Category Archives: Uncategorized

Israel’s Childsnatchers attack again: 7 Palestinians rounded up by IOF including 5 minors


Israel’s Childsnatchers attack again: 7 Palestinians rounded up by IOF including 5 minors.

Advertisements

MOH Press Release: Another massacre, this time in Khan Younis


MOH Press Release: Another massacre, this time in Khan Younis.

"انتخابات 2013 اور جماعت اسلامی ” ایک تجزیہ


مصنف : جویرہ سعید

٢٠١٣کے انتخابات کئی اعتبار سے جماعت اسلامی کے لئے اہم تھے اور کارکنان کو بہت پر امید اور پر جوش کیے ہوے تھے. پہلی مرتبہ کسی سے اتحاد کیے بغیر اپنے نام اور منشور کے ساتھ اتخابات میں شرکت، پچھلے برسوں میں مختلف شعبہ ہاے زندگی میں کی گئی محنت، مثلا بہت سے فلاحی اور تعلیمی اداروں کا قیام،اور بے شمار منصوبوں اور پروجیکٹس،کی بنا پر عوام میں بڑھتا ہوا نفوذ، MMA کے دور حکومت اور کراچی کی میر شپ کے دوران حکومت کا تجربہ،اور کمائی جانے والی نیک نامی وہ امید کی کرنیں تھی جو کارکنان کو سرگرم کر رہی تھیں. دوسری طرف ملک کے بدترین حالات، لاقانونیت، کرپشن، مہنگائی، ملکی سلامتی کو در پیش خطرات کے سبب عوام میں بڑھتا ہوا غم و غصہ اور بظاھر روایتی سیاسی جماعتوں سے بے زاری بھی امید دلا رہی تھی کہ عوام متبادل قوتوں کے منتظر ہیں، اور جماعت کی گزشتہ برسوں میں کی گئی محنت اس کو اس متبادل قوت کے طور پر سامنے لا رہی ہے. لہٰذا کارکنان اور خصوصا نوجوان نسل نے بری محنت اور جوش و جذبے سے کام کیا اور اب تک مختلف پہلوؤں سے جو کمیاں محسوس ہوتی تھیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی. جیسا کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے جماعت کے مکمل black out کے نقصانات کو زبردست سوشل میڈیا مہم کے ذریے پورے کرنے کی کوسش قابل ذکر بھی ہے اور قابل ستائش بھی

 

لیکن ان سب کے بعد انتخابات کے نتایج اور کراچی میں انتخابی عمل کے boycott نے ان پر جوش کارکنان میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی. جماعت کے زبردست نظام سمع و اطاعت اور تربیت نے الحمدللہ کوئی انتشار یا بد مزگی تو نہیں پیدا ہونے دی، لیکن اندرون خانہ کارکنان سے لے کر ہمدردوں اور متاثرین تک میں صدمے، اضطراب،اور مایوسی کی تند و تیز لہریں اٹھتی رہی ہیں. خصوصا ان افراد میں جنہوں نے انتخابات میں بہت جوش و جذبے اور اچھے نتایج کے یقین کے ساتھ حصہ لیا تھا. مختلف سوالات ہیں جو مضطرب ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں،ان میں دو سوالات اہم ہیں،

 

١) انتخابات میں ناکامی کہیں خود جماعت کی ناکامی تو نہیں، یہ اس بات کا مظہر تو نہیں کہ جماعت اپنی دعوت کے نفوز میں ناکام رہی ہے. اور کیا جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ عمومی تاثر درست ہے کہ یہ ایک ناکام جماعت ہے جو کبھی بھی خاطر خواہ سیٹیں نہیں لے سکی اور عوام کی نمایندہ جماعت نہیں بن سکی؟ ٢) جماعت کو ان ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، جس کے لئے اس کو ایک زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے، اور یہ تبدیلی افکار و طریقہ کار اور mind set سب میں ناگزیر ہے. اور جماعت ان کو اختیار کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟

 

ہم نے یہاں سوالات کا الگ الگ تجزیہ کرنے کی کوسش کی ہے. پہلا سوال اب تک کی گئی جدو جہد سے متعلق ہے اور دوسرا سوال آنے والے وقتوں میں درست سمت میں چلنے کے لئے تبدیلی اختیار کرنے سے تعلق رکھتا ہے.

 

پاکستان میں انتخابات کا عمل، عوام کی اس میں شرکت، اور اس کے نتایج دو اور دو چار کی طرح سیدھا معاملہ نہیں ہے. اس میں بہت سے عوامل دخل انداز ہوتے ہیں. لسانی ، صوبائی، مسلکی عصبیتیں، جاگیر دارانہ نظام اور وڈیرہ شاہی، دولت کا عمل دخل، لاقانونیت، عوام میں خواندگی کی شرح اور سیاسی بیداری کی کمی، بیرونی طاقتوں کی ملکی حالات پر گرفت، ملکی اداروں کا ان کے زیر اثر اور جانبدار ہونا ،سب ہی اہم ہیں. مذہبی جماعتوں سے پاکستانی قوم کی عقیدت اور وابستگی اپنی جگہ اور عملی زندگی میں الگ معیارات ہوتے ہے. اس اعتبار سے پاکستانی قوم ایک منفرد قوم ہے. مصر، ترکی، اور دوسرے ممالک کے بر عکس اس قوم نے اسلام مخالف قوتوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا. مذہبی معاملات پر یہ مخالف قوتوں کے خلاف مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر سینہ سپر ہو جاتی ہے، کہ مذہب بے زر قوتوں کو بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتی ہے اورانھیں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنا کام کرنا پر تاہے.دوسری طرف اپنی اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو مذہب کے مطابق ڈھالنے اور روایتی مذہبیت سے بڑھ کر عملی تقاضوں کو پورا کرنے میں وہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں اتی. یہی تناقص سیاسی میدان میں مذہبی جماعتوں کا ساتھ دینے میں بھی مانع رہا ہے.

 

ان سب زمینی حقائق کے پیش نظر جماعت اسلامی جیسی اصولی موقف اور طریقہ کر رکھنے والی پارٹی کے لئے انتخابات ایک بہت بڑا چیلنج ہوا کرتے ہیں.اتنے بہت سے محازوں پر چو مکھی لڑائی لڑنا،اور اپنے دامن کو ان سری آلائشوں سے بچاتے ہوے کامیابی کے لئے کوششیں کرنا اتنا آسان نہیں. اور اسی بنا پر دوسری جماعتوں کے ساتھ موازنہ بھی معقول نہیں لگتا. اس سری صورتحال میں ہمارا ایک ووٹ بھی بھرتی کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے بری عرق ریزی اور محنت ہوتی ہے.

 

ان سب باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جماعت سے غلطیاں نہیں ہوئیں. ظاہر ہے کہ کوئی بھی صاحب عقل ایسی بات نہیں کر سکتا. بلا شبہ غلطیاں بھی ہوئی ہیں، اور ان کا گہرائی سے تجزیہ اور بروقت اصلاح بھی ضروری ہے، لیکن یہاں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ غلطیوں کا تجزیہ اور تنقید بارے اصلاح اور چیز ہے اور انتخابات میں ناکامی کی بنا پر پوری تحریک اور اس کی جدوجہد کو سوالیہ نشان بنا دینا اور بات ہے.

 

بیان کیے گئے عوامل کے پیش نظر ہماری راہے یہ ہے کہ انتخابات میں ناکامی یا کامیابی کو جماعت کی دعوت کے نفوذ کا معیار نہ ہی بنایا جاے تو بہتر ہے.بلکہ اس کو کچھ اور ہی اثرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے.

 

گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے حالات اور چلینجز کو دیکھیں، اور اس کے مقابلے میں مذہبی قوتوں اور خصوصا جماعت اسلامی کی جدوجہد کا جایزہ لیں تو یہ کہے بغیر رہنا ممکن نہیں کہ یہ الحمدللہ جماعت کی دعوت کی روز افزوں ترقی کا سفر ہے. جو جماعت ستر افراد اور ستر روپوں سے شروع ہوئی ، تمامتر کٹھنائیوں کے باوجود آج اس کے کارکنان، ہمدردوں اور متاثرین کی تعداد اور اثاثوں کا اندازہ لگائیں. اسلامی دستور کی تیّاری، کمیونزم اور سیکولرازم ،غیر ملکی مداخلت کے مقابلے میں کامیاب جدوجہد ، ہر شعبہ زندگی میں اسلام پسند رحجانات اور افراد کا پایا جانا، اسلامی نظام، احکامات، اصطلاحات اور شعائر کے حوالے سے عمومی نقطۂ نظر میں مثبت تبدیلیاں (acceptance) ، نظری اور عملی اعتبار سے ان کے قابل عمل اور مفید ہونے کا اعتراف (اقتدار و اختیار کی طاقت کے بغیر ہی ) اور ان کے حوالے سے stereotypes میں تبدیلیاں،بے شمار فلاحی و تعلیمی اداروں اور منصوبوں کا قیام  پرہے لکھے اور دیانت دار افراد کی ایک کھیپ کا تیّر ہو کر ہر شعبہ زندگی میں مصروف عمل ہونا، اور پوری دنیا  ان افراد اور دعوت کے ذزایو کے ذریے بے شمار اسلامی تحریکوں کا پھلنا پھولنا وار تقویت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خیر کثیر ہے جو جماعت کے حصّے میں آیا ہے. یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقتدار و اختیار کے ایوانوں میں رسائی کے سلسلے میں اس جماعت کو جس قدر تسلسل کے ساتھ ناکامیاں دیکھنی پڑی ہیں، اس کے باوجود نہ اس کا سفر رکا اور نہ ہی وہ کسی بری تقسیم کا شکار ہوئی، بلکہ روز بروز آگے بڑھتی جا رہی ہے. اس کے برعکس دوسری پارٹیز نے ہمیشہ اقتدار کے مزے بھی لوٹے، بیرونی طاقتوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی، دولت کے سر چشموں کو سے بھی مستفید ہوتے رہیں، اور معاشرے میں پائی جانے والی کمزوریوں کا بھی ہمیشہ ان ہوں نے فائدہ اٹھایا. اس کے باوجود وہ مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم دار تقسیم سے بھی دو چار ہیں.

 

ان اتخابات کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اٹھ رہا ہے کہ جماعت اسلامی جیسا نصب العین اور طریقہ کر رکھنے والی تحریک کے لئے انتخابات والا option کام آ بھی سکتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے، لکن اس سوال کا اٹھنا بذات خود اس بات کا مظہر ہے، کہ انتخابات میں ناکامی کی وجہ محض دعوت کے نفوذ اور محنتوں میں کمی ہی نہیں بلکہ یہ دوسرے عوامل بھی اہم ہیں.

 

یہاں ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہیں کہ غلطیوں کا ہونا اپنی جگہ مسلم ہے اور اصلاح بھی بہت ضروری ہے، لکن شدید بےچینی اور کسی حد تک مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم انتخابات کی ناکامی کو اپنی جماعت کی ناکامی یا کامیابی کا معیار بنا رہے ہیں. ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لمحات کو طول دیے بغیر نئے عزم و حوصلے کے ساتھ تعمیری تنقید اور اصلاح کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھایا جے.

 

دوسرا سوال جماعت کے افکار و طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت اور جماعت کی طرف سے اس سے گریز سے متعلق ہے. اس سلسلے میں جو بحث جاری ہے اس کا حاصل یہ کہ جماعت کو وقت کے تقاضوں اور ناکامیوں کی پیش نظر تبدیلیوں کے لئے تیّار بھی رہنا چاہیے، اپنے اندر جذب بھی کرنا چھیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کو اختیار بھی کرنا چاہیے. اس بحث کا ایک "silent observer” کی حیثیت سے ہم نے جو جایزہ لیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کا یہ مطالبہ دو مختلف گروپس کی جانب سے ہے. بادی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بری تعداد میں لوگ تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر کچھ وجوہات کی بنا پر ان پر غور نہیں کیا جارہا. لیکن ذرا سا گہرا مطالعہ اور مشاھدہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ ان دونوں گروپس کے نظریات و مطالبات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. یہ دوطرح کی سوچیں intellectual سطح سے لے کر عام ذہنی سطح تک نظر اتی ہیں. اس لئے تبدیلی کا یہ عمل اتنا آسان نہیں جتنا بظاھر معلوم ہوتا ہے.

 

ایک گروہ وہ ہے جو برس ہا برس کی روایات ، طے شدہ اصولوں اور معیارات پر سختی سے قائم ہے،اور لچک اور وسعت کو طغیانی، اور اصل سے انحراف سے تعبیر کرتا ہے، ان کے مطابق ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ، لچک اور وسعت کے نام پر ہم اپنے اصولوں سے انحراف کرتے رہے ہیں، اگر :حقیقی کامیابی” مطلوب ہے تو "اصل” کی طرف واپس لوٹنا ہو گا. دنیا اور اس کے حالات کو سمجھ کر اپنی reshaping کے بجاے دنیا کو اپنی دعوت اور standards کے مطابق ڈھالا جاے. اور اسی حوالے سے اپنی دعوت کو موثر بنایا جاے. اس نقطہ نظر کے بہت سے shades ہیں، جو مختلف روےیوں میں نظر اتے ہیں. اس گروہ کی قیادت علمی شخصیات کے ہاتھ میں ہے، جن کا علمی اور نظری سرمایا اسلاف کا علمی زخیرہ ہے، اور بادی نظر میں ان کا موقف قرآن و سنّت کے این مطابق بھی نظر اتا ہے.

 

دوسرا گروہ وہ ہے جو بدلتے ہوے حالات ، اور اس کے تقاضوں کو مد نظر رکھنے ، اسلام کی آفاقیت اور اجتہادی قوت کو بروے کار لانے، بنیادی اسلامی اخلاقیات کو مرکز دعوت بنانے اور اسی حوالے سے نظریات اور معاملات کو وسعت اور لچک دینے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے. مقصد زیادہ سے زیادہ لوگو ں کو ہمرکاب بنانا اور اسلام کے دامن رحمت میں سمیٹنا ہے.اس گروہ کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کو خطے سے بہار نکل کر نئی دنیاؤں میں کام کرنے کے مواقع میسّر آہے ہیں.اور اس کے لئے وہ عالم اسلام میں برپا اسلامی تحریکوں کی بدلتی ہوی پالیسیز ، stretegies اور ان کے مثبت نتایج کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں.

 

ان دونوں گروپس کے اخلاص، اپنے اپنے دائروں میں کی گئی محنت تجربات اور دلائل کے معقول ہونے سے انکار ممکن نہیں. ان کا اصرار بھی سمجھ میں اتا ہے. لکن ان کا اختلاف اس بات کا مظہر ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو من و عن اپنا لینا اور دوسرے کو خاطر میں نہ لانا ممکن نہیں ہے. گو کہ ہر دو کا اصرار یہی ہے، لکن تحریک کی قیادت کے لیے یہ ہی کرنے کا کام ہے کہ دونو کے بین بین کیسے درمیانی راستہ نکالا جاے. اور یہی قیادتوں کا امتحان ہوا کرتا ہے کہ وہ لمحہ موجود سے بلند ہو کر انے والے وقتوں کے لئے تحریک کا صحیح رخ متعین کر دیں. لکن ساتھ ساتھ خود ان گروپس کے افراد کو بھی درمیانی راستہ اختیار کرنے کے لئے ایک دوسرے ک راے کا احترام اور اپنے موقف کی کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہو گی.ورنہ یہ سب صرف اختلاف اور شور ہی رہے گا، اور اس سے انتشار، تلخیوں، بد گمانیوں اور تقسیم کے سوا کیا حاصل ہو گا ہم نہیں جانتے. اسی لیے ہم کہا کرتے ہیں، مسائل کے حل کو ذرا ایک طرف رکھئے، پہلے آئیے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں.”

"سانحہ کرب و بلا ” سمیعہ راحیل قاضی


"سانحہ کرب و بلا ” جامعہ حفصہ کے حقائق جانیے  سمیعہ راحیل قاضی کا آنکھوں دیکھا حال ۔۔۔

S1

S2 S3 S4 S5 S7 S8 S9 S10 S11 S13 S14 S15 S16 S17 S18 S19 S20 S21 S22 S23 S24 S25 S26 S27

کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟


میرے مطابق . . . ڈاکٹر شاہد مسعود
جُرم تو صرف اتنا تھا کہ وہ معاشرے سے بد کاری کے خاتمے کا عزم لئے۔۔۔باہر نکلیں اور ایک قحبہ خانہ چلاتی عورت کو سبق سکھانے اپنے ساتھ لے آئیں اور دو تین روز بعد اُسے برقعہ پہنا کر۔۔۔توبہ کروا کے چھوڑ دیا۔۔!! پھر ایک مالش کے مرکزپر جا پہنچیں اور وہاں جسم فروشی کرتی خواتین کو اپنے ہمراہ لا کر خوب جھاڑ پلائی۔۔۔اور پھر نصیحت کے بعد روانہ کر دیا!!ڈنڈے لے کر گھومتیں مگر کسی کا سر تو نہ پھاڑا!! اُس وطنِ عزیز میں جہاں حکمرانوں اور طاقتوروں میں سے ہر دوسری شخصیت کسی لینڈ مافیا سے وابستہ ہے۔
وہ مسجد شہید ہونے کے بعدپڑوس کی ایک لائبریری پر جا دھمکیں!!روشن خیال، خوشحال،خوش پوش دارالحکومت کی عظیم الشان کوٹھیوں کے درمیان، جن کی اکثریت رات گئے شراب و شباب کی محفلیں اپنے عروج پر دیکھا کرتی ہے۔۔۔ایک کونے میں یہ معصوم ،سادہ ،حجاب میں ملبوس ،پاکیزہ روحیں۔۔۔تلاوتِ قرآن پاک میں مگن رہتیں!! کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟ میں جب اُن سے ملا تو اُن کے لہجے میں عجب اکتاہٹ اور محرومیت کا احساس ہوا!! آنکھوں میں اُداسیت۔معاشرے سے شکا یت اور بیزاری!!سونے کے کنگنوں سے محروم کلائیوں اور نیل پالش سے محروم ہاتھوں میں ڈنڈے اُس بے کسی کا اظہار تھے۔۔۔جو غریب سادہ لوح گھرانوں کی ان شریف اور باکردار بچیوں کی آنکھوں سے بھی کراہ رہی تھی! اُن کے طرزِ عمل سے ذرا سا اختلاف کرنے کی گستاخی ہوئی تو سب اُلجھ پڑیں!!”شاہد بھائی!!آپ کو کیا پتہ؟” "ڈاکٹر صاحب!!آپ نہیں جانتے!! کسی آیت کا حوالہ۔۔۔کسی حدیث کی دلیل۔۔۔سب ایک ساتھ پِل پڑیں!!”آپ کو پتہ ہے امریکا میں کیا ہو رہا ہے؟” "یہ یہودیوں کی سازش ہے!!” "ہمارے دشمنوں کی چال ہے۔۔۔!!” "صلیبی جنگ ہے "وغیرہ وغیرہ !میں بڑی مُشکل سے اُنہیں اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بعد۔۔۔چُپ کروانے میں کامیاب ہو سکا!! اُن کی نگراں اُمِ حسان نے اسی دوران بتایا کہ” یہ طالبات ایک عرصے سے یہاں آئے مرد مہمانوں سے گفتگو نہیں کرتیں لیکن آپ سے ملنے کیلئے اِن کی ضد تھی!!” میں نے خاموشی مناسب تصور کرتے ہوئے اُن کی گفتگو سُننے میں عافیت تصور کی!!!
یہ میرے لئے ایک مختلف دُنیا تھی!! شاید یہ فیشن زدہ۔جدیدیت کی دلدل میں ڈوبی،ٹی شرٹ جینز میں ملبوس خوش شکل لڑکیوں کو۔۔۔ہر روز۔۔۔اپنے چھوٹے تاریک کمروں کے روشن دانوں سے جھانک کر۔۔۔باہر سڑکوں پر ڈرائیونگ کرتا دیکھتی ہوں!!ممکن ہے۔ ۔قریبی بازار تک آتے جاتے۔۔ اِن کے کانوں تک بھی دلفریب نغموں کی تھاپ پہنچتی ہو گی!! کچی عمروں میں یقینا اِن کی آنکھیں بھی خواب دیکھتی ہوں گی!!اِن کا دل بھی کبھی اچھے رشتوں کی آس میں دھڑکتا ہو گا!! اِن کا بھی عید پر نئے کپڑے سلوانے۔۔ہاتھوں میں حِنا سجانے اور چوڑیاں پہننے کو جی للچاتا ہو گا!!لیکن آرزوئیں،خواہشات اور تمنائیں ناکام ہو کر برقعوں کے پیچھے اس طرح جا چھپیں کہ پھر نہ چہرے رہے۔۔نہ شناخت!!!صرف آوازیں تھیں۔۔ جو اب تک میرے کانوں میں گونجتی ہیں!! اِنہی میں ایک چھوٹی بچی۔۔یہی کوئی آٹھ دس برس کی۔۔حجاب میں اس طرح ملبوس کی چہرہ کُھلا تھا۔۔گفتگو سے مکمل ناواقفیت کے باوجود مسلسل ہنسے جاتی تھی کہ شاید یہی۔۔مباحثہ۔۔اُس کی تفریح کا سبب بن گیا تھا!!”بیٹی آپ کا نام کیا ہے۔۔۔؟” میرے سوال پر پٹ سے بولی "اسماء۔۔انکل!” پیچھے کھڑی اس کی بڑی بہن نے سر پر چپت لگائی”انکل نہیں۔۔بھائی بولو۔۔”خُدا جانے اس میں ہنسنے کی کیا بات تھی کہ چھوٹے قد کے فرشتے نے اس پر بھی قہقہہ لگا کر دہرایا”جی بھائی جان!!” "آپ کیا کرتی ہیں؟” میں نے ننھی اسماء سے پوچھا۔”پڑھتی ہوں!” "کیا پڑھتی ہو بیٹا؟” جواب عقب میں کھڑی بہن نے دیا”حفظ کر رہی ہے بھائی” "اور بھی کچھ پڑھا رہی ہیں؟” میں نے پوچھا۔” جی ہاں! کہتی ہے بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی!! بہن نے جو کہ یہی کچھ پندرہ سولہ برس کی مکمل حجاب میں ملبوس تھی، جواب دیا۔”آپ دو بہنیں ہیں؟” میں نے سوال کیا۔”جی ہاں! بھائی!!”بڑی بہن نے اسماء کو آغوش میں لیتے ہوئے کہا”تین بھائی گاؤں میں ہیں۔۔ہم بٹہ گرام سے ہیں نا!! کھیتی باڑی ہے ہماری”
میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کی سلسلے میں موجود تھا۔۔طالبات اور عبدالرشید غازی صاحب سے گفتگو کے بعد میں نے بچیوں کو خُدا حافظ کہہ کر غازی صاحب کے ساتھ اُن کے حجرے کی طرف قدم بڑھایا تو ننھی اسماء پیچھے بھاگتی ہوئی آئی "بھائی جان! آٹوگراف دے دیں!!” ہانپ رہی تھی”میرا نام اسماء اور باجی کا نام عائشہ ہے!!” میں نے حسبِ عادت دونوں کیلئے طویل العمری کی دُعا لکھ دی!! آگے بڑھا تو ایک اور فرمائش ہوئی”بھائی جان! اپنا موبائل نمبر دے دیں۔آپ کو تنگ نہیں کروں گی!!” نہ جانے کیوں میں نے خلافِ معمول اُس بچی کو اپنا موبائل نمبر دے دیا۔اُس کی آنکھیں جیسے چمک اُٹھیں۔۔اسی دوران غازی صاحب نے میرا ہاتھ کھینچا۔۔”ڈاکٹر صاحب یہ تو ایسے ہی تنگ کرتی رہے گی۔۔کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے اور عبدالعزیز صاحب ۔۔آپ کا انتظار کر رہے ہیں” بچی واپس بھاگ گئی اور میں مدرسے کے اندر تنگ گلیوں سے گُزرتا۔۔عقب میں غازی صاحب کے حجرے تک جا پہنچا۔۔جہاں اُنہوں نے کہا کہ”ڈاکٹر صاحب ایک زحمت!! والدہ بھی آپ کو دُعا دینا چاہتی ہیں۔۔!! "کھانا ہم نے فرش پر دسترخوان بچھا کر کھایا اور اس دوران عبدالعزیز صاحب بھی۔۔ساتھ شامل ہو گئے۔۔بات چیت ہوتی رہی اور جب میں نے رُخصت چاہی تو اُنہوں نے اپنی کتابوں کا ایک سیٹ عطیہ دیتے ہوئے دوبارہ آنے کا وعدہ لیا۔۔اور پھر دونوں بھائی۔۔جامعہ کے دروازے تک چھوڑنے۔اس وعدے کے ساتھ آئے کہ میں دوبارہ جلد واپس آؤں گا۔
حقیقت یہ کہ میں دونوں علماء کا استدلال سمجھنے سے مکمل قاصر رہا!! چند مسلح نوجوان اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے۔۔۔مصافحہ تو کیا لیکن گفتگو سے اجتناب کرتے ہوئے۔آگے بڑھ گیا! لیکن دروازے سے باہر قدم رکھتے وہی شیطان کی خالہ اسماء اچھل کر پھر سامنے آ گئی”بھائی جان!! میں آپ کوفون نہیں کروں گی۔۔وہ کارڈباجی کے پاس ختم ہو جاتا ہے نا۔۔ایس ایم ایس کروں گی۔۔جواب دیتے رہیے گا۔۔پلیز بھائی جان!!”اُس کی آنکھوں میں معصومیت اور انداز میں شرارت کا امتزاج تھا۔۔۔”اچھا بیٹا!! ضرور۔۔۔اللہ حافظ”جاتے جاتے پلٹ کر دیکھا تو بڑی بہن بھی روشندان سے جھانک رہی تھی! کہ یہی دونوں بہنوں کی کُل دُنیا تھی!! کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟ جو احباب میری ذاتی زندگی تک رسائی رکھتے ہیں وہ واقف ہیں کہ میں خبروں کے جنگل میں رہتا ہوں!!دن کا بیشتر حصہ اخبارات۔جرائد اور کتابوں کے اوراق میں دفن گُزارتا ہوں!! چنانچہ گزرے تین ماہ کے دوران بھی جہاں چیف جسٹس کا معاملہ پیچیدہ موڑ اختیار کرتا۔۔اُن میں الجھائے رہنے کا سبب بنا!! وہیں یہ مصروفیات بھی اپنی جگہ جاری رہیں۔لیکن اس تمام عرصے، وقفے وقفے سے مجھے ایک گمنام نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوتے رہے!!عموماً قرآن شریف کی کسی آیت کا ترجمہ یا کوئی حدیثِ مبارکہ۔۔۔یا پھر کوئی دُعا۔۔رومن اُردو میں۔۔۔اور آخر میں بھیجنے والے کا نام۔۔۔”آپ کی چھوٹی بہن اسماء” یہ سچ ہے کہ ابتداء میں تومجھے یاد ہی نہیں آیا کہ بھیجنے والی شخصیت کون ہے؟ لیکن پھر ایک روز پیغام میں یہ لکھا آیا کہ”آپ دوبارہ جامعہ کب آئیں گے؟”تو مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہی چھوٹی نٹ کھٹ۔۔۔حجاب میں ملبوس بچی ہے۔۔جس سے میں جواب بھیجنے کا وعدہ کر آیا تھا!!میں نے فوراً جواب بھیجا”بہت جلد۔۔!!” جواب آیا”شکریہ بھائی جان!” میں اپنے موبائل فون سے پیغام مٹاتا چلا گیا تھا چنانچہ چند روز قبل جب لال مسجداور جامعہ حفصہ پر فوجی کارروائی کا اعلان ہوا تو میں نے بے تابی سے اپنے فون پر اُس بچی کے بھیجے پیغامات تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بد قسمتی سے میں سب مٹا چُکا تھا! اُمید تھی کہ اسماء بڑی بہن کے ساتھ نکل گئی ہو گی! لیکن پھر بھی بے چینی سی تھی!! کوئی آیت،حدیث،دُعا بھی نہیں آ رہی تھی! اس تصور کے ساتھ خود کو تسلی دی کہ ان حالات میں، جب گھر والے دور گاؤں سے آ کر۔۔دونوں کو لے گئے ہوں گے تو افراتفری میں پیغام بھیجنے کا موقع کہاں؟؟ جب بھی اعلان ہوتا کہ "آج رات کو عسکری کارروائی کا آغاز ہو جائے گا”!!”فائرنگ،گولہ باری کا سلسلہ شروع” "مزید طالبات نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا” "ابھی اندر بہت سی خواتین اور بچے ہیں” "یرغمال بنا لیا گیا ہے” وغیرہ وغیرہ۔۔۔تو میری نظر اپنے موبائل فون پر اس خواہش کے ساتھ ۔۔چلی جاتی کہ کاش!! وہ پیغام صرف ایک بار پھر آ جائے۔۔میں نے جسے کبھی محفوظ نہ کیا!!
8جولائی کی شب اچانک ایک مختصر ایس ایم ایس موصول ہوا”بھائی جان! کارڈختم ہو گیا ہے۔۔پلیز فون کریں۔” میں نے اگلے لمحے رابطہ کیا تو میری چھوٹی ۔۔پیاری اسماء زاروقطار رو رہی تھی”بھائی جان، ڈر لگ رہا ہے! گولیاں چل رہی ہیں! میں مر جاؤں گی!” میں نے چلا کر جواب دیا”اپنی بہن سے بات کراؤ۔۔”بہن نے فون سنبھال لیا”آپ دونوں فوراً باہر نکلیں۔۔معاملہ خراب ہو رہا ہے۔۔کہیں تو میں کسی سے بات کرتا ہوں کہ آپ دونوں کو حفاظت سے باہر نکالیں۔۔”دھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں!! مجھے احساس ہوا کہ بڑی بہن نے اسماء کو آغوش میں چھپا رکھا ہے لیکن چھوٹی پھر بھی بلک رہی ہے۔۔رو رہی ہے۔۔!!”بھائی وہ ہمیں کیوں ماریں گے؟؟ وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں!! وہ بھی کلمہ گو ہیں! ! اور پھر ہمارا جُرم ہی کیا ہے؟ آپ تو جانتے ہیں بھائی! ہم نے تو صرف باجی شمیم کو سمجھا کر چھوڑ دیا تھا۔۔چینی بہنوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا۔۔بھائی!! یہ سب ان کی سیاست ہے۔۔ہمیں ڈرا رہے ہیں” بہن پُر اعتماد لہجے میں بولی۔۔!! ” دیکھیں! حالات بُرے ہیں!! میں بتا رہا ہوں۔۔آپ فوراً نکل جائیں ۔۔خدا کیلئے!!” مجھے احساس ہوا کہ میں گویا ۔۔اُنہیں حکم دے رہا ہوں!!”بھائی!! آپ یونہی گھبرا رہے ہیں!! غازی صاحب بتا رہے تھے کہ یہ ہمیں جھکانا چاہ رہے ہیں۔۔باہر کچھ بھائی پہرہ بھی دے رہے ہیں! کچھ بھی نہیں ہو گا، آپ دیکھیے گا۔۔اب فوج آ گئی ہے ۔نا!! یہ بدمعاش پولیس والوں کو یہاں سے بھگا دے گی!! آپ کو پتہ ہے۔۔فوجی تو کٹر مسلمان ہوتے ہیں۔۔وہ ہمیں کیوں ماریں گے۔۔ہم کوئی مجرم ہیں۔۔کوئی ہندوستانی ہیں۔۔کافر ہیں۔۔کیوں ماریں گے وہ ہمیں۔۔!!” بہن کا لہجہ پُر اعتماد تھا۔۔اور وہ کچھ بھی سُننے کو تیار نہ تھی "ڈاکٹر بھائی مجھے تو ہنسی آ رہی ہے کہ آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں!! آپ کو توپتہ ہے کہ یہ سلسلہ” اسی طرح چلتا رہتا ہے! یہ اسماء تو یونہی زیادہ ڈر گئی ہے۔اور ہاں آپ کہیں ہم بہنوں کا نام نہ لیجئے گا۔ایجنسی والے بٹہ گرام میں ہمارے والد،والدہ اور بھائیوں کو پکڑ لیں گے!سب ٹھیک ہو جائے گا بھائی! وہ ہمیں کبھی نہیں ماریں گے!!”میں نے دونوں کو دُعاؤں کے ساتھ فون بند کیا اور نمبر محفوظ کر لیا۔
اگلے روز گزرے کئی گھنٹوں سے مذاکرات کی خبریں آ رہی تھیں اور میں حقیقتاً گُزرے ایک ہفتے سے جاری اس قصے کے خاتمے کی توقع کرتا، ٹی وی پر مذاکرات کو حتمی مراحل میں داخل ہوتا دیکھ رہا تھا کہ احساس ہونے لگا کہ کہیں کوئی گڑبڑ ہے۔ میں نے چند شخصیات کو اسلام آباد فون کر کے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ معاملہ بگڑنے کو ہے تو جواباً ان خدشات کو بلا جواز قرار دیا گیا لیکن وہ دُرست ثابت ہوئے اور علماء کے وفد کی ناکامی اور چوہدری شجاعت کی پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی وہ عسکری کارروائی شروع ہو گئی جس کی قوت کے بارے میں، موقع پر موجود ایک سرکاری افسرکا بیان تھا "لگتا ہے پوری بھارتی فوج نے چھوٹے ملک بھوٹان پر چڑھائی کر دی ہے” فائرنگ۔۔دھماکے۔۔گولہ باری۔۔شیلنگ۔۔جاسوس طیارے۔۔گن شپ ہیلی کاپٹرز۔۔۔خُدا جانے کیا کچھ!! اور پھر باقاعدہ آپریشن شروع کر دینے کا اعلان۔ اس دوران عبد الرشید غازی سے بھی ایک بار ٹی وی پر گفتگو کا موقع ملا۔۔اور پھر پتہ چلا کہ اُن کی والدہ آخری سانسیں لے رہی ہیں!! اور تبھی صبح صادق فون پر ایس ایم ایس موصول ہوا”پلیز کال” یہ اسماء تھی!! میں نے فوراً رابطہ کیا تو دوسری طرف۔چیخیں۔۔شور شرابہ۔۔لڑکیوں کی آوازیں”ہیلو۔۔اسماء! بیٹی! ہیلو ” خُدا جانے وہاں کیا ہو رہا تھا”ہیلو بیٹی آواز سُن رہی ہو” میں پوری قوت سے چیخ رہا تھا۔”بات کرو کیا ہوا ہے” وہ جملہ۔۔آخری سانسوں تک میری سماعتوں میں زندہ رہے گا! ایک بلک بلک کر روتی ہوئی بچی کی رُک رُک کر آتی آواز "باجی مر گئی ہے۔۔مر گئی ہے باجی۔۔” اور فون منقطع ہو گیا!!
اسٹوڈیوز سے کال آ رہی تھی کہ میں صورتحال پر تبصرہ کروں لیکن میں بار بار منقطع کال ملانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا!! کچھ کہنے یا سُننے کی ہمت نہ تھی۔کسی کمانڈو جیسی طاقت،اعجازالحق جیسی دیانت اور طارق عظیم جیسی صداقت نہ ہونے کے باعث مجھے ٹی وی پر گونجتے ہر دھماکے میں بہت سی چیخیں۔۔فائرنگ کے پیچھے بہت سی آہیں اور گولہ باری کے شور میں”بھائی جان! یہ ہمیں کیوں ماریں گے؟” کی صدائیں سُنائی دے رہی تھیں۔چھوٹے چھوٹے کمروں میں دھواں بھر گیا ہو گا۔اور باہر فائرنگ ہو رہی ہو گی۔بہت سی بچیاں تھیں۔۔فون نہیں مل رہا تھا۔۔پھر عمارت میں آگ لگ گئی۔ اور میں اسماء کو صرف اُس کی لا تعداد دُعاؤں کے جواب میں صرف ایک الوداعی دُعا دینا چاہتا تھا۔۔ناکام رہا۔ فجر کی اذانیں گونجنے لگیں تو وضو کرتے ہوئے میں نے تصور کیا کہ وہ جو سیاہ لباس میں ملبوس مجھ سے خواہ مخواہ بحث کر رہی تھیں۔۔اب سفید کفن میں مزید خوبصورت لگتی ہوں گی! جیسے پریاں۔ قحبہ خانوں کے سر پرستوں کو نوید ہو کہ اب اسلام آباد پُر سکون تو ہو چکا ہے لیکن شاید اُداس بھی! اور یہ سوال بہت سوں کی طرح ساری عمر میرا بھی پیچھا کرے گا کہ وہ کون تھیں ؟ کہاں چلی گئیں؟ (دونوں مرحوم بچیوں سے وعدے کے مطابق اُن کے فرضی نام تحریر کر رہا ہوں)۔

کہانی سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کی


خود کلامیاں : بلال ساجد

  دیکھیں جی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کا شروع سے یہ خیال تھا کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہم خیال قوتوں کو مل کر الیکشن میں جانا چاہیئے اور کم سے کم ایجنڈے پہ اتفاقِ رائے پیدا کر کے آگے بڑھنا چاہیئے۔

پورے پاکستان میں بالعموم اور کراچی و بلوچستان میں بالخصوص مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا ہونا چاہیئے اور حالات کو بہتر کرنے کے لیے اور بلوچستان میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیئے ۔۔۔ لیکن تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست یا یوں کہہ لیں کہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں یہ کوششیں ناکام ٹھریں اور جماعتِ اسلامی نے محسوس کیا کہ مسلم لیگ نواز اور تحریکِ انصاف کا ایک سٹیج پہ بیٹھنا ممکن نہیں رہا!

اِس کے بعد، جماعتِ اسلامی نے یہ کوشش کی کہ کم از کم بلوچستان اور کراچی ایشو پہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا جائے اور خدانخواستہ 1971 کی تاریخ کو نہ دوہرایا جائے لیکن کچھ عوامل ایسے تھے جس کی وجہ سے ہماری یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی اور یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

دوسری طرف، جماعتِ اسلامی تنہا پروازی سے کسی بھی وقت خوفزدہ نہیں تھی اور ہم اکیلے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیتے لیکن ملک کے موجودہ حالات میں جماعت سے باہر بیٹھے ہمارے کچھ ہمدرد ہمیں بار بار یہ مشورہ دے رہے تھے کہ دائیں بازو کا ووٹ تقسیم نہ ہونے دو ورنہ پیپلز پارٹی کی حکومت آ جائے گی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کے اندر بھی اس حوالے سے دو طرح کی رائے پائی جاتی تھی ۔۔۔

اول، کسی کے ساتھ اتحاد یا ایڈجیسٹمنٹ نہ کی جائے اور تنہا پرواز کی جائے۔ دوم، مسلم لیگ نواز یا تحریک انصاف کے ساتھ سیٹوں کی بنیاد پہ نہیں بلکہ ایشوز کی بنیاد پہ ایڈجیسٹمنٹ کی جائے۔

جماعتِ اسلامی کی مرکزی شوری نے اس پہ غور و خوص کیا اور اس ڈسکشن میں مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کی اعلی قیادت کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے ساتھ خواہشِ اتحاد کے حوالے سے ساے بیانات پہ بھی غور کیا گیا ۔۔۔ اور ۔۔ قرعہِ فال تحریکِ انصاف کے نام نکلا ۔۔۔

عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ ہمارے رابطے تو بہت پہلے سے تھے ۔۔۔ اور عمران خان صاحب نے بار بار مختلف فورمز پہ اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ جماعتِ اسلامی سے ایڈجیسٹمنٹ ہو سکتی ہے ۔۔۔ اسی بنیاد پہ ہم نے ان کی طرف قدم بڑھائے تھے اور 24 مارچ کو میٹنگ میں یہ بات تقریباً طے ہو گئی تھی کہ جماعتِ اسلمی اور تحریکِ انصاف سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کریں گی ۔۔۔

اس حوالے سے جاوید ہاشمی صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی لیکن بعد میں اس کمیٹی کا کوئی اجلاس تک نہ ہو سکا اور یہ بات آپ کو تحریکِ انصاف کے دوستوں سے پوچھنی چاہیئے کہ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔!

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ نہ ہو سکنے کی وجہ بھی بہت واضح ہے ۔۔۔ میری رائے میں کچھ ایسے لوگ، جن کے بارے میں ن لیگ کا یہ خیال ہے کہ وہ اقتدار کا فیصلہ کرتے ہیں، ۔۔۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ن لیگ، جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی تشخص رکھنے والی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرے اور یہ بات آپ ن لیگ سے ہی پوچھیں کہ انہیں کہاں سے کس طرح کے پریشر کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔!

لیکن میں عرض کروں کہ ہمارے لیے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے ۔۔ ہم نے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بغیر جتنی سیٹیں لینی تھیں سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بعد ان میں ایک یا دو سیٹوں کا اضافہ ہو جاتا لیکن ہمارا خیال تھا کہ اگر دائیں بازو کا ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہوا تو اس کا فائدہ وہی کرپٹ ٹولہ اٹھائے گا جو پچھلے پانچ سال ہم پہ مسلط رہا ہے!

Why JI is a target of Liberal Fascists


Jamaat-e-Islami-ExhibitionMuhammad Saad Khan

A lot is being said about Jamaat e Islami (JI) in political arena. Since there is not an iota of allegation on ground of ethical and moral corruption against JI, the liberal elite comes up with rather silly accusations, extremism, violence against women, lack of social  activism just to name a few.

Their rhetoric defines them i.e., ‘do in Rome as Romans do’ and the dire wish to mold Islam in such a way that all is kosher, making religion flexible like a liquid which takes the shape of its container. It is just like ‘halal-ifying’ bikini in Islam because for them it’s a personal   choice of an individual.

Jamaat-e-Islami (JI) is their target because only JI talks about implementation of Islam and ideology of Pakistan. They rely on mockery and baseless allegations in response to facts and ground realities.

JI does not bifurcate religion and politics. For JI, politics is part of religion. Secularism is a myth and people who practice a certain religion, do have a certain influence of it in their public life. Also, Islam is equally applicable to public life of Muslims. Quran and Sunnah categorically formulates rules which have to be implemented by the state.

For the past seventy years, JI is working on the base of its ‘dawat e deen’ which revolves around teaching of Quran and Sunnah and strive to establish an Islamic state. JI doesn’t believe and have never supported any underground movements. The problem with liberal mind-set is that it doesn’t differentiate between underground movement and someone openly working with an ideology and belief system.  All the workers and leaders of JI are product of its own and there is no ‘lota’ or turncoat in JI. Everyone who wants to join JI has to go through a process of membership.e spiritual and academic training and over the years a commoner can become a leader. There is no hereditary leadership in JI.

People must know that JI has a history of seventy years. Surviving tests of times for seven decades without any disintegration is a huge success and it shows level of commitment of JI and its workers. JI is the only organization which has worked for sectarian harmony throughout the country and its on record. The efforts of JI to bring peace among different sects are appreciated by both sides. JI has never been involved in terrorism; rather it’s a victim of terrorism itself. Yes, JI is against war of terror and drone attacks. While others merely talk about it, JI parliamentarian from Bajour actually resigned from Parliament after first drone attack.

One has to be extremely dishonest to turn a blind eye to the role of JI in natural disasters and testing times. First camp for rehabilitation of immigrants was established and run by JI workers in 1947 in Lahore and from that day onwards, JI activists are working from Khyber to Karachi and Kashmir to Gawadar to help the victims. Only JI workers have been helping IDPs of FATA while most of others rely on lip services only.  JI has been active in rural areas of Punjab and Sindh in recent floods doing rehabilitation work. Recently when homes of Christian community were demolished, JI established medical and welfare camps to help the victims .

JI women wing is the most active women wing of any organization. It has a separate setup and it works independently. Elected women leadership works till grass root level and provides help to women and children and raise voice for them. Women MNAs of JI from 2002-2007 were most active in the Parliament. It can be checked from Parliamentary record that while a lot of women legislators didn’t speak at all, JI women wing raised its voice on all issues. Also, it’s a known fact in Pakistan that most of the violence against women occurs in the areas of feudal lords, who are a significant part of ruling liberal elite but seldom eyebrows are raised against feudal lords.

JI is committed to contest the elections with full zeal. The option of seat adjustment with like-minded parties should be kept open to reduce the chances of division of votes. JI has fielded its candidates from FATA to Karachi to Baluchistan, and the workers are hopeful to show a good performance in the upcoming elections.

%d bloggers like this: