Tag Archives: حکومت

کہانی سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کی


خود کلامیاں : بلال ساجد

  دیکھیں جی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کا شروع سے یہ خیال تھا کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہم خیال قوتوں کو مل کر الیکشن میں جانا چاہیئے اور کم سے کم ایجنڈے پہ اتفاقِ رائے پیدا کر کے آگے بڑھنا چاہیئے۔

پورے پاکستان میں بالعموم اور کراچی و بلوچستان میں بالخصوص مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا ہونا چاہیئے اور حالات کو بہتر کرنے کے لیے اور بلوچستان میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیئے ۔۔۔ لیکن تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست یا یوں کہہ لیں کہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں یہ کوششیں ناکام ٹھریں اور جماعتِ اسلامی نے محسوس کیا کہ مسلم لیگ نواز اور تحریکِ انصاف کا ایک سٹیج پہ بیٹھنا ممکن نہیں رہا!

اِس کے بعد، جماعتِ اسلامی نے یہ کوشش کی کہ کم از کم بلوچستان اور کراچی ایشو پہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا جائے اور خدانخواستہ 1971 کی تاریخ کو نہ دوہرایا جائے لیکن کچھ عوامل ایسے تھے جس کی وجہ سے ہماری یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی اور یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

دوسری طرف، جماعتِ اسلامی تنہا پروازی سے کسی بھی وقت خوفزدہ نہیں تھی اور ہم اکیلے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیتے لیکن ملک کے موجودہ حالات میں جماعت سے باہر بیٹھے ہمارے کچھ ہمدرد ہمیں بار بار یہ مشورہ دے رہے تھے کہ دائیں بازو کا ووٹ تقسیم نہ ہونے دو ورنہ پیپلز پارٹی کی حکومت آ جائے گی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کے اندر بھی اس حوالے سے دو طرح کی رائے پائی جاتی تھی ۔۔۔

اول، کسی کے ساتھ اتحاد یا ایڈجیسٹمنٹ نہ کی جائے اور تنہا پرواز کی جائے۔ دوم، مسلم لیگ نواز یا تحریک انصاف کے ساتھ سیٹوں کی بنیاد پہ نہیں بلکہ ایشوز کی بنیاد پہ ایڈجیسٹمنٹ کی جائے۔

جماعتِ اسلامی کی مرکزی شوری نے اس پہ غور و خوص کیا اور اس ڈسکشن میں مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کی اعلی قیادت کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے ساتھ خواہشِ اتحاد کے حوالے سے ساے بیانات پہ بھی غور کیا گیا ۔۔۔ اور ۔۔ قرعہِ فال تحریکِ انصاف کے نام نکلا ۔۔۔

عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ ہمارے رابطے تو بہت پہلے سے تھے ۔۔۔ اور عمران خان صاحب نے بار بار مختلف فورمز پہ اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ جماعتِ اسلامی سے ایڈجیسٹمنٹ ہو سکتی ہے ۔۔۔ اسی بنیاد پہ ہم نے ان کی طرف قدم بڑھائے تھے اور 24 مارچ کو میٹنگ میں یہ بات تقریباً طے ہو گئی تھی کہ جماعتِ اسلمی اور تحریکِ انصاف سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کریں گی ۔۔۔

اس حوالے سے جاوید ہاشمی صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی لیکن بعد میں اس کمیٹی کا کوئی اجلاس تک نہ ہو سکا اور یہ بات آپ کو تحریکِ انصاف کے دوستوں سے پوچھنی چاہیئے کہ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔!

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ نہ ہو سکنے کی وجہ بھی بہت واضح ہے ۔۔۔ میری رائے میں کچھ ایسے لوگ، جن کے بارے میں ن لیگ کا یہ خیال ہے کہ وہ اقتدار کا فیصلہ کرتے ہیں، ۔۔۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ن لیگ، جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی تشخص رکھنے والی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرے اور یہ بات آپ ن لیگ سے ہی پوچھیں کہ انہیں کہاں سے کس طرح کے پریشر کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔!

لیکن میں عرض کروں کہ ہمارے لیے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے ۔۔ ہم نے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بغیر جتنی سیٹیں لینی تھیں سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بعد ان میں ایک یا دو سیٹوں کا اضافہ ہو جاتا لیکن ہمارا خیال تھا کہ اگر دائیں بازو کا ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہوا تو اس کا فائدہ وہی کرپٹ ٹولہ اٹھائے گا جو پچھلے پانچ سال ہم پہ مسلط رہا ہے!

شہر تو میرا لہو لہو ہے !


abas

اتوار کی چھٹی کی وجہ سے گھر میں خاص پکوان کی تیاری جاری تھی ، نماز مغرب ہوئی اور ایک زوردار دھما کے نے پل میں سارا منظر ہی بدل دیا ۔

روتے سسکتے لوگ ، کھنڈر ہوئے مکان اور دم توڑتے انسان ……..

کئی گھنٹوں تک جلنے والے فلیٹوں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں اور پھر وہاں زندگی نے دم توڑ دیا ،  کچھ کی خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی مگر آشیانہ نہ بچ سکا ، ساری زندگی کی کمائی ، ایک ایک پیسہ جوڑ کر اکھٹا کر کے بنایا جانے والا آشیانہ یوں پل میں بکھر گیا انسانی اعضا بکھر گئے اور اسی وقت اقتدار اعلی منگنی کی تقریب کے مزے لوٹنے میں مصروف رہے۔۔۔۔۔

میری تین ساتھی اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل میں ہی رہائش پذیر ہیں ، جس طرح ان کے گھروں کے شیشے ٹوٹے ، گھر والے لمحوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہائے وہ کرب کس طرح بیان کروں، جو ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں اٹھایا ، جو ایک باپ نے اپنی بیٹی کی کٹی ہوئی گردن کو اس کے جسم کے بغیر دیکھ کے سہا ، وہ کرب جس نے ایک شخص کو ناصرف گھر سے محروم کر کے اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا بلکہ اس سے اس کی بیوی اور نو ماہ کے بچے سے بھی محروم کر دیا.

پہلے نشانہ مساجد اور بازار بنے آج یہ عالم ہے کے گھروں پہ حملہ ، گوشت والا ، سبزی والا کوئی بھی تو محفوظ نہ رہا . نہ تجربہ کار لڑکوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کے ٹکرے کس حال میں جمع کئے ، کسی ماں نے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے میچ دیکھتے بیٹے کی خون سے لت پت لاش کو اپنی گود میں بھرتے ہوۓ اٹھایا وو دکھ میرا قلم بیان کرنے سے قاصر ہے .

ستم ظریفی تو یہ کے اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل کی طرف ڈھائی گھنٹے تک کسی نے رخ نہ کیا ، اقتدار اعلی کی ہمدردی ٹی وی پہ چلنے والی ہیڈ لائنز تک ہی محدود رہی ، کوئی پرسان حال نہیں. کون یتیم ہوا ؟ کس نے بیوگی کا دکھ سہا کس ؟ اس دکھ تو بھلا یہ کیا جانیں ؟

بالائے ستم یہ کہ وہ لوگ جو بری طرح زخمی ہوئے ان کے گھروں کو اس حال میں بھی لوٹنے والوں نے نہ چھوڑا ان کے گھروں سے لوگ زیورات ، نقدی ، قیمی سامان لے اڑے ،ہم ہی راہزن بن گئے .

افسوس صد افسوس یہ ظلم کا کونسا مقام ہے ؟؟

جب قصاب بکریوں کو ذبح کرنے کے لئے لے جاتا ہے تو باقی بکریاں شکر ادا کرتی ہیں لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منا پاتی ہے .

. شاید آج یہی حال ہمارا بھی ہے اگر آج یہ تباہی عبّاس ٹاؤن میں ہوئی ہے تو کل کسی بھی علاقے میں ہو سکتی ہے . وہ لوگ جو ان کاروائیوں میں مصروف ہیں انکا کوئی مذھب نہیں . کچھ لوگ اب بھی اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دے رہے ہیں ، لیکن یہاں تو سب ہی کے گھر لٹے سب ہی شہید ہوئے. تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بھی اپنا ہی جھنڈا لہرانے میں مصرورف ہیں. میرا دل چاہتا ہے ان شرم سے بالاتر حکمرانوں کا گریبان پکڑ کے پوچھوں کے یہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے ، پاکستان کا دل ہے .اگر کراچی برباد ہوتا ہے تو پاکستان کا دل بند ہوتا ہے ور اگر کسی کا دل بند ہو جائے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے. آخر انہیں کیوں سمجھ نہیں آتا کے وہ پاکستاں کو برباد کر رہے ہیں .

آخر وہ کونسی مخلوق ہے جو سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد لے کر شہر میں داخل ہو جاتی ہے اور کسی کو نظر ہی نہیں آتی روزانہ کسی ماں کا لال جان کی بازی ہار بیٹھتا ہے اور پھر اس پہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات ایک پھلجھڑی کا کام ہی انجام دیتے ہیں. وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ وزیر اطلات کا عہدہ سنبھال لیں ، جب وہ اپنے فرائض پورے کر ہی نہیں سکتے. ان کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ غیر مستحکم پاکستان عالمی قوتوں کے لئے کتنا موزوں ہے. اگر کراچی لہو لہو ہے تو پورا ملک اس سے متاثر ہے.

قرآن کریم کی سورہ الانعام کی آیات ٦٥ میں الله نے فرمایا

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُون

"کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں”.

روزانہ کی ٹارگٹ کلنگ ، بم بلاسٹ ،

الله تو بار بار راہ ہدایت دکھاتا ہے قرآن میں ، بار بار اپنے عذاب سے با خبر کرتا ہے لیکن ہم سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، اب بھی وقت ہے کے ہم سنبھل جائیں  ، ورنہ شاید ہمارا نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں . ہمیں اس وقت اجتمائی توبہ اور صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے . پورا کراچی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں آتا ہے

اجڑے رستے ، عجیب منظر ، ویران گلیاں، بازار بند ہیں ۔۔۔

کہاں کی خوشیاں ، کہاں کی محفل ، شہر تو میرا لہو لہو ہے ۔۔۔

وہ روتی ما ئیں ، بیہوش بہنیں ، لپٹ کے لاشوں سے کہ رہی ہیں ۔۔۔

اے پیارے بیٹے ، گیا تھا گھر سے ، سفید کرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

الہٰی اس چمن کو اس پت جھڑ کے غم سے نجات دے .

ہم تھک چکے ہیں روزانہ لاشیں اٹھاتے رحم فرما اے الله رحم . { آمین}

دعاؤں کی طلبگار زوجہ غضنفر فرہاج

پاکستان کے ” گونتانامو بے” کی تلخ حقیقتیں ..!!


q2

ابھی تو دل اس قیامت پر ہی نوحہ کناں تھا جو کوئٹہ میں آٹھ سو سے ایک ہزار کلو بارود کے دھماکہ کے نتیجے میں برپا ہوئی اورکتنی ہی انسانی جانیں لمحوں لقمہ اجل بن گئیں اور  اسی آگ نے پورے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا دو دن ہوچکے تھے اپنے ہی ملک اپنے ہی شہر میں محسور بےبسی کی تصویر بنے صرف خبریں سنتے رہے کہ اب فلاں جگہ آگ لگادی گئی اب تک اتنے لوگوں کو مارا جا چکا ہے کسی چینل پر فریاد کرتی سسکتی ہوئی وہ معصوم بچی جو پوچھ رہی تھی کہ ہمیں کیوں مار رہے ہیں ؟؟ مجھے لگا جیسے اس رب کا دربار لگا ہوا ہے اور حساب کتاب کا دفتر کھلا ہے اور زندہ گاڑی ہو ئی بچی سے پوچھا جا رہا ہے وہ کس جرم میں ماری گئی ۔۔۔۔ ؟ 

یقننا یہ بھی اک دن ہونا ہے اور یہی وہ دن ہوگا جب کوئی جابر اور ظالم نہیں بچ سکے گا آج سب کے قرض چکا دیے جائیں گے ۔۔۔۔

میری طرح نجانے کتنے ہی لوگوں کو اس بچی کے آنسووں سے پوچھے گئے سوالوں نے سونے نہیں دیا ہوگا مگر ان سوالوں کے جواب کہاں سے لائیں ؟؟

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں  دستانے

ابھی تو  میں خود کو اسی دکھ اور سوچ سے نکال نہیں پارہی تھی کہ یہ کیا تھا جو میری آنکھوں نے دیکھا اور پڑھا ۔

یہ ایک آب بیتی تھی کوئٹہ ڈگری کالج کے سابق طالبِ علم انتیس سالہ نصراللہ بنگلزئی اور اسکے گم شدہ چچا علی اصغر بنگلزئی کی جو نصراللہ بنگلز ئی کی اپنی زبانی ہے "

اس کہانی نے اس ملک کے ٹھیکیداروں کے اصلی چہروں کو سرعام بے نقاب کردیا ۔

جوں جوں میں ظلم و بے حسی کی اس داستاں کو پڑھتی جارہی تھی میری حالت غیر ہوتی جارہی تھی میری کیفیت ایسی تھی کہ گویا جیسے میرے جسم میں جاں نہ رہی ہو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس داستان میں بیان کیا گیا درد میری روح تک کو زخمی کر گیا کئی بار میری انکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں نے مجھے آگے پڑھنے سے روک دیا اوراحتجاجا میری راہ میں حائل ہوگئے تھے ہر لفظ دھندلا رہا تھا بڑی مشکل سے میں یہ پوری داستاں پڑھ سکی خود سے ایک جنگ کر کے ۔۔۔ صرف اس لیے کہ مجھے بھی اس کا قرض ا تارنا تھا اپنے قلم کے ذریعے ۔

یہ مراد کرناز کی وہ داستاں نہیں جو انہوں نے گوانتانامو بے میں ظلم و ستم کے 5 سال گزارنے کے بعد لکھی تھی نہ ہی یہ معظم بیگ کی درد بھری روداد ہے یہ 40 سالہ افغان باشندے عبدالرحیم کی آب بیتی بھی نہیں ہے جس نے گوانتا نامو بے میں اذیّت ناک 3 سال گزارے جی ہاں یہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخوں سے گونجتی وہ اذیت ناک کتاب بھی نہیں جسے لکھنے والوں نے آنسووں سے لکھا تو پڑھنے والوں نے سسکیوں سے پڑھا نہ یہ ہی کسی ایسے قیدی کی کہانی تھِی جو غیروں کے ہاتھوںظلم کا نشان بنا ہو { اگرچہ ان سب کے پیچھے بھی انہیں اپنوں کی بڑی مہربانیاں شامل ہیں }

جی ہا ں اگر سن سکتے ہیں تو سنیے یہ آپ کے اور میرے محب وطن سالاروں اور محافظوں کے اپنے بنائے ہوئے گوانتاناموبے کی دردناک کہانی ہے جو خود کو اس زمین کا خدا سمجھتے ہی نہیں بلکہ فرعون کی طرح دوسروں کو بھی یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بس جو ہم ہیں وہ کوئی اور نہیں اور یہ کہ ہمارا ایک عام سا افسر بھی اس ملک خداد کے اعلیٰ ترین رتبے پر پر فائز ہے کہ جسے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا وہ اس ملک کے سیاہ سفید کا مالک وہ جب چاہے جس کے گھر کا چاہے چراغ گل کردے اسکے کارڈ پر لکھے تین ایلفابیٹ اس کو اسکے ہر عمل کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں ۔

آج” لاپتہ افراد ” کی اصطلاح سے کون ہے جو واقف نہیں ہوگا ۔۔؟ یہ تو اس بدنصیب ملک کی مشہور ترین اصطلاحات میں سے ایک ہے ۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ کس قدر کرب پنہاں ہے ان دو لفظوں میں اس کرب کی شدت اگر محسوس کرنا چاہیں تو جائیں کسی روز عافیہ صدیقی کی ماں سے ملیں جو اپنی بیٹی پر دس برس سے ڈھائے جانے والےمظالم کی داستان سن سن کر ایک زندہ لاش نظر آتی ہے ،

عافیہ کے معصوم بچوں سے ملیں جن سے انکی ماں کی شفیق آغوش چھین لی گئی یا پھر آمنہ مسعود جنجوعہ سے ملیں جن کے زندگی کے ساتھی کو لاپتہ کیے بھی اب تو ایک عشرے سے ذیادہ ہو چلا {اور ابھی کچھ دن پہلے یہ خبر بہت ساری خبروں میں دب گئی کہ ڈاکٹر مسعود جنجوعہ کی بوڑھی ماں برسوں سے بیٹے کی راہ تکتے تکے آخر کار رب کے پاس اپنا مقدمہ درج کروانے چلی گئیں مجھے یقین ہے یہ مقدمہ ضرور درج ہوا ہوگا کیوں کہ میرا وہ مہربان رب کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرتا } آمنہ مسعود شاید اپنے گھر پر نہ سہی مگر وہ آپکو کسی جگہ کیمپ میں {سینکڑوں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمرا ہ اپنے پیاروں کا قصور تلاش کرتے ہوئے } مل سکتی ہیں کہ اب ان کی زندگی کا مقصد ہی یہی بن گیا ہے ۔

اور اگر ان دو لفظوں کی اذیت سہنے والوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو جائیں روہیفہ بی بی کی قبر پر جا کر ان کی موت کا سبب پوچھیں  جو ان کی اذیت کو سہہ نہ سکی اور اپنی زندگی کی بازی اس وقت ہار گئی جب ان کے تین بیٹوں عبدالصبور، عبدالماجد اور عبدالباسط میں سے ایک کو مار دیا گیا اور دو کی حالت زار ماں سے دیکھی نہ گئی اور وہ ان الفاظ کے ساتھ اپنے رب کی عدالت میں پیش ہونے چلی گئی کہ ” یہ سب جھوٹ ہے، اللہ کے آگے یہ بھی قسم کھائیں، قیامت والے دن ان کو چھوڑوں گی نہیں، پیروں پیغمروں پر بھی ایسی ہی گذری جیسے ہم پر گذرتی ہے، اللہ ان کو تباہ کرے گا۔میرا بیٹا صبور شہید ہوگیا ، باسط اور ماجد بہت بیمار ہیں‘ گزشتہ سال ستمبر میں اپنے بیٹوں سے حراست کے دوران ملاقات کو یاد کرتے ہویے بی بی نے کہا ’دو کی حالت خراب تھی اور ایک بالکل ٹھیک تھا اور اسی کو انھوں نے شہیدکردیا۔”

یہ بدنصیب ماں کے تینوں بیٹے ان گیارہ افراد میں شامل تھے جن کو اس ملک کے محافظوں نے بغیر کسی ثبوت کے ایک عرصہ دراز تک ذیر حراست رکھا اور جب سپریم کورٹ کے حکم پر رہا کرنا پڑا تو انہیں مئی دو ہزار دس کو راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کے باہر ہی سے سادہ کپٹروں میں ملبوس لوگ اٹھا کر لے گیے تھے” کون نہیں جانتا کہ یہ سادہ کپڑوں ملبوس فرشتے کون ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ان گیا رہ میں سے چار افراد زیر حراست ہی اپنی جان کھو بیٹھے اور مجھے یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیر حراست مرنے والے کیسے مرا کرتے ہیں ۔۔

اور اگر ہمت ہے تو پڑھیں نصراللہ بنگلزئی کی اپنے لاپتہ چچا کی تلاش میں غیروں کے نہیں بلکہ اپنوں کے ہاتھوں اٹھائے گئے ان دکھوں کی درد ناک داستاں جس میں ہر ایک سطر اپنا نوحہ خود سناتی ہوئی نظر آتی ہے ۔۔۔ یہ ایک نصراللہ نہیں یہاں پورے ملک کے کونے کونے میں آپ کو سینکڑوں ایسے نام ملیں گے جن کی دردناک داستانیں پڑھ کر آپ کی راتیں بستر پر کروٹیں بدلتے گزر جائیں گی اور جن کے دکھ آپ کے تکیوں کو بھگو دیں گے جب کارواں اپنے ہی پاسبانوں کے ہاتھوں لٹنے لگیں تو زبانیں نہیں آنکھیں اور دلوں سے نکلی ہوئی آہیں دہائی دیتی ہیں جو رب کے دربار میں کبھِی رائیگاں نہیں جاتیں ۔

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں صدا اپنا ہی خنجر اترا

جب محافظ لٹیرے بن جائیں اور جو جتنا بڑا لٹیرا اور غدار وطن ہو وہ اتنا ہی آقا کا منظور نذر کہلائے گا اور وفاداریاں نبھائے گا اس کے اوپر جانے گے اتنے ہی امکانات بڑھ جائیں گے جس کا منہ بولتا ثبو ت آج ہمارے ایک اہم ادراے کے سربراہ خود ہیں کون نہیں جانتا کہ مشرف کے بھیانک دور میں جب مسلمان ہونا جرم ٹھرا تھا جب ” لاپتہ افراد “ کی ایک نئی اصطلا ح کانوں میں پڑی تھی جب ایک جانب خود اپنے ہی افراد کو چند ڈالرز کے عوض بیچا جا رہا تھا تو دوسری جانب ڈرون حملوں کی اجازت دے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دینے کا پرمٹ دے دیا گیا تھا اور آقا کی خوشنودگی میں کیا کچھ نہ قیامت ڈھائی گئی جس کی دردناک یادیں آج بھی کسی ناسور کی طرح دکھتی ہیں جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو کئی دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد ایسے کیمیکل کے ذریعے ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا جس کو خظرناک اور بدترین دشمن پر بھی استعمال کرتے ہوئے سو سو بار سوچا جائے ۔

اس وقت مشرف کے تمام کارناموں میں دائیں بازو کا کردار ادا کرنے والے اور آئی ایس آئی کے چیف یہی موصوف تھے { اور جن کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ ان موصوف نے وہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہےجہاں مشرف کے بھی پر جلتے تھے } جن کے ہاتھوں پر عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر مسعود سمیت سینکڑوں بے گناہوں کا لہو ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان بے قصور لوگوں کا یہ لہو روہیفہ بی بی کے آہیں ، عافیہ کی دلخراش چیخیں ، جامعہ حفصہ کی بچیوں کے جلے ہوئے اعضاء اور علی اصغر کے زخم نصراللہ کے دکھ انکے گلوں کا طوق بنے گے اور ان سب خداوں کو میرا رب عبرت کا نشان بنائے گا کہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں وہ ظالم کی رسی دراز تو کرتا ہے مگر یہ رسی کھینچنے پر آتا ہے تو اک لمحہ نہیں لگاتا اور ہر دور کے فرعونوں اور نمرودوں کا انجام رہتی دینا تک کے لیے ایک عبرت بنا دیتا ہے چاہے وہ صدام حسین کی شکل میں ہو یا قذافی کی صورت میں جو اپنے اسی آقا کے بہت وفادار سمجھے جاتے تھے جنہوں نے ایسے ہی خود کو زمیں کا خدا سمجھ لیا تھا مگر دنیا نے ان کا بھیا نک اور ذلت آمیز انجام دیکھا اور انکی آماجگاہیں خود ان کے لیے اک عبرت کدہ بن گئیں ۔ مجھے لگا یہاں بھی بس اب وہی سب ہونے کو ہے کہ اگر دوسروں کے انجام دیکھ کر بھی کوئی عبرت نہ حاصل کرےتو پھر انتظار کیجیے رب کے اس فیصلے کا جو آیا ہی چاہتا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے?‎


qafila

ابھی اس واقعہ کو زیادہ دن نہیں گزرے اور وہ یقینا لوگوں کی یاداشتوں سے ابھی محو نہیں ہوا ہوگا

ایک طرف میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم رہا ہے جب دنیا کی سپر پاور کا صدر اوبامہ اشک بار آنکھوں کے ساتھ قوم سے خطاب کر رہا ہے دکھ کی کیفیت ایسی کہ الفاظ اسکا ساتھ نہیں دے پارہے تھے وہ ٹوٹے ہوئے لفظوں میں کہتا ہے کہ ’’ آج ہمارے دل پارہ پارہ ہوگئے ہیں” ۔اسکے یہ الفاظ اسکے اندر کے غم کو عیاں کر رہے تھے ۔

اس واقعے کے سوگ میں تین دن امریکی پرچم کو سرنگوں رکھنے کا اعلان کردیا گیا ۔

میں سوچ رہی تھی کہ یہ وہ شخص ہے جو پوری دنیا میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے مگر اس کے دل میں بھی اپنی قوم کے لیے اتنا درد اتنا دکھ کہ جس نے اسے پوری دنیا کے سامنے رونے پر مجبور کردیا کیوں کہ وہ ساری دنیا کے لیے جیسا بھی ظالم اور جابر سہی مگر اپنی قوم کا وفادار ہے ۔ رشک آیا مجھے ایسی قوم پر اور صدر کی اس وفاداری پر میرا جی چاہا کہ میں اس شخص کو سلام پیش کروں کہ قوم کے محافظوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔

مگر دوسری طرف میرے اپنے ملک کا ایک گوشہ سے لیکر دوسرا گوشہ تک آگ کی لپیٹ میں نظر آتا ہے ۔ ایک طرف نظر کرتی ہوں تو جلتا ہوا کوئٹہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے جہاں 100 سے زائد انسانی جانیں لمحوں میں لقمہ اجل بن جاتی ہیں اور ورثا اپنے پیاروں کی لاشوں کو لیے سخت سردی کے عالم میں تین دن سے انصاف کی آس میں بیٹھے ہیں ابھِی اس درد سے نکل نہیں پاتی کہ لہو لہو سوات اپنی داستاں سناتا نظر آتا ہے پورے ملک میں لگائی ہوئی یہ آگ جس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بیرونی سازشیں جن کا کوئی سدباب تو دور کی بات اس میں جلنے والوں کا کوئی پرسان حال نظر نہیں آتا کہاں ہیں ان صوبوں کے وزراء اور اس مک کے وہ نام نہاد ٹھیکیدار جنھوں نے ان کی خدمت کا حلف اٹھایا تھا کیوں انہیں قوم کا یہ پانی کی طرح بہتا خوں دکھائی اور لواحقین کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں کیا وہ صرف اس قوم کی رگوں سے خون نچوڑ کر اپنی عیاشیاں پوری کرنے کے لیے ہیں ؟

اور یہی کیا یہاں تو پورا ملک ہی اپنی حالت زار پر دہائی دیتا نظرآتا ہے جہاں آئے روز ڈرون حملوں میں لوگ جانوروں کی طرح مارے جاتے یا ٹارگٹ کلنگ کہ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے ۔

مگر یہ بد نصیب قوم جس کے لیے کہیں کسی کا دل نہیں لرزتا ہے ۔۔۔۔

کوئی آنکھ انکے لیے اشک بار ہوتی نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔

کوئی انکے لیے پرچم سرنگوں کرنے کا نہیں اعلان کرتا ۔۔۔۔

کیوں ؟؟

کیا مرنے والے انسان نہیں تھے ؟

کیا ان کا خون خون ناحق تھا جو بہہ گیا ؟

کیا جرم تھا انکا جو اپنی ماوں کی لاڈ لے ، بہنوں کے پیارےاور اپنے گھروں کے کفیل تھے ۔۔۔۔

بس یہی نا کہ یہ کوئی بڑے عہدیدار یا اسکی اولاد نہیں تھے بلکہ یہ عام عوام تھی ۔۔۔۔

کو ئی ہے جو ان سوالوں کے جواب دے ۔۔۔۔ ؟

آہ ۔۔۔۔ مگر دکھ تو یہ کہ کون ہے جو یہ سوالات پوچھے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے ؟

اور آج مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑھ رہا ہے کہ میں جس قوم سے تعلق رکھتی ہوں وہا ں محافظوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے انسان نہیں بلکہ گدھ ہیں جو صرف مرجانے والوں کی لاشوں پر گزارا کرتے ہیں کیونکہ یہ ہی انکی زندگیوں کی واحد خوراک ہے ۔

ٹی وی پر چلتے کینڈین انقلاب کے وہ مناظر دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ ان نازک حالات میں بھی ہر ایک اپنی دوکان چمکانے کی فکر میں ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ قوم اب بھی ان تماشہ گروں کے ہاتھوں کھلونا بننے کے لیے تیار ہے ۔

میں سوچ رہی تھی کہ اگر ہمارے یہاں بھی ایسے انسانی جانوں کے جانے پر پرچم سرنگوں کیا جاتا تو شائد سال کے تین سو پینسٹھ وہ پرچم سرنگوں ہی رہتا کہ ایسے باوقار اصول بھی ان قوموں کے لیے ہوا کرتے ہیں جو خود کیسی بھی کرپٹ ہوں کیسی بھی اخلاقیات سے عاری ہوں مگر جب اپنے قائد کا انتخاب کرتیں ہیں تو اس کے لیے ایک باکردار ،امین اور محب وطن کا ہونا لازمی شرائط ہیں اور اپنے ہی منتخب کئے ہوئے قائد پر کوئی الزام لگ جائے تو اسے پوری دنیا کے سامنے کٹھرے میں لاکھڑا کرتِیں ہیں اور کوئی استصواب انہیں یہ سب کرنے سے نہیں روک سکتا بس یہی نشانیاں ہیں کسی بھی قوم کے ذندہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔

مگر جن قوموں کا انتخاب گدھ ہوں وہ پھر ایسی ہی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہوا کرتی اور اپنے آقاوں کو خوراک مہیا کرنے کا زریعہ بنتیں ہیں.

ادھورا احتجاج کیوں؟


 

آج کا دن کچھ مختلف سا لگا شاید اسلئے کہ مایوسی کی اس فضا میں کہیں سے بھی ہلکی سی بھی کوئی کرن نمودار ہو تو ہمیں امید نظر آنے لگتی ہے۔ آج بھِی ایسا ہی کچھ ہواتھا صبح حامد میر MQM-btngصاحب کے کالم “بکواس ” سے ہوئی ابھی وہ پڑھ کے فارغ ہی ہوئی تھی کہ عرفان صدیقی صاحب کا انقلاب کی حقیقت کو چاک کرتا ” انقلاب تاج برطانیہ” سامنے ہی تھا اور پھر انصار عباسی صاحب اور دیگر کے کالمز بھی اس عظیم تقریر پر سراپا احتجاج نظر آئے۔ آپ سمجھ تو گئے ہی ہونگے کہ میں کس تقریر کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ جی بلکل وہی جسےبراہ راست دکھانے میں ہمارے ہر چینل نے سب سے پہلے میں کی دوڑ کو جیتنے کی پوری کوشش کی تھِی اور اپنی اس وفاداری میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

 

ویسے تو ہمارے صحافی بھائی ہمیشہ ہی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اگر پورا نہیں بھی تو کچھ سچ ضرور بتانے کی کوشش کرتے ہیں مگر آج کا لب و لہجہ ذرا الگ ہی تھا۔ بات بھی کوِئی معمولی نہیں تھِی آخر صحافت کو للکارا گیا تھا اور وہ بھی نام نہاد پڑھی لکھی پارٹی کے لیڈر جو پچھلے کئی عشروں سے لندن میں مقیم ہیں جہاں جانوروں سے مخاطب ہونے کے بھی اصول ہوتے ہیں مگر شاید ان کے وہاں گزارے گئے عشرے بھی انکا کچھ نہیں بگاڑ پائے کہ بقول شاعر:
خمیر ہی ایسا تھا

 

خیر مجھے جہاں ان سب صحافی بھائیوں کی سراپا احتجاج ہونے پر خوشی بھی تھی کہ یہ ان سب کے ضمیروں کے ابھی تک زندہ ہونے کا ثبوت تھا مگر وہیں مجھے تھوڑی حیرت اور کچھ دکھ نے بھی آن گھیرا تھا۔ حیرت اس بات کی کہ کیا واقعی یہ ان سب خبروں اور منظر عام پر آنے والی ان ویڈیوز سے اب تک انجان تھے جو بہت عرصے تک سوشل میڈیا کی زینت بھی بنی رہیں تھیں جن میں کہیں سلمان مجاہد بلوچ یوسی ناظم سٹی گورنمنٹ کے اجلاس کے دوران اپنا بیلٹ اتار کرمخالف پارٹی کی رکن خاتون کی پٹائی کرتے
ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں مشہور و معروف ناظم  مصطفی کمال صاحب کسی ہسپتال میں بستر مرگ پر موجود اپنے باپ کے لیے روتی ہوئی خاتوں کو گالیاں دیتے اپنے پڑ ھے لکھے ہونے کا ثبوت پیش کرتے نظر آئے۔ مگر ان سب پر تو کوئی آواز نہ اٹھا ئی گئی نہ ہی کوئی برہم ہوا کہ جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ کیڑے  مکوڑے ہوں جن کی نہ کوئی اوقات ہو نہ ہی عزت  جس کا جب جی چاہے انہیں ذلیل و رسوا کر ڈالے۔

 

اورتو اور دکھ تو اس بات پر ہوا کہ آج بھی جب اس عظیم تقریرمیں کی گئی اس “بکواس “پر برہمی کا اظہار تو کیا گیا مگر کیسے؟؟؟ حامد بھائی آپ  نے اگر وہ عظیم تقریر پوری سنی ہو تو یقینا آپ نے اور باقی صحافی بھائیوں نے وہ سب بھِی سماعت فرمایا ہوگا جو ادارہ نور حق میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کو  مخاطب کر کے انہیں جن القابات سے نوازا گیا اور جس طرح سر عام اخلاقیات کی دھجیاں بکھیری گئیں اور کس طرح کھلم کھلا دھمکیاں دی گئیں کہ کراچی کو چھوڑ دیا جائے اور یہ کہ اگر بھائی کو جلال آگیا تو وہ اپنے کارکنوں کو کھلا چھوڑ دینگَے یعنی کارکن نہ ہوئے۔۔۔

یہ تو مالک کے وفادار اور بندھے ہوئے۔۔۔ جو مالک کا اشارہ پاتے ہی مخالف کو اپنے پنجوں میں جکڑ لینگے۔۔۔

 

پارٹیوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں اختلاف کرنا ہر کسی کا حق ہے مگریہ سب  تہذیب کے دائرے میں ہونا شرط لازم ہے مگر یہ کونسی سیاست ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو ننگی گالیاں دی جائیں اور دھونس و دھاندلی سے انہیں شہر چھوڑنے کا حکم دینا اور شہر نہ چھوڑنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں۔۔۔

 

میں بہت دیر اس بات پرافسوس کرتی رہی کہ صحافی بھائیوں کو کیا اپنے ان کالمز میں اس سب  پر بھی احتجاج نہیں کر نا چاہیے تھا جو کہ ان کی صحافت کا فرض بھی بنتا تھا۔ مگر شا ید ہماری قوم کی بدلتی روایتوں میں ایک اور اضافہ یہ بھی ہوا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی بات  کا نوٹس نہیں لیتے جب تک وہ ہماری اپنی ذات پر نہ ہو مگر ہم یہ سب بھول جاتے ہیں کہ اگر آج ہم نے کسی دوسرے پر اٹھنے والی انگلی کو نہ روکا تواس امر میں کوئی شک نہیں کہ اگلی بار وہ انگلی آپ پر اٹھے گی۔

 

آج ان کالمز کو پڑھ کر بھی ایسا ہی محسوس ہوا۔ صرف بکواس کہنے پر برہم ہونے والے یہ کیوں بھول گئے کہ آج  اگر انھوں نے ان گالیوں کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا کہ مخاطب  وہ نہیں بلکہ کوئی اور تھا توصاحب آپ ہرگز یہ مت بھولیے کہ اگر ایسے لوگوں کی زبان بندی نہ کی جائے تو مخاطب بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔

 

میں یہ سوچنے لگی کہ اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کیا کوئی قانون نہیں جس کا جب جی چاہے سربازار دوسرں کی عزتوں پر حملہ کردے کوئی اسکو روکنے والا نہیں۔۔۔

یقینا قانون تو بہت ہیں مگر ان پر عمل کروانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔۔۔

کہا ں تھا پیمرا جب ہر چینل سے ہتک آمیز اور اخلاق سے عاری وہ غلاظت براہ راست اگلی جارہی تھی؟؟؟

کیوں ان چینل کی نشریات کو بند نہیں کردیا گیا؟؟؟ اور آج بھی اتنے دن گزر جانے کے باوجود کیا پیمرا نے کوئی نوٹس لیا؟؟؟

آخری امید کے طور پرمیری نگاہیں اب چیف جسٹس صاحب کی طرف لگی ہیں کہ دیکھیں وہ اس حملہ اور دھمکی پر کب سوموٹو ایکشن لینگے ، میں نہیں جانتی میری یہ امید پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں مگر بس اک آس سی ہے اور میری دعا ہے کہ یہ آس نہ ٹوٹے اور کوئی تو ہو جو کھلم کھلا دھمکی اور شرفاءکی عزتوں پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھوں کو روکنے والا ہو۔

ووٹ دو یا جان


میرا ذہن ابھی تک لیکچر کے دوران اٹھا ےٗ گئے ان گھمبیرسوالات میں الجھا ہوا تھا جنھوں نے وہاں موجود ہر فرد کو پریشان کر رکھا تھا۔

یہ کوئی پہلا موقعہ نہ تھا کہ کسی نے سوال کیا ہو ہمیشہ ہی لیکچر کے دوران بھی اور آخر میں بھی سوال و جواب کا سلسلہ رہتا تھا مگر آج کا موضوع جو بہت اہم تھا کہ “تبدیلی مگر کیسے؟” میں نے وہاں موجود ہر ایک کے چہرے پر مایوسی، خوف اور فکر دیکھی۔۔۔ مجھے ابھی لیکچر شروع کیے کچھ ہی دیر گذری تھی اور میں ووٹ کی اہمیت پر بات کر رہی تھی کہ ایک آواز آئی، ہم بھی جانتے ہیں کے ملک میں تبدیلی ہمارے ہی ووٹوں کے ذریعے آئے گی مگر خدارا آپ بس یہ بتادیں کہ جب کنپٹی پر پستول ہو تو کیسے اس ووٹ کی امانت کا حق ادا کیا جائے؟

 

مجھے ایک دم فیس بک پر بہت ذیادہ شئیر ہونے والی وہ وڈیو یاد آگئی جس میں ایک طالبہ (خدا کرے کہ وہ سلامت ہو) کہ جس نے اپنی جان پر کھیل کرایسے ہی خوفناک حقائق سے پردہ اٹھایا تھا (میرے دل نے اسکی سلامتی کے لیے بہت دعائیں کیں) کیونکہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایسی جسارت کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے!!!

میں ابھی سوال کرنے والی خاتون کو مطمئن کرنے کی کوشش میں تھی کہ ایک اور مایوسی سے بھری آواز نے مجھے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔۔۔

آپ یہ بتائیں جب آپ کے سامنے آپ کا ووٹ ڈالا جارہا ہو اور آپ سے کہا جائے کہ جائیں آپ کا ووٹ ہو چکا اور کہنے والوں کے لہجے آپکو اور بھی بہت کچھ سمجھا رہے ہوں تو کہاں سے لائیں ہم تبدیلی؟؟؟

 

میں یہ سوچنے لگی کہ واقعی اور الیکشن کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک “ووٹ دو یا جان دو” کا فارمولا ختم نہیں کیا جائے گا۔ بہرحال میں انہیں موجودہ اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر جناب جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کے الیکشن کمیشن کا چارج لینے کے بعد انتخابی فہرستوں میں درستگی اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے حوالے سے کام میں جو تیزی آئی ہے جو ہر لحاظ سے احسن اقدام ہے آگاہی دینے لگی اس خیال سے کہ مایوسی کی فضا کچھ کم ہو مگر یہاں تو لوگ مجھ سے ذیادہ جاننے والے بیٹھے تھے۔

ایک اور سوال اٹھا وہ جو ایک گھر میں 633 ووٹوں والی کہانی پر بھی ذرا روشنی ڈال دیں میں نے ماحول کو خوشگوار بناتے ہوئے کہا ارے آپ لوگ نہیں جانتے اب کراچی پر بھوتوں کا قبضہ ہے صرف ایک گھر نہیں اب ایک ہوٹل کے بارے میں بھی یہ راز کھلا ہے کہ جہاں سے 180 ووٹوں کا اندراج ہوا ہے اور نجانے کتنے تو ایسے ہیں جن کے بارے میں اب تک کوئی نہیں جانتا تو غضب خدا کا کیا کیا سنیں گے یہ بیچارے کان اور کتنی بار آنکھیں بند کر کے خبریں پڑھوں کہ اب ووٹر لسٹیں بھی اپنے ہاتھوں سے اپنی من چاہی جگہوں پر۔۔۔

یعنی ووٹر لسٹیں نا ہوئی پہلی جماعت کے بچوں کی کاپیاں ہوگئیں جو مزے سے گھر لےجاکر چیک کرلیں اور اپنی مرضی سے جس پر چاہے جتنے نمبر لگادیے “اندھیر نگری چوپٹ راج” مگرخیر آپ لوگ پریشان نا ہوں جنّات قابو کیے جانے کی کوششیں جاری ہیں اللہ پاک حیاتی دے اپنے چیف جسٹس صاحب کو اور حوصلہ بھی کہ اس بار لگتا ہے انھوں نے لاتوں کا بھی انتظام کیا ہوا ہے بھوتوں کو بھگانے کے لیے اور نئی حلقہ بندیاں، اور گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدیق اسی کی طرف ایک قدم ہے (اب بھوت انکل چاہے اس پر کتنا ہی مچلیں) انشاء اللہ اس بار کراچی کو بھوتوں سے پاک بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدام نتیجہ خیز ثابت ہونگے۔

میرے اس تبصرے نے وہاں ماحول کو خوش گوار اور ناامیدی کی فضا کو تویقینا کچھ تو کم کیا مگر بہرحال آج کے سوالات، ہر ایک کے چہرے سے ٹپکتی (چاہنے کے باوجود کچھ نہ کرسکنے پر) بے بسی، خوف اور فکر نےمیرے لیے سوچوں کے کئی در کھول دیے تھے جن کے جواب مجھ سمیت ہر شخص چاہتا ہے۔

 

جو لوگ سب بھانڈا پھوٹ جانے کے بعد “جلے پیر کی بلی” کی مانند بےکل ہوئے جارہے ہیں کیا وہ یہ سب اتنی آسانی سے ممکن ہونے دینگے؟ اور میں دعا کرنے لگی کہ خدا کرے آنے والا وقت مزید کوئی تباہی نہ لیکرآئے کہ یہ شہر لہو کی بہت بھینٹ چڑھا چکا اب سکت نہیں۔

خدا کرے کہ یہ الیکشن خونی الیکشن نہ ہو ۔

آمین!!!

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی


cng

ایک دو تین چار ۔۔۔۔۔۔۔ دس۔۔ پندرہ۔۔ بیس۔۔ تیس۔۔۔۔پچاس۔۔۔۔ سو۔۔۔۔۔!

نہیں آپ ہر گز یہ نا سمجھیں کہ میں نے ابھی نئی نئی گنتی سیکھی ہے اور آپکو سنانے لگی ہوں….. نہیں ۔

بلکہ یہ تو وہ گنتی ہے جو آج مجھ سمیت اس قوم کے ہر فرد کو گنوائی جارہی ہے ۔۔۔۔ یہ گنتی میں نے کب گنی؟

گاڑیوں اور بسوں کی ایک لمبی نا ختم ہونے والی قطار… مگر وہاں دور تک کوئی جلسہ جلوس یا کوئی شادی کی تقریب کچھ بھی تو نہ تھا اسی معمہ کو حل کرنے کی فکر میں تھی کہ ھماری گاڑی کچھ اورآگے کو بڑھی تب یہ راز کھلا کہ یہ تو ایک سی این جی پیٹرول پمپ ہے جس پر گاڑیوں اور بسوں کی الگ الگ لائن لگی ہوئی ھے میری نظر سب سے آخری گاڑی کے اندر بیٹھے ہوےٴ شخص کے چہرے پر پڑی، اپنے آگے چونتیس گاڑیوں کو دیکھ کر اسکے چہرے سے ٹپکتی بے بسی اور جھنجھلاہٹ کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا تھا مگر دیکھتا کون؟ کہ وہاں تو ہر ایک کا یہی حال تھا۔ میں سوچنے لگی اسکی باری کم ازکم تین گھنٹے سے پہلے تو نہیں آےٴ گی۔

میں اسی سوچ میں گم اپنے برابر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے صاحب سے مخاطب ہوئی ﴿جو کہ رشتے میں میرے شوہر نامدار ہیں﴾ کہ صاحب یہ بتائیں کہ یہ لوگ یہاں اتنی لمبی لمبی لائنوں میں لگے صرف ایک سی این جی کے لیے ﴿جو عام روٹین میں شائد پانچ سے دس منٹ کا بھی کام نہیں مگر اہم اتنا کہ اس کے بغیر آپ ایک قدم بھی گاڑی آگے نہیں بڑھا سکتے﴾ جب یہ یہاں سے فارغ ہو کر لوٹیں گے تو کیا یہ قابل ہوگے کہ یہ اس بات پر کوئی دھیان دے سکے کہ ملک میں آج مزید کس کس چیز پر پابندی لگا دی گئی ہے، بجلی کے نرخوں میں مزید کتنا اضافہ ہوچکا ہے ،اور یہ کہ آج پڑوس میں کس کو ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا یا آج کہاں کہاں بم دھماکہ ہوا؟؟؟
اپنے ان گھنٹوں کے ضائع ہوجانے ، اپنے نجانے کتنے ہی اہم کاموں کا حرج ہوجانے، آفس میں باس کی ڈانٹ کھانے کے بعد کیا انکے اعصاب اس قابل ہوں گے کہ وہ خود پر ہی ہونے والی ان زیادتیوں پر کوئی احتجاج کر سکیں کوئی آوز اٹھا سکیں؟؟؟
ہر گز نہیں وہ تو اپنی ذندگی کی ان مصیبتوں سے ہی نہیں نکل پائیں گے جو ” باقائدہ پلاننگ کے ساتھ ان پر مسلط کر دی گئی ہیں” تاکہ وہ اس کے آگے کچھ سوچ ہی نا پائیں کہ انھوں نے کل پھر اسی طرح کسی سی این جی پمپ کی لائن میں لگنا ہے اور اس سے اگلے دن سی این جی کی چھٹی کی وجہ سے بچوں کی اسکول کی وین نہیں آےٴ گی اسلیے انکو بھی اسکول چھوڑنے اور لانے کی ڈیوٹی نبھانی ہے۔ ویسے تو چھٹی کس کو بری لگتی ہے مگر مجھے آج تک اس چھٹی کی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ سمجھ تو اور بھی بہت سی باتوں کی نہیں آئی مگر بہر حال جو بھی ہے مجھے اس قوم کو ایک بعد ایک مسلہٴ میں الجھاےٴ رکھنے والوں کو انکی ذہانت کی داد دینے پڑتی ہے۔
مجھے اس وقت ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو میں نے شائد کہیں پڑھا تھا کہ ایک صاحب نے اپنے دوست سے اپنے چھوٹے بیٹے کی شرارتوں کی شکایت کی وہ کسی لمحہ چین سے نہیں بیٹھتا تھا کوئی نا کوئی نئی حرکت پورے گھر کو ہلاےٴ رکھتی ہے دوست مسکراےٴ اور کہا اسے کچھ اسطرح مصروف رکھیں کہ اسے ان شرارتوں کے لیے وقت ہی نا مل سکے، اتنا کہہ کر انہوں نے خود ہی مشورہ بھی دے دیا کہ آپ کل سے اسے اپنے بڑے بھائی کی پینٹ پہنادیں آپکا مسئلہ حل۔۔۔ صاحب بڑے حیران۔۔۔ خیر دوسرے دن انھوں نے یہی کیا اور وہ مزید حیران ہوئے اس وقت کہ واقعی بچے کی سب شرارتیں ختم تھیں۔۔۔
اس قوم کے ساتھ بھی آج کل صاحب اقتدار ایسا ہی کچھ کر رہے ہیں۔۔۔
آپ کہیں گے کہ اب اتنے مصائب کی چکی میں پسی ہوئی قوم جسکو کوئی راہ نہیں سجھائی دے رہی وہ ان سے نکلے کیسے؟
تو واقعی آپکا سوال بجا ہیکہ حالات چاہےکتنے بھی خراب کیوں نہ ہوں ان سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ تو لازمی ہونا ہی چاھیے مگریہاں سب سے اہم بات یہ کے کیا ہم اب بھی اپنے ساتھ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی اس غفلت کی نیند سے جاگنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں﴿ جس میں پڑے ہونے کی وجہ سے ہی آج یہ نوبت آ ئی ﴾ مانا کہ یہ سب حقیقت میں اتنا آسان بھی نہیں مگر آپ یقنا یہ بھی جانتے ہونگے کہ سوئی ہوئی قومیں جب ایک بڑی نیند لیکر بیدار ہوتیں ہیں تو انھیں اس کا کفارہ بھی بڑاہی ادا کرنا پڑتا ہے اور صورتحال آر یا پار کی سی ہوتی ھے جیسے ریسلینگ کے دوران رنگ میں زمین پر پڑا وہ ریسلر جو اپنے مخالف کے مکمل قابو میں ہونے کے باوجود آخری لمحات میں خود کو مخالف کے بازوں سے نکانے کی لیے اپنی پوری قوت جمع کر کے آخری زور ضرور لگاتا ہے اور اکثر کامیاب بھی رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ آخری چانس ہے اسکے بعد اسے یہ موقع کم از کم اس میچ میں تو نہیں مل سکے گا۔۔۔تو بس یہ سمجھ لیں کہ اس قوم کے پاس بھی خود کو ان خونخوار پنجوں سے نکانے کا وقت آیا ہی جاتا ہے جنھوں نے اس پر ذندگی اور موت دونوں ہی تنگ کر دی اب دیکھنا یہ ہیکہ کیا اب بھی یہ اپنی تقدیر بدلنے کے اپنا آخری زور لگانے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟؟؟

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی
ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے

اگرآپکا جواب ہاں میں ہے تو پیشگی مبارکباد قبول کیجے!

کہ چلو ۔۔ دیر آےٴ درست آےٴ

اور اگر آپکا ابھی مزید سونے کا اردہ ہے تو بس پھر رونا دھونا چھوڑیے اور خود کو کل آٹے دال اور پانی کی قطاروں کے لیے خود کو تیار کیجے کیونکہ بخدا کہ جو قومیں اپنا مقدر خود بدلنے کی اہلیت نہیں رکھتیں بس پھر وہ اسی طرح کبھی سی این جی کی چھٹی اور موبائل سروس بند ہونےکی، تو کبھی موٹر سائیکل کی سنگل سواری پر بھی پابندی جیسی خبریں ہی سنا اور سہا کرتیں ہیں۔

%d bloggers like this: