Tag Archives: دہشت گردی

شہر تو میرا لہو لہو ہے !


abas

اتوار کی چھٹی کی وجہ سے گھر میں خاص پکوان کی تیاری جاری تھی ، نماز مغرب ہوئی اور ایک زوردار دھما کے نے پل میں سارا منظر ہی بدل دیا ۔

روتے سسکتے لوگ ، کھنڈر ہوئے مکان اور دم توڑتے انسان ……..

کئی گھنٹوں تک جلنے والے فلیٹوں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں اور پھر وہاں زندگی نے دم توڑ دیا ،  کچھ کی خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی مگر آشیانہ نہ بچ سکا ، ساری زندگی کی کمائی ، ایک ایک پیسہ جوڑ کر اکھٹا کر کے بنایا جانے والا آشیانہ یوں پل میں بکھر گیا انسانی اعضا بکھر گئے اور اسی وقت اقتدار اعلی منگنی کی تقریب کے مزے لوٹنے میں مصروف رہے۔۔۔۔۔

میری تین ساتھی اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل میں ہی رہائش پذیر ہیں ، جس طرح ان کے گھروں کے شیشے ٹوٹے ، گھر والے لمحوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہائے وہ کرب کس طرح بیان کروں، جو ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں اٹھایا ، جو ایک باپ نے اپنی بیٹی کی کٹی ہوئی گردن کو اس کے جسم کے بغیر دیکھ کے سہا ، وہ کرب جس نے ایک شخص کو ناصرف گھر سے محروم کر کے اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا بلکہ اس سے اس کی بیوی اور نو ماہ کے بچے سے بھی محروم کر دیا.

پہلے نشانہ مساجد اور بازار بنے آج یہ عالم ہے کے گھروں پہ حملہ ، گوشت والا ، سبزی والا کوئی بھی تو محفوظ نہ رہا . نہ تجربہ کار لڑکوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کے ٹکرے کس حال میں جمع کئے ، کسی ماں نے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے میچ دیکھتے بیٹے کی خون سے لت پت لاش کو اپنی گود میں بھرتے ہوۓ اٹھایا وو دکھ میرا قلم بیان کرنے سے قاصر ہے .

ستم ظریفی تو یہ کے اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل کی طرف ڈھائی گھنٹے تک کسی نے رخ نہ کیا ، اقتدار اعلی کی ہمدردی ٹی وی پہ چلنے والی ہیڈ لائنز تک ہی محدود رہی ، کوئی پرسان حال نہیں. کون یتیم ہوا ؟ کس نے بیوگی کا دکھ سہا کس ؟ اس دکھ تو بھلا یہ کیا جانیں ؟

بالائے ستم یہ کہ وہ لوگ جو بری طرح زخمی ہوئے ان کے گھروں کو اس حال میں بھی لوٹنے والوں نے نہ چھوڑا ان کے گھروں سے لوگ زیورات ، نقدی ، قیمی سامان لے اڑے ،ہم ہی راہزن بن گئے .

افسوس صد افسوس یہ ظلم کا کونسا مقام ہے ؟؟

جب قصاب بکریوں کو ذبح کرنے کے لئے لے جاتا ہے تو باقی بکریاں شکر ادا کرتی ہیں لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منا پاتی ہے .

. شاید آج یہی حال ہمارا بھی ہے اگر آج یہ تباہی عبّاس ٹاؤن میں ہوئی ہے تو کل کسی بھی علاقے میں ہو سکتی ہے . وہ لوگ جو ان کاروائیوں میں مصروف ہیں انکا کوئی مذھب نہیں . کچھ لوگ اب بھی اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دے رہے ہیں ، لیکن یہاں تو سب ہی کے گھر لٹے سب ہی شہید ہوئے. تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بھی اپنا ہی جھنڈا لہرانے میں مصرورف ہیں. میرا دل چاہتا ہے ان شرم سے بالاتر حکمرانوں کا گریبان پکڑ کے پوچھوں کے یہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے ، پاکستان کا دل ہے .اگر کراچی برباد ہوتا ہے تو پاکستان کا دل بند ہوتا ہے ور اگر کسی کا دل بند ہو جائے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے. آخر انہیں کیوں سمجھ نہیں آتا کے وہ پاکستاں کو برباد کر رہے ہیں .

آخر وہ کونسی مخلوق ہے جو سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد لے کر شہر میں داخل ہو جاتی ہے اور کسی کو نظر ہی نہیں آتی روزانہ کسی ماں کا لال جان کی بازی ہار بیٹھتا ہے اور پھر اس پہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات ایک پھلجھڑی کا کام ہی انجام دیتے ہیں. وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ وزیر اطلات کا عہدہ سنبھال لیں ، جب وہ اپنے فرائض پورے کر ہی نہیں سکتے. ان کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ غیر مستحکم پاکستان عالمی قوتوں کے لئے کتنا موزوں ہے. اگر کراچی لہو لہو ہے تو پورا ملک اس سے متاثر ہے.

قرآن کریم کی سورہ الانعام کی آیات ٦٥ میں الله نے فرمایا

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُون

"کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں”.

روزانہ کی ٹارگٹ کلنگ ، بم بلاسٹ ،

الله تو بار بار راہ ہدایت دکھاتا ہے قرآن میں ، بار بار اپنے عذاب سے با خبر کرتا ہے لیکن ہم سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، اب بھی وقت ہے کے ہم سنبھل جائیں  ، ورنہ شاید ہمارا نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں . ہمیں اس وقت اجتمائی توبہ اور صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے . پورا کراچی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں آتا ہے

اجڑے رستے ، عجیب منظر ، ویران گلیاں، بازار بند ہیں ۔۔۔

کہاں کی خوشیاں ، کہاں کی محفل ، شہر تو میرا لہو لہو ہے ۔۔۔

وہ روتی ما ئیں ، بیہوش بہنیں ، لپٹ کے لاشوں سے کہ رہی ہیں ۔۔۔

اے پیارے بیٹے ، گیا تھا گھر سے ، سفید کرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

الہٰی اس چمن کو اس پت جھڑ کے غم سے نجات دے .

ہم تھک چکے ہیں روزانہ لاشیں اٹھاتے رحم فرما اے الله رحم . { آمین}

دعاؤں کی طلبگار زوجہ غضنفر فرہاج

پاکستان کے ” گونتانامو بے” کی تلخ حقیقتیں ..!!


q2

ابھی تو دل اس قیامت پر ہی نوحہ کناں تھا جو کوئٹہ میں آٹھ سو سے ایک ہزار کلو بارود کے دھماکہ کے نتیجے میں برپا ہوئی اورکتنی ہی انسانی جانیں لمحوں لقمہ اجل بن گئیں اور  اسی آگ نے پورے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا دو دن ہوچکے تھے اپنے ہی ملک اپنے ہی شہر میں محسور بےبسی کی تصویر بنے صرف خبریں سنتے رہے کہ اب فلاں جگہ آگ لگادی گئی اب تک اتنے لوگوں کو مارا جا چکا ہے کسی چینل پر فریاد کرتی سسکتی ہوئی وہ معصوم بچی جو پوچھ رہی تھی کہ ہمیں کیوں مار رہے ہیں ؟؟ مجھے لگا جیسے اس رب کا دربار لگا ہوا ہے اور حساب کتاب کا دفتر کھلا ہے اور زندہ گاڑی ہو ئی بچی سے پوچھا جا رہا ہے وہ کس جرم میں ماری گئی ۔۔۔۔ ؟ 

یقننا یہ بھی اک دن ہونا ہے اور یہی وہ دن ہوگا جب کوئی جابر اور ظالم نہیں بچ سکے گا آج سب کے قرض چکا دیے جائیں گے ۔۔۔۔

میری طرح نجانے کتنے ہی لوگوں کو اس بچی کے آنسووں سے پوچھے گئے سوالوں نے سونے نہیں دیا ہوگا مگر ان سوالوں کے جواب کہاں سے لائیں ؟؟

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں  دستانے

ابھی تو  میں خود کو اسی دکھ اور سوچ سے نکال نہیں پارہی تھی کہ یہ کیا تھا جو میری آنکھوں نے دیکھا اور پڑھا ۔

یہ ایک آب بیتی تھی کوئٹہ ڈگری کالج کے سابق طالبِ علم انتیس سالہ نصراللہ بنگلزئی اور اسکے گم شدہ چچا علی اصغر بنگلزئی کی جو نصراللہ بنگلز ئی کی اپنی زبانی ہے "

اس کہانی نے اس ملک کے ٹھیکیداروں کے اصلی چہروں کو سرعام بے نقاب کردیا ۔

جوں جوں میں ظلم و بے حسی کی اس داستاں کو پڑھتی جارہی تھی میری حالت غیر ہوتی جارہی تھی میری کیفیت ایسی تھی کہ گویا جیسے میرے جسم میں جاں نہ رہی ہو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس داستان میں بیان کیا گیا درد میری روح تک کو زخمی کر گیا کئی بار میری انکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں نے مجھے آگے پڑھنے سے روک دیا اوراحتجاجا میری راہ میں حائل ہوگئے تھے ہر لفظ دھندلا رہا تھا بڑی مشکل سے میں یہ پوری داستاں پڑھ سکی خود سے ایک جنگ کر کے ۔۔۔ صرف اس لیے کہ مجھے بھی اس کا قرض ا تارنا تھا اپنے قلم کے ذریعے ۔

یہ مراد کرناز کی وہ داستاں نہیں جو انہوں نے گوانتانامو بے میں ظلم و ستم کے 5 سال گزارنے کے بعد لکھی تھی نہ ہی یہ معظم بیگ کی درد بھری روداد ہے یہ 40 سالہ افغان باشندے عبدالرحیم کی آب بیتی بھی نہیں ہے جس نے گوانتا نامو بے میں اذیّت ناک 3 سال گزارے جی ہاں یہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخوں سے گونجتی وہ اذیت ناک کتاب بھی نہیں جسے لکھنے والوں نے آنسووں سے لکھا تو پڑھنے والوں نے سسکیوں سے پڑھا نہ یہ ہی کسی ایسے قیدی کی کہانی تھِی جو غیروں کے ہاتھوںظلم کا نشان بنا ہو { اگرچہ ان سب کے پیچھے بھی انہیں اپنوں کی بڑی مہربانیاں شامل ہیں }

جی ہا ں اگر سن سکتے ہیں تو سنیے یہ آپ کے اور میرے محب وطن سالاروں اور محافظوں کے اپنے بنائے ہوئے گوانتاناموبے کی دردناک کہانی ہے جو خود کو اس زمین کا خدا سمجھتے ہی نہیں بلکہ فرعون کی طرح دوسروں کو بھی یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بس جو ہم ہیں وہ کوئی اور نہیں اور یہ کہ ہمارا ایک عام سا افسر بھی اس ملک خداد کے اعلیٰ ترین رتبے پر پر فائز ہے کہ جسے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا وہ اس ملک کے سیاہ سفید کا مالک وہ جب چاہے جس کے گھر کا چاہے چراغ گل کردے اسکے کارڈ پر لکھے تین ایلفابیٹ اس کو اسکے ہر عمل کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں ۔

آج” لاپتہ افراد ” کی اصطلاح سے کون ہے جو واقف نہیں ہوگا ۔۔؟ یہ تو اس بدنصیب ملک کی مشہور ترین اصطلاحات میں سے ایک ہے ۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ کس قدر کرب پنہاں ہے ان دو لفظوں میں اس کرب کی شدت اگر محسوس کرنا چاہیں تو جائیں کسی روز عافیہ صدیقی کی ماں سے ملیں جو اپنی بیٹی پر دس برس سے ڈھائے جانے والےمظالم کی داستان سن سن کر ایک زندہ لاش نظر آتی ہے ،

عافیہ کے معصوم بچوں سے ملیں جن سے انکی ماں کی شفیق آغوش چھین لی گئی یا پھر آمنہ مسعود جنجوعہ سے ملیں جن کے زندگی کے ساتھی کو لاپتہ کیے بھی اب تو ایک عشرے سے ذیادہ ہو چلا {اور ابھی کچھ دن پہلے یہ خبر بہت ساری خبروں میں دب گئی کہ ڈاکٹر مسعود جنجوعہ کی بوڑھی ماں برسوں سے بیٹے کی راہ تکتے تکے آخر کار رب کے پاس اپنا مقدمہ درج کروانے چلی گئیں مجھے یقین ہے یہ مقدمہ ضرور درج ہوا ہوگا کیوں کہ میرا وہ مہربان رب کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرتا } آمنہ مسعود شاید اپنے گھر پر نہ سہی مگر وہ آپکو کسی جگہ کیمپ میں {سینکڑوں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمرا ہ اپنے پیاروں کا قصور تلاش کرتے ہوئے } مل سکتی ہیں کہ اب ان کی زندگی کا مقصد ہی یہی بن گیا ہے ۔

اور اگر ان دو لفظوں کی اذیت سہنے والوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو جائیں روہیفہ بی بی کی قبر پر جا کر ان کی موت کا سبب پوچھیں  جو ان کی اذیت کو سہہ نہ سکی اور اپنی زندگی کی بازی اس وقت ہار گئی جب ان کے تین بیٹوں عبدالصبور، عبدالماجد اور عبدالباسط میں سے ایک کو مار دیا گیا اور دو کی حالت زار ماں سے دیکھی نہ گئی اور وہ ان الفاظ کے ساتھ اپنے رب کی عدالت میں پیش ہونے چلی گئی کہ ” یہ سب جھوٹ ہے، اللہ کے آگے یہ بھی قسم کھائیں، قیامت والے دن ان کو چھوڑوں گی نہیں، پیروں پیغمروں پر بھی ایسی ہی گذری جیسے ہم پر گذرتی ہے، اللہ ان کو تباہ کرے گا۔میرا بیٹا صبور شہید ہوگیا ، باسط اور ماجد بہت بیمار ہیں‘ گزشتہ سال ستمبر میں اپنے بیٹوں سے حراست کے دوران ملاقات کو یاد کرتے ہویے بی بی نے کہا ’دو کی حالت خراب تھی اور ایک بالکل ٹھیک تھا اور اسی کو انھوں نے شہیدکردیا۔”

یہ بدنصیب ماں کے تینوں بیٹے ان گیارہ افراد میں شامل تھے جن کو اس ملک کے محافظوں نے بغیر کسی ثبوت کے ایک عرصہ دراز تک ذیر حراست رکھا اور جب سپریم کورٹ کے حکم پر رہا کرنا پڑا تو انہیں مئی دو ہزار دس کو راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کے باہر ہی سے سادہ کپٹروں میں ملبوس لوگ اٹھا کر لے گیے تھے” کون نہیں جانتا کہ یہ سادہ کپڑوں ملبوس فرشتے کون ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ان گیا رہ میں سے چار افراد زیر حراست ہی اپنی جان کھو بیٹھے اور مجھے یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیر حراست مرنے والے کیسے مرا کرتے ہیں ۔۔

اور اگر ہمت ہے تو پڑھیں نصراللہ بنگلزئی کی اپنے لاپتہ چچا کی تلاش میں غیروں کے نہیں بلکہ اپنوں کے ہاتھوں اٹھائے گئے ان دکھوں کی درد ناک داستاں جس میں ہر ایک سطر اپنا نوحہ خود سناتی ہوئی نظر آتی ہے ۔۔۔ یہ ایک نصراللہ نہیں یہاں پورے ملک کے کونے کونے میں آپ کو سینکڑوں ایسے نام ملیں گے جن کی دردناک داستانیں پڑھ کر آپ کی راتیں بستر پر کروٹیں بدلتے گزر جائیں گی اور جن کے دکھ آپ کے تکیوں کو بھگو دیں گے جب کارواں اپنے ہی پاسبانوں کے ہاتھوں لٹنے لگیں تو زبانیں نہیں آنکھیں اور دلوں سے نکلی ہوئی آہیں دہائی دیتی ہیں جو رب کے دربار میں کبھِی رائیگاں نہیں جاتیں ۔

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں صدا اپنا ہی خنجر اترا

جب محافظ لٹیرے بن جائیں اور جو جتنا بڑا لٹیرا اور غدار وطن ہو وہ اتنا ہی آقا کا منظور نذر کہلائے گا اور وفاداریاں نبھائے گا اس کے اوپر جانے گے اتنے ہی امکانات بڑھ جائیں گے جس کا منہ بولتا ثبو ت آج ہمارے ایک اہم ادراے کے سربراہ خود ہیں کون نہیں جانتا کہ مشرف کے بھیانک دور میں جب مسلمان ہونا جرم ٹھرا تھا جب ” لاپتہ افراد “ کی ایک نئی اصطلا ح کانوں میں پڑی تھی جب ایک جانب خود اپنے ہی افراد کو چند ڈالرز کے عوض بیچا جا رہا تھا تو دوسری جانب ڈرون حملوں کی اجازت دے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دینے کا پرمٹ دے دیا گیا تھا اور آقا کی خوشنودگی میں کیا کچھ نہ قیامت ڈھائی گئی جس کی دردناک یادیں آج بھی کسی ناسور کی طرح دکھتی ہیں جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو کئی دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد ایسے کیمیکل کے ذریعے ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا جس کو خظرناک اور بدترین دشمن پر بھی استعمال کرتے ہوئے سو سو بار سوچا جائے ۔

اس وقت مشرف کے تمام کارناموں میں دائیں بازو کا کردار ادا کرنے والے اور آئی ایس آئی کے چیف یہی موصوف تھے { اور جن کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ ان موصوف نے وہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہےجہاں مشرف کے بھی پر جلتے تھے } جن کے ہاتھوں پر عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر مسعود سمیت سینکڑوں بے گناہوں کا لہو ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان بے قصور لوگوں کا یہ لہو روہیفہ بی بی کے آہیں ، عافیہ کی دلخراش چیخیں ، جامعہ حفصہ کی بچیوں کے جلے ہوئے اعضاء اور علی اصغر کے زخم نصراللہ کے دکھ انکے گلوں کا طوق بنے گے اور ان سب خداوں کو میرا رب عبرت کا نشان بنائے گا کہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں وہ ظالم کی رسی دراز تو کرتا ہے مگر یہ رسی کھینچنے پر آتا ہے تو اک لمحہ نہیں لگاتا اور ہر دور کے فرعونوں اور نمرودوں کا انجام رہتی دینا تک کے لیے ایک عبرت بنا دیتا ہے چاہے وہ صدام حسین کی شکل میں ہو یا قذافی کی صورت میں جو اپنے اسی آقا کے بہت وفادار سمجھے جاتے تھے جنہوں نے ایسے ہی خود کو زمیں کا خدا سمجھ لیا تھا مگر دنیا نے ان کا بھیا نک اور ذلت آمیز انجام دیکھا اور انکی آماجگاہیں خود ان کے لیے اک عبرت کدہ بن گئیں ۔ مجھے لگا یہاں بھی بس اب وہی سب ہونے کو ہے کہ اگر دوسروں کے انجام دیکھ کر بھی کوئی عبرت نہ حاصل کرےتو پھر انتظار کیجیے رب کے اس فیصلے کا جو آیا ہی چاہتا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے?‎


qafila

ابھی اس واقعہ کو زیادہ دن نہیں گزرے اور وہ یقینا لوگوں کی یاداشتوں سے ابھی محو نہیں ہوا ہوگا

ایک طرف میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم رہا ہے جب دنیا کی سپر پاور کا صدر اوبامہ اشک بار آنکھوں کے ساتھ قوم سے خطاب کر رہا ہے دکھ کی کیفیت ایسی کہ الفاظ اسکا ساتھ نہیں دے پارہے تھے وہ ٹوٹے ہوئے لفظوں میں کہتا ہے کہ ’’ آج ہمارے دل پارہ پارہ ہوگئے ہیں” ۔اسکے یہ الفاظ اسکے اندر کے غم کو عیاں کر رہے تھے ۔

اس واقعے کے سوگ میں تین دن امریکی پرچم کو سرنگوں رکھنے کا اعلان کردیا گیا ۔

میں سوچ رہی تھی کہ یہ وہ شخص ہے جو پوری دنیا میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے مگر اس کے دل میں بھی اپنی قوم کے لیے اتنا درد اتنا دکھ کہ جس نے اسے پوری دنیا کے سامنے رونے پر مجبور کردیا کیوں کہ وہ ساری دنیا کے لیے جیسا بھی ظالم اور جابر سہی مگر اپنی قوم کا وفادار ہے ۔ رشک آیا مجھے ایسی قوم پر اور صدر کی اس وفاداری پر میرا جی چاہا کہ میں اس شخص کو سلام پیش کروں کہ قوم کے محافظوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔

مگر دوسری طرف میرے اپنے ملک کا ایک گوشہ سے لیکر دوسرا گوشہ تک آگ کی لپیٹ میں نظر آتا ہے ۔ ایک طرف نظر کرتی ہوں تو جلتا ہوا کوئٹہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے جہاں 100 سے زائد انسانی جانیں لمحوں میں لقمہ اجل بن جاتی ہیں اور ورثا اپنے پیاروں کی لاشوں کو لیے سخت سردی کے عالم میں تین دن سے انصاف کی آس میں بیٹھے ہیں ابھِی اس درد سے نکل نہیں پاتی کہ لہو لہو سوات اپنی داستاں سناتا نظر آتا ہے پورے ملک میں لگائی ہوئی یہ آگ جس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بیرونی سازشیں جن کا کوئی سدباب تو دور کی بات اس میں جلنے والوں کا کوئی پرسان حال نظر نہیں آتا کہاں ہیں ان صوبوں کے وزراء اور اس مک کے وہ نام نہاد ٹھیکیدار جنھوں نے ان کی خدمت کا حلف اٹھایا تھا کیوں انہیں قوم کا یہ پانی کی طرح بہتا خوں دکھائی اور لواحقین کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں کیا وہ صرف اس قوم کی رگوں سے خون نچوڑ کر اپنی عیاشیاں پوری کرنے کے لیے ہیں ؟

اور یہی کیا یہاں تو پورا ملک ہی اپنی حالت زار پر دہائی دیتا نظرآتا ہے جہاں آئے روز ڈرون حملوں میں لوگ جانوروں کی طرح مارے جاتے یا ٹارگٹ کلنگ کہ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے ۔

مگر یہ بد نصیب قوم جس کے لیے کہیں کسی کا دل نہیں لرزتا ہے ۔۔۔۔

کوئی آنکھ انکے لیے اشک بار ہوتی نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔

کوئی انکے لیے پرچم سرنگوں کرنے کا نہیں اعلان کرتا ۔۔۔۔

کیوں ؟؟

کیا مرنے والے انسان نہیں تھے ؟

کیا ان کا خون خون ناحق تھا جو بہہ گیا ؟

کیا جرم تھا انکا جو اپنی ماوں کی لاڈ لے ، بہنوں کے پیارےاور اپنے گھروں کے کفیل تھے ۔۔۔۔

بس یہی نا کہ یہ کوئی بڑے عہدیدار یا اسکی اولاد نہیں تھے بلکہ یہ عام عوام تھی ۔۔۔۔

کو ئی ہے جو ان سوالوں کے جواب دے ۔۔۔۔ ؟

آہ ۔۔۔۔ مگر دکھ تو یہ کہ کون ہے جو یہ سوالات پوچھے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے ؟

اور آج مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑھ رہا ہے کہ میں جس قوم سے تعلق رکھتی ہوں وہا ں محافظوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے انسان نہیں بلکہ گدھ ہیں جو صرف مرجانے والوں کی لاشوں پر گزارا کرتے ہیں کیونکہ یہ ہی انکی زندگیوں کی واحد خوراک ہے ۔

ٹی وی پر چلتے کینڈین انقلاب کے وہ مناظر دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ ان نازک حالات میں بھی ہر ایک اپنی دوکان چمکانے کی فکر میں ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ قوم اب بھی ان تماشہ گروں کے ہاتھوں کھلونا بننے کے لیے تیار ہے ۔

میں سوچ رہی تھی کہ اگر ہمارے یہاں بھی ایسے انسانی جانوں کے جانے پر پرچم سرنگوں کیا جاتا تو شائد سال کے تین سو پینسٹھ وہ پرچم سرنگوں ہی رہتا کہ ایسے باوقار اصول بھی ان قوموں کے لیے ہوا کرتے ہیں جو خود کیسی بھی کرپٹ ہوں کیسی بھی اخلاقیات سے عاری ہوں مگر جب اپنے قائد کا انتخاب کرتیں ہیں تو اس کے لیے ایک باکردار ،امین اور محب وطن کا ہونا لازمی شرائط ہیں اور اپنے ہی منتخب کئے ہوئے قائد پر کوئی الزام لگ جائے تو اسے پوری دنیا کے سامنے کٹھرے میں لاکھڑا کرتِیں ہیں اور کوئی استصواب انہیں یہ سب کرنے سے نہیں روک سکتا بس یہی نشانیاں ہیں کسی بھی قوم کے ذندہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔

مگر جن قوموں کا انتخاب گدھ ہوں وہ پھر ایسی ہی اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہوا کرتی اور اپنے آقاوں کو خوراک مہیا کرنے کا زریعہ بنتیں ہیں.

ابھی نہیں تو کبھی نہیں


 

abhi

 

لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر میرے اطراف میں پھیلے ہوئے کالم ،اخبارات میں اب تک آتی سر خیاں میڈیا پر ہر ایک کے منہ سے نکلتی دکھ بھری حقیقتیں جو یقینا تاریغ میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی مجھے پھر اسی طرف لے آتی ہیں اور میں حیران پریشان سی اپنے ذہن میں اٹھنے والے ان گنت سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کہ جب یہاں ہر ایک اس حقیقت سے واقف ہے کہ کون مخلص ہے , کون محب وطن ہے , کون ہے وہ جن کی زندگیاں ہر الزام سے پاک ہر اک کے سامنے شفاف آئینوں کی طرح چمکتی ہوئی ہیں مخالف بھی جن کی زندگیوں پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتے ۔

اسکا ایک منہ بولتا ثبوت جس کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا جس نے مجھے بھی حیران کردیا کہ وہ ذاکر صاحب ہوں پروفیسر غفور صاحب  یا قاضی بابا انکے لیے دائیں بازو والوں نے تو جو کچھ لکھا سو لکھا  مگر یہاں تو بائیں بازو والے بھِی ان باکردار لوگوں کی جدوجہد اور مخلصی کی ان گنت داستانیں سناتے نظر آتے ہیں اور بہت سی ایسی بھی سچائیا ں جس سے میرے جیسے بہت سے لوگ اب تک ناواقف تھے انہیں منظر عام پر لانے والا انہی کا قلم  تھا  ۔ ۔ ۔ ۔

میں خود کو سوچوں کے ایسے بھنور میں محسوس کر رہی تھی جس نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی کہ جب ہر اک اتنا باخبر ہے اتنا قدر دان ہے تو پھر بے خبر اور ناقدرا کون ؟؟

کون ہے جس نے اس قوم کے نصیب کی ڈوریاں پاکیزہ اور بے داغ لوگوں کے بجائے چوروں اور لٹیروں ملک کے غداروں اور دشمن کے ایجنٹوں کے حوالے کردیں ؟   اور آج عالم ہوا ہے کہ

جینا تو مشکل ہے ہی
مرنا بھی نہیں آساں

جوقومیں غفلت کی نیندیں سو جایا کرتیں ہیں تو پھر انکی تقدیروں میں وہی کچھ  لکھ دیا جاتا ہے جو آج نہ چا ہتے ہوتے بھی ہما ری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ۔

اک خیال تھا جو رہ رہ کر ستا رہا تھا کہ

کیوں ہم ان لوگوں کی قربانیوں کو اک جہد مسلسل کو پہچاننے سے عاری ہیں وہ صحراوں میں کنویں کھودتے ذاکر صاحب پروفیسر غفور احمد اور قاضی بابا کی شکل میں ہوں یا سید منور حسن سے لیکر سراج الحق ہوں یا لاکھوں لوگوں کی {سیلاب زدگان ہوں یا زلزلہ زدگان } ہر جگہ اور ہر وقت امداد کے لیے تیار والے نعمت اللہ جن کی عمر اسّی سال سے اوپر ہے ہاتھ میں لاٹھی تو آگئی مگر خدمت خلق کے جذبوں میں کوئی کمی نظر نہیں آتی ان سب کی خدمات کو ایک بلاگ میں رقم بند کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ انکی خدمتوں اور کارناموں پر تو کئی کتابیں لکھی جاسکتیں ہیں ۔

مگر جواب بہت افسوس ناک تھا کہ اس قوم سے زیادہ بد نصیب اور کون ہوگا  جسکا یہ حال ہوچکا ہو کہ جس کے باکردار اور دیانتدار لوگوں کو مرنے کے بعد ہی پہچانا جائے اور دنیا سے رخصت ہونے پر انکی مخلصی کے قصیدے لکھے اور پڑھے جائیں ۔

اور اس قوم میں جو جتنا بدتر ہو وہ اتنا ہی اونچے عہدے پر فائز ہو  اور جو جتنا بڑا مداری ہو وہ میڈیا میں اتنی زیادہ جگہ پائے اور لوگوں پر مسلط کر دیا جاۓ گا چاہے  وہ  اپنے مداری پن میں اس حد تک چلا جا یے کہ اپنی غداریوں پر پردہ  ڈالنے کی ناکام کو شش میں قوم کی تقدیر بدلنے اک پہچان دینے والے  والے بانی اور عظیم قائد پر ڈرون حملوں کے نام سے بدترین الزامات کی بوچھاڑ کردے اور پوری قوم کی برداشت کا امتحاں لے اورافسوس اس بات پر کہ ہمارے بکاؤ میڈیا کی کیا مجال  کہ  وہ یہ سب دکھانے سے انکار کر سکے کہ یہ کسی ایسی پارٹی کا پروگروم تو نہیں تھا جسے آن ائیر جانے سے درمیان ہی میں روک دیا گیا ۔۔۔۔۔۔  بڑ ے آقاؤں کی ناراضگی کا خطر ہ کیسے مول لیا  جا سکتا ہے  …..  بابا ئے قوم کی روح اگر تڑپتی ہی تو تڑپتی رہے ۔۔۔

یہ سب سن کر اور دیکھ کر جہاں دل دکھی تھا وہیں ایک آلاو بھی تھا جو اندر ہی اندر پک رہا تھا اور اس میں  کچھ کمی اس وقت آ ئی اور شکر ادا کیا کہ چلو صحافی برادری میں سے کسی نے تو اس حملے کا  پھر پور جواب دیا تھا اور قائد پر الزام لگانے والوں کو کھلا چیلنج تو دیا بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ دیوانگی ہے مگر میرے دل سے یہ دعا نکلی کہ اگر یہ دیوانگی  ہے تو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کرے کہ یہ دیوانگی رہے باقی ۔۔۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ کیا یہ قوم اب بھی نہیں جاگے گی تو پھر شائد کبھی جاگنے کی مہلت بھی نہ پاسکے کہ اب تو ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کل تک جو کینیڈا اور لندن سے چلنے والے انقلاب  کے دعوے دار جنھوں نے پوری قوم کو نفسیاتی طور پر یرغمال بنایا ہوا تھا پورے کراچی میں جگہ جگہ  کیمپس لگا کر اور راہ چلتی گاڑیوں کو روک روک کر انقلاب کے نام پر بھتہ وصول کرنے والے آج صبح بھی جنگ اخبار پر جلی حروف سے لکھی گئی وہ شہہ سرخی میرے سامنے موجود ہے جسمیں یہ اعلان کیا گیا کہ” حکومت گورنر سندھ کو ہٹانا چاہے تو ہٹا دے مگر لانگ مارچ میں ہر قیمت پر شریک ہونگے ” مگر یہ کیا چند ہی گھنٹوں بعد یہ خبر کہ ہم لانگ مارچ میں حصہ نہیں لے رہے پہلی خبر کا منہ چڑاتی نظر آئی ۔۔۔۔ کیا یہ اس قوم کے ساتھ بھیانک مذاق نہیں ۔۔۔۔۔ ؟؟

مگر جب تک یہ قوم اپنے ساتھ یہ مذاق کروانے کے لیے خود کو طشتری میں رکھ کر پیش کرتی رہےگی اسکے ساتھ ماضی میں بھی یہی سب دہرایا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا {اور اسکا خمیازہ اور کفارہ آنے والی نسلوں تک کو دینا پڑے گا } جب تک لوگ دیانت دار لوگوں کو مرنے سے پہلے نہیں پہچانیں گے اور بعد میں صرف انکے گن گانے ، داستانیں سنانےکے بجائے انکی زندگیوں میں انکو اپنا امام بنانے کے لیے خود میدان میں نہیں نکلیں گے تب تک انکے نصیبوں میں ایسے مداریوں کے تماشے “جنکی ڈگڈگی کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے ” اور جیل سے فارغ ہوکر ایوان صدر کا رخ کرنے والے ہی لکھے جائیں گے کہ فیصلہ کا وقت آیا ہی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بس یاد رکھیے گا کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ۔۔۔۔۔!!۔

ووٹ دو یا جان


میرا ذہن ابھی تک لیکچر کے دوران اٹھا ےٗ گئے ان گھمبیرسوالات میں الجھا ہوا تھا جنھوں نے وہاں موجود ہر فرد کو پریشان کر رکھا تھا۔

یہ کوئی پہلا موقعہ نہ تھا کہ کسی نے سوال کیا ہو ہمیشہ ہی لیکچر کے دوران بھی اور آخر میں بھی سوال و جواب کا سلسلہ رہتا تھا مگر آج کا موضوع جو بہت اہم تھا کہ “تبدیلی مگر کیسے؟” میں نے وہاں موجود ہر ایک کے چہرے پر مایوسی، خوف اور فکر دیکھی۔۔۔ مجھے ابھی لیکچر شروع کیے کچھ ہی دیر گذری تھی اور میں ووٹ کی اہمیت پر بات کر رہی تھی کہ ایک آواز آئی، ہم بھی جانتے ہیں کے ملک میں تبدیلی ہمارے ہی ووٹوں کے ذریعے آئے گی مگر خدارا آپ بس یہ بتادیں کہ جب کنپٹی پر پستول ہو تو کیسے اس ووٹ کی امانت کا حق ادا کیا جائے؟

 

مجھے ایک دم فیس بک پر بہت ذیادہ شئیر ہونے والی وہ وڈیو یاد آگئی جس میں ایک طالبہ (خدا کرے کہ وہ سلامت ہو) کہ جس نے اپنی جان پر کھیل کرایسے ہی خوفناک حقائق سے پردہ اٹھایا تھا (میرے دل نے اسکی سلامتی کے لیے بہت دعائیں کیں) کیونکہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایسی جسارت کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے!!!

میں ابھی سوال کرنے والی خاتون کو مطمئن کرنے کی کوشش میں تھی کہ ایک اور مایوسی سے بھری آواز نے مجھے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔۔۔

آپ یہ بتائیں جب آپ کے سامنے آپ کا ووٹ ڈالا جارہا ہو اور آپ سے کہا جائے کہ جائیں آپ کا ووٹ ہو چکا اور کہنے والوں کے لہجے آپکو اور بھی بہت کچھ سمجھا رہے ہوں تو کہاں سے لائیں ہم تبدیلی؟؟؟

 

میں یہ سوچنے لگی کہ واقعی اور الیکشن کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک “ووٹ دو یا جان دو” کا فارمولا ختم نہیں کیا جائے گا۔ بہرحال میں انہیں موجودہ اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر جناب جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کے الیکشن کمیشن کا چارج لینے کے بعد انتخابی فہرستوں میں درستگی اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے حوالے سے کام میں جو تیزی آئی ہے جو ہر لحاظ سے احسن اقدام ہے آگاہی دینے لگی اس خیال سے کہ مایوسی کی فضا کچھ کم ہو مگر یہاں تو لوگ مجھ سے ذیادہ جاننے والے بیٹھے تھے۔

ایک اور سوال اٹھا وہ جو ایک گھر میں 633 ووٹوں والی کہانی پر بھی ذرا روشنی ڈال دیں میں نے ماحول کو خوشگوار بناتے ہوئے کہا ارے آپ لوگ نہیں جانتے اب کراچی پر بھوتوں کا قبضہ ہے صرف ایک گھر نہیں اب ایک ہوٹل کے بارے میں بھی یہ راز کھلا ہے کہ جہاں سے 180 ووٹوں کا اندراج ہوا ہے اور نجانے کتنے تو ایسے ہیں جن کے بارے میں اب تک کوئی نہیں جانتا تو غضب خدا کا کیا کیا سنیں گے یہ بیچارے کان اور کتنی بار آنکھیں بند کر کے خبریں پڑھوں کہ اب ووٹر لسٹیں بھی اپنے ہاتھوں سے اپنی من چاہی جگہوں پر۔۔۔

یعنی ووٹر لسٹیں نا ہوئی پہلی جماعت کے بچوں کی کاپیاں ہوگئیں جو مزے سے گھر لےجاکر چیک کرلیں اور اپنی مرضی سے جس پر چاہے جتنے نمبر لگادیے “اندھیر نگری چوپٹ راج” مگرخیر آپ لوگ پریشان نا ہوں جنّات قابو کیے جانے کی کوششیں جاری ہیں اللہ پاک حیاتی دے اپنے چیف جسٹس صاحب کو اور حوصلہ بھی کہ اس بار لگتا ہے انھوں نے لاتوں کا بھی انتظام کیا ہوا ہے بھوتوں کو بھگانے کے لیے اور نئی حلقہ بندیاں، اور گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدیق اسی کی طرف ایک قدم ہے (اب بھوت انکل چاہے اس پر کتنا ہی مچلیں) انشاء اللہ اس بار کراچی کو بھوتوں سے پاک بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدام نتیجہ خیز ثابت ہونگے۔

میرے اس تبصرے نے وہاں ماحول کو خوش گوار اور ناامیدی کی فضا کو تویقینا کچھ تو کم کیا مگر بہرحال آج کے سوالات، ہر ایک کے چہرے سے ٹپکتی (چاہنے کے باوجود کچھ نہ کرسکنے پر) بے بسی، خوف اور فکر نےمیرے لیے سوچوں کے کئی در کھول دیے تھے جن کے جواب مجھ سمیت ہر شخص چاہتا ہے۔

 

جو لوگ سب بھانڈا پھوٹ جانے کے بعد “جلے پیر کی بلی” کی مانند بےکل ہوئے جارہے ہیں کیا وہ یہ سب اتنی آسانی سے ممکن ہونے دینگے؟ اور میں دعا کرنے لگی کہ خدا کرے آنے والا وقت مزید کوئی تباہی نہ لیکرآئے کہ یہ شہر لہو کی بہت بھینٹ چڑھا چکا اب سکت نہیں۔

خدا کرے کہ یہ الیکشن خونی الیکشن نہ ہو ۔

آمین!!!

%d bloggers like this: