Tag Archives: امیر جماعت اسلامی

ہم پہنچے ورکشاپ


ورک

صبح آٹھ بجے کی فلائیٹ تھی  گھر سے تک ائیر پورٹ کا دس منٹ کا سفر تھا مگر بس جانے کی لگن ایسی تھی کہ رات بھر صحیح سے نیند بھی نہیں آئی اپنی کچھ ساتھیوں کے ہمراہ سات بجے ائیر پورٹ پر تھی باقی سب بھی تھوڑی دیر تک پہنچ گئے سب کو دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی سب سے سلام دعا کے بعد بورڈنگ کارڈ لیا اور جہاز کی طرف چل پڑے اپنا سیٹ نمبر تلاش کرکے سیٹ کی جانب بڑھے ہمارے ساتھ اسکارف پہنے ایک بہت ہی اچھی لڑکی آبیٹھی راستے بھر ہم نے انکا بھی تعارف لیا اپنے بارے میں بھی بتایا اچھی دوستی ہوگئی اور ڈیڑھ گھنٹہ کیسے گزرا یہ پتا بھی نہیں چلا ہمسفر اچھے ہوں تو صدیوں کا سفربھی لمحوں کا محسوس ہوتا ہے یہ تو پھر ڈیڑھ گھنٹہ ہی تھا ۔ لاہور اِئیرپورٹ پر گاڑیاں موجود تھیں بس ذرا سی تلاش کے بعد ہمارا قافلہ منصورہ کی جانب گامزن تھا ۔ جب وہاں پہنچے تو ورکشاپ شروع ہو چکی تھی اس لیے سیدھے آڈیٹوریم کی جانب ہی چل پڑے وقاص جعفری بھائی کی گفتگو جاری تھی جو بہت اہم امور کی جانب توجہ دلارہے تھے سوشل میڈیا کے میدان میں ہمارے کاموں کو مضبوط بنانے کی پلاننگ اور طریقہ کار پر بہت موئثر باتیں ہوئیں اگلا پروگرام ناظم اعلیٰ جمیعت کا تھا جمیعت سے ہمیشہ ہی دلی وابستگی رہی ۔ میں نے اپنی ڈائری لکھنے کی عادت بھائیوں سے ہی لی جو جمیعت کے رکن تھے اور روازانہ رات میں فجر سے لیکر عشاء تک کی اپنی پورے دن کی روداد ڈائری میں لکھتے ۔
ناظم اعلیٰ نے بہت اچھی طرح پوری دنیا میں سوشل میڈِیا کو استعمال کرنے والوں کے اعداد و شمار اور سوشل میڈیا کو پاکستان میں متعارف کروانے والوں کے بارے میں آگاہی اور انکی تعداد اورطریقہ کار پر ایک اچھی اور پھر پور ورکشاپ کروائی ۔ وقت کم مقابلہ سخت کی سی کیفیت تھی اور اب اگلی ورکشاپ میں ویڈیو، ایڈیٹنگ ، فوٹو گرافی اور یو ٹیوب کا استعمال سکھایا جو یقینا فائدہ مند تھا اور دلچسب بھی لگا کیونکہ یہ میرا شوق بھی ہے اور اکثر ہی تجربات کرتی رہتی تھی سو اب ایک اچھی گائیڈ لائن مل رہی تھی انہوں نے چھوٹے چھوٹے کلپس ﴿SOT ﴾لینے کا طریقہ بتایا جسے ہم نے بعد میں پورے دو دن اپلائی کیا اور ہم آپس میں یہی کہتے چلو ایک SOTہوجائے ۔

اب ظہر و ظہرانے کا وقفہ تھا انتظامات بہت اچھے کیے گئے تھے ہماری سائیڈ کو قناعت لگا کر کور کر دیا گیا تھا اور داخلی دروازہ بھی الگ رکھا گیا تھا اور کسی بھی طرح کے اختلاط سے بچنے کے لیے مز ید ہدایات کی گئیں تھیں کہ ہم لوگ ذرا دیر بعد با ہر نکلیں جب بھائی جا چکے ہوں ۔
ہم اپنی رہاش گاہ کی جانب چلے تو راستے میں کچھ یادیں تازہ اور ایک شفیق ہستی کی بہت یاد آئی جی قاضی با با کے گھر سامنے سے گزرتے ہوئے بس وہی شفیق چہرہ نگاہوں کے سامنے آجاتا اور میری نگاہوں کے سامنے ویڈیو میں زاروقطار روتی ہوئی اس گھر کی ماسی گھوم رہی تھی جس کا دکھ اس کی آنکھوں سے بہہ رہاتھا دو دن کے دوران ہمیں ہر بار اسی رستے سے گزرنا ہوتا اور میں ہر مرتبہ میں اس گھر کے سامنے کچھ لمحے رکنے پر مجبور ہوجاتی اور سوچتی اے کاش ۔۔۔ کہ آج قاضی بابا ہوتے اور یہ خیال آتے ہی میری آنکھیں برسنے لگتیں ۔۔۔ آہ ۔۔مگر یہ موت ۔۔۔۔۔ ایک تلخ ہی سہی مگر حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ، میں اپنی یہ کیفیت سب سے چھپا کر الگ سی ہو کر چلنے لگتی ۔
وقفہ کے دوران سامان اپنے اپنے کمروں میں رکھا اور تمام صوبوں سے آئی ہوئی ساتھیوں سے ملاقات کرنے کا موقع ملا اور اسی وقت مجھے ایک حیران کن اور خوشگوار تجربہ ہوا میرے سا تھ جو ساتھی کھڑی تھیں انہوں نے میرے سکارف پر لگے بیج پر میرا نام پڑھا اور اک دم سے جذباتی سے لہجے میں بولیں آپ اسریٰ غوری ہیں ؟ ”میں نے جواب دیا ‘،جی ، بولیں آپ کراچی سے آئی ہیں آپ وہی اسریٰ غوری ہیں ؟ انکے لہجے سے محبت اور حیرانی ، خوشی ایک ساتھ عیاں تھی اسی لمحے انہوں نے اپنی باقی ساتھیوں کو بھی آواز لگائی ادھر آئیں یہ دیکھیں اسریٰ غوری بھی آئیں ہیں میں دل ہی دل میں شرمندہ کے میں کوئی اتنی اہم تو نہ تھی کہ ایسے سب کو بلایا جاتا مگر وہا ں تو جو محبتیں تھیں بے لوث بے غرض محبتیں جن کا قرض اتارنا ممکن ہی نہیں ان سب کے ساتھ بہت اچھی ملاقات رہی سب ایک دوسرے سے ایسے ہی مل رہے تھے جیسے برسوں کا ساتھ ہو ۔

اگلا پروگرام ڈاکٹر واسع بھائی کا تھا جو الیکشن سے متعلق تھا کہ ہم نے سوشل میڈیا پر کس طرح کام کرنا ہے ؟ ہماری حکمت عملی کیا ہونی چاہیے ؟ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے کس طرح افرادمیں آگاہی پیدا کرسکتے ہیں؟ ووٹرز میں ووٹ کی اہمیت کا احساس پیدا کرنا کتنا ضروری ہے ؟ آنے والے الیکشن کے حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ورکشاپ تھی ۔
اب نماز عصر کا وقفہ اور پھر ایک بہت ہی محترم ہستی جن کی گفتگو تھی لیاقت بلوچ صاحب نجانے صرف مجھے ہی یہ محسوس ہوا یا شا ید کسی اور نے بھی کیا ہو یا یہ میری تلاش تھی جو ہر طرف قاضی با با کی کمی محسوس کر رہی تھی اس لیے مجھے ان میں قاضی با با کی جھلک نظر آئی ۔۔۔۔۔ کس قدر شفقت سے بھرا لہجہ اور طمانیت ماحول کو پر رونق بنا رہا رہا تھا ایک ایک لفظ پر ٹھراو ایسا گماں ہو رہا تھا جو کہا جارہا ہے وہ سب دل میں اتر تا  جا رہا ہے ہر سوال کا پھر پور اور تسلی بخش جواب دیا جارہا تھا ،  ایک سوال کا بہت ہی سادہ اور برجستہ جواب ان کی جانب سے آیا ۔۔۔جو خواتین کی جانب سے کیا گیا تھا کہ خواتین کے لیے بھی کوئی نصیحت ،کوئی ہدایت کیجیے ؟ جواب آیا  "وہی تمام باتیں ہیں جو ابھی کیں ہیں بس آپ لوگ جہا ں” کا ” کہا ہے وہاں ” کی ” کر لیں جہاں "تھا "کہا ہے وہاں "تھی ” کر لیں اور بس ” سب ہی اس جواب سے محظوظ ہوئے ۔۔۔۔ اس پروگرام کو ایک بارونق پروگرام کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا ۔
اب وقفہ نماز مغرب کے بعد ایک بار پھر ہم سب آڈیٹوریم میں موجود تھے اب جو ورکشاپ تھی عنوان ” ٹئوٹر کا استعمال ” اس میں بھی بہت سی چیزوں سے آگاہی حاصل ہوئی اور ٹیوٹر کے ٹرینڈ کے بارے میں جو غلطیاں ہم سے سرزرد ہوتیں تھیں ان کا بھی پتہ چلا ۔
عشاء اور رات کا کھانا اس کے بعد کوئی پروگرام تو نہیں تھا مگر عالیہ باجی {مرکزی نگراں} نے تمام صوبوں سے آئی ہوئی ساتھیوں کے ساتھ ایک تعارفی نشست رکھ لی تھی جو بہت اچھی رہی جن کو اب تک صرف اپنے لیپ ٹاپ کی نظر سے ہی دیکھا تھا اب ان سب کو قر یب سے جاننے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر بہت ہی خوشی ہو رہی تھی کہ جن کو ابھی سوشل میڈیا کا کام نہیں بھی آتا تھا مگر ان میں جو جذبہ تھا وہ قابل ستائش تھا اور ان کی خواہش یہی تھی کہ آپ ابھی ہمیں بھی سب سکھا دیں وقت چونکہ بلکل نہیں تھا اس لیے چاہنے کے باوجود بہت زیادہ نہیں بتا سکے ۔
نشست ختم ہوئی تو ہر ایک نے اپنے اپنے کمرے کی راہ لی ہم بھی  اپنے گروپ کے ساتھ کمرے میں چلے گئے بہت ہی اہتمام سے لگے بستر میزبانوں کی بہترین میزبانی کا منہ بولتا ثبوت تھے ہمارا گروپ بھی ہمارے ہی جیسا تھا کسی کو نیند نہیں آرہی تھی ایک ساتھی کو آرہی تھی تو انہیں ہم نے نہیں سونے دیا یقینا وہ ہماری اس گستاخی کو در گزر فرمائیں گی سینئرز تو پہلے ہی دوسرے کمرے میں جا چکے تھے سو ہم بھی بلکل بے فکر مگر جب آوازیں ذرا ذیادہ ہی تیز ہو گئین جس کا ہمیں اندازہ تب ہوا جب دروازے سے عالیہ باجی کی محبت بھری ڈانٹ کی آواز آئی  ” بس بہت ہوگیا اب اپ لوگ بھی لائٹس آف کریں اور سو جائیں ” نیند تو کس کو آنی تھی مگر چونکہ اطاعت کا حلف اٹھایا ہوا تھا سو لائٹس آف کردی گئیں اور اپنے اپنے لیپ ٹاپ آن کر لیے رات ڈیڑھ بجے لیپ ٹاپ کی بیٹری بھی جواب دے چکی تھی اس لیے سونا ہی پڑا  ۔

صبح سے وہی روٹین شروع تھا پہلی ورکشاپ نو بجے تھی چائے پی اور بھاگے آڈیٹوریم کی جانب پہلی ورکشاپ ہی بہت زبردست تھی جماعت کے فورم پر کس طرح کام کیا جائے اور فورم کو کیسے ایکٹیو کیا جائے اور لوگوں میں متعا رف کروایا جائے ۔۔اسکے بعد اگلی ورکشاپ فیس کے استعمال کو موئثر بنانے کی لیے تھی ۔
پھر بلاگز پر بہت ہی اچھی اور تفصیلی ورکشاپ بہت کچھ سیکھنے کو ملا اگلی ورکشاپ میں جو ایک پھر پور ایکٹیوٹی کی صورت میں کروائی گئی، تحریر کو موئثر اور قاری کے لیے اٹریکٹیو بنائے جانے کےبہت سے اصول سکھائے گئے اچھا پرفارم کرنے والے "بڑے بچوں” کو انعام کے طور پر ٹافیاں بھی دی گئیں ۔
دو روزہ ورکشاپ سے جو کچھ حاصل کیا اللہ کرے کہ ہم اس کو بہترین طور پر استعمال کرنے والے ہوں آمین ۔ ایسی ورکشاپس کا انعقاد ہوتا رہنا چاہیے ۔
ظہر و ظہرانہ کے وقفہ میں آئی ٹی کے ذمہ داران کی ساتھ ایک نشست ہوئی جس میں خواتین کے لیے طریقہ کار اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات ہوئی اس نشست میں سمعیہ راحیل باجی اور دیگر مرکزی ذمہ داران بھی ہمراہ تھیں ، آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا دورہ کروایا گیا اور کاموں کے بارے میں آگاہی دی گئی۔
سمیعہ راحیل باجی سے میری ملاقات پہلے بھی تھی مگر آج کی ملاقات بہت اچھی رہی بہت محبت سے پہچانا انہوں نے” اسریٰ آپکا آغا جانی پر لکھا بلاگ پڑھا بہت پیارا لکھا ”  انکی پوتی کی مبارکباد دی ان کے ساتھ کچھ تصویریں بھی لیں  یادگار لمحات کو ایسے ہی قید کیا جاسکتا ہے ۔

اس کے بعد اگلے پروگرام میں بھائیوں نے اپنے اپنے مقامات پر کیے جانے والے کاموں کی رپورٹس پیش کیں ۔
اب آخری اور ورکشاپ کا سب اہم سیشن تھا جی یہ امیر محترم کی گفتگو تھی جن کے آڈیٹوریم میں داخل ہوتے ہی ایک جذباتی سا ماحول ہو گیا تھا اور نعروں کی گونج میں امیر محترم اپنی سیٹ پر تشریف فرما ہوئے اور گفتگو کا آغاز کیا تو ہال میں سناٹا ہر ایک ہمہ تن گوش اپنے قائد کی کفتگو سن رہا تھا قائد محترم بھی اپنے سوشل میڈیا کے مجاہدوں کی کوششوں اور محنتوں کو سراہ رہے تھے اور آئندہ کے لیے اپنی بہترین تجاویزوں سے نواز رہے تھے اور جب خلوص دل سے کی گئی کاوشوں کو سراہا جائے تو    ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے ساری محنت وصول ہو گئی بس یہاں بھی ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا بہت مفید مشورے اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا آخر میں امیر محترم نے دعا کروائی جسے اللہ پاک قبول فرمائے ﴿آمین﴾ وقت چونکہ بلکل کم تھا اب واپسی کی تیاری تھی مگر جب آئے تھے تو منشورات گئے بغیر واپس جانے کو دل نہیں مانا بس بھاگم بھاگ منشورات گئے کچھ کتابیں لیں اور واپسی کی تیاری شروع کر دی ۔
اس ورکشاپ میں وہی ماحول تھا جو اکثر تربیت گاہوں اور اجتماعات کے مواقع پر دیکھنے کو ملا کرتا ہیں اس قدر اپنائیت اور محبت پورے ملک سے آئے ہوئی بہنیں مگر بلکل اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا اگر با ہر سے کوئی فرد آکر دیکھے تو وہ یقینا یہی گمان کرےگا کہ یہ سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں اور میں ایسے موقوں پر ضرور اللہ پاک سے یہ التجا کرتی ہوں کہ یا ربی ! یہ سب محبتیں بے غرض بے لوث صرف آپ کے لیے ہیں یہاں کوئی بھی اپنی کسی غرض سے کسی سے محبت نہیں کرتا بلکہ وجہ محبت صرف آپ ہی ہیں تو بس پھر ہمیں ان محبتوں کے بدلے میں ضرور اپنے عرش کے سایے سے نوازیےگا ہمیں وہاں بھی ایسے ہی اکھٹا کیجیے گا {آمین ﴾
میزبانو ں کے لیے بھی خصوصی دعاوں کے ساتھ اور اس دعا کیساتھ کہ اللہ پاک ہمارا یہاں آ نا قبول فرمالے اور وقت اور صلاحیتوں میں برکت عطا فرما دے ہم سے اپنے دین کا وہ کام لے جو وہ ہم سے چاہتا ہے اور ہمیں قرآن کی اس آیت کی مثل بنا دے  "مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے معاون اور مدد گار ہوتے ہیں برائیوں روکتے اور نیکیوں کا حکم دیتے ہیں ” ﴿آمین ﴾ واپسی کے لیے روانہ ہو گئے

ابھی نہیں تو کبھی نہیں


 

abhi

 

لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر میرے اطراف میں پھیلے ہوئے کالم ،اخبارات میں اب تک آتی سر خیاں میڈیا پر ہر ایک کے منہ سے نکلتی دکھ بھری حقیقتیں جو یقینا تاریغ میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی مجھے پھر اسی طرف لے آتی ہیں اور میں حیران پریشان سی اپنے ذہن میں اٹھنے والے ان گنت سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کہ جب یہاں ہر ایک اس حقیقت سے واقف ہے کہ کون مخلص ہے , کون محب وطن ہے , کون ہے وہ جن کی زندگیاں ہر الزام سے پاک ہر اک کے سامنے شفاف آئینوں کی طرح چمکتی ہوئی ہیں مخالف بھی جن کی زندگیوں پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتے ۔

اسکا ایک منہ بولتا ثبوت جس کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا جس نے مجھے بھی حیران کردیا کہ وہ ذاکر صاحب ہوں پروفیسر غفور صاحب  یا قاضی بابا انکے لیے دائیں بازو والوں نے تو جو کچھ لکھا سو لکھا  مگر یہاں تو بائیں بازو والے بھِی ان باکردار لوگوں کی جدوجہد اور مخلصی کی ان گنت داستانیں سناتے نظر آتے ہیں اور بہت سی ایسی بھی سچائیا ں جس سے میرے جیسے بہت سے لوگ اب تک ناواقف تھے انہیں منظر عام پر لانے والا انہی کا قلم  تھا  ۔ ۔ ۔ ۔

میں خود کو سوچوں کے ایسے بھنور میں محسوس کر رہی تھی جس نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی کہ جب ہر اک اتنا باخبر ہے اتنا قدر دان ہے تو پھر بے خبر اور ناقدرا کون ؟؟

کون ہے جس نے اس قوم کے نصیب کی ڈوریاں پاکیزہ اور بے داغ لوگوں کے بجائے چوروں اور لٹیروں ملک کے غداروں اور دشمن کے ایجنٹوں کے حوالے کردیں ؟   اور آج عالم ہوا ہے کہ

جینا تو مشکل ہے ہی
مرنا بھی نہیں آساں

جوقومیں غفلت کی نیندیں سو جایا کرتیں ہیں تو پھر انکی تقدیروں میں وہی کچھ  لکھ دیا جاتا ہے جو آج نہ چا ہتے ہوتے بھی ہما ری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ۔

اک خیال تھا جو رہ رہ کر ستا رہا تھا کہ

کیوں ہم ان لوگوں کی قربانیوں کو اک جہد مسلسل کو پہچاننے سے عاری ہیں وہ صحراوں میں کنویں کھودتے ذاکر صاحب پروفیسر غفور احمد اور قاضی بابا کی شکل میں ہوں یا سید منور حسن سے لیکر سراج الحق ہوں یا لاکھوں لوگوں کی {سیلاب زدگان ہوں یا زلزلہ زدگان } ہر جگہ اور ہر وقت امداد کے لیے تیار والے نعمت اللہ جن کی عمر اسّی سال سے اوپر ہے ہاتھ میں لاٹھی تو آگئی مگر خدمت خلق کے جذبوں میں کوئی کمی نظر نہیں آتی ان سب کی خدمات کو ایک بلاگ میں رقم بند کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ انکی خدمتوں اور کارناموں پر تو کئی کتابیں لکھی جاسکتیں ہیں ۔

مگر جواب بہت افسوس ناک تھا کہ اس قوم سے زیادہ بد نصیب اور کون ہوگا  جسکا یہ حال ہوچکا ہو کہ جس کے باکردار اور دیانتدار لوگوں کو مرنے کے بعد ہی پہچانا جائے اور دنیا سے رخصت ہونے پر انکی مخلصی کے قصیدے لکھے اور پڑھے جائیں ۔

اور اس قوم میں جو جتنا بدتر ہو وہ اتنا ہی اونچے عہدے پر فائز ہو  اور جو جتنا بڑا مداری ہو وہ میڈیا میں اتنی زیادہ جگہ پائے اور لوگوں پر مسلط کر دیا جاۓ گا چاہے  وہ  اپنے مداری پن میں اس حد تک چلا جا یے کہ اپنی غداریوں پر پردہ  ڈالنے کی ناکام کو شش میں قوم کی تقدیر بدلنے اک پہچان دینے والے  والے بانی اور عظیم قائد پر ڈرون حملوں کے نام سے بدترین الزامات کی بوچھاڑ کردے اور پوری قوم کی برداشت کا امتحاں لے اورافسوس اس بات پر کہ ہمارے بکاؤ میڈیا کی کیا مجال  کہ  وہ یہ سب دکھانے سے انکار کر سکے کہ یہ کسی ایسی پارٹی کا پروگروم تو نہیں تھا جسے آن ائیر جانے سے درمیان ہی میں روک دیا گیا ۔۔۔۔۔۔  بڑ ے آقاؤں کی ناراضگی کا خطر ہ کیسے مول لیا  جا سکتا ہے  …..  بابا ئے قوم کی روح اگر تڑپتی ہی تو تڑپتی رہے ۔۔۔

یہ سب سن کر اور دیکھ کر جہاں دل دکھی تھا وہیں ایک آلاو بھی تھا جو اندر ہی اندر پک رہا تھا اور اس میں  کچھ کمی اس وقت آ ئی اور شکر ادا کیا کہ چلو صحافی برادری میں سے کسی نے تو اس حملے کا  پھر پور جواب دیا تھا اور قائد پر الزام لگانے والوں کو کھلا چیلنج تو دیا بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ دیوانگی ہے مگر میرے دل سے یہ دعا نکلی کہ اگر یہ دیوانگی  ہے تو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کرے کہ یہ دیوانگی رہے باقی ۔۔۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ کیا یہ قوم اب بھی نہیں جاگے گی تو پھر شائد کبھی جاگنے کی مہلت بھی نہ پاسکے کہ اب تو ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کل تک جو کینیڈا اور لندن سے چلنے والے انقلاب  کے دعوے دار جنھوں نے پوری قوم کو نفسیاتی طور پر یرغمال بنایا ہوا تھا پورے کراچی میں جگہ جگہ  کیمپس لگا کر اور راہ چلتی گاڑیوں کو روک روک کر انقلاب کے نام پر بھتہ وصول کرنے والے آج صبح بھی جنگ اخبار پر جلی حروف سے لکھی گئی وہ شہہ سرخی میرے سامنے موجود ہے جسمیں یہ اعلان کیا گیا کہ” حکومت گورنر سندھ کو ہٹانا چاہے تو ہٹا دے مگر لانگ مارچ میں ہر قیمت پر شریک ہونگے ” مگر یہ کیا چند ہی گھنٹوں بعد یہ خبر کہ ہم لانگ مارچ میں حصہ نہیں لے رہے پہلی خبر کا منہ چڑاتی نظر آئی ۔۔۔۔ کیا یہ اس قوم کے ساتھ بھیانک مذاق نہیں ۔۔۔۔۔ ؟؟

مگر جب تک یہ قوم اپنے ساتھ یہ مذاق کروانے کے لیے خود کو طشتری میں رکھ کر پیش کرتی رہےگی اسکے ساتھ ماضی میں بھی یہی سب دہرایا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا {اور اسکا خمیازہ اور کفارہ آنے والی نسلوں تک کو دینا پڑے گا } جب تک لوگ دیانت دار لوگوں کو مرنے سے پہلے نہیں پہچانیں گے اور بعد میں صرف انکے گن گانے ، داستانیں سنانےکے بجائے انکی زندگیوں میں انکو اپنا امام بنانے کے لیے خود میدان میں نہیں نکلیں گے تب تک انکے نصیبوں میں ایسے مداریوں کے تماشے “جنکی ڈگڈگی کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے ” اور جیل سے فارغ ہوکر ایوان صدر کا رخ کرنے والے ہی لکھے جائیں گے کہ فیصلہ کا وقت آیا ہی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بس یاد رکھیے گا کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ۔۔۔۔۔!!۔

یتیمی کیسی ہوتی ہے


یتیمی کی اذیت کس کو کہتے ہیں یہ آج میں نے جانا!!

میں نے اپنے بابا کو نہیں دیکھا میری پیدائش انکے انتقال کے چھ ماہ بعد ہوئی مگر نہیں مجھے تو  لگ رہا تھا میں آج ہی یتیم ہوئی جو زخم مجھے آج لگا تھا وہ کبھی نہیں بھر سکتا نہ ہی اسکا کوئی نعم البدل ہوسکتا تھا۔۔۔qazi
رات ڈیڑھ بجے کا وقت خبر کیا تھی منہ سے نکالتے ہوئے بھی دل لرز رہا تھا ڈرتے ڈرتے بھائی سے پوچھا وہ بھی لاعلم پھر ٹی وی چینلز کو نیٹ پر ہی سرچ کیا اور دل لگا تھا غم کی شدت سے کہیں مزید چلنے سے انکار نہ کردے کہ سامنے ہی یہ دردناک خبر چل رہی تھی کہ میرے قائد میرے شفیق باپ جن کا خمیرمحبتوں سے گوندھا گیا تھا جن کی رگ رگ میں امت کے اتحاد کی تڑپ تھی وہ اس بے وفا دنیا سے منہ موڑ چکے تھے اپنے رب اعلیٰ کی مہمان نوازی کے لیے۔

میں ایک چھوٹے سے بچے کی مانند سسک رہی تھی اور میں ہی کیا یہاں تو ہر ایک تڑپ رہا تھا جس سے بات کرو ہی سسک رہا تھا لگتا تھا یہ قوم یتیم ہوگئی تھی کچھ نہیں سمجھ آرہا تھا کیا کہہ کر خود کو تسلی دی جائے دل کچھ سننے کو تیار نہیں کچھ زخم ایسے ہوتے جو انسان کو توڑ دیتے ہیں یہ بھی ایسا ہی کاری گھاؤ تھا جو ہر ایک نے اپنے دل پر محسوس کیا ٹی وی پر چلنے والے وہ مناظر جس میں ہر ایک یوں زارو قطار رو رہا تھا جیسے یہ مجاہد اسلام بس اسی کے دل کی دھڑکن تھے میں بھی یہی سمجھی کہ میرا دکھ سب سے زیادہ ہے مگر وہ تو یہاں ہر ایک کے سینے میں دل کی جگہ دھڑکتے تھے۔

 

یہ حقیقت برحق سہی کہ” کل نفس ذائقۃ الموت ” اور کتنے ہی لوگوں کو اپنے پیاروں کو بچھڑتے دیکھا۔ مگر یہ کیسی جدائی  تھی جو مارے دے رہی تھی روح تک زخم زخم تھی۔

 
یہ رات میری بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگی کی اذیت ناک ترین رات تھی جس نے سن لیا وہ نہیں سویا اسکی رات آنکھوں میں کٹی تھی نیند کہاں سے آتی یہاں تو عالم یہ تھا کہ اگر مرنے والے کے ساتھ مرا جاسکتا تو آج نجانے  کتنے جنازے اٹھتے۔۔۔

 
صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر کونے میں بیٹھے اورسسکتے کون تھے یہ عاشقان قاضی ایسا کیا دیا گیا تھا انکو کہ انکی تڑپ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی؟؟؟

 

ہوتی بھی کیسے جن کا بچپن اور جوانیاں فخر سے یہ دعوے کرتے گزریں تھیں کہ ” ہم بیٹے کس  کے ؟ قاضی کے” وہ کیسے نہ تڑپتے اپنے اس باپ کے لیے جو حقیقی باپوں سے بڑھ کر تھے۔ جن کی رگوں میں اس مرد مجاہد کی محبت خون کے ساتھ سرایت کر چکی تھی آج انکے لیے خود کو سنبھالنا ایسے ہی تھا جیسے کسی مچھلی کو پانی سے باہر تڑپنے کے لیے چھوڑ   دیا جائے۔

آج مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی تھی کہ صبر کا درجہ میرے مالک نے کیوں اتنا بلند رکھا ۔۔۔۔آہ ۔۔ مگر صبر کہاں سےلائیں ۔۔۔

 

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا  فراز

ظالم اب کہ بھی نہ رویا تو مر جائے گا

 

مرے مرشد کے بارے میں کون نہیں جانتا میرا انکے لیے کچھ کہنا ایسا  ہی ہے جیسے سورج کو روشنی دکھانا۔۔۔

آج پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کون انکا مخالف ہے اور کون چاہنے والا ہر ایک ہی کے اشک اسکے اندر کے دکھ کی کہانی سنارہے تھے اپنے تو خیر اپنے تھے مگر یہاں تو مخالف بھی رو رہے تھے بس ایک ہی بات تھی کہ یہ امت مسلمہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔

 

بات بھی سو فیصد سچ تھی کہ وہ جن کے دل میں امت کی اتحاد کی تڑپ انہیں اس عمر اور سخت گرتی ہوئی صحت کے باوجود چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی اور انھوں نے اسکی جدوجہد میں ہر اپنی زندگی کا ہر لمحہ لگادیا۔

 

مجھے انکے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں وہ تو اک ایسا چمکتا ہوا روشن ستارہ تھے جس سے ہر ایک نے روشنی ہی پائی۔

یقینا میرے رب نے ان کے لیے بہترین جنتوں کا مہمان بنانے کی تیاری کر لی ہوگی انکے استقبال کے لیے انکے رفقاء کو بھی اطلاع کر دی گئی ہوگی ۔
خود رب کا فرمان ہے (ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان)
بس میری رب سے دعا ہے مولا ہمارے والد کی  بہترین میزبانی فرمایئے گا اپنی جنتوں میں سے بہترین جنت کا مہمان بنائیے گا اور دکھ کی اس گھڑی جب کہ اس صدمے سے  ہم بکھر  چکے ہیں ، مولا ہمیں صبر جمیل عطا فرما یئے ۔

 

مولا ہمیں قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے تلے اکھٹا کیجیے گا کہ ہم نے تیرے لیےمحبت کی اور خالص کی اور جن چراغوں کو وہ جلا کر گئے انکو روشن رکھنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمانا آمین!

 

یتیمی کیسی ہوتی ہے؟
دکھ کس کو کہتے ہیں؟
زخم کیسے لگتا ہے؟
درد کیسے رلاتا ہے؟
تڑپا کیسے جاتا ہے؟
یہ آج میں نے جانا
مانا موت برحق ہے
لیکن!
غم کی اس شدت میں

درد بھری حقیقت میں
کیسے خود کو سنبھالے کوئی؟
کیا کہہ کر بہلا ئے کوئی؟
دیکھو تو ٹوٹ گیا کوئی
چھن گیا مجھ سے

سائباں وہ محبتوں کا
بس ایک انبار ہے اسریٰ

ان گنت یادوں کا۔۔۔

%d bloggers like this: