Tag Archives: مشرف

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا


 لہجہ

ایک خبر تھی جو جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل رہی تھی اور آخر کیوں نہ پھیلتی  کہ ایک جرنیل کمرہ عدالت سے  فرار ہوا تھا کوئی معولی بات نہیں تھی مگر یہ فرار کب تک ۔۔!!

جرم کوئی چھوٹے تو نہیں تھے جنہیں فراموش کر دیا جاتا جرنیل صاحب اگر یہ سوچ کر آئے تھے کہ زرداری کی ڈسی ہوئی  یہ قوم ان  کو پھولوں کے ہار پہنائے گی تو یہ بہت بڑی بھول تھی مانا کہ یہ قوم ایک بڑی لمبی نیند سوئی ہے مگر ابھی یہ مردہ نہیں ہو ئی اور جہاں زندگی کی ذرا سی بھی رمق باقی وہاں امیدیں قائم رہتی ہیں پھر یہ قوم اتنا شعور تو رکھتی کہ زرداری بھی آپ ہی کے دیے گئے تحفوں میں سے ( این آر او کی شکل میں دیا گیا) ایک تحفہ ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک طرف میں اس بریکنگ نیوز کے کو سن رہی تھی تو دوسری جانب قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ قیدی نمبر 650 کی دلخراش چیخیں صرف میرے کانوں سے ہی آر پار نہیں ہو رہیں بلکہ میرے کلیجے کو بھی چھلنی کیے دے رہی ہیں کتنے ہی معصوم چہرے تھے میری نگاہوں کے سامنے جنہیں یتیم بنا دیا گیا تھا  ، روتی ہوئی ماوں کے کتنے ہی لعل چھین کر انکی گودیں ویران کردی گئیں تھیں ۔۔۔ اپنے شوہروں کی واپسی آس لگائے کتنی سہاگنوں آج بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا لاڈلی بہنیں جو بھائیوں کے گلے کا ہار ہوا کرتیں تھیں مگر آج ان آنکھوں میں اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ ان سن کی خوشیاں تو ڈالروں کے عوض بیچ دی گئیں تھیں اور بیچنے والے نے بڑی رعونت سے اقرار کیا کہ ہم نے ڈالر لیے ہیں ایس ہی حوالے نہیں کیا گیا ۔۔آہ ۔۔ کیسا شرمناک اقرار تھا اپنے جرموں کا وہ بھی بغیر کسی احساس جرم کہ ۔۔۔!!

مجھے لگ رہا تھا اس خبر کے ساتھ ہی میرے جیسے کتنے ہی ایسے ہونگے جنہیں یہ محسوس ہوا ہوگا کہ ان کے زخموں سے کھرنڈ جیسے کسی نے نوچ ڈالے ہوں اور یہ زخم پھر سے تازہ ہو کر رسنے لگے ۔۔۔ زخم تو معمولی سا بھی ہو تو برسوں نہیں بھرتا یہ تو پھر روح پر لگنے والے زخم تھے یہ بھلا کیسے بھر جاتے ۔۔۔۔!!

"جامعہ حفصہ "ایک اور ٹھیس اٹھی تھی  زخموں سے ۔۔۔۔۔ یہ کسی ٹی وی چینل سے دکھایا جانے والا ایک پروگرام تھا ۔۔۔۔۔۔ جلی ہوئی ہڈیاں اور بال تھے جلے ہوئے اور خون میں لت پت آنچل تھے جو ایک ڈھیر کی صورت میں ملک کے دارلخلافے میں ہونے والے ظلم کی داستانیں سنا رہے تھے اس ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے بوڑھے ماں باپ اپنی بیٹیوں کی جلی ہوئی ہڈیاں تلاش کررہے تھے گم سے نڈھال آنکھوں سے عیاں ہوتا درد ، آسمان کی طرف اٹھتے ہاتھوں کو دیکھ میں لرز گئی کیسے ان مظلوموں کی آہیں رائیگاں جائینگی کہ مظلوموں کی آہیں تو عرش کا کلیجہ چیر دیا کرتیں ہیں ۔۔۔۔؟؟؟

اپنے ہی گھر میں اپنوں کی ہی مسلط کردہ جنگ ۔۔۔۔۔۔ {جن کا جُرم تو صرف اتنا تھا کہ وہ معاشرے سے بد کاری کے خاتمے کا عزم لئے۔باہر نکلیں اور ایک قحبہ خانہ چلاتی عورت کو سبق سکھانے اپنے ساتھ لے آئیں اور دو تین روز بعد اُسے برقعہ پہنا کر۔۔۔توبہ کروا کے چھوڑ دیا۔۔!! پھر ایک مالش کے مرکزپر جا پہنچیں اور وہاں جسم فروشی کرتی خواتین کو اپنے ہمراہ لا کر خوب جھاڑ پلائی۔۔۔اور پھر نصیحت کے بعد روانہ کر دیا!!ڈنڈے لے کر گھومتیں مگر کسی کا سر تو نہ پھاڑا!! اُس وطنِ عزیز میں جہاں حکمرانوں اور طاقتوروں میں سے ہر دوسری شخصیت کسی لینڈ مافیا سے وابستہ ہے۔}”شاہد مسعود "

یہ ایسا تو جرم نہیں تھا کہ جس کے بدلے میں کئی دن بجلی پانی بند کرنے کے بعد ان پر جنگ مسلط کر دی جاتی۔۔  { وہ عسکری کارروائی شروع ہو گئی جس کی قوت کے بارے میں، موقع پر موجود ایک سرکاری افسرکا بیان تھا "لگتا ہے پوری بھارتی فوج نے چھوٹے ملک بھوٹان پر چڑھائی کر دی ہے” فائرنگ ۔۔دھماکے ۔۔گولہ باری ۔۔شیلنگ ۔۔جاسوس طیارے ۔۔گن شپ ہیلی کاپٹرز۔۔۔خُدا جانے کیا کچھ !! } "شاہد مسعود ”

مجھے آج بھی یاد ہے سید محمد بلال اور خواتین کا ایک گروپ ڈاکٹر کوثر فردوس ،سمیعہ راحیل کی قیادت میں ان بے بس بچیوں کے لیے راشن اور دوائیں لے جانے کے لیے گولیوں کی گھن گرج میں وہاں منتیں کرتا رہا کہ ان کے پاس صرف کھانا اور دوائیں ہیں انہیں اندرجانے دیاجائے ۔۔۔۔۔ اس ظلم و بر بر یت کی داستاں غم سمیعہ راحیل کی اپنی زبانی جس نے جہاں ہر ایک کی اصلیت کو ظاہر کیا وہیں ہر آنکھ کو اشک بار کردیا

S14S15

S16S17

ایک طرف یہ عالم تو دوسری جانب وہاں موجود سیاستدان جو نام نہاد مصالحتوں کے دعوے دار تھے رات کو دوکانیں کھلوا کر فالودے اور آئس کریمیں کھاتے رہے  ۔۔۔۔۔

ایسا بھیانک سلوک تو کوئی اپنے خطرناک اور بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی کرتے ہوئے کئی ہزار بار سوچتا مگر یہ میرے ہی ملک کے فوجی جوان تھے جو جراتوں کے نشان ہوا کرتے تھے یہ وہی قاسم کے بیٹے تھے جنہیں بہن کی آبرو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی تھی  ۔۔۔ مگر ایک فرعون کے اشارے پر یہ کیا کچھ کر گزرے کہ

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہودو ہنود

درندہ تھا کہ انسان میں آج تک اس سوال کا جواب تلاش نہیں کرپائی ..

ابھی کچھ دنوں پہلے ہی چودھری شجاعت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے مشرف کو بہت سمجھایا کہ جامعہ حفصہ میں یہ سب نہ کیا جائے مگر وہ اس وقت طاقت کے نشہ میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی طاقت کا نشہ ہے جو ایک انسان کو فرعون بنا دیتا ہے جس کے سامنے ڈالروں کی اہمیت انسانی جانوں سے بھی کئی گناہ زیادہ ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔ مشرف کا اس پاکستان کو ایک اور تحفہ ڈرون حملوں کی شکل میں ملا جس کے نتیجے میں ہنستے بستے گھروں کے گھر اور بستیوں کی بستیاں راکھ کے ڈھیر بنا ئے جارہے ہیں اور ستم یہ کہ ان پر رونے والا اور اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ۔۔۔۔

مشرف کی واپسی کو ئی حادثاتی یا ایک جرنیل کی بہادری کا نتیجہ نہیں جیسا کہ کراچی ائیر پورٹ پر پہنچتے ہی مشرف نے یہ نعرہ لگایا کہ دیکھ لو میں آگیا لوگ کہتے تھے میں نہیں آونگا ۔۔۔۔۔۔۔ جس لمحے یہ سب دیکھ رہی میرا جی چاہا تھا کہ کاش میں مشرف کو یہ بتا سکتی کہ مشرف صاحب آپ آئے نہیں ہیں لائے گئے ہیں ۔۔۔۔۔ میرا یقین کامل تھا کہ میرا رب آپ کو ضرور لائے گا وہ کیسے یونہی آپ کو چھوڑ دے گا ابھی تو بہت سے قرض ہیں جو آپ نے چکانے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیسے رائیگاں جائیگا اتنی معصوم جانوں کا بے دردی سے بہایا گیا لہو کہ اگر ان سب کا لہو ایک جگہ جمع کیا جائے اور جرنیل صاحب آپ کو آپکی وردی سمیت اس میں کھڑا کیا جائے تو آپ کی پور پور اس میں ڈوب جائےگی ۔۔۔۔ کیسے نہ لاتا وہ رب آپ کو واپس ۔۔۔۔۔؟؟

اپنے آقاوں کو خوش کرنے میں آپ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ جس نے آواز اٹھائی وہی مجرم ٹھرا اور قابل سزا قرار دیا کسی کے نصیب میں جیلیں آئیِں تو کسی کو اگلے دن کا سورج بھی نصیب نہ ہوسکا اس قوم کو آج بھی وہ لہجہ نہیں بھولا ہوگا جب نواب اکبر خان بگٹی کو للکارتے ہوئے کہا گیا تھا “ یہ 77 کا عشرہ نہیں کہ یہ پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی” ۔۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ جن کو خوش کرنے کے لیے عزت مآب پاک دامن بیٹیوں سے لیکر ماوں کی گودوں تک کا سودا کر دینے، اپنے ہی ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں رہن رکھ دینے کے باوجود وہ دشمن تو آج بھی دشمن ہی رہا ۔۔۔۔

کیونکہ رب اعلیٰ نے تو یہ بات کھول کر بیان کر دی تھی ’’یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔

آج اسی طاقت کے نشہ میں چور شخص کا عدالت سے یوں فرار ثابت کرتا ہے کہ بے شک رب کے ہاں مکافات عمل کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے جو لوگ دوسروں کی عبرت سے نصیحت نہیں حاصل کرتے اور خود کو زمین کا خدا سمجھ بیٹھتے ہیں تاریغ بتاتی ہے کہ  پھر قدرت انہیں نمونہ عبرت بنا دیتی ہے  ۔۔۔!!

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

وہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجہ میں

آنے والے دنوں میں مشرف کے ساتھ جو بھی ہونے والا مگر ایک سوال جو مجھے رہ رہ کر ستا رہا ہے وہ یہ کہ بے شک جرنیل مشرف ایک ڈکٹیٹر ایک ظالم اور جو بھی کہہ لیں اور جتنے بھی جرائم اس نے کیے جن کی ایک لمبی فہرست یقیننااس قوم کی یاداشتوں میں ثبت ہوگی مگر سوچیے کیا ان سب جرائم میں ایک اکیلا مشرف ہی ذمہ دار تھا یا ایک پورا ٹولہ جو کل مشرف کے ساتھ تھا جس ٹولے نے ایک ظالم کے ظلم پر صحیح کی مہر ثبت کی وہ ٹولہ آج کہاں ہے ؟ ؟؟

یہ سوال بہت اہم ہے قوم اگر مشرف کا انجام دیکھنے کی خواہش مند ہے اور تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ کل کے مشرفی آج کے تحریکی اور لیگی اور عوامی کی ٹوپیاں پہنے یہ وہی سب ہیں جنہوں ایک ڈکٹیٹر کو اسکے عزائم میں کامیاب ہونے کا پورا پورا موقع فراہم کیا ۔۔۔۔۔ اور آج ایک بار پھر وہ کسی اور چھتری تلے عوام کو پھر سے بے وقوف بنانے چلے مگر کیا دکھوں کی ماری عوام ایک بار  پھر یہ دھوکہ برداشت کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے ۔۔۔؟؟؟؟؟؟ سوچیے اور پہچانیے  آپ کی اپنی صفوں میں چھپے ان بھیڑیوں کو ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ پہچاننے کی مہلت بھی ختم ہو جائے ۔۔!!

پاکستان کے ” گونتانامو بے” کی تلخ حقیقتیں ..!!


q2

ابھی تو دل اس قیامت پر ہی نوحہ کناں تھا جو کوئٹہ میں آٹھ سو سے ایک ہزار کلو بارود کے دھماکہ کے نتیجے میں برپا ہوئی اورکتنی ہی انسانی جانیں لمحوں لقمہ اجل بن گئیں اور  اسی آگ نے پورے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا دو دن ہوچکے تھے اپنے ہی ملک اپنے ہی شہر میں محسور بےبسی کی تصویر بنے صرف خبریں سنتے رہے کہ اب فلاں جگہ آگ لگادی گئی اب تک اتنے لوگوں کو مارا جا چکا ہے کسی چینل پر فریاد کرتی سسکتی ہوئی وہ معصوم بچی جو پوچھ رہی تھی کہ ہمیں کیوں مار رہے ہیں ؟؟ مجھے لگا جیسے اس رب کا دربار لگا ہوا ہے اور حساب کتاب کا دفتر کھلا ہے اور زندہ گاڑی ہو ئی بچی سے پوچھا جا رہا ہے وہ کس جرم میں ماری گئی ۔۔۔۔ ؟ 

یقننا یہ بھی اک دن ہونا ہے اور یہی وہ دن ہوگا جب کوئی جابر اور ظالم نہیں بچ سکے گا آج سب کے قرض چکا دیے جائیں گے ۔۔۔۔

میری طرح نجانے کتنے ہی لوگوں کو اس بچی کے آنسووں سے پوچھے گئے سوالوں نے سونے نہیں دیا ہوگا مگر ان سوالوں کے جواب کہاں سے لائیں ؟؟

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں  دستانے

ابھی تو  میں خود کو اسی دکھ اور سوچ سے نکال نہیں پارہی تھی کہ یہ کیا تھا جو میری آنکھوں نے دیکھا اور پڑھا ۔

یہ ایک آب بیتی تھی کوئٹہ ڈگری کالج کے سابق طالبِ علم انتیس سالہ نصراللہ بنگلزئی اور اسکے گم شدہ چچا علی اصغر بنگلزئی کی جو نصراللہ بنگلز ئی کی اپنی زبانی ہے "

اس کہانی نے اس ملک کے ٹھیکیداروں کے اصلی چہروں کو سرعام بے نقاب کردیا ۔

جوں جوں میں ظلم و بے حسی کی اس داستاں کو پڑھتی جارہی تھی میری حالت غیر ہوتی جارہی تھی میری کیفیت ایسی تھی کہ گویا جیسے میرے جسم میں جاں نہ رہی ہو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس داستان میں بیان کیا گیا درد میری روح تک کو زخمی کر گیا کئی بار میری انکھوں سے بہتے ہوئے آنسووں نے مجھے آگے پڑھنے سے روک دیا اوراحتجاجا میری راہ میں حائل ہوگئے تھے ہر لفظ دھندلا رہا تھا بڑی مشکل سے میں یہ پوری داستاں پڑھ سکی خود سے ایک جنگ کر کے ۔۔۔ صرف اس لیے کہ مجھے بھی اس کا قرض ا تارنا تھا اپنے قلم کے ذریعے ۔

یہ مراد کرناز کی وہ داستاں نہیں جو انہوں نے گوانتانامو بے میں ظلم و ستم کے 5 سال گزارنے کے بعد لکھی تھی نہ ہی یہ معظم بیگ کی درد بھری روداد ہے یہ 40 سالہ افغان باشندے عبدالرحیم کی آب بیتی بھی نہیں ہے جس نے گوانتا نامو بے میں اذیّت ناک 3 سال گزارے جی ہاں یہ قیدی نمبر چھ سو پچاس کی چیخوں سے گونجتی وہ اذیت ناک کتاب بھی نہیں جسے لکھنے والوں نے آنسووں سے لکھا تو پڑھنے والوں نے سسکیوں سے پڑھا نہ یہ ہی کسی ایسے قیدی کی کہانی تھِی جو غیروں کے ہاتھوںظلم کا نشان بنا ہو { اگرچہ ان سب کے پیچھے بھی انہیں اپنوں کی بڑی مہربانیاں شامل ہیں }

جی ہا ں اگر سن سکتے ہیں تو سنیے یہ آپ کے اور میرے محب وطن سالاروں اور محافظوں کے اپنے بنائے ہوئے گوانتاناموبے کی دردناک کہانی ہے جو خود کو اس زمین کا خدا سمجھتے ہی نہیں بلکہ فرعون کی طرح دوسروں کو بھی یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بس جو ہم ہیں وہ کوئی اور نہیں اور یہ کہ ہمارا ایک عام سا افسر بھی اس ملک خداد کے اعلیٰ ترین رتبے پر پر فائز ہے کہ جسے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا وہ اس ملک کے سیاہ سفید کا مالک وہ جب چاہے جس کے گھر کا چاہے چراغ گل کردے اسکے کارڈ پر لکھے تین ایلفابیٹ اس کو اسکے ہر عمل کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں ۔

آج” لاپتہ افراد ” کی اصطلاح سے کون ہے جو واقف نہیں ہوگا ۔۔؟ یہ تو اس بدنصیب ملک کی مشہور ترین اصطلاحات میں سے ایک ہے ۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ کس قدر کرب پنہاں ہے ان دو لفظوں میں اس کرب کی شدت اگر محسوس کرنا چاہیں تو جائیں کسی روز عافیہ صدیقی کی ماں سے ملیں جو اپنی بیٹی پر دس برس سے ڈھائے جانے والےمظالم کی داستان سن سن کر ایک زندہ لاش نظر آتی ہے ،

عافیہ کے معصوم بچوں سے ملیں جن سے انکی ماں کی شفیق آغوش چھین لی گئی یا پھر آمنہ مسعود جنجوعہ سے ملیں جن کے زندگی کے ساتھی کو لاپتہ کیے بھی اب تو ایک عشرے سے ذیادہ ہو چلا {اور ابھی کچھ دن پہلے یہ خبر بہت ساری خبروں میں دب گئی کہ ڈاکٹر مسعود جنجوعہ کی بوڑھی ماں برسوں سے بیٹے کی راہ تکتے تکے آخر کار رب کے پاس اپنا مقدمہ درج کروانے چلی گئیں مجھے یقین ہے یہ مقدمہ ضرور درج ہوا ہوگا کیوں کہ میرا وہ مہربان رب کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرتا } آمنہ مسعود شاید اپنے گھر پر نہ سہی مگر وہ آپکو کسی جگہ کیمپ میں {سینکڑوں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمرا ہ اپنے پیاروں کا قصور تلاش کرتے ہوئے } مل سکتی ہیں کہ اب ان کی زندگی کا مقصد ہی یہی بن گیا ہے ۔

اور اگر ان دو لفظوں کی اذیت سہنے والوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو جائیں روہیفہ بی بی کی قبر پر جا کر ان کی موت کا سبب پوچھیں  جو ان کی اذیت کو سہہ نہ سکی اور اپنی زندگی کی بازی اس وقت ہار گئی جب ان کے تین بیٹوں عبدالصبور، عبدالماجد اور عبدالباسط میں سے ایک کو مار دیا گیا اور دو کی حالت زار ماں سے دیکھی نہ گئی اور وہ ان الفاظ کے ساتھ اپنے رب کی عدالت میں پیش ہونے چلی گئی کہ ” یہ سب جھوٹ ہے، اللہ کے آگے یہ بھی قسم کھائیں، قیامت والے دن ان کو چھوڑوں گی نہیں، پیروں پیغمروں پر بھی ایسی ہی گذری جیسے ہم پر گذرتی ہے، اللہ ان کو تباہ کرے گا۔میرا بیٹا صبور شہید ہوگیا ، باسط اور ماجد بہت بیمار ہیں‘ گزشتہ سال ستمبر میں اپنے بیٹوں سے حراست کے دوران ملاقات کو یاد کرتے ہویے بی بی نے کہا ’دو کی حالت خراب تھی اور ایک بالکل ٹھیک تھا اور اسی کو انھوں نے شہیدکردیا۔”

یہ بدنصیب ماں کے تینوں بیٹے ان گیارہ افراد میں شامل تھے جن کو اس ملک کے محافظوں نے بغیر کسی ثبوت کے ایک عرصہ دراز تک ذیر حراست رکھا اور جب سپریم کورٹ کے حکم پر رہا کرنا پڑا تو انہیں مئی دو ہزار دس کو راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کے باہر ہی سے سادہ کپٹروں میں ملبوس لوگ اٹھا کر لے گیے تھے” کون نہیں جانتا کہ یہ سادہ کپڑوں ملبوس فرشتے کون ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ان گیا رہ میں سے چار افراد زیر حراست ہی اپنی جان کھو بیٹھے اور مجھے یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیر حراست مرنے والے کیسے مرا کرتے ہیں ۔۔

اور اگر ہمت ہے تو پڑھیں نصراللہ بنگلزئی کی اپنے لاپتہ چچا کی تلاش میں غیروں کے نہیں بلکہ اپنوں کے ہاتھوں اٹھائے گئے ان دکھوں کی درد ناک داستاں جس میں ہر ایک سطر اپنا نوحہ خود سناتی ہوئی نظر آتی ہے ۔۔۔ یہ ایک نصراللہ نہیں یہاں پورے ملک کے کونے کونے میں آپ کو سینکڑوں ایسے نام ملیں گے جن کی دردناک داستانیں پڑھ کر آپ کی راتیں بستر پر کروٹیں بدلتے گزر جائیں گی اور جن کے دکھ آپ کے تکیوں کو بھگو دیں گے جب کارواں اپنے ہی پاسبانوں کے ہاتھوں لٹنے لگیں تو زبانیں نہیں آنکھیں اور دلوں سے نکلی ہوئی آہیں دہائی دیتی ہیں جو رب کے دربار میں کبھِی رائیگاں نہیں جاتیں ۔

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں صدا اپنا ہی خنجر اترا

جب محافظ لٹیرے بن جائیں اور جو جتنا بڑا لٹیرا اور غدار وطن ہو وہ اتنا ہی آقا کا منظور نذر کہلائے گا اور وفاداریاں نبھائے گا اس کے اوپر جانے گے اتنے ہی امکانات بڑھ جائیں گے جس کا منہ بولتا ثبو ت آج ہمارے ایک اہم ادراے کے سربراہ خود ہیں کون نہیں جانتا کہ مشرف کے بھیانک دور میں جب مسلمان ہونا جرم ٹھرا تھا جب ” لاپتہ افراد “ کی ایک نئی اصطلا ح کانوں میں پڑی تھی جب ایک جانب خود اپنے ہی افراد کو چند ڈالرز کے عوض بیچا جا رہا تھا تو دوسری جانب ڈرون حملوں کی اجازت دے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دینے کا پرمٹ دے دیا گیا تھا اور آقا کی خوشنودگی میں کیا کچھ نہ قیامت ڈھائی گئی جس کی دردناک یادیں آج بھی کسی ناسور کی طرح دکھتی ہیں جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو کئی دن بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد ایسے کیمیکل کے ذریعے ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا تھا جس کو خظرناک اور بدترین دشمن پر بھی استعمال کرتے ہوئے سو سو بار سوچا جائے ۔

اس وقت مشرف کے تمام کارناموں میں دائیں بازو کا کردار ادا کرنے والے اور آئی ایس آئی کے چیف یہی موصوف تھے { اور جن کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ ان موصوف نے وہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہےجہاں مشرف کے بھی پر جلتے تھے } جن کے ہاتھوں پر عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر مسعود سمیت سینکڑوں بے گناہوں کا لہو ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان بے قصور لوگوں کا یہ لہو روہیفہ بی بی کے آہیں ، عافیہ کی دلخراش چیخیں ، جامعہ حفصہ کی بچیوں کے جلے ہوئے اعضاء اور علی اصغر کے زخم نصراللہ کے دکھ انکے گلوں کا طوق بنے گے اور ان سب خداوں کو میرا رب عبرت کا نشان بنائے گا کہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں وہ ظالم کی رسی دراز تو کرتا ہے مگر یہ رسی کھینچنے پر آتا ہے تو اک لمحہ نہیں لگاتا اور ہر دور کے فرعونوں اور نمرودوں کا انجام رہتی دینا تک کے لیے ایک عبرت بنا دیتا ہے چاہے وہ صدام حسین کی شکل میں ہو یا قذافی کی صورت میں جو اپنے اسی آقا کے بہت وفادار سمجھے جاتے تھے جنہوں نے ایسے ہی خود کو زمیں کا خدا سمجھ لیا تھا مگر دنیا نے ان کا بھیا نک اور ذلت آمیز انجام دیکھا اور انکی آماجگاہیں خود ان کے لیے اک عبرت کدہ بن گئیں ۔ مجھے لگا یہاں بھی بس اب وہی سب ہونے کو ہے کہ اگر دوسروں کے انجام دیکھ کر بھی کوئی عبرت نہ حاصل کرےتو پھر انتظار کیجیے رب کے اس فیصلے کا جو آیا ہی چاہتا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

%d bloggers like this: