یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا


 لہجہ

ایک خبر تھی جو جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل رہی تھی اور آخر کیوں نہ پھیلتی  کہ ایک جرنیل کمرہ عدالت سے  فرار ہوا تھا کوئی معولی بات نہیں تھی مگر یہ فرار کب تک ۔۔!!

جرم کوئی چھوٹے تو نہیں تھے جنہیں فراموش کر دیا جاتا جرنیل صاحب اگر یہ سوچ کر آئے تھے کہ زرداری کی ڈسی ہوئی  یہ قوم ان  کو پھولوں کے ہار پہنائے گی تو یہ بہت بڑی بھول تھی مانا کہ یہ قوم ایک بڑی لمبی نیند سوئی ہے مگر ابھی یہ مردہ نہیں ہو ئی اور جہاں زندگی کی ذرا سی بھی رمق باقی وہاں امیدیں قائم رہتی ہیں پھر یہ قوم اتنا شعور تو رکھتی کہ زرداری بھی آپ ہی کے دیے گئے تحفوں میں سے ( این آر او کی شکل میں دیا گیا) ایک تحفہ ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک طرف میں اس بریکنگ نیوز کے کو سن رہی تھی تو دوسری جانب قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ قیدی نمبر 650 کی دلخراش چیخیں صرف میرے کانوں سے ہی آر پار نہیں ہو رہیں بلکہ میرے کلیجے کو بھی چھلنی کیے دے رہی ہیں کتنے ہی معصوم چہرے تھے میری نگاہوں کے سامنے جنہیں یتیم بنا دیا گیا تھا  ، روتی ہوئی ماوں کے کتنے ہی لعل چھین کر انکی گودیں ویران کردی گئیں تھیں ۔۔۔ اپنے شوہروں کی واپسی آس لگائے کتنی سہاگنوں آج بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا لاڈلی بہنیں جو بھائیوں کے گلے کا ہار ہوا کرتیں تھیں مگر آج ان آنکھوں میں اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ ان سن کی خوشیاں تو ڈالروں کے عوض بیچ دی گئیں تھیں اور بیچنے والے نے بڑی رعونت سے اقرار کیا کہ ہم نے ڈالر لیے ہیں ایس ہی حوالے نہیں کیا گیا ۔۔آہ ۔۔ کیسا شرمناک اقرار تھا اپنے جرموں کا وہ بھی بغیر کسی احساس جرم کہ ۔۔۔!!

مجھے لگ رہا تھا اس خبر کے ساتھ ہی میرے جیسے کتنے ہی ایسے ہونگے جنہیں یہ محسوس ہوا ہوگا کہ ان کے زخموں سے کھرنڈ جیسے کسی نے نوچ ڈالے ہوں اور یہ زخم پھر سے تازہ ہو کر رسنے لگے ۔۔۔ زخم تو معمولی سا بھی ہو تو برسوں نہیں بھرتا یہ تو پھر روح پر لگنے والے زخم تھے یہ بھلا کیسے بھر جاتے ۔۔۔۔!!

"جامعہ حفصہ "ایک اور ٹھیس اٹھی تھی  زخموں سے ۔۔۔۔۔ یہ کسی ٹی وی چینل سے دکھایا جانے والا ایک پروگرام تھا ۔۔۔۔۔۔ جلی ہوئی ہڈیاں اور بال تھے جلے ہوئے اور خون میں لت پت آنچل تھے جو ایک ڈھیر کی صورت میں ملک کے دارلخلافے میں ہونے والے ظلم کی داستانیں سنا رہے تھے اس ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے بوڑھے ماں باپ اپنی بیٹیوں کی جلی ہوئی ہڈیاں تلاش کررہے تھے گم سے نڈھال آنکھوں سے عیاں ہوتا درد ، آسمان کی طرف اٹھتے ہاتھوں کو دیکھ میں لرز گئی کیسے ان مظلوموں کی آہیں رائیگاں جائینگی کہ مظلوموں کی آہیں تو عرش کا کلیجہ چیر دیا کرتیں ہیں ۔۔۔۔؟؟؟

اپنے ہی گھر میں اپنوں کی ہی مسلط کردہ جنگ ۔۔۔۔۔۔ {جن کا جُرم تو صرف اتنا تھا کہ وہ معاشرے سے بد کاری کے خاتمے کا عزم لئے۔باہر نکلیں اور ایک قحبہ خانہ چلاتی عورت کو سبق سکھانے اپنے ساتھ لے آئیں اور دو تین روز بعد اُسے برقعہ پہنا کر۔۔۔توبہ کروا کے چھوڑ دیا۔۔!! پھر ایک مالش کے مرکزپر جا پہنچیں اور وہاں جسم فروشی کرتی خواتین کو اپنے ہمراہ لا کر خوب جھاڑ پلائی۔۔۔اور پھر نصیحت کے بعد روانہ کر دیا!!ڈنڈے لے کر گھومتیں مگر کسی کا سر تو نہ پھاڑا!! اُس وطنِ عزیز میں جہاں حکمرانوں اور طاقتوروں میں سے ہر دوسری شخصیت کسی لینڈ مافیا سے وابستہ ہے۔}”شاہد مسعود "

یہ ایسا تو جرم نہیں تھا کہ جس کے بدلے میں کئی دن بجلی پانی بند کرنے کے بعد ان پر جنگ مسلط کر دی جاتی۔۔  { وہ عسکری کارروائی شروع ہو گئی جس کی قوت کے بارے میں، موقع پر موجود ایک سرکاری افسرکا بیان تھا "لگتا ہے پوری بھارتی فوج نے چھوٹے ملک بھوٹان پر چڑھائی کر دی ہے” فائرنگ ۔۔دھماکے ۔۔گولہ باری ۔۔شیلنگ ۔۔جاسوس طیارے ۔۔گن شپ ہیلی کاپٹرز۔۔۔خُدا جانے کیا کچھ !! } "شاہد مسعود ”

مجھے آج بھی یاد ہے سید محمد بلال اور خواتین کا ایک گروپ ڈاکٹر کوثر فردوس ،سمیعہ راحیل کی قیادت میں ان بے بس بچیوں کے لیے راشن اور دوائیں لے جانے کے لیے گولیوں کی گھن گرج میں وہاں منتیں کرتا رہا کہ ان کے پاس صرف کھانا اور دوائیں ہیں انہیں اندرجانے دیاجائے ۔۔۔۔۔ اس ظلم و بر بر یت کی داستاں غم سمیعہ راحیل کی اپنی زبانی جس نے جہاں ہر ایک کی اصلیت کو ظاہر کیا وہیں ہر آنکھ کو اشک بار کردیا

S14S15

S16S17

ایک طرف یہ عالم تو دوسری جانب وہاں موجود سیاستدان جو نام نہاد مصالحتوں کے دعوے دار تھے رات کو دوکانیں کھلوا کر فالودے اور آئس کریمیں کھاتے رہے  ۔۔۔۔۔

ایسا بھیانک سلوک تو کوئی اپنے خطرناک اور بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی کرتے ہوئے کئی ہزار بار سوچتا مگر یہ میرے ہی ملک کے فوجی جوان تھے جو جراتوں کے نشان ہوا کرتے تھے یہ وہی قاسم کے بیٹے تھے جنہیں بہن کی آبرو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی تھی  ۔۔۔ مگر ایک فرعون کے اشارے پر یہ کیا کچھ کر گزرے کہ

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہودو ہنود

درندہ تھا کہ انسان میں آج تک اس سوال کا جواب تلاش نہیں کرپائی ..

ابھی کچھ دنوں پہلے ہی چودھری شجاعت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے مشرف کو بہت سمجھایا کہ جامعہ حفصہ میں یہ سب نہ کیا جائے مگر وہ اس وقت طاقت کے نشہ میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی طاقت کا نشہ ہے جو ایک انسان کو فرعون بنا دیتا ہے جس کے سامنے ڈالروں کی اہمیت انسانی جانوں سے بھی کئی گناہ زیادہ ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔ مشرف کا اس پاکستان کو ایک اور تحفہ ڈرون حملوں کی شکل میں ملا جس کے نتیجے میں ہنستے بستے گھروں کے گھر اور بستیوں کی بستیاں راکھ کے ڈھیر بنا ئے جارہے ہیں اور ستم یہ کہ ان پر رونے والا اور اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ۔۔۔۔

مشرف کی واپسی کو ئی حادثاتی یا ایک جرنیل کی بہادری کا نتیجہ نہیں جیسا کہ کراچی ائیر پورٹ پر پہنچتے ہی مشرف نے یہ نعرہ لگایا کہ دیکھ لو میں آگیا لوگ کہتے تھے میں نہیں آونگا ۔۔۔۔۔۔۔ جس لمحے یہ سب دیکھ رہی میرا جی چاہا تھا کہ کاش میں مشرف کو یہ بتا سکتی کہ مشرف صاحب آپ آئے نہیں ہیں لائے گئے ہیں ۔۔۔۔۔ میرا یقین کامل تھا کہ میرا رب آپ کو ضرور لائے گا وہ کیسے یونہی آپ کو چھوڑ دے گا ابھی تو بہت سے قرض ہیں جو آپ نے چکانے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیسے رائیگاں جائیگا اتنی معصوم جانوں کا بے دردی سے بہایا گیا لہو کہ اگر ان سب کا لہو ایک جگہ جمع کیا جائے اور جرنیل صاحب آپ کو آپکی وردی سمیت اس میں کھڑا کیا جائے تو آپ کی پور پور اس میں ڈوب جائےگی ۔۔۔۔ کیسے نہ لاتا وہ رب آپ کو واپس ۔۔۔۔۔؟؟

اپنے آقاوں کو خوش کرنے میں آپ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ جس نے آواز اٹھائی وہی مجرم ٹھرا اور قابل سزا قرار دیا کسی کے نصیب میں جیلیں آئیِں تو کسی کو اگلے دن کا سورج بھی نصیب نہ ہوسکا اس قوم کو آج بھی وہ لہجہ نہیں بھولا ہوگا جب نواب اکبر خان بگٹی کو للکارتے ہوئے کہا گیا تھا “ یہ 77 کا عشرہ نہیں کہ یہ پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی” ۔۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ جن کو خوش کرنے کے لیے عزت مآب پاک دامن بیٹیوں سے لیکر ماوں کی گودوں تک کا سودا کر دینے، اپنے ہی ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں رہن رکھ دینے کے باوجود وہ دشمن تو آج بھی دشمن ہی رہا ۔۔۔۔

کیونکہ رب اعلیٰ نے تو یہ بات کھول کر بیان کر دی تھی ’’یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔

آج اسی طاقت کے نشہ میں چور شخص کا عدالت سے یوں فرار ثابت کرتا ہے کہ بے شک رب کے ہاں مکافات عمل کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے جو لوگ دوسروں کی عبرت سے نصیحت نہیں حاصل کرتے اور خود کو زمین کا خدا سمجھ بیٹھتے ہیں تاریغ بتاتی ہے کہ  پھر قدرت انہیں نمونہ عبرت بنا دیتی ہے  ۔۔۔!!

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

وہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجہ میں

آنے والے دنوں میں مشرف کے ساتھ جو بھی ہونے والا مگر ایک سوال جو مجھے رہ رہ کر ستا رہا ہے وہ یہ کہ بے شک جرنیل مشرف ایک ڈکٹیٹر ایک ظالم اور جو بھی کہہ لیں اور جتنے بھی جرائم اس نے کیے جن کی ایک لمبی فہرست یقیننااس قوم کی یاداشتوں میں ثبت ہوگی مگر سوچیے کیا ان سب جرائم میں ایک اکیلا مشرف ہی ذمہ دار تھا یا ایک پورا ٹولہ جو کل مشرف کے ساتھ تھا جس ٹولے نے ایک ظالم کے ظلم پر صحیح کی مہر ثبت کی وہ ٹولہ آج کہاں ہے ؟ ؟؟

یہ سوال بہت اہم ہے قوم اگر مشرف کا انجام دیکھنے کی خواہش مند ہے اور تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ کل کے مشرفی آج کے تحریکی اور لیگی اور عوامی کی ٹوپیاں پہنے یہ وہی سب ہیں جنہوں ایک ڈکٹیٹر کو اسکے عزائم میں کامیاب ہونے کا پورا پورا موقع فراہم کیا ۔۔۔۔۔ اور آج ایک بار پھر وہ کسی اور چھتری تلے عوام کو پھر سے بے وقوف بنانے چلے مگر کیا دکھوں کی ماری عوام ایک بار  پھر یہ دھوکہ برداشت کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے ۔۔۔؟؟؟؟؟؟ سوچیے اور پہچانیے  آپ کی اپنی صفوں میں چھپے ان بھیڑیوں کو ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ پہچاننے کی مہلت بھی ختم ہو جائے ۔۔!!

Advertisements

کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟


میرے مطابق . . . ڈاکٹر شاہد مسعود
جُرم تو صرف اتنا تھا کہ وہ معاشرے سے بد کاری کے خاتمے کا عزم لئے۔۔۔باہر نکلیں اور ایک قحبہ خانہ چلاتی عورت کو سبق سکھانے اپنے ساتھ لے آئیں اور دو تین روز بعد اُسے برقعہ پہنا کر۔۔۔توبہ کروا کے چھوڑ دیا۔۔!! پھر ایک مالش کے مرکزپر جا پہنچیں اور وہاں جسم فروشی کرتی خواتین کو اپنے ہمراہ لا کر خوب جھاڑ پلائی۔۔۔اور پھر نصیحت کے بعد روانہ کر دیا!!ڈنڈے لے کر گھومتیں مگر کسی کا سر تو نہ پھاڑا!! اُس وطنِ عزیز میں جہاں حکمرانوں اور طاقتوروں میں سے ہر دوسری شخصیت کسی لینڈ مافیا سے وابستہ ہے۔
وہ مسجد شہید ہونے کے بعدپڑوس کی ایک لائبریری پر جا دھمکیں!!روشن خیال، خوشحال،خوش پوش دارالحکومت کی عظیم الشان کوٹھیوں کے درمیان، جن کی اکثریت رات گئے شراب و شباب کی محفلیں اپنے عروج پر دیکھا کرتی ہے۔۔۔ایک کونے میں یہ معصوم ،سادہ ،حجاب میں ملبوس ،پاکیزہ روحیں۔۔۔تلاوتِ قرآن پاک میں مگن رہتیں!! کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟ میں جب اُن سے ملا تو اُن کے لہجے میں عجب اکتاہٹ اور محرومیت کا احساس ہوا!! آنکھوں میں اُداسیت۔معاشرے سے شکا یت اور بیزاری!!سونے کے کنگنوں سے محروم کلائیوں اور نیل پالش سے محروم ہاتھوں میں ڈنڈے اُس بے کسی کا اظہار تھے۔۔۔جو غریب سادہ لوح گھرانوں کی ان شریف اور باکردار بچیوں کی آنکھوں سے بھی کراہ رہی تھی! اُن کے طرزِ عمل سے ذرا سا اختلاف کرنے کی گستاخی ہوئی تو سب اُلجھ پڑیں!!”شاہد بھائی!!آپ کو کیا پتہ؟” "ڈاکٹر صاحب!!آپ نہیں جانتے!! کسی آیت کا حوالہ۔۔۔کسی حدیث کی دلیل۔۔۔سب ایک ساتھ پِل پڑیں!!”آپ کو پتہ ہے امریکا میں کیا ہو رہا ہے؟” "یہ یہودیوں کی سازش ہے!!” "ہمارے دشمنوں کی چال ہے۔۔۔!!” "صلیبی جنگ ہے "وغیرہ وغیرہ !میں بڑی مُشکل سے اُنہیں اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بعد۔۔۔چُپ کروانے میں کامیاب ہو سکا!! اُن کی نگراں اُمِ حسان نے اسی دوران بتایا کہ” یہ طالبات ایک عرصے سے یہاں آئے مرد مہمانوں سے گفتگو نہیں کرتیں لیکن آپ سے ملنے کیلئے اِن کی ضد تھی!!” میں نے خاموشی مناسب تصور کرتے ہوئے اُن کی گفتگو سُننے میں عافیت تصور کی!!!
یہ میرے لئے ایک مختلف دُنیا تھی!! شاید یہ فیشن زدہ۔جدیدیت کی دلدل میں ڈوبی،ٹی شرٹ جینز میں ملبوس خوش شکل لڑکیوں کو۔۔۔ہر روز۔۔۔اپنے چھوٹے تاریک کمروں کے روشن دانوں سے جھانک کر۔۔۔باہر سڑکوں پر ڈرائیونگ کرتا دیکھتی ہوں!!ممکن ہے۔ ۔قریبی بازار تک آتے جاتے۔۔ اِن کے کانوں تک بھی دلفریب نغموں کی تھاپ پہنچتی ہو گی!! کچی عمروں میں یقینا اِن کی آنکھیں بھی خواب دیکھتی ہوں گی!!اِن کا دل بھی کبھی اچھے رشتوں کی آس میں دھڑکتا ہو گا!! اِن کا بھی عید پر نئے کپڑے سلوانے۔۔ہاتھوں میں حِنا سجانے اور چوڑیاں پہننے کو جی للچاتا ہو گا!!لیکن آرزوئیں،خواہشات اور تمنائیں ناکام ہو کر برقعوں کے پیچھے اس طرح جا چھپیں کہ پھر نہ چہرے رہے۔۔نہ شناخت!!!صرف آوازیں تھیں۔۔ جو اب تک میرے کانوں میں گونجتی ہیں!! اِنہی میں ایک چھوٹی بچی۔۔یہی کوئی آٹھ دس برس کی۔۔حجاب میں اس طرح ملبوس کی چہرہ کُھلا تھا۔۔گفتگو سے مکمل ناواقفیت کے باوجود مسلسل ہنسے جاتی تھی کہ شاید یہی۔۔مباحثہ۔۔اُس کی تفریح کا سبب بن گیا تھا!!”بیٹی آپ کا نام کیا ہے۔۔۔؟” میرے سوال پر پٹ سے بولی "اسماء۔۔انکل!” پیچھے کھڑی اس کی بڑی بہن نے سر پر چپت لگائی”انکل نہیں۔۔بھائی بولو۔۔”خُدا جانے اس میں ہنسنے کی کیا بات تھی کہ چھوٹے قد کے فرشتے نے اس پر بھی قہقہہ لگا کر دہرایا”جی بھائی جان!!” "آپ کیا کرتی ہیں؟” میں نے ننھی اسماء سے پوچھا۔”پڑھتی ہوں!” "کیا پڑھتی ہو بیٹا؟” جواب عقب میں کھڑی بہن نے دیا”حفظ کر رہی ہے بھائی” "اور بھی کچھ پڑھا رہی ہیں؟” میں نے پوچھا۔” جی ہاں! کہتی ہے بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی!! بہن نے جو کہ یہی کچھ پندرہ سولہ برس کی مکمل حجاب میں ملبوس تھی، جواب دیا۔”آپ دو بہنیں ہیں؟” میں نے سوال کیا۔”جی ہاں! بھائی!!”بڑی بہن نے اسماء کو آغوش میں لیتے ہوئے کہا”تین بھائی گاؤں میں ہیں۔۔ہم بٹہ گرام سے ہیں نا!! کھیتی باڑی ہے ہماری”
میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کی سلسلے میں موجود تھا۔۔طالبات اور عبدالرشید غازی صاحب سے گفتگو کے بعد میں نے بچیوں کو خُدا حافظ کہہ کر غازی صاحب کے ساتھ اُن کے حجرے کی طرف قدم بڑھایا تو ننھی اسماء پیچھے بھاگتی ہوئی آئی "بھائی جان! آٹوگراف دے دیں!!” ہانپ رہی تھی”میرا نام اسماء اور باجی کا نام عائشہ ہے!!” میں نے حسبِ عادت دونوں کیلئے طویل العمری کی دُعا لکھ دی!! آگے بڑھا تو ایک اور فرمائش ہوئی”بھائی جان! اپنا موبائل نمبر دے دیں۔آپ کو تنگ نہیں کروں گی!!” نہ جانے کیوں میں نے خلافِ معمول اُس بچی کو اپنا موبائل نمبر دے دیا۔اُس کی آنکھیں جیسے چمک اُٹھیں۔۔اسی دوران غازی صاحب نے میرا ہاتھ کھینچا۔۔”ڈاکٹر صاحب یہ تو ایسے ہی تنگ کرتی رہے گی۔۔کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے اور عبدالعزیز صاحب ۔۔آپ کا انتظار کر رہے ہیں” بچی واپس بھاگ گئی اور میں مدرسے کے اندر تنگ گلیوں سے گُزرتا۔۔عقب میں غازی صاحب کے حجرے تک جا پہنچا۔۔جہاں اُنہوں نے کہا کہ”ڈاکٹر صاحب ایک زحمت!! والدہ بھی آپ کو دُعا دینا چاہتی ہیں۔۔!! "کھانا ہم نے فرش پر دسترخوان بچھا کر کھایا اور اس دوران عبدالعزیز صاحب بھی۔۔ساتھ شامل ہو گئے۔۔بات چیت ہوتی رہی اور جب میں نے رُخصت چاہی تو اُنہوں نے اپنی کتابوں کا ایک سیٹ عطیہ دیتے ہوئے دوبارہ آنے کا وعدہ لیا۔۔اور پھر دونوں بھائی۔۔جامعہ کے دروازے تک چھوڑنے۔اس وعدے کے ساتھ آئے کہ میں دوبارہ جلد واپس آؤں گا۔
حقیقت یہ کہ میں دونوں علماء کا استدلال سمجھنے سے مکمل قاصر رہا!! چند مسلح نوجوان اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے۔۔۔مصافحہ تو کیا لیکن گفتگو سے اجتناب کرتے ہوئے۔آگے بڑھ گیا! لیکن دروازے سے باہر قدم رکھتے وہی شیطان کی خالہ اسماء اچھل کر پھر سامنے آ گئی”بھائی جان!! میں آپ کوفون نہیں کروں گی۔۔وہ کارڈباجی کے پاس ختم ہو جاتا ہے نا۔۔ایس ایم ایس کروں گی۔۔جواب دیتے رہیے گا۔۔پلیز بھائی جان!!”اُس کی آنکھوں میں معصومیت اور انداز میں شرارت کا امتزاج تھا۔۔۔”اچھا بیٹا!! ضرور۔۔۔اللہ حافظ”جاتے جاتے پلٹ کر دیکھا تو بڑی بہن بھی روشندان سے جھانک رہی تھی! کہ یہی دونوں بہنوں کی کُل دُنیا تھی!! کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟ جو احباب میری ذاتی زندگی تک رسائی رکھتے ہیں وہ واقف ہیں کہ میں خبروں کے جنگل میں رہتا ہوں!!دن کا بیشتر حصہ اخبارات۔جرائد اور کتابوں کے اوراق میں دفن گُزارتا ہوں!! چنانچہ گزرے تین ماہ کے دوران بھی جہاں چیف جسٹس کا معاملہ پیچیدہ موڑ اختیار کرتا۔۔اُن میں الجھائے رہنے کا سبب بنا!! وہیں یہ مصروفیات بھی اپنی جگہ جاری رہیں۔لیکن اس تمام عرصے، وقفے وقفے سے مجھے ایک گمنام نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوتے رہے!!عموماً قرآن شریف کی کسی آیت کا ترجمہ یا کوئی حدیثِ مبارکہ۔۔۔یا پھر کوئی دُعا۔۔رومن اُردو میں۔۔۔اور آخر میں بھیجنے والے کا نام۔۔۔”آپ کی چھوٹی بہن اسماء” یہ سچ ہے کہ ابتداء میں تومجھے یاد ہی نہیں آیا کہ بھیجنے والی شخصیت کون ہے؟ لیکن پھر ایک روز پیغام میں یہ لکھا آیا کہ”آپ دوبارہ جامعہ کب آئیں گے؟”تو مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہی چھوٹی نٹ کھٹ۔۔۔حجاب میں ملبوس بچی ہے۔۔جس سے میں جواب بھیجنے کا وعدہ کر آیا تھا!!میں نے فوراً جواب بھیجا”بہت جلد۔۔!!” جواب آیا”شکریہ بھائی جان!” میں اپنے موبائل فون سے پیغام مٹاتا چلا گیا تھا چنانچہ چند روز قبل جب لال مسجداور جامعہ حفصہ پر فوجی کارروائی کا اعلان ہوا تو میں نے بے تابی سے اپنے فون پر اُس بچی کے بھیجے پیغامات تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بد قسمتی سے میں سب مٹا چُکا تھا! اُمید تھی کہ اسماء بڑی بہن کے ساتھ نکل گئی ہو گی! لیکن پھر بھی بے چینی سی تھی!! کوئی آیت،حدیث،دُعا بھی نہیں آ رہی تھی! اس تصور کے ساتھ خود کو تسلی دی کہ ان حالات میں، جب گھر والے دور گاؤں سے آ کر۔۔دونوں کو لے گئے ہوں گے تو افراتفری میں پیغام بھیجنے کا موقع کہاں؟؟ جب بھی اعلان ہوتا کہ "آج رات کو عسکری کارروائی کا آغاز ہو جائے گا”!!”فائرنگ،گولہ باری کا سلسلہ شروع” "مزید طالبات نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا” "ابھی اندر بہت سی خواتین اور بچے ہیں” "یرغمال بنا لیا گیا ہے” وغیرہ وغیرہ۔۔۔تو میری نظر اپنے موبائل فون پر اس خواہش کے ساتھ ۔۔چلی جاتی کہ کاش!! وہ پیغام صرف ایک بار پھر آ جائے۔۔میں نے جسے کبھی محفوظ نہ کیا!!
8جولائی کی شب اچانک ایک مختصر ایس ایم ایس موصول ہوا”بھائی جان! کارڈختم ہو گیا ہے۔۔پلیز فون کریں۔” میں نے اگلے لمحے رابطہ کیا تو میری چھوٹی ۔۔پیاری اسماء زاروقطار رو رہی تھی”بھائی جان، ڈر لگ رہا ہے! گولیاں چل رہی ہیں! میں مر جاؤں گی!” میں نے چلا کر جواب دیا”اپنی بہن سے بات کراؤ۔۔”بہن نے فون سنبھال لیا”آپ دونوں فوراً باہر نکلیں۔۔معاملہ خراب ہو رہا ہے۔۔کہیں تو میں کسی سے بات کرتا ہوں کہ آپ دونوں کو حفاظت سے باہر نکالیں۔۔”دھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں!! مجھے احساس ہوا کہ بڑی بہن نے اسماء کو آغوش میں چھپا رکھا ہے لیکن چھوٹی پھر بھی بلک رہی ہے۔۔رو رہی ہے۔۔!!”بھائی وہ ہمیں کیوں ماریں گے؟؟ وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں!! وہ بھی کلمہ گو ہیں! ! اور پھر ہمارا جُرم ہی کیا ہے؟ آپ تو جانتے ہیں بھائی! ہم نے تو صرف باجی شمیم کو سمجھا کر چھوڑ دیا تھا۔۔چینی بہنوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا۔۔بھائی!! یہ سب ان کی سیاست ہے۔۔ہمیں ڈرا رہے ہیں” بہن پُر اعتماد لہجے میں بولی۔۔!! ” دیکھیں! حالات بُرے ہیں!! میں بتا رہا ہوں۔۔آپ فوراً نکل جائیں ۔۔خدا کیلئے!!” مجھے احساس ہوا کہ میں گویا ۔۔اُنہیں حکم دے رہا ہوں!!”بھائی!! آپ یونہی گھبرا رہے ہیں!! غازی صاحب بتا رہے تھے کہ یہ ہمیں جھکانا چاہ رہے ہیں۔۔باہر کچھ بھائی پہرہ بھی دے رہے ہیں! کچھ بھی نہیں ہو گا، آپ دیکھیے گا۔۔اب فوج آ گئی ہے ۔نا!! یہ بدمعاش پولیس والوں کو یہاں سے بھگا دے گی!! آپ کو پتہ ہے۔۔فوجی تو کٹر مسلمان ہوتے ہیں۔۔وہ ہمیں کیوں ماریں گے۔۔ہم کوئی مجرم ہیں۔۔کوئی ہندوستانی ہیں۔۔کافر ہیں۔۔کیوں ماریں گے وہ ہمیں۔۔!!” بہن کا لہجہ پُر اعتماد تھا۔۔اور وہ کچھ بھی سُننے کو تیار نہ تھی "ڈاکٹر بھائی مجھے تو ہنسی آ رہی ہے کہ آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں!! آپ کو توپتہ ہے کہ یہ سلسلہ” اسی طرح چلتا رہتا ہے! یہ اسماء تو یونہی زیادہ ڈر گئی ہے۔اور ہاں آپ کہیں ہم بہنوں کا نام نہ لیجئے گا۔ایجنسی والے بٹہ گرام میں ہمارے والد،والدہ اور بھائیوں کو پکڑ لیں گے!سب ٹھیک ہو جائے گا بھائی! وہ ہمیں کبھی نہیں ماریں گے!!”میں نے دونوں کو دُعاؤں کے ساتھ فون بند کیا اور نمبر محفوظ کر لیا۔
اگلے روز گزرے کئی گھنٹوں سے مذاکرات کی خبریں آ رہی تھیں اور میں حقیقتاً گُزرے ایک ہفتے سے جاری اس قصے کے خاتمے کی توقع کرتا، ٹی وی پر مذاکرات کو حتمی مراحل میں داخل ہوتا دیکھ رہا تھا کہ احساس ہونے لگا کہ کہیں کوئی گڑبڑ ہے۔ میں نے چند شخصیات کو اسلام آباد فون کر کے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ معاملہ بگڑنے کو ہے تو جواباً ان خدشات کو بلا جواز قرار دیا گیا لیکن وہ دُرست ثابت ہوئے اور علماء کے وفد کی ناکامی اور چوہدری شجاعت کی پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی وہ عسکری کارروائی شروع ہو گئی جس کی قوت کے بارے میں، موقع پر موجود ایک سرکاری افسرکا بیان تھا "لگتا ہے پوری بھارتی فوج نے چھوٹے ملک بھوٹان پر چڑھائی کر دی ہے” فائرنگ۔۔دھماکے۔۔گولہ باری۔۔شیلنگ۔۔جاسوس طیارے۔۔گن شپ ہیلی کاپٹرز۔۔۔خُدا جانے کیا کچھ!! اور پھر باقاعدہ آپریشن شروع کر دینے کا اعلان۔ اس دوران عبد الرشید غازی سے بھی ایک بار ٹی وی پر گفتگو کا موقع ملا۔۔اور پھر پتہ چلا کہ اُن کی والدہ آخری سانسیں لے رہی ہیں!! اور تبھی صبح صادق فون پر ایس ایم ایس موصول ہوا”پلیز کال” یہ اسماء تھی!! میں نے فوراً رابطہ کیا تو دوسری طرف۔چیخیں۔۔شور شرابہ۔۔لڑکیوں کی آوازیں”ہیلو۔۔اسماء! بیٹی! ہیلو ” خُدا جانے وہاں کیا ہو رہا تھا”ہیلو بیٹی آواز سُن رہی ہو” میں پوری قوت سے چیخ رہا تھا۔”بات کرو کیا ہوا ہے” وہ جملہ۔۔آخری سانسوں تک میری سماعتوں میں زندہ رہے گا! ایک بلک بلک کر روتی ہوئی بچی کی رُک رُک کر آتی آواز "باجی مر گئی ہے۔۔مر گئی ہے باجی۔۔” اور فون منقطع ہو گیا!!
اسٹوڈیوز سے کال آ رہی تھی کہ میں صورتحال پر تبصرہ کروں لیکن میں بار بار منقطع کال ملانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا!! کچھ کہنے یا سُننے کی ہمت نہ تھی۔کسی کمانڈو جیسی طاقت،اعجازالحق جیسی دیانت اور طارق عظیم جیسی صداقت نہ ہونے کے باعث مجھے ٹی وی پر گونجتے ہر دھماکے میں بہت سی چیخیں۔۔فائرنگ کے پیچھے بہت سی آہیں اور گولہ باری کے شور میں”بھائی جان! یہ ہمیں کیوں ماریں گے؟” کی صدائیں سُنائی دے رہی تھیں۔چھوٹے چھوٹے کمروں میں دھواں بھر گیا ہو گا۔اور باہر فائرنگ ہو رہی ہو گی۔بہت سی بچیاں تھیں۔۔فون نہیں مل رہا تھا۔۔پھر عمارت میں آگ لگ گئی۔ اور میں اسماء کو صرف اُس کی لا تعداد دُعاؤں کے جواب میں صرف ایک الوداعی دُعا دینا چاہتا تھا۔۔ناکام رہا۔ فجر کی اذانیں گونجنے لگیں تو وضو کرتے ہوئے میں نے تصور کیا کہ وہ جو سیاہ لباس میں ملبوس مجھ سے خواہ مخواہ بحث کر رہی تھیں۔۔اب سفید کفن میں مزید خوبصورت لگتی ہوں گی! جیسے پریاں۔ قحبہ خانوں کے سر پرستوں کو نوید ہو کہ اب اسلام آباد پُر سکون تو ہو چکا ہے لیکن شاید اُداس بھی! اور یہ سوال بہت سوں کی طرح ساری عمر میرا بھی پیچھا کرے گا کہ وہ کون تھیں ؟ کہاں چلی گئیں؟ (دونوں مرحوم بچیوں سے وعدے کے مطابق اُن کے فرضی نام تحریر کر رہا ہوں)۔

کہانی سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کی


خود کلامیاں : بلال ساجد

  دیکھیں جی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کا شروع سے یہ خیال تھا کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہم خیال قوتوں کو مل کر الیکشن میں جانا چاہیئے اور کم سے کم ایجنڈے پہ اتفاقِ رائے پیدا کر کے آگے بڑھنا چاہیئے۔

پورے پاکستان میں بالعموم اور کراچی و بلوچستان میں بالخصوص مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا ہونا چاہیئے اور حالات کو بہتر کرنے کے لیے اور بلوچستان میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیئے ۔۔۔ لیکن تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست یا یوں کہہ لیں کہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں یہ کوششیں ناکام ٹھریں اور جماعتِ اسلامی نے محسوس کیا کہ مسلم لیگ نواز اور تحریکِ انصاف کا ایک سٹیج پہ بیٹھنا ممکن نہیں رہا!

اِس کے بعد، جماعتِ اسلامی نے یہ کوشش کی کہ کم از کم بلوچستان اور کراچی ایشو پہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا جائے اور خدانخواستہ 1971 کی تاریخ کو نہ دوہرایا جائے لیکن کچھ عوامل ایسے تھے جس کی وجہ سے ہماری یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی اور یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

دوسری طرف، جماعتِ اسلامی تنہا پروازی سے کسی بھی وقت خوفزدہ نہیں تھی اور ہم اکیلے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیتے لیکن ملک کے موجودہ حالات میں جماعت سے باہر بیٹھے ہمارے کچھ ہمدرد ہمیں بار بار یہ مشورہ دے رہے تھے کہ دائیں بازو کا ووٹ تقسیم نہ ہونے دو ورنہ پیپلز پارٹی کی حکومت آ جائے گی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کے اندر بھی اس حوالے سے دو طرح کی رائے پائی جاتی تھی ۔۔۔

اول، کسی کے ساتھ اتحاد یا ایڈجیسٹمنٹ نہ کی جائے اور تنہا پرواز کی جائے۔ دوم، مسلم لیگ نواز یا تحریک انصاف کے ساتھ سیٹوں کی بنیاد پہ نہیں بلکہ ایشوز کی بنیاد پہ ایڈجیسٹمنٹ کی جائے۔

جماعتِ اسلامی کی مرکزی شوری نے اس پہ غور و خوص کیا اور اس ڈسکشن میں مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کی اعلی قیادت کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے ساتھ خواہشِ اتحاد کے حوالے سے ساے بیانات پہ بھی غور کیا گیا ۔۔۔ اور ۔۔ قرعہِ فال تحریکِ انصاف کے نام نکلا ۔۔۔

عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ ہمارے رابطے تو بہت پہلے سے تھے ۔۔۔ اور عمران خان صاحب نے بار بار مختلف فورمز پہ اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ جماعتِ اسلامی سے ایڈجیسٹمنٹ ہو سکتی ہے ۔۔۔ اسی بنیاد پہ ہم نے ان کی طرف قدم بڑھائے تھے اور 24 مارچ کو میٹنگ میں یہ بات تقریباً طے ہو گئی تھی کہ جماعتِ اسلمی اور تحریکِ انصاف سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کریں گی ۔۔۔

اس حوالے سے جاوید ہاشمی صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی لیکن بعد میں اس کمیٹی کا کوئی اجلاس تک نہ ہو سکا اور یہ بات آپ کو تحریکِ انصاف کے دوستوں سے پوچھنی چاہیئے کہ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔!

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ نہ ہو سکنے کی وجہ بھی بہت واضح ہے ۔۔۔ میری رائے میں کچھ ایسے لوگ، جن کے بارے میں ن لیگ کا یہ خیال ہے کہ وہ اقتدار کا فیصلہ کرتے ہیں، ۔۔۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ن لیگ، جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی تشخص رکھنے والی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرے اور یہ بات آپ ن لیگ سے ہی پوچھیں کہ انہیں کہاں سے کس طرح کے پریشر کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔!

لیکن میں عرض کروں کہ ہمارے لیے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے ۔۔ ہم نے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بغیر جتنی سیٹیں لینی تھیں سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بعد ان میں ایک یا دو سیٹوں کا اضافہ ہو جاتا لیکن ہمارا خیال تھا کہ اگر دائیں بازو کا ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہوا تو اس کا فائدہ وہی کرپٹ ٹولہ اٹھائے گا جو پچھلے پانچ سال ہم پہ مسلط رہا ہے!

Why JI is a target of Liberal Fascists


Jamaat-e-Islami-ExhibitionMuhammad Saad Khan

A lot is being said about Jamaat e Islami (JI) in political arena. Since there is not an iota of allegation on ground of ethical and moral corruption against JI, the liberal elite comes up with rather silly accusations, extremism, violence against women, lack of social  activism just to name a few.

Their rhetoric defines them i.e., ‘do in Rome as Romans do’ and the dire wish to mold Islam in such a way that all is kosher, making religion flexible like a liquid which takes the shape of its container. It is just like ‘halal-ifying’ bikini in Islam because for them it’s a personal   choice of an individual.

Jamaat-e-Islami (JI) is their target because only JI talks about implementation of Islam and ideology of Pakistan. They rely on mockery and baseless allegations in response to facts and ground realities.

JI does not bifurcate religion and politics. For JI, politics is part of religion. Secularism is a myth and people who practice a certain religion, do have a certain influence of it in their public life. Also, Islam is equally applicable to public life of Muslims. Quran and Sunnah categorically formulates rules which have to be implemented by the state.

For the past seventy years, JI is working on the base of its ‘dawat e deen’ which revolves around teaching of Quran and Sunnah and strive to establish an Islamic state. JI doesn’t believe and have never supported any underground movements. The problem with liberal mind-set is that it doesn’t differentiate between underground movement and someone openly working with an ideology and belief system.  All the workers and leaders of JI are product of its own and there is no ‘lota’ or turncoat in JI. Everyone who wants to join JI has to go through a process of membership.e spiritual and academic training and over the years a commoner can become a leader. There is no hereditary leadership in JI.

People must know that JI has a history of seventy years. Surviving tests of times for seven decades without any disintegration is a huge success and it shows level of commitment of JI and its workers. JI is the only organization which has worked for sectarian harmony throughout the country and its on record. The efforts of JI to bring peace among different sects are appreciated by both sides. JI has never been involved in terrorism; rather it’s a victim of terrorism itself. Yes, JI is against war of terror and drone attacks. While others merely talk about it, JI parliamentarian from Bajour actually resigned from Parliament after first drone attack.

One has to be extremely dishonest to turn a blind eye to the role of JI in natural disasters and testing times. First camp for rehabilitation of immigrants was established and run by JI workers in 1947 in Lahore and from that day onwards, JI activists are working from Khyber to Karachi and Kashmir to Gawadar to help the victims. Only JI workers have been helping IDPs of FATA while most of others rely on lip services only.  JI has been active in rural areas of Punjab and Sindh in recent floods doing rehabilitation work. Recently when homes of Christian community were demolished, JI established medical and welfare camps to help the victims .

JI women wing is the most active women wing of any organization. It has a separate setup and it works independently. Elected women leadership works till grass root level and provides help to women and children and raise voice for them. Women MNAs of JI from 2002-2007 were most active in the Parliament. It can be checked from Parliamentary record that while a lot of women legislators didn’t speak at all, JI women wing raised its voice on all issues. Also, it’s a known fact in Pakistan that most of the violence against women occurs in the areas of feudal lords, who are a significant part of ruling liberal elite but seldom eyebrows are raised against feudal lords.

JI is committed to contest the elections with full zeal. The option of seat adjustment with like-minded parties should be kept open to reduce the chances of division of votes. JI has fielded its candidates from FATA to Karachi to Baluchistan, and the workers are hopeful to show a good performance in the upcoming elections.

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے


گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے

خدا کرے کوئ تیرے سوا نہ پہچانے

مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال

بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے

ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہلِ دنیا نے

بقدرِ تشنہ لبی پرسشِ وفا نہ ہوئ

چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے

خیال آگیا مایوس رہ گزاروں کا

پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے

کہاں ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست

تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے

امیدِ پرسشِ غم کس سے کیجیے ناصر

جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے

ناصر کاظمی

محبتوں کے دیس کے باسی


جو لوگ محبتوں کے دیس کے باسی ہوں

کیوں وہی سہیں نفرتوں کے عذاب سارے

 

زخمی کرجاتے ہیں وہ بھی اکثر

سرد رویوں میں لپٹے گلاب سارے

 

ریزہ ریزہ جو بکھرے تھے ٹوٹ کر

بہت معصوم تھے مرے وہ خاب سارے

 

چن رہی تھی کرچیاں اپنے ہی وجود کی

زخم زخم تھی روح ، زخمی تھے ہاتھ سارے

 

جواب ان کے لاتے کہاں سے ؟؟؟

اٹھائے تھے اشکوں نے جو سوال سارے

 

خطا ہی تلاشتے رہے ہم عمر بھر ان کی

سرزد کبھی جو ہوئے نہ تھے قصور سارے

 

یہ قرعہ بھی  ہمیشہ ہمارے ہی نام نکلا اسریٰ

کسی کہ حصہ پارسائیاں تو کسی کہ حصہ الزام سارے

شہر تو میرا لہو لہو ہے !


abas

اتوار کی چھٹی کی وجہ سے گھر میں خاص پکوان کی تیاری جاری تھی ، نماز مغرب ہوئی اور ایک زوردار دھما کے نے پل میں سارا منظر ہی بدل دیا ۔

روتے سسکتے لوگ ، کھنڈر ہوئے مکان اور دم توڑتے انسان ……..

کئی گھنٹوں تک جلنے والے فلیٹوں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں اور پھر وہاں زندگی نے دم توڑ دیا ،  کچھ کی خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی مگر آشیانہ نہ بچ سکا ، ساری زندگی کی کمائی ، ایک ایک پیسہ جوڑ کر اکھٹا کر کے بنایا جانے والا آشیانہ یوں پل میں بکھر گیا انسانی اعضا بکھر گئے اور اسی وقت اقتدار اعلی منگنی کی تقریب کے مزے لوٹنے میں مصروف رہے۔۔۔۔۔

میری تین ساتھی اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل میں ہی رہائش پذیر ہیں ، جس طرح ان کے گھروں کے شیشے ٹوٹے ، گھر والے لمحوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہائے وہ کرب کس طرح بیان کروں، جو ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں اٹھایا ، جو ایک باپ نے اپنی بیٹی کی کٹی ہوئی گردن کو اس کے جسم کے بغیر دیکھ کے سہا ، وہ کرب جس نے ایک شخص کو ناصرف گھر سے محروم کر کے اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا بلکہ اس سے اس کی بیوی اور نو ماہ کے بچے سے بھی محروم کر دیا.

پہلے نشانہ مساجد اور بازار بنے آج یہ عالم ہے کے گھروں پہ حملہ ، گوشت والا ، سبزی والا کوئی بھی تو محفوظ نہ رہا . نہ تجربہ کار لڑکوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کے ٹکرے کس حال میں جمع کئے ، کسی ماں نے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے میچ دیکھتے بیٹے کی خون سے لت پت لاش کو اپنی گود میں بھرتے ہوۓ اٹھایا وو دکھ میرا قلم بیان کرنے سے قاصر ہے .

ستم ظریفی تو یہ کے اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل کی طرف ڈھائی گھنٹے تک کسی نے رخ نہ کیا ، اقتدار اعلی کی ہمدردی ٹی وی پہ چلنے والی ہیڈ لائنز تک ہی محدود رہی ، کوئی پرسان حال نہیں. کون یتیم ہوا ؟ کس نے بیوگی کا دکھ سہا کس ؟ اس دکھ تو بھلا یہ کیا جانیں ؟

بالائے ستم یہ کہ وہ لوگ جو بری طرح زخمی ہوئے ان کے گھروں کو اس حال میں بھی لوٹنے والوں نے نہ چھوڑا ان کے گھروں سے لوگ زیورات ، نقدی ، قیمی سامان لے اڑے ،ہم ہی راہزن بن گئے .

افسوس صد افسوس یہ ظلم کا کونسا مقام ہے ؟؟

جب قصاب بکریوں کو ذبح کرنے کے لئے لے جاتا ہے تو باقی بکریاں شکر ادا کرتی ہیں لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منا پاتی ہے .

. شاید آج یہی حال ہمارا بھی ہے اگر آج یہ تباہی عبّاس ٹاؤن میں ہوئی ہے تو کل کسی بھی علاقے میں ہو سکتی ہے . وہ لوگ جو ان کاروائیوں میں مصروف ہیں انکا کوئی مذھب نہیں . کچھ لوگ اب بھی اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دے رہے ہیں ، لیکن یہاں تو سب ہی کے گھر لٹے سب ہی شہید ہوئے. تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بھی اپنا ہی جھنڈا لہرانے میں مصرورف ہیں. میرا دل چاہتا ہے ان شرم سے بالاتر حکمرانوں کا گریبان پکڑ کے پوچھوں کے یہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے ، پاکستان کا دل ہے .اگر کراچی برباد ہوتا ہے تو پاکستان کا دل بند ہوتا ہے ور اگر کسی کا دل بند ہو جائے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے. آخر انہیں کیوں سمجھ نہیں آتا کے وہ پاکستاں کو برباد کر رہے ہیں .

آخر وہ کونسی مخلوق ہے جو سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد لے کر شہر میں داخل ہو جاتی ہے اور کسی کو نظر ہی نہیں آتی روزانہ کسی ماں کا لال جان کی بازی ہار بیٹھتا ہے اور پھر اس پہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات ایک پھلجھڑی کا کام ہی انجام دیتے ہیں. وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ وزیر اطلات کا عہدہ سنبھال لیں ، جب وہ اپنے فرائض پورے کر ہی نہیں سکتے. ان کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ غیر مستحکم پاکستان عالمی قوتوں کے لئے کتنا موزوں ہے. اگر کراچی لہو لہو ہے تو پورا ملک اس سے متاثر ہے.

قرآن کریم کی سورہ الانعام کی آیات ٦٥ میں الله نے فرمایا

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُون

"کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں”.

روزانہ کی ٹارگٹ کلنگ ، بم بلاسٹ ،

الله تو بار بار راہ ہدایت دکھاتا ہے قرآن میں ، بار بار اپنے عذاب سے با خبر کرتا ہے لیکن ہم سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، اب بھی وقت ہے کے ہم سنبھل جائیں  ، ورنہ شاید ہمارا نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں . ہمیں اس وقت اجتمائی توبہ اور صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے . پورا کراچی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں آتا ہے

اجڑے رستے ، عجیب منظر ، ویران گلیاں، بازار بند ہیں ۔۔۔

کہاں کی خوشیاں ، کہاں کی محفل ، شہر تو میرا لہو لہو ہے ۔۔۔

وہ روتی ما ئیں ، بیہوش بہنیں ، لپٹ کے لاشوں سے کہ رہی ہیں ۔۔۔

اے پیارے بیٹے ، گیا تھا گھر سے ، سفید کرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

الہٰی اس چمن کو اس پت جھڑ کے غم سے نجات دے .

ہم تھک چکے ہیں روزانہ لاشیں اٹھاتے رحم فرما اے الله رحم . { آمین}

دعاؤں کی طلبگار زوجہ غضنفر فرہاج

%d bloggers like this: