Tag Archives: عوام

"انتخابات 2013 اور جماعت اسلامی ” ایک تجزیہ


مصنف : جویرہ سعید

٢٠١٣کے انتخابات کئی اعتبار سے جماعت اسلامی کے لئے اہم تھے اور کارکنان کو بہت پر امید اور پر جوش کیے ہوے تھے. پہلی مرتبہ کسی سے اتحاد کیے بغیر اپنے نام اور منشور کے ساتھ اتخابات میں شرکت، پچھلے برسوں میں مختلف شعبہ ہاے زندگی میں کی گئی محنت، مثلا بہت سے فلاحی اور تعلیمی اداروں کا قیام،اور بے شمار منصوبوں اور پروجیکٹس،کی بنا پر عوام میں بڑھتا ہوا نفوذ، MMA کے دور حکومت اور کراچی کی میر شپ کے دوران حکومت کا تجربہ،اور کمائی جانے والی نیک نامی وہ امید کی کرنیں تھی جو کارکنان کو سرگرم کر رہی تھیں. دوسری طرف ملک کے بدترین حالات، لاقانونیت، کرپشن، مہنگائی، ملکی سلامتی کو در پیش خطرات کے سبب عوام میں بڑھتا ہوا غم و غصہ اور بظاھر روایتی سیاسی جماعتوں سے بے زاری بھی امید دلا رہی تھی کہ عوام متبادل قوتوں کے منتظر ہیں، اور جماعت کی گزشتہ برسوں میں کی گئی محنت اس کو اس متبادل قوت کے طور پر سامنے لا رہی ہے. لہٰذا کارکنان اور خصوصا نوجوان نسل نے بری محنت اور جوش و جذبے سے کام کیا اور اب تک مختلف پہلوؤں سے جو کمیاں محسوس ہوتی تھیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی. جیسا کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے جماعت کے مکمل black out کے نقصانات کو زبردست سوشل میڈیا مہم کے ذریے پورے کرنے کی کوسش قابل ذکر بھی ہے اور قابل ستائش بھی

 

لیکن ان سب کے بعد انتخابات کے نتایج اور کراچی میں انتخابی عمل کے boycott نے ان پر جوش کارکنان میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی. جماعت کے زبردست نظام سمع و اطاعت اور تربیت نے الحمدللہ کوئی انتشار یا بد مزگی تو نہیں پیدا ہونے دی، لیکن اندرون خانہ کارکنان سے لے کر ہمدردوں اور متاثرین تک میں صدمے، اضطراب،اور مایوسی کی تند و تیز لہریں اٹھتی رہی ہیں. خصوصا ان افراد میں جنہوں نے انتخابات میں بہت جوش و جذبے اور اچھے نتایج کے یقین کے ساتھ حصہ لیا تھا. مختلف سوالات ہیں جو مضطرب ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں،ان میں دو سوالات اہم ہیں،

 

١) انتخابات میں ناکامی کہیں خود جماعت کی ناکامی تو نہیں، یہ اس بات کا مظہر تو نہیں کہ جماعت اپنی دعوت کے نفوز میں ناکام رہی ہے. اور کیا جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ عمومی تاثر درست ہے کہ یہ ایک ناکام جماعت ہے جو کبھی بھی خاطر خواہ سیٹیں نہیں لے سکی اور عوام کی نمایندہ جماعت نہیں بن سکی؟ ٢) جماعت کو ان ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، جس کے لئے اس کو ایک زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے، اور یہ تبدیلی افکار و طریقہ کار اور mind set سب میں ناگزیر ہے. اور جماعت ان کو اختیار کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟

 

ہم نے یہاں سوالات کا الگ الگ تجزیہ کرنے کی کوسش کی ہے. پہلا سوال اب تک کی گئی جدو جہد سے متعلق ہے اور دوسرا سوال آنے والے وقتوں میں درست سمت میں چلنے کے لئے تبدیلی اختیار کرنے سے تعلق رکھتا ہے.

 

پاکستان میں انتخابات کا عمل، عوام کی اس میں شرکت، اور اس کے نتایج دو اور دو چار کی طرح سیدھا معاملہ نہیں ہے. اس میں بہت سے عوامل دخل انداز ہوتے ہیں. لسانی ، صوبائی، مسلکی عصبیتیں، جاگیر دارانہ نظام اور وڈیرہ شاہی، دولت کا عمل دخل، لاقانونیت، عوام میں خواندگی کی شرح اور سیاسی بیداری کی کمی، بیرونی طاقتوں کی ملکی حالات پر گرفت، ملکی اداروں کا ان کے زیر اثر اور جانبدار ہونا ،سب ہی اہم ہیں. مذہبی جماعتوں سے پاکستانی قوم کی عقیدت اور وابستگی اپنی جگہ اور عملی زندگی میں الگ معیارات ہوتے ہے. اس اعتبار سے پاکستانی قوم ایک منفرد قوم ہے. مصر، ترکی، اور دوسرے ممالک کے بر عکس اس قوم نے اسلام مخالف قوتوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا. مذہبی معاملات پر یہ مخالف قوتوں کے خلاف مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر سینہ سپر ہو جاتی ہے، کہ مذہب بے زر قوتوں کو بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتی ہے اورانھیں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنا کام کرنا پر تاہے.دوسری طرف اپنی اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو مذہب کے مطابق ڈھالنے اور روایتی مذہبیت سے بڑھ کر عملی تقاضوں کو پورا کرنے میں وہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں اتی. یہی تناقص سیاسی میدان میں مذہبی جماعتوں کا ساتھ دینے میں بھی مانع رہا ہے.

 

ان سب زمینی حقائق کے پیش نظر جماعت اسلامی جیسی اصولی موقف اور طریقہ کر رکھنے والی پارٹی کے لئے انتخابات ایک بہت بڑا چیلنج ہوا کرتے ہیں.اتنے بہت سے محازوں پر چو مکھی لڑائی لڑنا،اور اپنے دامن کو ان سری آلائشوں سے بچاتے ہوے کامیابی کے لئے کوششیں کرنا اتنا آسان نہیں. اور اسی بنا پر دوسری جماعتوں کے ساتھ موازنہ بھی معقول نہیں لگتا. اس سری صورتحال میں ہمارا ایک ووٹ بھی بھرتی کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے بری عرق ریزی اور محنت ہوتی ہے.

 

ان سب باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جماعت سے غلطیاں نہیں ہوئیں. ظاہر ہے کہ کوئی بھی صاحب عقل ایسی بات نہیں کر سکتا. بلا شبہ غلطیاں بھی ہوئی ہیں، اور ان کا گہرائی سے تجزیہ اور بروقت اصلاح بھی ضروری ہے، لیکن یہاں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ غلطیوں کا تجزیہ اور تنقید بارے اصلاح اور چیز ہے اور انتخابات میں ناکامی کی بنا پر پوری تحریک اور اس کی جدوجہد کو سوالیہ نشان بنا دینا اور بات ہے.

 

بیان کیے گئے عوامل کے پیش نظر ہماری راہے یہ ہے کہ انتخابات میں ناکامی یا کامیابی کو جماعت کی دعوت کے نفوذ کا معیار نہ ہی بنایا جاے تو بہتر ہے.بلکہ اس کو کچھ اور ہی اثرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے.

 

گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے حالات اور چلینجز کو دیکھیں، اور اس کے مقابلے میں مذہبی قوتوں اور خصوصا جماعت اسلامی کی جدوجہد کا جایزہ لیں تو یہ کہے بغیر رہنا ممکن نہیں کہ یہ الحمدللہ جماعت کی دعوت کی روز افزوں ترقی کا سفر ہے. جو جماعت ستر افراد اور ستر روپوں سے شروع ہوئی ، تمامتر کٹھنائیوں کے باوجود آج اس کے کارکنان، ہمدردوں اور متاثرین کی تعداد اور اثاثوں کا اندازہ لگائیں. اسلامی دستور کی تیّاری، کمیونزم اور سیکولرازم ،غیر ملکی مداخلت کے مقابلے میں کامیاب جدوجہد ، ہر شعبہ زندگی میں اسلام پسند رحجانات اور افراد کا پایا جانا، اسلامی نظام، احکامات، اصطلاحات اور شعائر کے حوالے سے عمومی نقطۂ نظر میں مثبت تبدیلیاں (acceptance) ، نظری اور عملی اعتبار سے ان کے قابل عمل اور مفید ہونے کا اعتراف (اقتدار و اختیار کی طاقت کے بغیر ہی ) اور ان کے حوالے سے stereotypes میں تبدیلیاں،بے شمار فلاحی و تعلیمی اداروں اور منصوبوں کا قیام  پرہے لکھے اور دیانت دار افراد کی ایک کھیپ کا تیّر ہو کر ہر شعبہ زندگی میں مصروف عمل ہونا، اور پوری دنیا  ان افراد اور دعوت کے ذزایو کے ذریے بے شمار اسلامی تحریکوں کا پھلنا پھولنا وار تقویت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خیر کثیر ہے جو جماعت کے حصّے میں آیا ہے. یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقتدار و اختیار کے ایوانوں میں رسائی کے سلسلے میں اس جماعت کو جس قدر تسلسل کے ساتھ ناکامیاں دیکھنی پڑی ہیں، اس کے باوجود نہ اس کا سفر رکا اور نہ ہی وہ کسی بری تقسیم کا شکار ہوئی، بلکہ روز بروز آگے بڑھتی جا رہی ہے. اس کے برعکس دوسری پارٹیز نے ہمیشہ اقتدار کے مزے بھی لوٹے، بیرونی طاقتوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی، دولت کے سر چشموں کو سے بھی مستفید ہوتے رہیں، اور معاشرے میں پائی جانے والی کمزوریوں کا بھی ہمیشہ ان ہوں نے فائدہ اٹھایا. اس کے باوجود وہ مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم دار تقسیم سے بھی دو چار ہیں.

 

ان اتخابات کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اٹھ رہا ہے کہ جماعت اسلامی جیسا نصب العین اور طریقہ کر رکھنے والی تحریک کے لئے انتخابات والا option کام آ بھی سکتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے، لکن اس سوال کا اٹھنا بذات خود اس بات کا مظہر ہے، کہ انتخابات میں ناکامی کی وجہ محض دعوت کے نفوذ اور محنتوں میں کمی ہی نہیں بلکہ یہ دوسرے عوامل بھی اہم ہیں.

 

یہاں ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہیں کہ غلطیوں کا ہونا اپنی جگہ مسلم ہے اور اصلاح بھی بہت ضروری ہے، لکن شدید بےچینی اور کسی حد تک مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم انتخابات کی ناکامی کو اپنی جماعت کی ناکامی یا کامیابی کا معیار بنا رہے ہیں. ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لمحات کو طول دیے بغیر نئے عزم و حوصلے کے ساتھ تعمیری تنقید اور اصلاح کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھایا جے.

 

دوسرا سوال جماعت کے افکار و طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت اور جماعت کی طرف سے اس سے گریز سے متعلق ہے. اس سلسلے میں جو بحث جاری ہے اس کا حاصل یہ کہ جماعت کو وقت کے تقاضوں اور ناکامیوں کی پیش نظر تبدیلیوں کے لئے تیّار بھی رہنا چاہیے، اپنے اندر جذب بھی کرنا چھیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کو اختیار بھی کرنا چاہیے. اس بحث کا ایک "silent observer” کی حیثیت سے ہم نے جو جایزہ لیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کا یہ مطالبہ دو مختلف گروپس کی جانب سے ہے. بادی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بری تعداد میں لوگ تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر کچھ وجوہات کی بنا پر ان پر غور نہیں کیا جارہا. لیکن ذرا سا گہرا مطالعہ اور مشاھدہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ ان دونوں گروپس کے نظریات و مطالبات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. یہ دوطرح کی سوچیں intellectual سطح سے لے کر عام ذہنی سطح تک نظر اتی ہیں. اس لئے تبدیلی کا یہ عمل اتنا آسان نہیں جتنا بظاھر معلوم ہوتا ہے.

 

ایک گروہ وہ ہے جو برس ہا برس کی روایات ، طے شدہ اصولوں اور معیارات پر سختی سے قائم ہے،اور لچک اور وسعت کو طغیانی، اور اصل سے انحراف سے تعبیر کرتا ہے، ان کے مطابق ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ، لچک اور وسعت کے نام پر ہم اپنے اصولوں سے انحراف کرتے رہے ہیں، اگر :حقیقی کامیابی” مطلوب ہے تو "اصل” کی طرف واپس لوٹنا ہو گا. دنیا اور اس کے حالات کو سمجھ کر اپنی reshaping کے بجاے دنیا کو اپنی دعوت اور standards کے مطابق ڈھالا جاے. اور اسی حوالے سے اپنی دعوت کو موثر بنایا جاے. اس نقطہ نظر کے بہت سے shades ہیں، جو مختلف روےیوں میں نظر اتے ہیں. اس گروہ کی قیادت علمی شخصیات کے ہاتھ میں ہے، جن کا علمی اور نظری سرمایا اسلاف کا علمی زخیرہ ہے، اور بادی نظر میں ان کا موقف قرآن و سنّت کے این مطابق بھی نظر اتا ہے.

 

دوسرا گروہ وہ ہے جو بدلتے ہوے حالات ، اور اس کے تقاضوں کو مد نظر رکھنے ، اسلام کی آفاقیت اور اجتہادی قوت کو بروے کار لانے، بنیادی اسلامی اخلاقیات کو مرکز دعوت بنانے اور اسی حوالے سے نظریات اور معاملات کو وسعت اور لچک دینے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے. مقصد زیادہ سے زیادہ لوگو ں کو ہمرکاب بنانا اور اسلام کے دامن رحمت میں سمیٹنا ہے.اس گروہ کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کو خطے سے بہار نکل کر نئی دنیاؤں میں کام کرنے کے مواقع میسّر آہے ہیں.اور اس کے لئے وہ عالم اسلام میں برپا اسلامی تحریکوں کی بدلتی ہوی پالیسیز ، stretegies اور ان کے مثبت نتایج کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں.

 

ان دونوں گروپس کے اخلاص، اپنے اپنے دائروں میں کی گئی محنت تجربات اور دلائل کے معقول ہونے سے انکار ممکن نہیں. ان کا اصرار بھی سمجھ میں اتا ہے. لکن ان کا اختلاف اس بات کا مظہر ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو من و عن اپنا لینا اور دوسرے کو خاطر میں نہ لانا ممکن نہیں ہے. گو کہ ہر دو کا اصرار یہی ہے، لکن تحریک کی قیادت کے لیے یہ ہی کرنے کا کام ہے کہ دونو کے بین بین کیسے درمیانی راستہ نکالا جاے. اور یہی قیادتوں کا امتحان ہوا کرتا ہے کہ وہ لمحہ موجود سے بلند ہو کر انے والے وقتوں کے لئے تحریک کا صحیح رخ متعین کر دیں. لکن ساتھ ساتھ خود ان گروپس کے افراد کو بھی درمیانی راستہ اختیار کرنے کے لئے ایک دوسرے ک راے کا احترام اور اپنے موقف کی کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہو گی.ورنہ یہ سب صرف اختلاف اور شور ہی رہے گا، اور اس سے انتشار، تلخیوں، بد گمانیوں اور تقسیم کے سوا کیا حاصل ہو گا ہم نہیں جانتے. اسی لیے ہم کہا کرتے ہیں، مسائل کے حل کو ذرا ایک طرف رکھئے، پہلے آئیے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں.”

کہانی سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کی


خود کلامیاں : بلال ساجد

  دیکھیں جی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کا شروع سے یہ خیال تھا کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہم خیال قوتوں کو مل کر الیکشن میں جانا چاہیئے اور کم سے کم ایجنڈے پہ اتفاقِ رائے پیدا کر کے آگے بڑھنا چاہیئے۔

پورے پاکستان میں بالعموم اور کراچی و بلوچستان میں بالخصوص مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا ہونا چاہیئے اور حالات کو بہتر کرنے کے لیے اور بلوچستان میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیئے ۔۔۔ لیکن تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست یا یوں کہہ لیں کہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں یہ کوششیں ناکام ٹھریں اور جماعتِ اسلامی نے محسوس کیا کہ مسلم لیگ نواز اور تحریکِ انصاف کا ایک سٹیج پہ بیٹھنا ممکن نہیں رہا!

اِس کے بعد، جماعتِ اسلامی نے یہ کوشش کی کہ کم از کم بلوچستان اور کراچی ایشو پہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا جائے اور خدانخواستہ 1971 کی تاریخ کو نہ دوہرایا جائے لیکن کچھ عوامل ایسے تھے جس کی وجہ سے ہماری یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی اور یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

دوسری طرف، جماعتِ اسلامی تنہا پروازی سے کسی بھی وقت خوفزدہ نہیں تھی اور ہم اکیلے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیتے لیکن ملک کے موجودہ حالات میں جماعت سے باہر بیٹھے ہمارے کچھ ہمدرد ہمیں بار بار یہ مشورہ دے رہے تھے کہ دائیں بازو کا ووٹ تقسیم نہ ہونے دو ورنہ پیپلز پارٹی کی حکومت آ جائے گی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کے اندر بھی اس حوالے سے دو طرح کی رائے پائی جاتی تھی ۔۔۔

اول، کسی کے ساتھ اتحاد یا ایڈجیسٹمنٹ نہ کی جائے اور تنہا پرواز کی جائے۔ دوم، مسلم لیگ نواز یا تحریک انصاف کے ساتھ سیٹوں کی بنیاد پہ نہیں بلکہ ایشوز کی بنیاد پہ ایڈجیسٹمنٹ کی جائے۔

جماعتِ اسلامی کی مرکزی شوری نے اس پہ غور و خوص کیا اور اس ڈسکشن میں مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کی اعلی قیادت کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے ساتھ خواہشِ اتحاد کے حوالے سے ساے بیانات پہ بھی غور کیا گیا ۔۔۔ اور ۔۔ قرعہِ فال تحریکِ انصاف کے نام نکلا ۔۔۔

عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ ہمارے رابطے تو بہت پہلے سے تھے ۔۔۔ اور عمران خان صاحب نے بار بار مختلف فورمز پہ اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ جماعتِ اسلامی سے ایڈجیسٹمنٹ ہو سکتی ہے ۔۔۔ اسی بنیاد پہ ہم نے ان کی طرف قدم بڑھائے تھے اور 24 مارچ کو میٹنگ میں یہ بات تقریباً طے ہو گئی تھی کہ جماعتِ اسلمی اور تحریکِ انصاف سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کریں گی ۔۔۔

اس حوالے سے جاوید ہاشمی صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی لیکن بعد میں اس کمیٹی کا کوئی اجلاس تک نہ ہو سکا اور یہ بات آپ کو تحریکِ انصاف کے دوستوں سے پوچھنی چاہیئے کہ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔!

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ نہ ہو سکنے کی وجہ بھی بہت واضح ہے ۔۔۔ میری رائے میں کچھ ایسے لوگ، جن کے بارے میں ن لیگ کا یہ خیال ہے کہ وہ اقتدار کا فیصلہ کرتے ہیں، ۔۔۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ن لیگ، جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی تشخص رکھنے والی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرے اور یہ بات آپ ن لیگ سے ہی پوچھیں کہ انہیں کہاں سے کس طرح کے پریشر کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔!

لیکن میں عرض کروں کہ ہمارے لیے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے ۔۔ ہم نے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بغیر جتنی سیٹیں لینی تھیں سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بعد ان میں ایک یا دو سیٹوں کا اضافہ ہو جاتا لیکن ہمارا خیال تھا کہ اگر دائیں بازو کا ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہوا تو اس کا فائدہ وہی کرپٹ ٹولہ اٹھائے گا جو پچھلے پانچ سال ہم پہ مسلط رہا ہے!

شہر تو میرا لہو لہو ہے !


abas

اتوار کی چھٹی کی وجہ سے گھر میں خاص پکوان کی تیاری جاری تھی ، نماز مغرب ہوئی اور ایک زوردار دھما کے نے پل میں سارا منظر ہی بدل دیا ۔

روتے سسکتے لوگ ، کھنڈر ہوئے مکان اور دم توڑتے انسان ……..

کئی گھنٹوں تک جلنے والے فلیٹوں سے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں اور پھر وہاں زندگی نے دم توڑ دیا ،  کچھ کی خوش قسمتی سے جان تو بچ گئی مگر آشیانہ نہ بچ سکا ، ساری زندگی کی کمائی ، ایک ایک پیسہ جوڑ کر اکھٹا کر کے بنایا جانے والا آشیانہ یوں پل میں بکھر گیا انسانی اعضا بکھر گئے اور اسی وقت اقتدار اعلی منگنی کی تقریب کے مزے لوٹنے میں مصروف رہے۔۔۔۔۔

میری تین ساتھی اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل میں ہی رہائش پذیر ہیں ، جس طرح ان کے گھروں کے شیشے ٹوٹے ، گھر والے لمحوں میں اپنی زندگی کی بازی ہار بیٹھے ہائے وہ کرب کس طرح بیان کروں، جو ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں اٹھایا ، جو ایک باپ نے اپنی بیٹی کی کٹی ہوئی گردن کو اس کے جسم کے بغیر دیکھ کے سہا ، وہ کرب جس نے ایک شخص کو ناصرف گھر سے محروم کر کے اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا بلکہ اس سے اس کی بیوی اور نو ماہ کے بچے سے بھی محروم کر دیا.

پہلے نشانہ مساجد اور بازار بنے آج یہ عالم ہے کے گھروں پہ حملہ ، گوشت والا ، سبزی والا کوئی بھی تو محفوظ نہ رہا . نہ تجربہ کار لڑکوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کے ٹکرے کس حال میں جمع کئے ، کسی ماں نے اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے میچ دیکھتے بیٹے کی خون سے لت پت لاش کو اپنی گود میں بھرتے ہوۓ اٹھایا وو دکھ میرا قلم بیان کرنے سے قاصر ہے .

ستم ظریفی تو یہ کے اقرا سٹی اور رابعہ پیٹل کی طرف ڈھائی گھنٹے تک کسی نے رخ نہ کیا ، اقتدار اعلی کی ہمدردی ٹی وی پہ چلنے والی ہیڈ لائنز تک ہی محدود رہی ، کوئی پرسان حال نہیں. کون یتیم ہوا ؟ کس نے بیوگی کا دکھ سہا کس ؟ اس دکھ تو بھلا یہ کیا جانیں ؟

بالائے ستم یہ کہ وہ لوگ جو بری طرح زخمی ہوئے ان کے گھروں کو اس حال میں بھی لوٹنے والوں نے نہ چھوڑا ان کے گھروں سے لوگ زیورات ، نقدی ، قیمی سامان لے اڑے ،ہم ہی راہزن بن گئے .

افسوس صد افسوس یہ ظلم کا کونسا مقام ہے ؟؟

جب قصاب بکریوں کو ذبح کرنے کے لئے لے جاتا ہے تو باقی بکریاں شکر ادا کرتی ہیں لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منا پاتی ہے .

. شاید آج یہی حال ہمارا بھی ہے اگر آج یہ تباہی عبّاس ٹاؤن میں ہوئی ہے تو کل کسی بھی علاقے میں ہو سکتی ہے . وہ لوگ جو ان کاروائیوں میں مصروف ہیں انکا کوئی مذھب نہیں . کچھ لوگ اب بھی اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دے رہے ہیں ، لیکن یہاں تو سب ہی کے گھر لٹے سب ہی شہید ہوئے. تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بھی اپنا ہی جھنڈا لہرانے میں مصرورف ہیں. میرا دل چاہتا ہے ان شرم سے بالاتر حکمرانوں کا گریبان پکڑ کے پوچھوں کے یہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے ، پاکستان کا دل ہے .اگر کراچی برباد ہوتا ہے تو پاکستان کا دل بند ہوتا ہے ور اگر کسی کا دل بند ہو جائے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے. آخر انہیں کیوں سمجھ نہیں آتا کے وہ پاکستاں کو برباد کر رہے ہیں .

آخر وہ کونسی مخلوق ہے جو سینکڑوں کلوگرام بارودی مواد لے کر شہر میں داخل ہو جاتی ہے اور کسی کو نظر ہی نہیں آتی روزانہ کسی ماں کا لال جان کی بازی ہار بیٹھتا ہے اور پھر اس پہ وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات ایک پھلجھڑی کا کام ہی انجام دیتے ہیں. وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ وزیر اطلات کا عہدہ سنبھال لیں ، جب وہ اپنے فرائض پورے کر ہی نہیں سکتے. ان کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ غیر مستحکم پاکستان عالمی قوتوں کے لئے کتنا موزوں ہے. اگر کراچی لہو لہو ہے تو پورا ملک اس سے متاثر ہے.

قرآن کریم کی سورہ الانعام کی آیات ٦٥ میں الله نے فرمایا

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُون

"کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں”.

روزانہ کی ٹارگٹ کلنگ ، بم بلاسٹ ،

الله تو بار بار راہ ہدایت دکھاتا ہے قرآن میں ، بار بار اپنے عذاب سے با خبر کرتا ہے لیکن ہم سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، اب بھی وقت ہے کے ہم سنبھل جائیں  ، ورنہ شاید ہمارا نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں . ہمیں اس وقت اجتمائی توبہ اور صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے . پورا کراچی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور بار بار ایک ہی سوال میرے ذہن میں آتا ہے

اجڑے رستے ، عجیب منظر ، ویران گلیاں، بازار بند ہیں ۔۔۔

کہاں کی خوشیاں ، کہاں کی محفل ، شہر تو میرا لہو لہو ہے ۔۔۔

وہ روتی ما ئیں ، بیہوش بہنیں ، لپٹ کے لاشوں سے کہ رہی ہیں ۔۔۔

اے پیارے بیٹے ، گیا تھا گھر سے ، سفید کرتا تھا سرخ کیوں ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟

الہٰی اس چمن کو اس پت جھڑ کے غم سے نجات دے .

ہم تھک چکے ہیں روزانہ لاشیں اٹھاتے رحم فرما اے الله رحم . { آمین}

دعاؤں کی طلبگار زوجہ غضنفر فرہاج

ابھی نہیں تو کبھی نہیں


 

abhi

 

لکھنے کو تو بہت کچھ ہے مگر میرے اطراف میں پھیلے ہوئے کالم ،اخبارات میں اب تک آتی سر خیاں میڈیا پر ہر ایک کے منہ سے نکلتی دکھ بھری حقیقتیں جو یقینا تاریغ میں سنہری حرفوں سے لکھی جائیں گی مجھے پھر اسی طرف لے آتی ہیں اور میں حیران پریشان سی اپنے ذہن میں اٹھنے والے ان گنت سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی کہ جب یہاں ہر ایک اس حقیقت سے واقف ہے کہ کون مخلص ہے , کون محب وطن ہے , کون ہے وہ جن کی زندگیاں ہر الزام سے پاک ہر اک کے سامنے شفاف آئینوں کی طرح چمکتی ہوئی ہیں مخالف بھی جن کی زندگیوں پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتے ۔

اسکا ایک منہ بولتا ثبوت جس کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا جس نے مجھے بھی حیران کردیا کہ وہ ذاکر صاحب ہوں پروفیسر غفور صاحب  یا قاضی بابا انکے لیے دائیں بازو والوں نے تو جو کچھ لکھا سو لکھا  مگر یہاں تو بائیں بازو والے بھِی ان باکردار لوگوں کی جدوجہد اور مخلصی کی ان گنت داستانیں سناتے نظر آتے ہیں اور بہت سی ایسی بھی سچائیا ں جس سے میرے جیسے بہت سے لوگ اب تک ناواقف تھے انہیں منظر عام پر لانے والا انہی کا قلم  تھا  ۔ ۔ ۔ ۔

میں خود کو سوچوں کے ایسے بھنور میں محسوس کر رہی تھی جس نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی کہ جب ہر اک اتنا باخبر ہے اتنا قدر دان ہے تو پھر بے خبر اور ناقدرا کون ؟؟

کون ہے جس نے اس قوم کے نصیب کی ڈوریاں پاکیزہ اور بے داغ لوگوں کے بجائے چوروں اور لٹیروں ملک کے غداروں اور دشمن کے ایجنٹوں کے حوالے کردیں ؟   اور آج عالم ہوا ہے کہ

جینا تو مشکل ہے ہی
مرنا بھی نہیں آساں

جوقومیں غفلت کی نیندیں سو جایا کرتیں ہیں تو پھر انکی تقدیروں میں وہی کچھ  لکھ دیا جاتا ہے جو آج نہ چا ہتے ہوتے بھی ہما ری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ۔

اک خیال تھا جو رہ رہ کر ستا رہا تھا کہ

کیوں ہم ان لوگوں کی قربانیوں کو اک جہد مسلسل کو پہچاننے سے عاری ہیں وہ صحراوں میں کنویں کھودتے ذاکر صاحب پروفیسر غفور احمد اور قاضی بابا کی شکل میں ہوں یا سید منور حسن سے لیکر سراج الحق ہوں یا لاکھوں لوگوں کی {سیلاب زدگان ہوں یا زلزلہ زدگان } ہر جگہ اور ہر وقت امداد کے لیے تیار والے نعمت اللہ جن کی عمر اسّی سال سے اوپر ہے ہاتھ میں لاٹھی تو آگئی مگر خدمت خلق کے جذبوں میں کوئی کمی نظر نہیں آتی ان سب کی خدمات کو ایک بلاگ میں رقم بند کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ انکی خدمتوں اور کارناموں پر تو کئی کتابیں لکھی جاسکتیں ہیں ۔

مگر جواب بہت افسوس ناک تھا کہ اس قوم سے زیادہ بد نصیب اور کون ہوگا  جسکا یہ حال ہوچکا ہو کہ جس کے باکردار اور دیانتدار لوگوں کو مرنے کے بعد ہی پہچانا جائے اور دنیا سے رخصت ہونے پر انکی مخلصی کے قصیدے لکھے اور پڑھے جائیں ۔

اور اس قوم میں جو جتنا بدتر ہو وہ اتنا ہی اونچے عہدے پر فائز ہو  اور جو جتنا بڑا مداری ہو وہ میڈیا میں اتنی زیادہ جگہ پائے اور لوگوں پر مسلط کر دیا جاۓ گا چاہے  وہ  اپنے مداری پن میں اس حد تک چلا جا یے کہ اپنی غداریوں پر پردہ  ڈالنے کی ناکام کو شش میں قوم کی تقدیر بدلنے اک پہچان دینے والے  والے بانی اور عظیم قائد پر ڈرون حملوں کے نام سے بدترین الزامات کی بوچھاڑ کردے اور پوری قوم کی برداشت کا امتحاں لے اورافسوس اس بات پر کہ ہمارے بکاؤ میڈیا کی کیا مجال  کہ  وہ یہ سب دکھانے سے انکار کر سکے کہ یہ کسی ایسی پارٹی کا پروگروم تو نہیں تھا جسے آن ائیر جانے سے درمیان ہی میں روک دیا گیا ۔۔۔۔۔۔  بڑ ے آقاؤں کی ناراضگی کا خطر ہ کیسے مول لیا  جا سکتا ہے  …..  بابا ئے قوم کی روح اگر تڑپتی ہی تو تڑپتی رہے ۔۔۔

یہ سب سن کر اور دیکھ کر جہاں دل دکھی تھا وہیں ایک آلاو بھی تھا جو اندر ہی اندر پک رہا تھا اور اس میں  کچھ کمی اس وقت آ ئی اور شکر ادا کیا کہ چلو صحافی برادری میں سے کسی نے تو اس حملے کا  پھر پور جواب دیا تھا اور قائد پر الزام لگانے والوں کو کھلا چیلنج تو دیا بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ دیوانگی ہے مگر میرے دل سے یہ دعا نکلی کہ اگر یہ دیوانگی  ہے تو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کرے کہ یہ دیوانگی رہے باقی ۔۔۔۔

میں سوچ رہی تھی کہ کیا یہ قوم اب بھی نہیں جاگے گی تو پھر شائد کبھی جاگنے کی مہلت بھی نہ پاسکے کہ اب تو ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کل تک جو کینیڈا اور لندن سے چلنے والے انقلاب  کے دعوے دار جنھوں نے پوری قوم کو نفسیاتی طور پر یرغمال بنایا ہوا تھا پورے کراچی میں جگہ جگہ  کیمپس لگا کر اور راہ چلتی گاڑیوں کو روک روک کر انقلاب کے نام پر بھتہ وصول کرنے والے آج صبح بھی جنگ اخبار پر جلی حروف سے لکھی گئی وہ شہہ سرخی میرے سامنے موجود ہے جسمیں یہ اعلان کیا گیا کہ” حکومت گورنر سندھ کو ہٹانا چاہے تو ہٹا دے مگر لانگ مارچ میں ہر قیمت پر شریک ہونگے ” مگر یہ کیا چند ہی گھنٹوں بعد یہ خبر کہ ہم لانگ مارچ میں حصہ نہیں لے رہے پہلی خبر کا منہ چڑاتی نظر آئی ۔۔۔۔ کیا یہ اس قوم کے ساتھ بھیانک مذاق نہیں ۔۔۔۔۔ ؟؟

مگر جب تک یہ قوم اپنے ساتھ یہ مذاق کروانے کے لیے خود کو طشتری میں رکھ کر پیش کرتی رہےگی اسکے ساتھ ماضی میں بھی یہی سب دہرایا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا {اور اسکا خمیازہ اور کفارہ آنے والی نسلوں تک کو دینا پڑے گا } جب تک لوگ دیانت دار لوگوں کو مرنے سے پہلے نہیں پہچانیں گے اور بعد میں صرف انکے گن گانے ، داستانیں سنانےکے بجائے انکی زندگیوں میں انکو اپنا امام بنانے کے لیے خود میدان میں نہیں نکلیں گے تب تک انکے نصیبوں میں ایسے مداریوں کے تماشے “جنکی ڈگڈگی کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے ” اور جیل سے فارغ ہوکر ایوان صدر کا رخ کرنے والے ہی لکھے جائیں گے کہ فیصلہ کا وقت آیا ہی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بس یاد رکھیے گا کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ۔۔۔۔۔!!۔

ووٹ دو یا جان


میرا ذہن ابھی تک لیکچر کے دوران اٹھا ےٗ گئے ان گھمبیرسوالات میں الجھا ہوا تھا جنھوں نے وہاں موجود ہر فرد کو پریشان کر رکھا تھا۔

یہ کوئی پہلا موقعہ نہ تھا کہ کسی نے سوال کیا ہو ہمیشہ ہی لیکچر کے دوران بھی اور آخر میں بھی سوال و جواب کا سلسلہ رہتا تھا مگر آج کا موضوع جو بہت اہم تھا کہ “تبدیلی مگر کیسے؟” میں نے وہاں موجود ہر ایک کے چہرے پر مایوسی، خوف اور فکر دیکھی۔۔۔ مجھے ابھی لیکچر شروع کیے کچھ ہی دیر گذری تھی اور میں ووٹ کی اہمیت پر بات کر رہی تھی کہ ایک آواز آئی، ہم بھی جانتے ہیں کے ملک میں تبدیلی ہمارے ہی ووٹوں کے ذریعے آئے گی مگر خدارا آپ بس یہ بتادیں کہ جب کنپٹی پر پستول ہو تو کیسے اس ووٹ کی امانت کا حق ادا کیا جائے؟

 

مجھے ایک دم فیس بک پر بہت ذیادہ شئیر ہونے والی وہ وڈیو یاد آگئی جس میں ایک طالبہ (خدا کرے کہ وہ سلامت ہو) کہ جس نے اپنی جان پر کھیل کرایسے ہی خوفناک حقائق سے پردہ اٹھایا تھا (میرے دل نے اسکی سلامتی کے لیے بہت دعائیں کیں) کیونکہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایسی جسارت کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے!!!

میں ابھی سوال کرنے والی خاتون کو مطمئن کرنے کی کوشش میں تھی کہ ایک اور مایوسی سے بھری آواز نے مجھے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔۔۔

آپ یہ بتائیں جب آپ کے سامنے آپ کا ووٹ ڈالا جارہا ہو اور آپ سے کہا جائے کہ جائیں آپ کا ووٹ ہو چکا اور کہنے والوں کے لہجے آپکو اور بھی بہت کچھ سمجھا رہے ہوں تو کہاں سے لائیں ہم تبدیلی؟؟؟

 

میں یہ سوچنے لگی کہ واقعی اور الیکشن کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک “ووٹ دو یا جان دو” کا فارمولا ختم نہیں کیا جائے گا۔ بہرحال میں انہیں موجودہ اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر جناب جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کے الیکشن کمیشن کا چارج لینے کے بعد انتخابی فہرستوں میں درستگی اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے حوالے سے کام میں جو تیزی آئی ہے جو ہر لحاظ سے احسن اقدام ہے آگاہی دینے لگی اس خیال سے کہ مایوسی کی فضا کچھ کم ہو مگر یہاں تو لوگ مجھ سے ذیادہ جاننے والے بیٹھے تھے۔

ایک اور سوال اٹھا وہ جو ایک گھر میں 633 ووٹوں والی کہانی پر بھی ذرا روشنی ڈال دیں میں نے ماحول کو خوشگوار بناتے ہوئے کہا ارے آپ لوگ نہیں جانتے اب کراچی پر بھوتوں کا قبضہ ہے صرف ایک گھر نہیں اب ایک ہوٹل کے بارے میں بھی یہ راز کھلا ہے کہ جہاں سے 180 ووٹوں کا اندراج ہوا ہے اور نجانے کتنے تو ایسے ہیں جن کے بارے میں اب تک کوئی نہیں جانتا تو غضب خدا کا کیا کیا سنیں گے یہ بیچارے کان اور کتنی بار آنکھیں بند کر کے خبریں پڑھوں کہ اب ووٹر لسٹیں بھی اپنے ہاتھوں سے اپنی من چاہی جگہوں پر۔۔۔

یعنی ووٹر لسٹیں نا ہوئی پہلی جماعت کے بچوں کی کاپیاں ہوگئیں جو مزے سے گھر لےجاکر چیک کرلیں اور اپنی مرضی سے جس پر چاہے جتنے نمبر لگادیے “اندھیر نگری چوپٹ راج” مگرخیر آپ لوگ پریشان نا ہوں جنّات قابو کیے جانے کی کوششیں جاری ہیں اللہ پاک حیاتی دے اپنے چیف جسٹس صاحب کو اور حوصلہ بھی کہ اس بار لگتا ہے انھوں نے لاتوں کا بھی انتظام کیا ہوا ہے بھوتوں کو بھگانے کے لیے اور نئی حلقہ بندیاں، اور گھر گھر جا کر ووٹوں کی تصدیق اسی کی طرف ایک قدم ہے (اب بھوت انکل چاہے اس پر کتنا ہی مچلیں) انشاء اللہ اس بار کراچی کو بھوتوں سے پاک بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدام نتیجہ خیز ثابت ہونگے۔

میرے اس تبصرے نے وہاں ماحول کو خوش گوار اور ناامیدی کی فضا کو تویقینا کچھ تو کم کیا مگر بہرحال آج کے سوالات، ہر ایک کے چہرے سے ٹپکتی (چاہنے کے باوجود کچھ نہ کرسکنے پر) بے بسی، خوف اور فکر نےمیرے لیے سوچوں کے کئی در کھول دیے تھے جن کے جواب مجھ سمیت ہر شخص چاہتا ہے۔

 

جو لوگ سب بھانڈا پھوٹ جانے کے بعد “جلے پیر کی بلی” کی مانند بےکل ہوئے جارہے ہیں کیا وہ یہ سب اتنی آسانی سے ممکن ہونے دینگے؟ اور میں دعا کرنے لگی کہ خدا کرے آنے والا وقت مزید کوئی تباہی نہ لیکرآئے کہ یہ شہر لہو کی بہت بھینٹ چڑھا چکا اب سکت نہیں۔

خدا کرے کہ یہ الیکشن خونی الیکشن نہ ہو ۔

آمین!!!

اللہ کو یہی منظور تھا


یکے بعد دیگرے کئی دردناک مضامین لکھتے لکھتے آج میرا قلم بھی سراپا احتجاج تھا جس نے ابھی نیا نیا چلنا ہی سیکھا تھا کہ اتنے تکلیف دہ مناظرکو قلم بند کرنا یقینا اس کے حوصلے کا امتحان تھا مگر میں کیا کروں کہ۔

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں اویس

کہاں سے لاوٴں خوشیوں کے ترانے ؟ جب کہ ہر طرف ایک یا سیت کی فضا سی پھیلی ہوئی ہے جس سمت دیکھو بے حسی اپنی ڈیرے جماےٴ بیٹھی ہے۔

ایسی ہی  اجتماعی بےحسی کی بھینٹ چڑھنے والا اویس بیگ نامی نوجوان جس نے   2009 میں کراچی یونیورسٹی سے بی کام کے امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی اور ایم بی اے کرنے کی خواہش رکھتا تھا ۔ اویس بیگ 3 بھائیوں اور3 بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھا والد پرائیوٹ فیکٹری میں ملازمت کرتے ہیں جو کہ اکثر بیمار بھی رہتے ہیں۔ اویس بیگ کی فیس بک میں ایک البم کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ سیلاب ذدگان کی مدد کی لیے سامان جمع کرتا رہا اور پھر ان علاقوں میں خود بھی گیا۔ کہیں دواوٴں کے کرٹن پہنچاےٴ تو کہیں کھانا اور ضروریات زندگی کا سامان پہنچاتا یہ نوجوان جو کسی این جی او سے بھی تعلق نہیں رکھتا تھا صرف اپنے جذبہ مسلمانی کی تڑپ نے اس سے یہ سب کام کروایا جو آج کی برق رفتار زندگی میں انتہائی مشکل امر ہے۔

یہ نو جوان جو چند دن پہلے تک گمنام تھا جسے اسکی موت نے نام دیا۔۔۔

آہ …!!

مگر یہ کیسا نام تھا جس نے ہر شخص کو دکھی کر دیا یوں تو اس شہر میں موت اب بہت سستی ہے مگر ایسی اندوہناک موت..!!

وہ بھی اتنےبڑے  مجمعے کی آنکھوں کے سامنے بے بسی سے تڑپ تڑپ کر جان دے دینا من حیث القوم ہماری بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

جس وقت عمارت میں آگ بھڑکی اویس جو کہ ملازمت کیلیے فائنل انٹرویو دینے آیا تھا۔ جیسے ہی عمارت میں آگ لگنے کا شور مچا تو پوری عمارت کی بجلی بند کر دی گئی اور عمارت میں ہر جانب دھواں ہی دھواں بھر گیا۔ اویس نے آٹھویں منزل کی کھڑکی کے روشن دان سے خود کوباہر نکلا اور ہاتھوں کی مدد سے لٹک گیا تاہم زیادہ دیر تک وہ اس پوزیشن میں نہیں رہ سکا اور ہاتھ چھوٹ جانے کے باعث بلندی سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو کر خالق حقیقی سے جا ملا۔۔۔

چار جملوں میں سماجانے والا یہ قصہ بس اتنا ہی نہیں تھا بلکہ اس قصہ نے جن بھیانک رویوں کو برہنہ کر دیا مجھےآج بس ان رویوں کی بات کرنی ہے۔ سینکڑوں کے اس مجمعے میں جس طرح کے رویے دیکھنے کو ملے ان میں ایک ان لوگوں کا رویہ  جو اپنے چینل کے لئیے انہونی خبریں دکھا کر ﴿سب سے پہلے ہم کی دوڑ جیتنے کی فکر میں لگے رہے﴾ اگر اویس اتنی دیر اس کھڑکی سے لٹکا رہا کہ ٹی وی چینلز اپنی لائیو کوریج دکھانے کے لیے پہنچ چکے تھے  تو کیا اسکو بچانے کے لیے کوئی اقدام اٹھانے والا کوئی نہیں آسکا؟
اویس تڑپتا رہا اور لوگ اپنے موبائل سے اسکی ویڈیو اور تصویریں بناتے رہے۔۔۔

آہ۔۔۔

بس ایک بات کا جواب اگر مل جاےٴ کہ اگر اویس ان میں سے کسی کا اپنا بھائی یا جگر کا ٹکڑا ہوتا تب بھی کیا اسی طرح کا رویہ ہوتا؟؟؟

شائدعلامہ اقبال ایسے وقت کے لیے کہہ گئے

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اسی ہولناک منظر کو دیکھتے ہوےٴ میرے ذہن میں ایک سوال  ابھرا کہ اگر یہی واقعہ امریکہ یا یورب کے کسی ملک میں پیش آتا تو کیا صورتحال ایسی ہی ہوتی؟ مگر  مجھے فوراً ہی خود کو جھٹلانا پڑا کہ ہرگز نہیں کیونکہ میں کافی عرصہ پہلے ریسکیو 911کے نام سے دکھایا جانے والا ایک پروگرام بہت شوق سے دیکھا کرتی تھی جس میں اسی طرح کے انہونے واقعات اور ان میں ریسکیو کے لیے جانے والی ٹیم کی کوششیں جن میں اکثر ناممکن کو ممکن بنا دیا جاتا تھا اور انسانی جان تو کیا وہ ایک جانور کی جان بچانے کے لیے بھی اتنی ہی تگ و دو کرتے نظر آتے اور اکثر کامیاب بھی رہتے کیوں کہ وہ لوگ صرف آسمان کی طرف دیکھ کر آنکھیں بند کرنے کے بجاےٴ اپنی تمام تر توجہ مسئلے کا حل نکالنے پر مرکوز رکھتے ہیں۔

میں یہ سوچنے لگی کہ جب ہماری قوم مغرب کی اتباع کرنے میں اسقدر اندھی نظر آتی کہ اپنے کپڑے اتارنے سے لیکر ہم جنس پرستی کے مذاکرے جیسے شرمناک عمل سے بھی نہیں گریز کر رہی اور اپنی تمام اخلاقی اور مذہبی اقدار کو خدا حافظ کہنے پر تلی ہوئی ہے اسے ان قوموں کے یہ پہلو کیوں نہیں دکھائی دیتے؟ ان سے یہ سب کیوں نہیں سیکھتے؟ کیوں ہم یا تو تماشائی بنے ہوتے ہیں یا سب اﷲ پر چھوڑکر فارغ ہوجاتے ہیں؟ اور ہمارے اسی رویے نے ایک معصوم انسان کی جان لے لی ایکٴ ماں سے ﴿جو  بیٹے کی نوکری  لگ جانے کی آس لگاےٴبیٹھی تھی﴾ اسکے جوان لعل کو چھین لیا۔ کوئی پوچھے اس ماں کے چھلنی کلیجے سے بیٹا کیسے جوان ہوتا ہے۔۔۔ ایک باپ کا بڑھاپے کا سہارا چھین لیا، بہنوں کی آ نکھوں میں سجی خوشیاں چھین لیں۔۔۔

بہت سے لوگ یہ کہہ کر فارغ ہوجاتے ہیں کہ اﷲ کو یہی منظور تھا۔۔۔

مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا ہم اپنی ہر ناکامی کو اﷲ کے کھاتے میں ڈال کر اسقدر مطمئن کیوں ہو جاتے ہیں؟ دراصل یہی ہمارے زوال کی وجہ ہے۔ نقصانات سے انسان سبق حاصل کرتا ہے مگر ہمارا یہ اطمنان ہمیں اسی سوراخ سے دوبارہ ڈسوانے کے لیے  پھر تیار کردیتا ہے۔

یا د رکھیے دعائیں بھی تب اثر کرتیں ہیں جب ان کے ساتھ کچھ دوا بھی کی جاےٴ ورنہ آپ اپنے سامنے کھانا رکھ کرچلہ کاٹنے بیٹھ جائیں یا اعتکاف میں بیٹھ جائیں کہ اب یہ کھانا اس چلے یا اعتکاف کی برکت سے آپ کے پیٹ میں خود بخود چلا جاےٴ گا تو آپ ایسے لاکھوں چلے کاٹ لیں یا قیامت تک اعتکاف میں بیٹھیں رہیں کھانا آپ کے پیٹ میں تب ہی جاےٴ گا جب آپ خود اسکو کھانے کے لیے اپنے ہاتھوں کو زحمت دینگے اور یقین جانیے کہ حالات تب تک نہیں بدلیں گے جب تک ہم آسمان کی طرف دیکھ کر بس فارغ ہو جا نے کے بجاےٴ خود مسائل سے نکلنے کا حل تلاش کرنے کی فکر نہیں کرینگے۔

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی


cng

ایک دو تین چار ۔۔۔۔۔۔۔ دس۔۔ پندرہ۔۔ بیس۔۔ تیس۔۔۔۔پچاس۔۔۔۔ سو۔۔۔۔۔!

نہیں آپ ہر گز یہ نا سمجھیں کہ میں نے ابھی نئی نئی گنتی سیکھی ہے اور آپکو سنانے لگی ہوں….. نہیں ۔

بلکہ یہ تو وہ گنتی ہے جو آج مجھ سمیت اس قوم کے ہر فرد کو گنوائی جارہی ہے ۔۔۔۔ یہ گنتی میں نے کب گنی؟

گاڑیوں اور بسوں کی ایک لمبی نا ختم ہونے والی قطار… مگر وہاں دور تک کوئی جلسہ جلوس یا کوئی شادی کی تقریب کچھ بھی تو نہ تھا اسی معمہ کو حل کرنے کی فکر میں تھی کہ ھماری گاڑی کچھ اورآگے کو بڑھی تب یہ راز کھلا کہ یہ تو ایک سی این جی پیٹرول پمپ ہے جس پر گاڑیوں اور بسوں کی الگ الگ لائن لگی ہوئی ھے میری نظر سب سے آخری گاڑی کے اندر بیٹھے ہوےٴ شخص کے چہرے پر پڑی، اپنے آگے چونتیس گاڑیوں کو دیکھ کر اسکے چہرے سے ٹپکتی بے بسی اور جھنجھلاہٹ کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا تھا مگر دیکھتا کون؟ کہ وہاں تو ہر ایک کا یہی حال تھا۔ میں سوچنے لگی اسکی باری کم ازکم تین گھنٹے سے پہلے تو نہیں آےٴ گی۔

میں اسی سوچ میں گم اپنے برابر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے صاحب سے مخاطب ہوئی ﴿جو کہ رشتے میں میرے شوہر نامدار ہیں﴾ کہ صاحب یہ بتائیں کہ یہ لوگ یہاں اتنی لمبی لمبی لائنوں میں لگے صرف ایک سی این جی کے لیے ﴿جو عام روٹین میں شائد پانچ سے دس منٹ کا بھی کام نہیں مگر اہم اتنا کہ اس کے بغیر آپ ایک قدم بھی گاڑی آگے نہیں بڑھا سکتے﴾ جب یہ یہاں سے فارغ ہو کر لوٹیں گے تو کیا یہ قابل ہوگے کہ یہ اس بات پر کوئی دھیان دے سکے کہ ملک میں آج مزید کس کس چیز پر پابندی لگا دی گئی ہے، بجلی کے نرخوں میں مزید کتنا اضافہ ہوچکا ہے ،اور یہ کہ آج پڑوس میں کس کو ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا یا آج کہاں کہاں بم دھماکہ ہوا؟؟؟
اپنے ان گھنٹوں کے ضائع ہوجانے ، اپنے نجانے کتنے ہی اہم کاموں کا حرج ہوجانے، آفس میں باس کی ڈانٹ کھانے کے بعد کیا انکے اعصاب اس قابل ہوں گے کہ وہ خود پر ہی ہونے والی ان زیادتیوں پر کوئی احتجاج کر سکیں کوئی آوز اٹھا سکیں؟؟؟
ہر گز نہیں وہ تو اپنی ذندگی کی ان مصیبتوں سے ہی نہیں نکل پائیں گے جو ” باقائدہ پلاننگ کے ساتھ ان پر مسلط کر دی گئی ہیں” تاکہ وہ اس کے آگے کچھ سوچ ہی نا پائیں کہ انھوں نے کل پھر اسی طرح کسی سی این جی پمپ کی لائن میں لگنا ہے اور اس سے اگلے دن سی این جی کی چھٹی کی وجہ سے بچوں کی اسکول کی وین نہیں آےٴ گی اسلیے انکو بھی اسکول چھوڑنے اور لانے کی ڈیوٹی نبھانی ہے۔ ویسے تو چھٹی کس کو بری لگتی ہے مگر مجھے آج تک اس چھٹی کی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ سمجھ تو اور بھی بہت سی باتوں کی نہیں آئی مگر بہر حال جو بھی ہے مجھے اس قوم کو ایک بعد ایک مسلہٴ میں الجھاےٴ رکھنے والوں کو انکی ذہانت کی داد دینے پڑتی ہے۔
مجھے اس وقت ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو میں نے شائد کہیں پڑھا تھا کہ ایک صاحب نے اپنے دوست سے اپنے چھوٹے بیٹے کی شرارتوں کی شکایت کی وہ کسی لمحہ چین سے نہیں بیٹھتا تھا کوئی نا کوئی نئی حرکت پورے گھر کو ہلاےٴ رکھتی ہے دوست مسکراےٴ اور کہا اسے کچھ اسطرح مصروف رکھیں کہ اسے ان شرارتوں کے لیے وقت ہی نا مل سکے، اتنا کہہ کر انہوں نے خود ہی مشورہ بھی دے دیا کہ آپ کل سے اسے اپنے بڑے بھائی کی پینٹ پہنادیں آپکا مسئلہ حل۔۔۔ صاحب بڑے حیران۔۔۔ خیر دوسرے دن انھوں نے یہی کیا اور وہ مزید حیران ہوئے اس وقت کہ واقعی بچے کی سب شرارتیں ختم تھیں۔۔۔
اس قوم کے ساتھ بھی آج کل صاحب اقتدار ایسا ہی کچھ کر رہے ہیں۔۔۔
آپ کہیں گے کہ اب اتنے مصائب کی چکی میں پسی ہوئی قوم جسکو کوئی راہ نہیں سجھائی دے رہی وہ ان سے نکلے کیسے؟
تو واقعی آپکا سوال بجا ہیکہ حالات چاہےکتنے بھی خراب کیوں نہ ہوں ان سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ تو لازمی ہونا ہی چاھیے مگریہاں سب سے اہم بات یہ کے کیا ہم اب بھی اپنے ساتھ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی اس غفلت کی نیند سے جاگنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں﴿ جس میں پڑے ہونے کی وجہ سے ہی آج یہ نوبت آ ئی ﴾ مانا کہ یہ سب حقیقت میں اتنا آسان بھی نہیں مگر آپ یقنا یہ بھی جانتے ہونگے کہ سوئی ہوئی قومیں جب ایک بڑی نیند لیکر بیدار ہوتیں ہیں تو انھیں اس کا کفارہ بھی بڑاہی ادا کرنا پڑتا ہے اور صورتحال آر یا پار کی سی ہوتی ھے جیسے ریسلینگ کے دوران رنگ میں زمین پر پڑا وہ ریسلر جو اپنے مخالف کے مکمل قابو میں ہونے کے باوجود آخری لمحات میں خود کو مخالف کے بازوں سے نکانے کی لیے اپنی پوری قوت جمع کر کے آخری زور ضرور لگاتا ہے اور اکثر کامیاب بھی رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ آخری چانس ہے اسکے بعد اسے یہ موقع کم از کم اس میچ میں تو نہیں مل سکے گا۔۔۔تو بس یہ سمجھ لیں کہ اس قوم کے پاس بھی خود کو ان خونخوار پنجوں سے نکانے کا وقت آیا ہی جاتا ہے جنھوں نے اس پر ذندگی اور موت دونوں ہی تنگ کر دی اب دیکھنا یہ ہیکہ کیا اب بھی یہ اپنی تقدیر بدلنے کے اپنا آخری زور لگانے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟؟؟

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی
ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے

اگرآپکا جواب ہاں میں ہے تو پیشگی مبارکباد قبول کیجے!

کہ چلو ۔۔ دیر آےٴ درست آےٴ

اور اگر آپکا ابھی مزید سونے کا اردہ ہے تو بس پھر رونا دھونا چھوڑیے اور خود کو کل آٹے دال اور پانی کی قطاروں کے لیے خود کو تیار کیجے کیونکہ بخدا کہ جو قومیں اپنا مقدر خود بدلنے کی اہلیت نہیں رکھتیں بس پھر وہ اسی طرح کبھی سی این جی کی چھٹی اور موبائل سروس بند ہونےکی، تو کبھی موٹر سائیکل کی سنگل سواری پر بھی پابندی جیسی خبریں ہی سنا اور سہا کرتیں ہیں۔

%d bloggers like this: