کیا گیا ہو  ۔۔۔؟

یقینا یہ کو ئی آسان کام نہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے

جلتے ہوئے انگارے کو ہتھیلی پر رکھ لینا ۔۔

آگ کے دریا میں چھلانگ لگا دینا ۔۔

مگر حق کی خاطر خود کو آگ کے دریا کے حوالے کر دینا ہر ایک کا نصیبہ نہیں بنتا بلکہ یہ اعزاز تو ابراہیم علیہ جیسے رب کے وفاداروں کے نصیب میں آتا ہے ۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

اور رہا اعتراف جرم تو صاحب زوال کے بعد اعتراف جرم تو فرعون جیسے جابر نے بھی کر لیا تھا ۔

کیا کتابوں میں درج کیے گئے یہ لفظ "اعتراف جرم ” دامن پر لگے ان بے گناہوں کے خون کے دھبوں کو دھو سکتا ہے ؟؟

  اگر کچھ کرنا ہی تھا تو جرنیل صاحب آپ ان تمام جرائم کی پاداش میں خود کو سزا کے لیے پیش کرتے اور ایک نئی تاریخ رقم کرتے کہ کفارے ایسے ہی ادا کیے جاتے ہیں ۔

کلام دلفریب


181096_329490790496748_654071339_n

پانچ دن مسلسل چلنے والی انقلابی ڈرامے کی وہ سیریل باآلاخر اپنے منطقی انجام تک پہنچی اور مجھ سمیت پوری قوم نے ہی اس ڈرامے کو جہاں بہت تنقید کا نشانہ بنایا وہاں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہر ایک نے دل کھول کے انجوائے کیا یہ  شو سوائے اس میں شامل افراد کے  ہر ایک کے لیے ایک شغل بھی تھا چاہے وہ  میڈیا میں بیٹھے معنی خیز مسکراہٹوں کے ساتھ لائیو کوریج اور تبصرے کرتے ٹی وی اینکرز ہوں یا اپنے گھروں میں ٹی وِ ی  پر مستقل نظریں جمائے ناظرین ۔

ایک تماشا تھا جو اس قوم کے لیے خاص طور پر لکھا اور بڑی ہی خوبصورتی سے تشکیل دیا گیا گیا تھا اور یہ بات ماننی پڑیگی کہ تیزاب کے کینٹینر رکھوانے کا اعلان کرنے والے وزیر داخلہ سے لیکر ایک دن پہلے تک بابا جی کی نقلیں اتارتے اوربعد میں انہی سے جپھیاں پاتے وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ ہوں یا ایک طرف حکومت کا حصہ بننے والے اور دوسری طرف وہی انقلابی بھائی بھی ہوں ہر ایک نے اپنے کردار کے ساتھ خوب انصاف کیا .اور آخر میں ہر ایک کو روحانی کنٹینر کے اندر صدارتی ایوارڈ سےنوازا گیا ۔

اللہ کی شان دیکھیے کہ خود کو قافلہ کربلا کا حسین کہنے والے اور پانچ دن پوری گورنمنٹ کو یزیدیوں کا ٹولا کہنے والےکس منہ سے انہی یزیدی لشکروں کو محبت سے گلے لگا رہے تھے اور اسی زبان سے جس سے انہوں نے پچھلے پانچ دن ان پر لفظوں کی گولہ باری کی تھی آج انکی تعریفوں کے پل باندھتے نہیں تھک رہے تھے اور جس شان سے وہ اس مغلا ئی کرسی پر براجمان تھے لگتا تھا بس اسی کرسی کے لیے انہوں نے کینیڈا سے پاکستان تک سفر کرنے کا رسک لیا تھا ۔

بدلتا ہی رنگ آسماں کیسے کیسے ۔۔

یہ بات تو اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ یہ ایک بہترین اور بظاہر کامیاب ڈرامہ رہا اور مجھے اس ڈرامے پر کچھ نہیں کہنا کہ اس پر کہنے کو شاید اب کچھ رہا ہی نہیں کہ قادری صاحب کے آنے سے لیکر واپسی تک کے ٹکٹ تک ہر چیز سب کے سامنے آچکی ہے ۔

میں قادری صاحب کو پانچ دن فائیو سٹار کنٹینر میں سیر کرتے دیکھ رہی تھی تو مجھے جنگ خندق کا وہ میدان شدت سے یاد آریا تھا جب ایک صحابی {رضی}خندق کھودنے کے دوران بھوک کی شدت سے نڈھال ہوئے تو سرکار دوعالم کے پاس جا کر  اپنا کرتا اوپر کر کے اپنا پیٹ دکھاتے ہیں جہاں پتھر بندھا ہوا تھا آقا کچھ نہیں کہتے صرف اپنے کرتےکو اوپر کرتے ہیں جہاں دو پتھر بندھے نظر آتے ہیں ۔۔۔ یہ تھا وہ امت کا سردار جس نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے تھے اور جنگ کے میدان میں عام سپاہیوں کی طرح خندقیں کھود رہا تھا اور قیامت تک آنے والی قوموں کو اسلام کی تعلیمات سکھا رہا تھا ۔

اسلام ہی تو دنیا کو وہ خوبصورت ترین مذہب ہے جو امیر غریب بڑے چھوٹے کے فرق کو مٹا دیتا ہے اور اسکی کیا خوب

منظر کشی کر گئے اقبال

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ ہی کوئی بندہ نواز

مجھےانتہائی دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ اسلام کے نام کو کس بیدردی سے استعمال کیا گیا یہ تو انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گرا ہوا انقلاب تھا کجا یہ اسکو اسلامی کہہ کر اسلام کی توہین کی جائے کہ قادری اپنے بلٹ پروف اور ہیٹید کنٹینر میں گرمی کی شدت سے بار بار اپنے پسینے صاف کرتے پھر کوٹ اتارنے کے باوجود جب کچھ کمی نہ ہوئی تو بار بار دروازہ کھولنے کا کہا گیا مگر کربلا کے اس امام کو اپنے بے زبان مریدوں پر ذرا برابر ترس نہیں آیا جب بوڑھے عورتیں اور معصوم بچے سردی میں تیز بارش کے نیچے خود کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے اور قادری صاحب اپنے گرم کینٹر میں اس بارش کو بھی  باران رحمت قرار دیتے رہے مگر خود اس رحمت سے محروم ہی رہے ۔

 

۔مجھے یہ سارا ڈرامہ سورۃ القمان کی آیت نمبر 5 کی تشریح نظر آرہا تھا  جس میں رب نے اس صورتحال کو کچھ ایسے بیان کیا ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍۖۗ وَّ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا ؕ

اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہےجو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکادے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے ۔ { سورۃ القمان }

یہ آیت مجھے بہت پیچھے لے گئی ۔یہ وہ وقت تھا جب جہالت کےگھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی انسانیت غفلت کی ایک بڑی نیند لینے کے بعد جاگ رہی ہے اور میرے محبوب نبی اکرم {صہ}اس سوئی ہوئی انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے دن رات تگ و دو میں سر گرداں ہیں مگر دوسری طرف جہالت کے ٹھیکدار جن کو یہ بیداری کسی طور پسند نہ تھی انہوں نے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی جس میں ایک منافق اور دشمن رسولّ نے یہ ہتھکنڈا بھی استعمال کیا تھا کہ وہ اس دعوت کے مقابلے میں گانے بجانے والی لونڈیوں کو خرید کر لاتا اور جب کوئی دعوت پیش کی جاتی تو اسکے مقابلے میں دوسری طرف وہ اس لونڈی کا گانا شروع کروادیتا اور لوگوں کی توجہ کو اصل دعوت کی طرف سے ہٹا دیتا اس کی اس سازش کو رب نے یوں بے نقاب کیا ۔۔۔۔۔ کہ تم سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے ۔۔۔۔۔

تو آج بھی ایسا لگ رہا تھا کہ عرب بہار کی وہ لہر جس نے پوری مسلم دنیا میں اسلامی انقلاب کی ایک فضاء پیدا کردی تھی اور یقینا پاکستان پر بھی اس کے گہرے اثرات نظر آنے لگے تھے ۔لوگ انتظار میں تھے کہ یہاں بھی کسی تحریر اسکوائر پر کوئی مرسی مسیحا کی شکل میں آئے گا اور انکو مصیبتوں سے نکال کر ان کے پچھلے سارے دکھوں کا مداوا کرے گا ۔۔۔

اسی فضاء کو ختم کرنے کا بہت بھیانک منصوبہ قادری کے بلٹ پروف انقلاب کی شکل  میں خرید کر لایا گیا وہ کلام دلفریب جس نے حقیقت میں لوگوں کو ایک بہت بڑا فریب دیا اور اس کے نتیجہ میں لوگوں کو دلوں سے انقلاب کی محبت اور  اس انتظار کو کھرچ کر نکال دینے کی بھر پور کوشش کی گئی اور خود کو اسلام کا سپوت کہنے والے خود غرض انسان کے ہاتھوں اسلامی انقلاب کے نام پر اس قوم کے اوپر جو ظلم ڈھایا گیا اس نے اسے ایک گالی بنا دیا  ۔

اور ایک طرف اس قوم کو پھر سے ایک بڑے وقت کے لیے آزمائش میں ڈال دیا کہ اس انقلابی ڈرامے  کے زخم بھرنے کے لیے اب کافی وقت درکار ہوگا ۔ وہیں دوسری طرف اب لوگوں کو صحیح حقیقی انقلاب کے لیے پکارنے والوں کی ذمہ داری کئی گناہ بڑھ گئی کیونکہ اب جب بھی کبھی انقلاب کا نام لیا جائے گا تو لوگوں کے ذہنوں میں اس ڈبہ پیک انقلاب کی یادیں ضرور تازہ ہوجائینگی ۔

دیکھنا یہ ہے کہ یہ قوم کب حقیقی انقلاب کے لیے بھی ایسے ہی اپنے گھروں سےنکل کر سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کے لیے خود کو میدان میں لانے کے لیے تیار ہوتی ہے اسلیے کہ وقت یہ ثابت کر چکا کہ تماش بینوں کے ساتھ تماشے کا حصہ بننا کوئی کامیابی نہیں بلکہ اصل کامیابی تو تب ہے جب آپ حق کی راہ پر چلنے والوں کے دنیائے فانی سے کوچ کرجانے کے بعد انکے قصیدے لکھنے ، پڑھنے یا اپنی محفلوں میں انکی جدوجہد کی داستانیں سنانے کے بجائے انکی ذندگی میں انکی سچی جدوجہد میں میں انکا ساتھ دیں تو یقین جانیے اس قوم کے نصیب کا مرسی دور نہیں بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے  اور یہ صرف اس قوم پر منحصر ہے کہ یہ کب اپنی آنکھوں سے غفلت کی پٹی کو اتار کر پھینکتی ہے  کیونکہ یہ اللہ کی سنت ہے جسے وہ اپنے پاک کلام میں  یوں بیان کرتا ہے

” کہ یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اُسے تبدیل نہ کریں جو اُن کے نفوس میں ہے”

{

الرّعد}

 

شاہ دولہ کے چوہے


میں نے اپنی زندگی کاایک بڑا عرصہ پنجاب میں گزارااور شروع  شروع میں کئی بار سفر ٹرین کے ذریعے بھی کیا  پنڈی سےکراچی تک کے ٹرین کے اس سفر میں بہت کچھ وہ دیکھنے کو ملا جو عام زندگی میں شاید کبھی ممکن نہیں ۔ اسی سفر کے دوران ایک ایسی مخلوق دیکھنے کو ملی جسے دیکھ کر میں اتنی خوفزدہ ہوئی کہ دودن کے اس سفرکا ایک پورا دن میں نے اوپر برتھ پر گزار دیا اور میری ہمت نہیں تھی کہ میں نیچے اتر سکوں ۔۔ وہ کوئی آسمانی مخلوق نہیں تھی نہ ہی جنات کی کوئی قسم تھی بلکہ وہ میرے اور آپ کے جیسی ہی پیدا کی گئی اشرف المخلوقات کا شرف بخشی گئی مخلوق تھی مگر یہاں اس زمین پر انسان کی اس سے زیادہ بد ترین شکل شائد ہی کوِئی اور ہو جسے انسان نما وحشیوں نے” شاہ دولہ کے چوہوں “کا لقب دے دیا تھا میں نے اپنا وہ سفر کسی سے بات کئے بغیر  بس اسی سوچ میں گزارا کہ وہ میرا پیارا رب جس نے اس انسان کو بہترین شکل میں پیدا کیا اس کے اعضاء کو کس خوبصورتی سے سنوارا اور جسے وہ خالق خود یوں بیان کرتا ہے

الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ ﴿٧﴾ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ (سورۃ النفطار)

جس (رب نے) تجھے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر (درست اور) برابر بنایا

مگر آج اس انسان نے کس بیدردی سے ہییت ہی بدل کر رکھ دی خدا کی سب سے خوبصورت تخلیق کی۔۔۔

شاہ دولہ کے چوہے جن کی کہانی یہ ہے کہ گجرات میں ایک مزار ہے جس کا نام شاہ دولہ ہے اور وہاں عورتیں و مرد اپنی مرادیں مانگنے جاتے ہیں بے اولاد اولاد مانگنے اور اسکے لیے وہ یہ منت مانتے ہیں کہ اپنی پہلی اولاد کو شاہ دولہ کے مزار پر ہی چھوڑ دیں گے۔۔۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے مگر بات یہیں  تک نہیں کہ آگے کی کہانی اس سے کئی گناہ بھیانک اور انسانیت کی گری ہوئی شکل ہے۔۔۔کہ جن بچوں کو منت کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے انکے سروں پر اسی وقت لوہے کی ٹوپی پہنا دی جاتی ہے جس کی وجہ سے انکا جسم تو بڑھتا ہے مگر ان کا سر اور دماغ ایک پیدا ہونے والے بچے جتنا ہی رہتا ہے اور پھر انکے بڑے ہوجانے پر ایک فرد ان کے ساتھ لیکر بھیک مانگتا ہے اور ہر جگہ ان کے ساتھ رہتا ہے کیونکہ وہ اس قابل نہیں کہ خود سے کچھ کر سکیں اس لیے اب ان کی زندگیاں ایسے ہی گزرتی ہیں جس میں ہاتھ پکڑ کر چلانے والے تو بدلتے رہتے ہیں مگر انکی تقدیریں نہیں بدلتیں۔۔۔

میں تین دن سے سینکڑوں مریدوں کو ایک ڈبہ پیک قائد کے ہاتھوں ایسے ہی استعمال ہوتا دیکھ رہی تھی اور ڈھول کی تھاپ پر  لایا جانے والا وہ اسلامی انقلاب جس میں اسلام ڈھونڈے سے بھی نہیں نظر آتا۔ جس میں قافلہ  کربلا کا دعوی کرنے والے قائد صاحب خود پلٹ پروف کنٹینر میں بیٹھ کر کہتے ہیں میں اپنی لاش لینے آیا ہوں۔۔۔ اور یہ کہ گولی مجھے مارنا میرے بچوں کو نہ مارنا اور یہ کہہ کر اپنے بم پروف کنٹینر میں آرام دہ سیٹ پربیٹھ کر اس مست ہجوم کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور تو اور جب خطاب کے لیے مجبوری میں باہر بھی نکلنا پڑا تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ اسٹیج تک کس طرح لائے گئے کہ گاڑی سے نکلتے ہی انکے اطراف میں بلٹ پروف شیٹس لیے گارڈز اس قدر چوکس تھے کہ جسے ایک لمحے کی بھی غلطی کی گنجائش نہ ہو اور خطاب کے دوران بار بار گاڑھی انگریزی استعمال کرتے آقاوں کو  اپنی وفاداریوں کا پیغام دیتے یہ امام صاحب ہزاروں لوگوں کی نمازیں قضاء کراتے ہیں جن پر نہ خود شیغ الاسلام کو کوئی رنج نہ اس قافلہ کے باسیوں کو ہی کوئی غم ہے ۔یہ کیسا قافلہ کربلا ہے جس میں ایک بھی حسین نہیں۔۔۔

اور اس انقلابی ڈرامے کا ایک اور کلیدی کردار جس نے پوری قوم  کہ نفسیاتی طور پر یرغمال بنایا ہوا ہے وہ ہے اس تماشے کی لمحے لمحے کی کوریج کرتا  میڈیا جسے  ہزاروں کے مجمعے کو لاکھوں اور لاکھوں کے مجمعے کو سینکڑوں کا دکھانے کا فن خوب آتا ہے ۔۔

 

میں یہ سب بڑے افسوس کے ساتھ دیکھتی رہی  اور کئی سالوں پہلے کی تصویر کا ایک دردناک منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب ایک سفید داڑھی والا قائد اسی ڈی چوک تک پہنچنے کی کوشش میں پولیس کی لاٹھیوں کا نشانہ بن رہا ہے جس کی دستار سر سے گری ہوئی ہے اور بغیر کسی بلٹ پروف گاڑی اور جیکٹ کے ایسے ہی سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان کس عزم اور حوصلے سے اپنے کارکنوں کے ساتھ اپنی پیٹھ پر لاٹھیوں کے زخم کھاتا یہ قائد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔ بدنصیب قوم ۔۔۔۔۔ میں درد کی کیفیت میں اپنی نگاہیں اس تصو یر سے ہٹا لیتی ہوں کہ تاب نہیں اپنی بدنصیبیوں پر ماتم کرنے کی مگر صرف نظریں ہٹالینے سے تلخ حقیقتیں بدل تو نہیں جایا کرتیں۔۔۔۔ ایک اور تصویر ساتھ ہی نظر آتی ہے جس میں آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے بہتی ہوئی سرخ آنکھیں اس کی بہادری اور عزم کی داستاں سنا رہی ہیں۔۔۔

اس پاکستانی شہریت رکھنے والے محب وطن قائد کو  تو کسی نے اسٹیج لگانے کی اجازت نہیں دی اسکے کارکنوں کو تو کسی نے بستر فراہم نہیں کیے تھے بلکہ ان کے لیے تو جیلیں تھیں ، لاٹھیاں ، آنسو گیس کے شیل اور شہادتیں تھیں مگر پھر بھی انکے حوصلوں کو کوئی شکست نہ دے سکا۔۔۔

میں ہر گز موازنہ نہیں کر رہی کہ موازنہ ہو بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔ بلٹ بروف کنٹینروں میں بد مست ہاتھیوں کی طرح جھومتے قائد اور اسکے مریدوں کا کیا مقابلہ ان سینہ سپروں سے کہ جنھوں نے گولیاں سینوں پر کھائیں۔۔۔

 

میں سوچ رہی تھی یہ کیسی قوم ہے جو آج ایک ایسے زمانے میں رہ رہی ہے جہاں بچے بھی ہر بات پر سو سوال کرتے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں جو یہ نہیں کہتے کہ آپ لاش لینے آئے ہیں تو باہر آئیں نا ۔۔۔۔۔۔ گولی آپکو کیسے لگے گی بابا جی آپ تو جہاں بیٹھے ہیں وہاں بم نہیں اثر کر سکتا اور یہ کہ عورتیں اور بچے تو خون کو بھی جما دینے والی سردی میں باہر روڈ پر ہوں اور انکا امام اندر ہیٹر لگے کنٹینر میں گرم بستروں میں آرام فرما رہا  ہو ۔۔۔۔۔۔مگر کیاکیجیے کہ جی مرید ایسے ہی ہوتے ہیں ۔صم بکم۔۔۔۔۔ اپنی اولادوں تک کو بھینٹ چڑھا دینے والے۔۔۔

ایک صحافی بھائی کی کہی ہوئی بات جو سو فیصد سچ لگتی ہے کہ آپ کتنا بھی انکو وہ ویڈیوز دکھادیں جس میں یہ صاحب خود کو جھٹلاتے سجدہ کراتے یا نبی ص کو پاکستان آنے اور جانے کا ٹکٹ اور کھانے پینے کا انتظام کا دعوی کرتے نظر آئیں گے مگر آپ ان لوگوں کو نہیں سمجھا سکتے اور یہ کہ مجھے تو اب ان پر ترس آتا ہے۔۔۔

تب مجھے لگا کہ یہ تو شاہ دولہ کے وہ چوہے ہیں جن کے سروں میں دماغ نہیں انکی ڈور پکڑ جو چاہے جدھر گھما دے انکو انکار کرنے کی جرات ہے نہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بس انکی ڈور پکڑنے والے بدلتے رہتے ہیں جو کبھی کسی راہ پر لے جاتے ہیں کبھی کسی راہ پر مگر انکی تقدیریں نہیں بدل سکتیں۔۔۔ کیوں کہ تقدیریں بدلنے کے لیے اندھی تقلید نہیں بلکہ سوچ، سمجھ اور عقل شرط لازم ہیں۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے?‎


qafila

ابھی اس واقعہ کو زیادہ دن نہیں گزرے اور وہ یقینا لوگوں کی یاداشتوں سے ابھی محو نہیں ہوا ہوگا

ایک طرف میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم رہا ہے جب دنیا کی سپر پاور کا صدر اوبامہ اشک بار آنکھوں کے ساتھ قوم سے خطاب کر رہا ہے دکھ کی کیفیت ایسی کہ الفاظ اسکا ساتھ نہیں دے پارہے تھے وہ ٹوٹے ہوئے لفظوں میں کہتا ہے کہ ’’ آج ہمارے دل پارہ پارہ ہوگئے ہیں” ۔اسکے یہ الفاظ اسکے اندر کے غم کو عیاں کر رہے تھے ۔

اس واقعے کے سوگ میں تین دن امریکی پرچم کو سرنگوں رکھنے کا اعلان کردیا گیا ۔

میں سوچ رہی تھی کہ یہ وہ شخص ہے جو پوری دنیا میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے مگر اس کے دل میں بھی اپنی قوم کے لیے اتنا درد اتنا دکھ کہ جس نے اسے پوری دنیا کے سامنے رونے پر مجبور کردیا کیوں کہ وہ ساری دنیا کے لیے جیسا بھی ظالم اور جابر سہی مگر اپنی قوم کا وفادار ہے ۔ رشک آیا مجھے ایسی قوم پر اور صدر کی اس وفاداری پر میرا جی چاہا کہ میں اس شخص کو سلام پیش کروں کہ قوم کے محافظوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔

مگر دوسری طرف میرے اپنے ملک کا ایک گوشہ سے لیکر دوسرا گوشہ تک آگ کی لپیٹ میں نظر آتا ہے ۔ ایک طرف نظر کرتی ہوں تو جلتا ہوا کوئٹہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے جہاں 100 سے زائد انسانی جانیں لمحوں میں لقمہ اجل بن جاتی ہیں اور ورثا اپنے پیاروں کی لاشوں کو لیے سخت سردی کے عالم میں تین دن سے انصاف کی آس میں بیٹھے ہیں ابھِی اس درد سے نکل نہیں پاتی کہ لہو لہو سوات اپنی داستاں سناتا نظر آتا ہے پورے ملک میں لگائی ہوئی یہ آگ جس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بیرونی سازشیں جن کا کوئی سدباب تو دور کی بات اس میں جلنے والوں کا کوئی پرسان حال نظر نہیں آتا کہاں ہیں ان صوبوں کے وزراء اور اس مک کے وہ نام نہاد ٹھیکیدار جنھوں نے ان کی خدمت کا حلف اٹھایا تھا کیوں انہیں قوم کا یہ پانی کی طرح بہتا خوں دکھائی اور لواحقین کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں کیا وہ صرف اس قوم کی رگوں سے خون نچوڑ کر اپنی عیاشیاں پوری کرنے کے لیے ہیں ؟

اور یہی کیا یہاں تو پورا ملک ہی اپنی حالت زار پر دہائی دیتا نظرآتا ہے جہاں آئے روز ڈرون حملوں میں لوگ جانوروں کی طرح مارے جاتے یا ٹارگٹ کلنگ کہ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے ۔

مگر یہ بد نصیب قوم جس کے لیے کہیں کسی کا دل نہیں لرزتا ہے ۔۔۔۔

کوئی آنکھ انکے لیے اشک بار ہوتی نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔

کوئی انکے لیے پرچم سرنگوں کرنے کا نہیں اعلان کرتا ۔۔۔۔

کیوں ؟؟

کیا مرنے والے انسان نہیں تھے ؟

کیا ان کا خون خون ناحق تھا جو بہہ گیا ؟

کیا جرم تھا انکا جو اپنی ماوں کی لاڈ لے ، بہنوں کے پیارےاور اپنے گھروں کے کفیل تھے ۔۔۔۔

بس یہی نا کہ یہ کوئی بڑے عہدیدار یا اسکی اولاد نہیں تھے بلکہ یہ عام عوام تھی ۔۔۔۔

کو ئی ہے جو ان سوالوں کے جواب دے ۔۔۔۔ ؟

آہ ۔۔۔۔ مگر دکھ تو یہ کہ کون ہے جو یہ سوالات پوچھے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے ؟

اور آج مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑھ رہا ہے کہ میں جس قوم سے تعلق رکھتی ہوں وہا ں محافظوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے انسان نہیں بلکہ گدھ ہیں جو صرف مرجانے والوں کی لاشوں پر گزارا کرتے ہیں کیونکہ یہ ہی انکی زندگیوں کی واحد خوراک ہے ۔

ٹی وی پر چلتے کینڈین انقلاب کے وہ مناظر دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ ان نازک حالات میں بھی ہر ایک اپنی دوکان چمکانے کی فکر میں ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ قوم اب بھی ان تماشہ گروں کے ہاتھوں کھلونا بننے کے لیے تیار ہے ۔

میں سوچ رہی تھی کہ اگر ہمارے یہاں بھی ایسے انسانی جانوں کے جانے پر پرچم سرنگوں کیا جاتا تو شائد سال کے تین سو پینسٹھ وہ پرچم سرنگوں ہی رہتا کہ ایسے باوقار اصول بھی ان قوموں کے لیے ہوا کرتے ہیں جو خود کیسی بھی کرپٹ ہوں کیسی بھی اخلاقیات سے عاری ہوں مگر جب اپنے قائد کا انتخاب کرتیں ہیں تو اس کے لیے ایک باکردار ،امین اور محب وطن کا ہونا لازمی شرائط ہیں اور اپنے ہی منتخب کئے ہوئے قائد پر کوئی الزام لگ جائے تو اسے پوری دنیا کے سامنے کٹھرے میں لاکھڑا کرتِیں ہیں اور کوئی استصواب انہیں یہ سب کرنے سے نہیں روک سکتا بس یہی نشانیاں ہیں کسی بھی قوم کے ذندہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔

مگر جن قوموں کا انتخاب گدھ ہوں وہ پھر ایسی ہی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہوا کرتی اور اپنے آقاوں کو خوراک مہیا کرنے کا زریعہ بنتیں ہیں.

ابھی نہیں تو کبھی نہیں


 

abhi

 

لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر میرے اطراف میں پھیلے ہوئے کالم ،اخبارات میں اب تک آتی سر خیاں میڈیا پر ہر ایک کے منہ سے نکلتی دکھ بھری حقیقتیں جو یقینا تاریغ میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی مجھے پھر اسی طرف لے آتی ہیں اور میں حیران پریشان سی اپنے ذہن میں اٹھنے والے ان گنت سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کہ جب یہاں ہر ایک اس حقیقت سے واقف ہے کہ کون مخلص ہے , کون محب وطن ہے , کون ہے وہ جن کی زندگیاں ہر الزام سے پاک ہر اک کے سامنے شفاف آئینوں کی طرح چمکتی ہوئی ہیں مخالف بھی جن کی زندگیوں پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتے ۔

اسکا ایک منہ بولتا ثبوت جس کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا جس نے مجھے بھی حیران کردیا کہ وہ ذاکر صاحب ہوں پروفیسر غفور صاحب  یا قاضی بابا انکے لیے دائیں بازو والوں نے تو جو کچھ لکھا سو لکھا  مگر یہاں تو بائیں بازو والے بھِی ان باکردار لوگوں کی جدوجہد اور مخلصی کی ان گنت داستانیں سناتے نظر آتے ہیں اور بہت سی ایسی بھی سچائیا ں جس سے میرے جیسے بہت سے لوگ اب تک ناواقف تھے انہیں منظر عام پر لانے والا انہی کا قلم  تھا  ۔ ۔ ۔ ۔

میں خود کو سوچوں کے ایسے بھنور میں محسوس کر رہی تھی جس نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی کہ جب ہر اک اتنا باخبر ہے اتنا قدر دان ہے تو پھر بے خبر اور ناقدرا کون ؟؟

کون ہے جس نے اس قوم کے نصیب کی ڈوریاں پاکیزہ اور بے داغ لوگوں کے بجائے چوروں اور لٹیروں ملک کے غداروں اور دشمن کے ایجنٹوں کے حوالے کردیں ؟   اور آج عالم ہوا ہے کہ

جینا تو مشکل ہے ہی
مرنا بھی نہیں آساں

جوقومیں غفلت کی نیندیں سو جایا کرتیں ہیں تو پھر انکی تقدیروں میں وہی کچھ  لکھ دیا جاتا ہے جو آج نہ چا ہتے ہوتے بھی ہما ری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ۔

اک خیال تھا جو رہ رہ کر ستا رہا تھا کہ

کیوں ہم ان لوگوں کی قربانیوں کو اک جہد مسلسل کو پہچاننے سے عاری ہیں وہ صحراوں میں کنویں کھودتے ذاکر صاحب پروفیسر غفور احمد اور قاضی بابا کی شکل میں ہوں یا سید منور حسن سے لیکر سراج الحق ہوں یا لاکھوں لوگوں کی {سیلاب زدگان ہوں یا زلزلہ زدگان } ہر جگہ اور ہر وقت امداد کے لیے تیار والے نعمت اللہ جن کی عمر اسّی سال سے اوپر ہے ہاتھ میں لاٹھی تو آگئی مگر خدمت خلق کے جذبوں میں کوئی کمی نظر نہیں آتی ان سب کی خدمات کو ایک بلاگ میں رقم بند کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ انکی خدمتوں اور کارناموں پر تو کئی کتابیں لکھی جاسکتیں ہیں ۔

مگر جواب بہت افسوس ناک تھا کہ اس قوم سے زیادہ بد نصیب اور کون ہوگا  جسکا یہ حال ہوچکا ہو کہ جس کے باکردار اور دیانتدار لوگوں کو مرنے کے بعد ہی پہچانا جائے اور دنیا سے رخصت ہونے پر انکی مخلصی کے قصیدے لکھے اور پڑھے جائیں ۔

اور اس قوم میں جو جتنا بدتر ہو وہ اتنا ہی اونچے عہدے پر فائز ہو  اور جو جتنا بڑا مداری ہو وہ میڈیا میں اتنی زیادہ جگہ پائے اور لوگوں پر مسلط کر دیا جاۓ گا چاہے  وہ  اپنے مداری پن میں اس حد تک چلا جا یے کہ اپنی غداریوں پر پردہ  ڈالنے کی ناکام کو شش میں قوم کی تقدیر بدلنے اک پہچان دینے والے  والے بانی اور عظیم قائد پر ڈرون حملوں کے نام سے بدترین الزامات کی بوچھاڑ کردے اور پوری قوم کی برداشت کا امتحاں لے اورافسوس اس بات پر کہ ہمارے بکاؤ میڈیا کی کیا مجال  کہ  وہ یہ سب دکھانے سے انکار کر سکے کہ یہ کسی ایسی پارٹی کا پروگروم تو نہیں تھا جسے آن ائیر جانے سے درمیان ہی میں روک دیا گیا ۔۔۔۔۔۔  بڑ ے آقاؤں کی ناراضگی کا خطر ہ کیسے مول لیا  جا سکتا ہے  …..  بابا ئے قوم کی روح اگر تڑپتی ہی تو تڑپتی رہے ۔۔۔

یہ سب سن کر اور دیکھ کر جہاں دل دکھی تھا وہیں ایک آلاو بھی تھا جو اندر ہی اندر پک رہا تھا اور اس میں  کچھ کمی اس وقت آ ئی اور شکر ادا کیا کہ چلو صحافی برادری میں سے کسی نے تو اس حملے کا  پھر پور جواب دیا تھا اور قائد پر الزام لگانے والوں کو کھلا چیلنج تو دیا بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ دیوانگی ہے مگر میرے دل سے یہ دعا نکلی کہ اگر یہ دیوانگی  ہے تو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کرے کہ یہ دیوانگی رہے باقی ۔۔۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ کیا یہ قوم اب بھی نہیں جاگے گی تو پھر شائد کبھی جاگنے کی مہلت بھی نہ پاسکے کہ اب تو ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کل تک جو کینیڈا اور لندن سے چلنے والے انقلاب  کے دعوے دار جنھوں نے پوری قوم کو نفسیاتی طور پر یرغمال بنایا ہوا تھا پورے کراچی میں جگہ جگہ  کیمپس لگا کر اور راہ چلتی گاڑیوں کو روک روک کر انقلاب کے نام پر بھتہ وصول کرنے والے آج صبح بھی جنگ اخبار پر جلی حروف سے لکھی گئی وہ شہہ سرخی میرے سامنے موجود ہے جسمیں یہ اعلان کیا گیا کہ” حکومت گورنر سندھ کو ہٹانا چاہے تو ہٹا دے مگر لانگ مارچ میں ہر قیمت پر شریک ہونگے ” مگر یہ کیا چند ہی گھنٹوں بعد یہ خبر کہ ہم لانگ مارچ میں حصہ نہیں لے رہے پہلی خبر کا منہ چڑاتی نظر آئی ۔۔۔۔ کیا یہ اس قوم کے ساتھ بھیانک مذاق نہیں ۔۔۔۔۔ ؟؟

مگر جب تک یہ قوم اپنے ساتھ یہ مذاق کروانے کے لیے خود کو طشتری میں رکھ کر پیش کرتی رہےگی اسکے ساتھ ماضی میں بھی یہی سب دہرایا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا {اور اسکا خمیازہ اور کفارہ آنے والی نسلوں تک کو دینا پڑے گا } جب تک لوگ دیانت دار لوگوں کو مرنے سے پہلے نہیں پہچانیں گے اور بعد میں صرف انکے گن گانے ، داستانیں سنانےکے بجائے انکی زندگیوں میں انکو اپنا امام بنانے کے لیے خود میدان میں نہیں نکلیں گے تب تک انکے نصیبوں میں ایسے مداریوں کے تماشے “جنکی ڈگڈگی کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے ” اور جیل سے فارغ ہوکر ایوان صدر کا رخ کرنے والے ہی لکھے جائیں گے کہ فیصلہ کا وقت آیا ہی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بس یاد رکھیے گا کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ۔۔۔۔۔!!۔

یتیمی کیسی ہوتی ہے


یتیمی کی اذیت کس کو کہتے ہیں یہ آج میں نے جانا!!

میں نے اپنے بابا کو نہیں دیکھا میری پیدائش انکے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوئی مگر نہیں مجھے تو  لگ رہا تھا میں آج ہی یتیم ہوئی جو زخم مجھے آج لگا تھا وہ کبھی نہیں بھر سکتا نہ ہی اسکا کوئی نعم البدل ہوسکتا تھا۔۔۔qazi
رات ڈیڑھ بجے کا وقت خبر کیا تھی منہ سے نکالتے ہوئے بھی دل لرز رہا تھا ڈرتے ڈرتے بھائی سے پوچھا وہ بھی لاعلم پھر ٹی وی چینلز کو نیٹ پر ہی سرچ کیا اور دل لگا تھا غم کی شدت سے کہیں مزید چلنے سے انکار نہ کردے کہ سامنے ہی یہ دردناک خبر چل رہی تھی کہ میرے قائد میرے شفیق باپ جن کا خمیرمحبتوں سے گوندھا گیا تھا جن کی رگ رگ میں امت کے اتحاد کی تڑپ تھی وہ اس بے وفا دنیا سے منہ موڑ چکے تھے اپنے رب اعلیٰ کی مہمان نوازی کے لیے۔

میں ایک چھوٹے سے بچے کی مانند سسک رہی تھی اور میں ہی کیا یہاں تو ہر ایک تڑپ رہا تھا جس سے بات کرو ہی سسک رہا تھا لگتا تھا یہ قوم یتیم ہوگئی تھی کچھ نہیں سمجھ آرہا تھا کیا کہہ کر خود کو تسلی دی جائے دل کچھ سننے کو تیار نہیں کچھ زخم ایسے ہوتے جو انسان کو توڑ دیتے ہیں یہ بھی ایسا ہی کاری گھاؤ تھا جو ہر ایک نے اپنے دل پر محسوس کیا ٹی وی پر چلنے والے وہ مناظر جس میں ہر ایک یوں زارو قطار رو رہا تھا جیسے یہ مجاہد اسلام بس اسی کے دل کی دھڑکن تھے میں بھی یہی سمجھی کہ میرا دکھ سب سے زیادہ ہے مگر وہ تو یہاں ہر ایک کے سینے میں دل کی جگہ دھڑکتے تھے۔

 

یہ حقیقت برحق سہی کہ” کل نفس ذائقۃ الموت ” اور کتنے ہی لوگوں کو اپنے پیاروں کو بچھڑتے دیکھا۔ مگر یہ کیسی جدائی  تھی جو مارے دے رہی تھی روح تک زخم زخم تھی۔

 
یہ رات میری بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی کی اذیت ناک ترین رات تھی جس نے سن لیا وہ نہیں سویا اسکی رات آنکھوں میں کٹی تھی نیند کہاں سے آتی یہاں تو عالم یہ تھا کہ اگر مرنے والے کے ساتھ مرا جاسکتا تو آج نجانے  کتنے جنازے اٹھتے۔۔۔

 
صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر کونے میں بیٹھے اورسسکتے کون تھے یہ عاشقان قاضی ایسا کیا دیا گیا تھا انکو کہ انکی تڑپ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی؟؟؟

 

ہوتی بھی کیسے جن کا بچپن اور جوانیاں فخر سے یہ دعوے کرتے گزریں تھیں کہ ” ہم بیٹے کس  کے ؟ قاضی کے” وہ کیسے نہ تڑپتے اپنے اس باپ کے لیے جو حقیقی باپوں سے بڑھ کر تھے۔ جن کی رگوں میں اس مرد مجاہد کی محبت خون کے ساتھ سرایت کر چکی تھی آج انکے لیے خود کو سنبھالنا ایسے ہی تھا جیسے کسی مچھلی کو پانی سے باہر تڑپنے کے لیے چھوڑ   دیا جائے۔

آج مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی تھی کہ صبر کا درجہ میرے مالک نے کیوں اتنا بلند رکھا ۔۔۔۔آہ ۔۔ مگر صبر کہاں سےلائیں ۔۔۔

 

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا  فراز

ظالم اب کہ بھی نہ رویا تو مر جائے گا

 

مرے مرشد کے بارے میں کون نہیں جانتا میرا انکے لیے کچھ کہنا ایسا  ہی ہے جیسے سورج کو روشنی دکھانا۔۔۔

آج پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون انکا مخالف ہے اور کون چاہنے والا ہر ایک ہی کے اشک اسکے اندر کے دکھ کی کہانی سنارہے تھے اپنے تو خیر اپنے تھے مگر یہاں تو مخالف بھی رو رہے تھے بس ایک ہی بات تھی کہ یہ امت مسلمہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔

 

بات بھی سو فیصد سچ تھی کہ وہ جن کے دل میں امت کی اتحاد کی تڑپ انہیں اس عمر اور سخت گرتی ہوئی صحت کے باوجود چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی اور انھوں نے اسکی جدوجہد میں ہر اپنی زندگی کا ہر لمحہ لگادیا۔

 

مجھے انکے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں وہ تو اک ایسا چمکتا ہوا روشن ستارہ تھے جس سے ہر ایک نے روشنی ہی پائی۔

یقینا میرے رب نے ان کے لیے بہترین جنتوں کا مہمان بنانے کی تیاری کر لی ہوگی انکے استقبال کے لیے انکے رفقاء کو بھی اطلاع کر دی گئی ہوگی ۔
خود رب کا فرمان ہے (ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان)
بس میری رب سے دعا ہے مولا ہمارے والد کی  بہترین میزبانی فرمایئے گا اپنی جنتوں میں سے بہترین جنت کا مہمان بنائیے گا اور دکھ کی اس گھڑی جب کہ اس صدمے سے  ہم بکھر  چکے ہیں ، مولا ہمیں صبر جمیل عطا فرما یئے ۔

 

مولا ہمیں قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے تلے اکھٹا کیجیے گا کہ ہم نے تیرے لیےمحبت کی اور خالص کی اور جن چراغوں کو وہ جلا کر گئے انکو روشن رکھنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمانا آمین!

 

یتیمی کیسی ہوتی ہے؟
دکھ کس کو کہتے ہیں؟
زخم کیسے لگتا ہے؟
درد کیسے رلاتا ہے؟
تڑپا کیسے جاتا ہے؟
یہ آج میں نے جانا
مانا موت برحق ہے
لیکن!
غم کی اس شدت میں

درد بھری حقیقت میں
کیسے خود کو سنبھالے کوئی؟
کیا کہہ کر بہلا ئے کوئی؟
دیکھو تو ٹوٹ گیا کوئی
چھن گیا مجھ سے

سائباں وہ محبتوں کا
بس ایک انبار ہے اسریٰ

ان گنت یادوں کا۔۔۔

ادھورا احتجاج کیوں؟


 

آج کا دن کچھ مختلف سا لگا شاید اسلئے کہ مایوسی کی اس فضا میں کہیں سے بھی ہلکی سی بھی کوئی کرن نمودار ہو تو ہمیں امید نظر آنے لگتی ہے۔ آج بھِی ایسا ہی کچھ ہواتھا صبح حامد میر MQM-btngصاحب کے کالم “بکواس ” سے ہوئی ابھی وہ پڑھ کے فارغ ہی ہوئی تھی کہ عرفان صدیقی صاحب کا انقلاب کی حقیقت کو چاک کرتا ” انقلاب تاج برطانیہ” سامنے ہی تھا اور پھر انصار عباسی صاحب اور دیگر کے کالمز بھی اس عظیم تقریر پر سراپا احتجاج نظر آئے۔ آپ سمجھ تو گئے ہی ہونگے کہ میں کس تقریر کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ جی بلکل وہی جسےبراہ راست دکھانے میں ہمارے ہر چینل نے سب سے پہلے میں کی دوڑ کو جیتنے کی پوری کوشش کی تھِی اور اپنی اس وفاداری میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

 

ویسے تو ہمارے صحافی بھائی ہمیشہ ہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اگر پورا نہیں بھی تو کچھ سچ ضرور بتانے کی کوشش کرتے ہیں مگر آج کا لب و لہجہ ذرا الگ ہی تھا۔ بات بھی کوِئی معمولی نہیں تھِی آخر صحافت کو للکارا گیا تھا اور وہ بھی نام نہاد پڑھی لکھی پارٹی کے لیڈر جو پچھلے کئی عشروں سے لندن میں مقیم ہیں جہاں جانوروں سے مخاطب ہونے کے بھی اصول ہوتے ہیں مگر شاید ان کے وہاں گزارے گئے عشرے بھی انکا کچھ نہیں بگاڑ پائے کہ بقول شاعر:
خمیر ہی ایسا تھا

 

خیر مجھے جہاں ان سب صحافی بھائیوں کی سراپا احتجاج ہونے پر خوشی بھی تھی کہ یہ ان سب کے ضمیروں کے ابھی تک زندہ ہونے کا ثبوت تھا مگر وہیں مجھے تھوڑی حیرت اور کچھ دکھ نے بھی آن گھیرا تھا۔ حیرت اس بات کی کہ کیا واقعی یہ ان سب خبروں اور منظر عام پر آنے والی ان ویڈیوز سے اب تک انجان تھے جو بہت عرصے تک سوشل میڈیا کی زینت بھی بنی رہیں تھیں جن میں کہیں سلمان مجاہد بلوچ یوسی ناظم سٹی گورنمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنا بیلٹ اتار کرمخالف پارٹی کی رکن خاتون کی پٹائی کرتے
ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں مشہور و معروف ناظم  مصطفی کمال صاحب کسی ہسپتال میں بستر مرگ پر موجود اپنے باپ کے لیے روتی ہوئی خاتوں کو گالیاں دیتے اپنے پڑ ھے لکھے ہونے کا ثبوت پیش کرتے نظر آئے۔ مگر ان سب پر تو کوئی آواز نہ اٹھا ئی گئی نہ ہی کوئی برہم ہوا کہ جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ کیڑے  مکوڑے ہوں جن کی نہ کوئی اوقات ہو نہ ہی عزت  جس کا جب جی چاہے انہیں ذلیل و رسوا کر ڈالے۔

 

اورتو اور دکھ تو اس بات پر ہوا کہ آج بھی جب اس عظیم تقریرمیں کی گئی اس “بکواس “پر برہمی کا اظہار تو کیا گیا مگر کیسے؟؟؟ حامد بھائی آپ  نے اگر وہ عظیم تقریر پوری سنی ہو تو یقینا آپ نے اور باقی صحافی بھائیوں نے وہ سب بھِی سماعت فرمایا ہوگا جو ادارہ نور حق میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کو  مخاطب کر کے انہیں جن القابات سے نوازا گیا اور جس طرح سر عام اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری گئیں اور کس طرح کھلم کھلا دھمکیاں دی گئیں کہ کراچی کو چھوڑ دیا جائے اور یہ کہ اگر بھائی کو جلال آگیا تو وہ اپنے کارکنوں کو کھلا چھوڑ دینگَے یعنی کارکن نہ ہوئے۔۔۔

یہ تو مالک کے وفادار اور بندھے ہوئے۔۔۔ جو مالک کا اشارہ پاتے ہی مخالف کو اپنے پنجوں میں جکڑ لینگے۔۔۔

 

پارٹیوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں اختلاف کرنا ہر کسی کا حق ہے مگریہ سب  تہذیب کے دائرے میں ہونا شرط لازم ہے مگر یہ کونسی سیاست ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو ننگی گالیاں دی جائیں اور دھونس و دھاندلی سے انہیں شہر چھوڑنے کا حکم دینا اور شہر نہ چھوڑنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں۔۔۔

 

میں بہت دیر اس بات پرافسوس کرتی رہی کہ صحافی بھائیوں کو کیا اپنے ان کالمز میں اس سب  پر بھی احتجاج نہیں کر نا چاہیے تھا جو کہ ان کی صحافت کا فرض بھی بنتا تھا۔ مگر شا ید ہماری قوم کی بدلتی روایتوں میں ایک اور اضافہ یہ بھی ہوا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی بات  کا نوٹس نہیں لیتے جب تک وہ ہماری اپنی ذات پر نہ ہو مگر ہم یہ سب بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم نے کسی دوسرے پر اٹھنے والی انگلی کو نہ روکا تواس امر میں کوئی شک نہیں کہ اگلی بار وہ انگلی آپ پر اٹھے گی۔

 

آج ان کالمز کو پڑھ کر بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ صرف بکواس کہنے پر برہم ہونے والے یہ کیوں بھول گئے کہ آج  اگر انھوں نے ان گالیوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا کہ مخاطب  وہ نہیں بلکہ کوئی اور تھا توصاحب آپ ہرگز یہ مت بھولیے کہ اگر ایسے لوگوں کی زبان بندی نہ کی جائے تو مخاطب بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔

 

میں یہ سوچنے لگی کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کیا کوئی قانون نہیں جس کا جب جی چاہے سربازار دوسرں کی عزتوں پر حملہ کردے کوئی اسکو روکنے والا نہیں۔۔۔

یقینا قانون تو بہت ہیں مگر ان پر عمل کروانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔۔۔

کہا ں تھا پیمرا جب ہر چینل سے ہتک آمیز اور اخلاق سے عاری وہ غلاظت براہ راست اگلی جارہی تھی؟؟؟

کیوں ان چینل کی نشریات کو بند نہیں کردیا گیا؟؟؟ اور آج بھی اتنے دن گزر جانے کے باوجود کیا پیمرا نے کوئی نوٹس لیا؟؟؟

آخری امید کے طور پرمیری نگاہیں اب چیف جسٹس صاحب کی طرف لگی ہیں کہ دیکھیں وہ اس حملہ اور دھمکی پر کب سوموٹو ایکشن لینگے ، میں نہیں جانتی میری یہ امید پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں مگر بس اک آس سی ہے اور میری دعا ہے کہ یہ آس نہ ٹوٹے اور کوئی تو ہو جو کھلم کھلا دھمکی اور شرفاءکی عزتوں پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھوں کو روکنے والا ہو۔

کھوتا پیر یا بابا کھمبا پیر


 

بہت ہی بھیانک منظر تھا میں کچھ لمحوں سے زیادہ نہیں دیکھ پائی اور میرا ہاتھ فورا ہی کی بورڈ کی طرفبڑھا اور میں نے سامنے چلنے والی وڈیو کو اس قدر تیزی سے بند کیا کہ اگر اسے بند نہ کیا تو کہیں میرے ایمان خطرے میں نہ پڑ جاے۔۔۔۔۔۔!!۔بابا

 

یہ شاید ایک سال پہلے یا اس سے بھی کچھ پہلے کا واقعہ ہے جب میں نے ایک دن اپنا میل بکس چیک کیا  توبہت سی میلز کے ساتھ ایک میل ایسی  بھی تھی جس میں ایک ویڈیو کا لنک دیا ہوا تھا اور اوپر جن القابات سے نوازا گیا تھا ان کی وجہ سے میں نے تذبذب کی سی کیفیت میں وہ وڈیو اوپن تو کر لی مگر یہ کیا دیکھا تھا میری نظروں نے ۔۔۔ !!

 

یہ سب توہم نے فرعونوں کی تاریخ میں کہیں پڑھا تھا ایسا منظر تو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

قوالی کے الفاظ کچھ یوں تھے ؛ جس جا نظر آتے ہو سجدے وہیں کرتا ہوں ، ان سے نہیں کچھ مطلب کعبہ ہو یا بت خانہ ۔۔۔ وہ آج کا فرعون تھا جو ایک کرسی پر بیٹھا تھا محفل سماع تھی اور ایک کر کے مرید نامی (پاگل) جانوروں کی طرح چار پیروں پر چلتے ہوے آتے اورآج کے اس فرعون کو سجدہ کرتے {انا للہ وانا الیہ راجعون} اور اس وقت تک سجدے سے سر نہ اٹھاتے جب تک وہ ان کے سروں پر تھپکی دے کر یا سینے سے لگا کر یہ پیغام نہ دے دیتا کہ تم کامیاب ہو گئے۔۔۔ میں اللہ پاک کے قہر اور غضب کا تصور کر کے خوف سے لرز گئی کس قدر کھلم کھلا اسکی خدائی کو چلینج کیا جارہا تھا۔ یہ تکبر یہ غرور اور یہ مقام تو بس اسی کے لیے خالص ہے کسی انسان کی کیا اوقات کہ وہ اس مقام پر آنے کی جسارت کرے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’عزت میری اِزار (تہہ بند) ہے اور تکبر میری (اوڑھنے کی) چادر ہے جس شخص نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو مجھ سے چھینا میں اسے سخت سزا دوں گا‘‘۔ (رواہ مسلم)۔

(جس طرح کوئی آدمی اِزار اور چادر پہنتا ہے تو اس میں کسی دوسرے آدمی کو شریک نہیں کرتا، اسی طرح عزت اور کبریاء اللہ تعالیٰ کی اِزار اور چادر ہیں، لائق نہیں کہ وہ ان میں کسی کو شریک کرے۔ اللہ تعالیٰ نے تشبیہ کے ساتھ مثال بیان کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مثال سب سے اعلیٰ ہے۔ کسی معزز اور ذی شان آدمی کی اِزار (تہہ بند) اور اوڑھی ہوئی چادر کوئی شخص چھیننے اور کھینچنے ی کوشش کرے تو اس کا غصہ اور غضب قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ اور چھیننے والا غالباً قتل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کی عزت پر ہاتھ ڈالے وہ سخت عذاب سے کیسے بچ سکتا ہے؟ (مترجم)۔

ایسی خدائی کے دعوے تو میرے محبوب نبیؐ آخرالزماں نے بھی کبھی نہیں کیے بلکہ آپؐ کی سیرت سے تو پتہ چلتا ہے کہ آپؐ ہمیشہ اپنے صحابہء کرام کو اپنی آمد پر کھڑے ہو کر استقبال سے بھی منع فرمایا کرتے ۔

اور مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار ریاض الجنۃ میں نوافل ادا کرنے کے بعد واپس پلٹی تو حیرانگی سے کچھ خواتین کو دیکھا جو روضہ اقدس کی جانب پیٹھ نہیں کرکے نہیں بلکہ الٹا چل کہ واپس جاتِیں۔۔۔ شروع میں تو میں سمجھی کہ یہ شاید اس لیے اس جانب رخ کیے ہوے ہیں کہ ان کی نظر باہر نکلتے ہوے آخری لمحے تک روضہ اقدس پر ہی رہے مگرمجھے اپنے اس خیال کو اسوقت بدلنا پڑا جب میں نے اگلی بار وہاں موجود منتظمین خواتین کو ایسی حرکت کرنے والی خواتین کو پکڑ پکڑ کر سیدھا کرتے ہوے اور غصہ سے حرام حرام کہتے سنا اور ایک پاکستانی خاتون نے کافی تفصیل سے اس بدعت پر روشنی ڈالی مجھے خیال آیا کہ جب صحابہ کرام اللہ کے نبیؐ کی محفل سے اٹھ کر جاتے ہونگے تو کیا وہ ایسا ہی کچھ کیاکرتےہونگے۔۔۔  اس کا جواب پانےکےلیے سیرتؐ سے مدد لی توجواب نفی میں ملا۔

 

یہ غرور تکبر اور جھوٹی خدائی کے دعوے تو ہر دور کے فرعونوں کا وطیرہ رہے ہیں ۔ جسے رب ذوالجلال خود بھی نے یوں بیان فرمایا

فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى
پھر اس نے کہا: میں تمہارا سب سے بلند و بالا رب ہوں [ ۳۰ :النازعات:۲۴]

یہی تو تھا وہ دعوی فرعون جو اپنے سامنے موجود انسانوں کو زمین پر رینگنے والے جانورں سے زیادہ حیثیت نہیں دیتا تھا۔۔۔ اور اس دن میں یہ وڈیو دیکھ کر ایک تکلیف اور افسوس دہ کیفیت میں یہی سوچتی رہی کہ انسان کو رب نے کتنا اعلی مقام دیا مسجود ملائک بنایا اورمجھے یہ بتانے کی ضرورت ہر گز نہیں کہ کسی بھی انسان کے لیے  خود کو کسی دوسرے کے آگے جھکا دینا اس کےلیے موت سے کم نہیں ہوتا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ انسان اپنی ناک کو کسی سامنے زمین پر رکھدے یہ ناک اسے بہت عزیز ہوتی ہے۔ اسی لیے کتنا پیارا ہے وہ رب جس نے اپنے سواء کسی اور کے سامنے جھکنا ناقابل معافی جرم قرار دے دیا۔۔۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَالِكَ لِمَن يَشَآءُ‌ۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِاللَّهِ فَقَدِ افۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا 48

بے شک الله اُسے نہیں بخشتا جو اس کا شریک کرے اور شرک کے ماسوا دوسرےگناہ جسے چاہے بخشتا ہے اور جس نے الله کا شریک ٹھیرایا اُس نے بڑا ہی گناہ کیا سورة النساء(48
اور کتنا ناشکرا اور بد نصیب ہے وہ انسان جو خود کو چوپایہ بنائے ہوئے کیسی بدمستی کی کیفیت میں ایک انسان کے پیروں کو چومتا ہے ، یعنی وہ اپنے اشرف المخلوقات ہونے کے شرف کو ہی بھلا بیٹھا۔

اسی لیے رب اعلیٰ نے فرمایا ۔۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (4) ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (5) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ
سورة التِّین——— از تفسیر احسن البیان
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا (4
پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا (5
لیکن جو لوگ ایمان لائے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا (6

تفسیر

۔4. اللہ تعالٰی نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قد، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتا ہے، پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔ ہر اہم عضو دو دو بنائے اور ان میں نہایت مناسب فاصلہ رکھا ، پھر اس میں عقل و تدبر ، فہم و حکمت اور سمع و بصر کی قوتیں ودیعت کیں ، جو دراصل یہ انسان اللہ کی قدرت کا مظہر اور اس  کا پر تو ہے ۔ بعض علما نے اس حدیث کو بھی اسی معنی و مفہوم پر محمول کیا ہے ، جس میں ہے کہ اِنَ اللہ خَلَقَ آدَمَ عَلَٰی صُورَتِہِ ( مسلم ، کتاب البروالصلاۃ والاداب )“ اللہ تعالٰی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا “ انسان کی پیدائش میں ان تمام چیزوں کا اہتمام ہی احسن تقویم ہے ، جس کا ذکر اللہ نے تین قسموں کے بعد فرمایا ۔(فتح القدیر)

۔5. یہ اشارہ ہے انسان کی ارذل العمر (بہت زیادہ عمر )کی طرف جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آ جاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی گیا گزرا ہو جاتا ہے اور بعض نے اس سے ذلت ورسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لیے ہے، گویا انسان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انحراف کر کے اپنے احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کے اسفل السافلین میں ڈال لیتا ہے۔

۔ 6 ۔ آیت ماقبل کے پہلے مفہوم کے اعتبار سے یہ جملہ مبینہ ہے مومنوں کی کیفیت بیان کر رہا ہے ، اور دوسرے تیسرے مفہوم کے اعتبار سے ما قبل کی تاکید ہے کہ اس انجام سے اس نے مومنوں کا اسثنا کر دیا ۔ (فتح القدیر

 

اس ایک ویڈیو کے بعد میں نےاور بہت سی وڈیوز دیکھیں جن میں یہ حضرت کہیں گانوں کی تھال پرسالگرہ کا کیک کاٹتے تو اور مریدوں کے ساتھ جھومتے ناچتے نظر آتے ہیں تو کہیں مردہ کو قبر کے اندر کلمہ پڑھانے  کا معجزہ دکھاتے تو کہیں اپنے ہی دیئے ہوئے فتووں کی دوسری کسی ویڈیو میں نفی کرتے ہو ئے غرض کسی بھی معمولی سی عقل رکھنے والے کے لیے بہت کچھ موجود ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ خودسمجھنا چاہے۔

 

اتنا سب منظر عام پر آجانے کے بعد بھی جب میں نے عاشقوں کا ایک ہجوم بیکراں دیکھا تو خاموش رہنا ممکن  نہ رہا کہ:
ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

 

مجھے افسوس اس پر نہیں تھا کہ ایک شخص نے کتنے روپ دھارے ہوے ہیں  میرا موضوع یہ بھی  نہیں کہ وہ کیا مقاصدہیں جنھوں نے ایک کینڈا کی شہریت  رکھنے والے کو یکایک بےتاب کردیا ، یا یہ انقلاب کن کا اسپانسر کیا ہوا ہے ، نہ ہی مجھے اس پر بات کرنی ہیکہ اب یہ کس کاروحانی ظہور ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ اس کنگا میں کون کون ہاتھ دھونے والا ہے [ کہ ان سب کے لیے اگلا کوئی بلاگ سہی ] مگر ابھی تو میرا دکھ کچھ اور ہے اور میرا قلم تو دراصل آج لاکھوں کے اس مجمع پر ماتم کنعہ ہے جو نجانے کہاں سے لائے گئے [ خود کو بہلانے کو میں نے یہ گمان کیا کہ انہیں لایا گیا ہے۔

 

مگر میں زیادہ دیر خود کو ان گمانوں سے بہلا نہ سکی کہ مجھے ابھی کچھ دن پہلے گردش کرتی ہوئی یہ خبر شرمناک حقیقت کو آشکار کرتی نظر آٗئی  کہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے مضافات میں بارہ کہو کے قریب بجلی کے ایک کھمبے کو مزار میں تبدیل کردیا گیا ہے اور یہاں لوگ بڑی تعداد میں منتیں مرادیں مانگنے بھی آرہے ہیں۔ اس مزار کو درگاہ بابا کھمبے کا نام دیا گیا ہے۔ بجلی کے اس کھمبے کی چاردیواری کر کے یہاں مجاور بھی بیٹھ گئے ہیں جو یہاں آنے والوں سے نذرانے اور چڑھاوے وصول کرتے ہیں۔ ان مجاوروں کا دعوی ہے کہ یہاں آنے والوں کی ہر دلی مراد باباجی کے حکم سے پوری ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے جب واپڈا حکام سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ مذہبی معاملہ ہے اس لئے وہ اس میں دخل نہیں دے سکتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس کھمبے سے بجلی   کی  تاریں دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہےہیں تاکہ بابا کھمبے کے مزار پر آنے والوں عقیدت مندوں کو کرنٹ نہ لگے۔
اور پھر مجھے یاد آیا کہ ایک بار ایبٹ آباد جاتے ہوئے راستے میں ہم نے ایک مزار دیکھا جو’ کھوتا پیر ‘کے نام سے مشہور ہے ۔۔اور معلوم کرنے پر جب اس مزارکی عظیم تاریغ کا علم ہوا تو جو حالت دل و دماغ کی ہوئی وہ ناقابل بیان۔۔۔ کہ کئی دن تو خود کو یہ یقین دلانے میں صرف۔۔۔ ہوئے کہ نہیں الحمد للہ ہم اب تک انسان ہی ہیں۔

 

تاریخ کچھ یوں تھِی کہ اس جگہ ایک شخص کو اپنے گدھے سے بہت محبت تھِی جب گدھا مرگیا تو اسنے جوش محبت میں اسکی قبر بنا دی جس کا علم گردو نواح کے تمام لوگوں کو ہے مگر وہ قبر آہستہ آہستی ایک مزار کی صورت اختیار کر گئی اور اب اسکا نام ہی’ کھوتا پیر’ ہے اور بابا کھوتا پیر کے مزار پرعقدت مندوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

 

میں یہ سوچنے لگی کہ جو قوم کتے کے گوشت کو بکرے کا بنا کر بیچ سکتی ہے ، مردہ مرغیوں کو سستے داموں خرید کرہوٹلوں کی نذر کر سکتی ہے ، غیروں کی پاگل گائے بیلوں کو عزت کیساتھ اپنے ملک میں قبول کر سکتی ہے ، بجلی کے کھمبوں سے دعائیں مانگ سکتی ہے۔۔۔تو پھر وہ اپنے ہی جیسے انسان نما فرعونوں کو سجدے اور گدھوں کو پیر بھی بنا سکتی ہے۔

 

میں بہت دیر اضطراب کی سی کیفیت میں بیٹھِی بس یہی سوچتی رہی کہ ہم کب تک اپنی سوچوں اور عقلوں کو تالے لگا کرکولہو کے اس بیل کی مانند  رہیں گے جس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک ناختم ہونے والے گول چکر میں ڈال دیا جاتا ہے اور وہ بیل بس چلتا ہی رہتا ہے چلتا یہ رہتا ہے شاید یہ سمجھ کر کہ اسکا راستہ بس طے ہونے ہی والا ہے مگر وہ اس دردناک حقیقت سے زندگی بھر واقف نہیں ہو پاتا کہ راستہ تودراصل ابھی شروعہی نہیں ہوا!!

 

اک سوچ تھی جو بار بار ستا رہی تھی کہ کیا اس قوم کے بدلنے کی کوئی آس ہے ۔۔مگر جواب بڑا ہی تکلیف دہ تھا۔

کوئی امّید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

 

جو قوم کھمبوں اور گدھوں کو پیر بنانے لگے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ یہ تو اللہ کی بھی سنت ہیکہ وہ ایسی نا ہنجاز قوموں کی جگہ پھر دوسری قوم اٹھاتا ہے۔۔۔ اور اس امر میں کوئی شک نظر نہیں آتا کہ اگر اب بھِی ہم نے من حیث القوم اپنی روش نہ بدلی توایک بھیانک انجام ہمارا منتظر سامنے ہی کھڑا ہے۔

 

میں اس انجام کا سوچ کر خوف کی حالت میں بس یہی دعا کر پائی۔۔۔ اللھم لا تقتلنا بغضبک ولا تھلکنا بعذابک و عافنا قبل ذٰلک
یا اللہ ہمیں اپنے غضب سے ہلاک نہ کرنا اور اپنے عذاب سے ہلاک کرنا اور اس سے قبل ہی ہمیں بچا لینا۔آمین

رشتوں کو پامال کرتا عشق ممنوع


 

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ بہت دیر تک صرف یہی سوچتی رہی کہ میں کہاں سے اور کیسے شروع کروں ؟

 

آج مجھے الفاظ کا چناوٴ انتہائی دشوار لگ رہا تھا شائد یہی وہ دشواری تھی جس کو ختم کرنے کے لیے ہمارا میڈیا نے دن رات ایک کیا ہوا ہے اور وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی کو بھی کچھ سوچنا نہ پڑے بلکہ جو جس کے جی میں آےٴ وہی کرے وہی بولے بس کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ اور ہر شخص مادر پدر آزاد ہو جاےٴ۔ishq-e-mamnoon

 

آج ہمارا میڈیا ان احادیث نبوی ﷺ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے  اور

جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمھارے جی میں آےٴ کرو۔ ﴿بخاری،مشکواة،باب الرفیق والحیاء﴾

یعنی حیا ہی دراصل وہ رکاوٹ ہے جو  انسان کو بر ے اور فحش کام کرنے سے روکتی ہے۔ میرے سامنے وہ تصویر کئی بار آئی جس میں اس وقت   ًعشق ممنوع ً کے نام سے چلنے والے ترکی کے مشہور اور حیا باختہ ڈرامے کی مذمت کی گئی میں نے چونکہ ڈرامہ نہیں دیکھا اس لیے اسکے بارے میں ذیادہ معلومات نہیں تھی مگر جب میں نے اسکے بارے میں تفصیلات معلوم کیں اور جو کچھ میں نے سنا اسکو بیان کرنے کے میرے پاس الفاظ نہیں۔

 

کون ہے جو اس تباہی کا اندازہ لگاے جو باقائدہ پلاننگ کے ساتھ صرف ہماری نئی نسل کو ہی نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کو کس پستی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے  اور اس میدان میں ہمارے اپنے میڈیا نے کیا کم کارنامے انجام دیے ہیں؟ جس نے جنس مخالف کو بس ایک جنس پر کشش بنا کر پیش کیا۔

 

یہ بہت پرانی بات نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بارہ تیرہ سال کا بچہ جو اپنے سے ذرا بڑی لڑکی کو باجی اور ایک تیس سے اوپر کی خاتون کو آنٹی کی نظر سے دیکھتا اور کہتا تھا آج میڈیا اسے سکھاتا ہے کہ بڑا اور چھوٹا کچھ نہیں ہوتا عورت صرف عورت ہوتی ہے جس میں صرف کشش ہوتی ہے اسے اسی نگاہ سے دیکھو اور اس سے کسی بھی عمر میں عشق کیا جاسکتا ہے۔ باجی، بہنا، سسٹر ، آنٹی، خالہ۔۔۔ یہ سب بس القابات ہیں انکے کوئی حقیقی معنیٰ نہیں۔۔۔

 

مجھے اس خوفناک صورتحال کا اندازہ تب ہوا جب کچھ عرصہ پہلے  مجھے سکول میں جاب کا شوق ہوا ﴿یہ کوئی گلی محلے کا اسکول نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمارے یہاں کے ویل ایجوکیٹڈ کلاس سمجھے جانے والے ایک ادارے کا اسکول تھا﴾

 

میرا پہلا دن تھا کلاس دوم دی گئی تھی، بچے بچیاں سب ہی تھے سب سے تعارف ہوا جب پیریڈ ختم ہونے لگا کچھ بچے قریب آےٴ میں کاپیز چیک کرنے میں مصروف ایک آواز آئی۔۔۔ ٹیچر ۔۔۔

میں نے گردن اٹھاےٴ بغیر جواب دیا۔۔۔ جی بیٹا جان بولیے۔۔۔

مگر میرے ہاتھ سے پین گرا اور میں بہت دیر تک اسے اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔ یہ کیا سنا تھا میرے کانوں نے ایک اور بچہ جو شاید اس بچے کے ساتھ تھا اس سے بولا۔۔۔ اوئے ہوےٴ دیکھ تجھے جان بولا ٹیچر نے۔۔۔ چل اب تو ایک پھول لا کر دے ٹیچر کو۔۔۔ دوسری جماعت کا وہ بچہ جو میرے اپنے بیٹے سے عمر میں چھوٹا اور شائد آٹھ سال کا تھا۔

 

ایک بار جی چاہا کہ زوردار تھپڑ لگاوٴں مگر اگلے ہی لمحے خیال آیا یہ معصوم ذہن انکا کیا قصور؟؟؟

تھپڑ کے مستحق تو وہ ماں پاب، وہ معاشرہ، وہ میڈیا ہے جس نے ان پاکیزہ اور فرشتہ صفت ذہنوں کو اسقدر پراگندہ کر دیا کہ رشتوں اور رتبوں کا تقدس سب جاتا رہا۔

 

مجھ میں مزید کچھ سننے کی سکت نہیں تھی۔۔۔میں دکھ اور افسوس کی کیفیت میں بریک میں بھی کلاس ہی میں بیٹھی رہی کہ اسٹاف روم جانے کی ہمت نہیں تھی ،اچانک میری نظر کھڑکی کے باہر کی جانب پڑی تو وہی بچہ ہاتھ میں پھول لیے کھڑا تھا اور اسکی دیکھا دیکھ اور کئی بچے اور بچیاں بھی ھاتھوں میں پھول لیے کلاس روم میں داخل ہوےٴ اور سب نے ٹیبل پر پھول رکھے اور کہا ۔۔ ٹیچر یہ آپ کے لیے ۔۔۔ اب وہ سب منتظر تھے کہ ٹیچر خوش ہونگی ۔ میں نے تھینکس کہا اور پڑھائی شروع کرادی۔

 

چھٹی ٹائم ایک بچی قریب آئی اور بڑے سلیقے سے سارے پھولوں کو سمیٹ کر گلدستہ کی شکل دے کر  میرے ہاتھ میں دیتے ہوےٴ بڑے لاڈ سے بولی ٹیچر یہ لیجانا مت بھولیےگا اس کے ساتھ باقی سارے بچے بھی میرے گرد جمع ہوچکے تھے میں نے وہ گلدستہ ہاتھ میں لیا اور کھلتے ہوےٴ رنگ برنگی پھولوں کو دیکھا پھر ایک نگاہ ان معصوم پھولوں پر ڈالی جنکی معصومیت، پاکیزگی کو کس بے دردی سے کچلا جا رہا ہے اور اس گلستاں کا مالی کسقدر بے خبر ہے۔ مالی تو اپنے باغ کے ایک ایک پھول سے باخبر ہوتا ہے اور کوئی پھول ذرا وقت سے پہلے مرجھانے لگے تو مالی کی جان پر بن آتی ہے مگر میرے گلشن کا یہ کیسا مالی ہے جس کو خبر ہی نہیں کہ اس کے باغ کو کو ئی اجاڑ رہا ہے برباد کر رہا ہے۔

 

دل ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم

﴾ ﴿سارا دل داغ داغ ہوگیا،پھاہا کہاں کہاں رکھوں

 

اس دن مجھے سمجھ آئی کہ  میڈ یا پر ایک انجن آئل کے اشتہار سے لیکر اور ایک روپے کی ٹافی تک میں عورت کی اس نمائش اور ڈراموں میں حیا سوز منظردکھاےٴ جانے کے اس نسل پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

 

ہم تو ابھی انھیں زخموں کو سہہ نہیں پاےٴ تھے کے یہ ایک اور کاری ضرب اس لادین میڈیا نے ًعشق ممنوعہ ً کی صورت میں ہمارے رشتوں پر لگائی۔۔۔

 

بخدا مجھے اس لائن سے آگے لکھنے کے لیے اپنی ساری قوت جمع کرنی پڑی کہ

چچی اور بھتیجے کا رشتہ یا میرے خدایا۔۔۔

ماں کے برابر رشتے کی ایسے آبرو ریزی۔۔۔

یعنی اب ہمارے خاندانوں کے تقدس کو اس طرح پامال کیا جائیگا؟؟؟

ایک وقت میں کئی کئی عشق کیے جانے کا سبق ۔۔۔

کم عمر اور کچے ذہنوں کو کس بری طرح دلدل کی نذر کیا جارہا ہے۔۔۔

 

اور میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب مجھے یہ پتہ چلا کے یہ ڈرامہ اس وقت کا مقبول ترین ڈرامہ بن چکا ہےاور بہت بے غیرتی کے ساتھ وہ مکمل ہونے جا رہا ہے۔ میں یہ سوچنے لگی کہ ہمارے میڈیا کو اپنی گندگی میں کمی محسوس ہوئی کہ اب ہم  پر دوسروں کی گند گیوں کو بھی انڈیلا جا رہا ہے۔

 

مگر شائد جب تک ہم غلط باتوں کو اسی طرح ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرتے رہیں گے یہ یلغارہم پر یوں ہی جاری رہےگی اس لیے کیونکہ ہم میں﴿ تھرڈ کلاس﴾ تیسرے درجے کا ایمان بھی نہیں رہا کہ کم از کم ہم برائی کو برائی سمجھیں بلکہ ہم تو اسکی تاویلیں تلاش کرنے لگتے ہیں، مجھے بھی ایسی تاویلیں سننے کو ملیں کہ اس ڈرامے کا انجام بہت برا دکھایا گیا ہے اور سبق آموز ہے مگر آپ یہ یاد رکھیے  برائی کی تشہیر برائی کو کئی گناہ بڑھانے کا تو باعث بن سکتی ہے مگر اس میں کمی کا سبب ہرگز نہیں بن سکتی اسی لیے برائی کی تشہیر کا نہیں اس کو دبا دینے کا حکم ہے۔

 

رب کی وہ تنبیہ بھی یاد کر لیجیے

جو لوگ اہل ایمان میں بیحیائی کو پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ ﴿النور؛  ١۹ ﴾

 

اور  مجھے خوفزدہ کر دیا حدیث نبوی ّ کے ان الفاظ نے کہ

الله تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔

 

میرا دل خوف سے ڈ وبنے لگا کہ کیا ہمارے لیے بھی فیصلہ کرد دیا گیا؟؟؟

کیا ہم پر بھی بے حیا وٴں کی مہر ثبت ہو گئی۔۔۔

اس سے آگے میں کچھ نہیں سوچ پائی۔۔۔

 

آپ اگر سوچ سکیں تو ضرور سوچیں اس سے پہلے کہ سوچنے کی مہلت بھی نہ ملے۔۔۔

 

دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو۔۔۔


 

پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ذیشان عباسی کو ناشتے کی ٹیبل پر گلاس میں پانی کی جگہ تیزاب دیا جسے پی کر انکی حالت بگڑ گئی اوروہاں ہسپتال لیجانے والا کوئی نہیں اور جب ہسپتال پہنچےتو وہاں اٹینڈ کرنے والا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں اور کافی دیر وہ اسی حالت میں ڈاکٹر کا انتظار کرتے رہے۔z

اوہ میرے خدایا۔۔ یہ خبر کیا تھی ایک انسانیت کے کمترین درجے سے بھی گری ہوئی حرکت کوئی دشمنی اسقدر اندھا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ انتہائی گھناونی حرکت اپنی ہار کا بدلہ۔۔۔۔ (جو ایک دن پہلے ہی پاکستان بلائنڈ ٹیم نے ہندوستان کو آٹھ وکٹوں سے ہرایا تھا)۔۔۔۔ مگر مجھے یقین کرنا پڑا خود کو اور بھی بہت کچھ یاد دلا کر۔۔۔۔ کہ یہ ہندو بنیا جس کی فطرت ہے “بغل میں چھری منہ میں رام رام” یہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔

 

آپ کتنے ہی امن کی آشا کے گیت گائیں اپنے چینلز کو بھگوان کی مورتیوں سے آراستہ کر لیں، اپنے خبرناموں تک کو انڈین گانوں سے سجا لیں یا اپنے گھروں میں صبح و شام بھجن بجوالیں۔

یاد رکھیں اس بنیے کی آپ سے دشمنی میں ہر گز کوئی کمی نہیں واقع ہوگی اور آپ اسی طرح اسکی دشمنی کے مظاہرے کبھی کشمیر کےحریت رہنماوں کے پاکستان آنے پر پابندی کی شکل میں تو کبھی کشمیر میں عمر قید کی سزاوں کی صورت میں (پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران مختلف بھارتی جیلوں میں قید کم از کم بیس کشمیریوں کو عمرقید کی سزائیں سنائی گئیں) الٹا بھارت ہر موقع پر الزام تراشیوں کو جواز بناکر عالمی سطح پر پاکستان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ہمارے حکمران عالمی سطح پر تو درکنار بھارت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اس کو ان سب ہتھکنڈوں پر تنبیہ کرنے کی ہمت بھی نہیں کرتے۔

 

کون نہیں جانتا کہ بھارت پاکستان کا ازلی اور بزدل دشمن ہے جو کبھی بھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا۔ من موہن سنگھ کا حالیہ بیان اس کی واضح دلیل ہے مگر ہمارے حکمرانوں نے تو بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دے کر اس کے ساتھ اوپن ٹریڈ شروع کر رکھی۔

 

آج اس بھیانک واقعہ نے امن کی آشا کا ایک اور تحفہ پاکستان کو دیا اورکیا کہوں کہ۔۔۔

افسوس ہوتا ہے ان دانشوروں پر جو امن کی آشا کی ڈگڈگی اپنے ہاتھوں میں لے کر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔

 

امن کی آشا کا راگ الاپنے والا میڈیا جوبال ٹھاکرے کی موت سے لیکر آخری رسومات ہوں یا ثانیہ مرزا کی شادی کی ہفتوں پہلے سے ایک ایک لمحہ کی لائیو کوریج دکھانے کی دوڑ میں سب سے آگے تھا  (تف ہے جب کچھ نہیں بچا تو انکے بیڈروم کے باتھ روم تک کی کوریج گئی) کیا پاکستانی کپتان کو تیزاب پلانے کی خبر کو بھی ایسے ہی کوریج دی گئی؟

دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو۔۔۔۔

کہ اتنا سب ہوجانے کے بعد بھی ہمارے ارباب اختیار کے حوصلوں کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے اس تکلیف دہ خبر کے بعد جو اگلی خبر آئی وہ ہماری بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہمارے چئیر مین بی سی پی صاحب کا فرمان جاری ہوا کہ اس واقعہ سے پاک بھارت کرکٹ سیریز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

تو جناب آپ نے بلکل بجا فرمایا کہ یقینا ایسے سانحات کسی باعزت اور خودار قوم کے اوپر تو اثر انداز ہو سکتے ہیں مگر بے حس اور مردہ قوموں پر یہ کیا اس سے بھی بڑے بڑے سانحات بھی  گزر جائیں تو بھی انکی حالت وہی ہوتی ہے جو آج ہماری ہے۔۔۔ اپنی ٹیم کے کپتان کو تیزاب پلوا کر بھی اب تک وہیں موجود ہیں۔۔۔

 

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ذیشان عباسی کو شفا کاملہ و عاجلہ نصیب فرمائے۔۔۔ آمین!

 

میں یہ سوچنے لگی اگر یہ واقعہ کسی اورٹیم کے ساتھ پاکستان میں پیش آتا تو اس وقت  صورتحال کیا ہوتی مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پوری دنیا کا میڈیا اس وقت صرف اس ایک ایشو پر لگا ہوتا ہمارا اپنا پورا میڈیا وہاں لائیو کوریج کے لیے موجود ہوتا اور طالبان نے بھی اب تک ذمہ داری قبول کر لی ہوتی تو صاحب زندہ قومیں ایسے ہی دنیا کو ہلا کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔

 

اور جو ہماری طرح امن کی آشا کے گیت گانے میں لگی ہوتیں ہیں وہ ایسے ہی تحفے وصول کرتی اور اس مشرقی بیوی کی طرح جو شوہر کی مار کھا کر بھی یہی کہتی ہے سرتاج آپ جو مرضی کر لیں مگر میرا دم آپ ہی کے قدموں میں نکلے گا۔۔۔

 

تو آ پ بھی انتظار کیجیے امن کی آشا کے مزید تحفوں کا!!

%d bloggers like this: