Israel’s Childsnatchers attack again: 7 Palestinians rounded up by IOF including 5 minors


Israel’s Childsnatchers attack again: 7 Palestinians rounded up by IOF including 5 minors.

MOH Press Release: Another massacre, this time in Khan Younis


MOH Press Release: Another massacre, this time in Khan Younis.

"انتخابات 2013 اور جماعت اسلامی ” ایک تجزیہ


مصنف : جویرہ سعید

٢٠١٣کے انتخابات کئی اعتبار سے جماعت اسلامی کے لئے اہم تھے اور کارکنان کو بہت پر امید اور پر جوش کیے ہوے تھے. پہلی مرتبہ کسی سے اتحاد کیے بغیر اپنے نام اور منشور کے ساتھ اتخابات میں شرکت، پچھلے برسوں میں مختلف شعبہ ہاے زندگی میں کی گئی محنت، مثلا بہت سے فلاحی اور تعلیمی اداروں کا قیام،اور بے شمار منصوبوں اور پروجیکٹس،کی بنا پر عوام میں بڑھتا ہوا نفوذ، MMA کے دور حکومت اور کراچی کی میر شپ کے دوران حکومت کا تجربہ،اور کمائی جانے والی نیک نامی وہ امید کی کرنیں تھی جو کارکنان کو سرگرم کر رہی تھیں. دوسری طرف ملک کے بدترین حالات، لاقانونیت، کرپشن، مہنگائی، ملکی سلامتی کو در پیش خطرات کے سبب عوام میں بڑھتا ہوا غم و غصہ اور بظاھر روایتی سیاسی جماعتوں سے بے زاری بھی امید دلا رہی تھی کہ عوام متبادل قوتوں کے منتظر ہیں، اور جماعت کی گزشتہ برسوں میں کی گئی محنت اس کو اس متبادل قوت کے طور پر سامنے لا رہی ہے. لہٰذا کارکنان اور خصوصا نوجوان نسل نے بری محنت اور جوش و جذبے سے کام کیا اور اب تک مختلف پہلوؤں سے جو کمیاں محسوس ہوتی تھیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی. جیسا کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے جماعت کے مکمل black out کے نقصانات کو زبردست سوشل میڈیا مہم کے ذریے پورے کرنے کی کوسش قابل ذکر بھی ہے اور قابل ستائش بھی

 

لیکن ان سب کے بعد انتخابات کے نتایج اور کراچی میں انتخابی عمل کے boycott نے ان پر جوش کارکنان میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی. جماعت کے زبردست نظام سمع و اطاعت اور تربیت نے الحمدللہ کوئی انتشار یا بد مزگی تو نہیں پیدا ہونے دی، لیکن اندرون خانہ کارکنان سے لے کر ہمدردوں اور متاثرین تک میں صدمے، اضطراب،اور مایوسی کی تند و تیز لہریں اٹھتی رہی ہیں. خصوصا ان افراد میں جنہوں نے انتخابات میں بہت جوش و جذبے اور اچھے نتایج کے یقین کے ساتھ حصہ لیا تھا. مختلف سوالات ہیں جو مضطرب ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں،ان میں دو سوالات اہم ہیں،

 

١) انتخابات میں ناکامی کہیں خود جماعت کی ناکامی تو نہیں، یہ اس بات کا مظہر تو نہیں کہ جماعت اپنی دعوت کے نفوز میں ناکام رہی ہے. اور کیا جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ عمومی تاثر درست ہے کہ یہ ایک ناکام جماعت ہے جو کبھی بھی خاطر خواہ سیٹیں نہیں لے سکی اور عوام کی نمایندہ جماعت نہیں بن سکی؟ ٢) جماعت کو ان ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، جس کے لئے اس کو ایک زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے، اور یہ تبدیلی افکار و طریقہ کار اور mind set سب میں ناگزیر ہے. اور جماعت ان کو اختیار کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟

 

ہم نے یہاں سوالات کا الگ الگ تجزیہ کرنے کی کوسش کی ہے. پہلا سوال اب تک کی گئی جدو جہد سے متعلق ہے اور دوسرا سوال آنے والے وقتوں میں درست سمت میں چلنے کے لئے تبدیلی اختیار کرنے سے تعلق رکھتا ہے.

 

پاکستان میں انتخابات کا عمل، عوام کی اس میں شرکت، اور اس کے نتایج دو اور دو چار کی طرح سیدھا معاملہ نہیں ہے. اس میں بہت سے عوامل دخل انداز ہوتے ہیں. لسانی ، صوبائی، مسلکی عصبیتیں، جاگیر دارانہ نظام اور وڈیرہ شاہی، دولت کا عمل دخل، لاقانونیت، عوام میں خواندگی کی شرح اور سیاسی بیداری کی کمی، بیرونی طاقتوں کی ملکی حالات پر گرفت، ملکی اداروں کا ان کے زیر اثر اور جانبدار ہونا ،سب ہی اہم ہیں. مذہبی جماعتوں سے پاکستانی قوم کی عقیدت اور وابستگی اپنی جگہ اور عملی زندگی میں الگ معیارات ہوتے ہے. اس اعتبار سے پاکستانی قوم ایک منفرد قوم ہے. مصر، ترکی، اور دوسرے ممالک کے بر عکس اس قوم نے اسلام مخالف قوتوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا. مذہبی معاملات پر یہ مخالف قوتوں کے خلاف مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر سینہ سپر ہو جاتی ہے، کہ مذہب بے زر قوتوں کو بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتی ہے اورانھیں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنا کام کرنا پر تاہے.دوسری طرف اپنی اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو مذہب کے مطابق ڈھالنے اور روایتی مذہبیت سے بڑھ کر عملی تقاضوں کو پورا کرنے میں وہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں اتی. یہی تناقص سیاسی میدان میں مذہبی جماعتوں کا ساتھ دینے میں بھی مانع رہا ہے.

 

ان سب زمینی حقائق کے پیش نظر جماعت اسلامی جیسی اصولی موقف اور طریقہ کر رکھنے والی پارٹی کے لئے انتخابات ایک بہت بڑا چیلنج ہوا کرتے ہیں.اتنے بہت سے محازوں پر چو مکھی لڑائی لڑنا،اور اپنے دامن کو ان سری آلائشوں سے بچاتے ہوے کامیابی کے لئے کوششیں کرنا اتنا آسان نہیں. اور اسی بنا پر دوسری جماعتوں کے ساتھ موازنہ بھی معقول نہیں لگتا. اس سری صورتحال میں ہمارا ایک ووٹ بھی بھرتی کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے بری عرق ریزی اور محنت ہوتی ہے.

 

ان سب باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جماعت سے غلطیاں نہیں ہوئیں. ظاہر ہے کہ کوئی بھی صاحب عقل ایسی بات نہیں کر سکتا. بلا شبہ غلطیاں بھی ہوئی ہیں، اور ان کا گہرائی سے تجزیہ اور بروقت اصلاح بھی ضروری ہے، لیکن یہاں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ غلطیوں کا تجزیہ اور تنقید بارے اصلاح اور چیز ہے اور انتخابات میں ناکامی کی بنا پر پوری تحریک اور اس کی جدوجہد کو سوالیہ نشان بنا دینا اور بات ہے.

 

بیان کیے گئے عوامل کے پیش نظر ہماری راہے یہ ہے کہ انتخابات میں ناکامی یا کامیابی کو جماعت کی دعوت کے نفوذ کا معیار نہ ہی بنایا جاے تو بہتر ہے.بلکہ اس کو کچھ اور ہی اثرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے.

 

گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے حالات اور چلینجز کو دیکھیں، اور اس کے مقابلے میں مذہبی قوتوں اور خصوصا جماعت اسلامی کی جدوجہد کا جایزہ لیں تو یہ کہے بغیر رہنا ممکن نہیں کہ یہ الحمدللہ جماعت کی دعوت کی روز افزوں ترقی کا سفر ہے. جو جماعت ستر افراد اور ستر روپوں سے شروع ہوئی ، تمامتر کٹھنائیوں کے باوجود آج اس کے کارکنان، ہمدردوں اور متاثرین کی تعداد اور اثاثوں کا اندازہ لگائیں. اسلامی دستور کی تیّاری، کمیونزم اور سیکولرازم ،غیر ملکی مداخلت کے مقابلے میں کامیاب جدوجہد ، ہر شعبہ زندگی میں اسلام پسند رحجانات اور افراد کا پایا جانا، اسلامی نظام، احکامات، اصطلاحات اور شعائر کے حوالے سے عمومی نقطۂ نظر میں مثبت تبدیلیاں (acceptance) ، نظری اور عملی اعتبار سے ان کے قابل عمل اور مفید ہونے کا اعتراف (اقتدار و اختیار کی طاقت کے بغیر ہی ) اور ان کے حوالے سے stereotypes میں تبدیلیاں،بے شمار فلاحی و تعلیمی اداروں اور منصوبوں کا قیام  پرہے لکھے اور دیانت دار افراد کی ایک کھیپ کا تیّر ہو کر ہر شعبہ زندگی میں مصروف عمل ہونا، اور پوری دنیا  ان افراد اور دعوت کے ذزایو کے ذریے بے شمار اسلامی تحریکوں کا پھلنا پھولنا وار تقویت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خیر کثیر ہے جو جماعت کے حصّے میں آیا ہے. یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقتدار و اختیار کے ایوانوں میں رسائی کے سلسلے میں اس جماعت کو جس قدر تسلسل کے ساتھ ناکامیاں دیکھنی پڑی ہیں، اس کے باوجود نہ اس کا سفر رکا اور نہ ہی وہ کسی بری تقسیم کا شکار ہوئی، بلکہ روز بروز آگے بڑھتی جا رہی ہے. اس کے برعکس دوسری پارٹیز نے ہمیشہ اقتدار کے مزے بھی لوٹے، بیرونی طاقتوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی، دولت کے سر چشموں کو سے بھی مستفید ہوتے رہیں، اور معاشرے میں پائی جانے والی کمزوریوں کا بھی ہمیشہ ان ہوں نے فائدہ اٹھایا. اس کے باوجود وہ مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم دار تقسیم سے بھی دو چار ہیں.

 

ان اتخابات کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اٹھ رہا ہے کہ جماعت اسلامی جیسا نصب العین اور طریقہ کر رکھنے والی تحریک کے لئے انتخابات والا option کام آ بھی سکتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے، لکن اس سوال کا اٹھنا بذات خود اس بات کا مظہر ہے، کہ انتخابات میں ناکامی کی وجہ محض دعوت کے نفوذ اور محنتوں میں کمی ہی نہیں بلکہ یہ دوسرے عوامل بھی اہم ہیں.

 

یہاں ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہیں کہ غلطیوں کا ہونا اپنی جگہ مسلم ہے اور اصلاح بھی بہت ضروری ہے، لکن شدید بےچینی اور کسی حد تک مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم انتخابات کی ناکامی کو اپنی جماعت کی ناکامی یا کامیابی کا معیار بنا رہے ہیں. ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لمحات کو طول دیے بغیر نئے عزم و حوصلے کے ساتھ تعمیری تنقید اور اصلاح کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھایا جے.

 

دوسرا سوال جماعت کے افکار و طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت اور جماعت کی طرف سے اس سے گریز سے متعلق ہے. اس سلسلے میں جو بحث جاری ہے اس کا حاصل یہ کہ جماعت کو وقت کے تقاضوں اور ناکامیوں کی پیش نظر تبدیلیوں کے لئے تیّار بھی رہنا چاہیے، اپنے اندر جذب بھی کرنا چھیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کو اختیار بھی کرنا چاہیے. اس بحث کا ایک "silent observer” کی حیثیت سے ہم نے جو جایزہ لیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کا یہ مطالبہ دو مختلف گروپس کی جانب سے ہے. بادی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بری تعداد میں لوگ تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر کچھ وجوہات کی بنا پر ان پر غور نہیں کیا جارہا. لیکن ذرا سا گہرا مطالعہ اور مشاھدہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ ان دونوں گروپس کے نظریات و مطالبات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. یہ دوطرح کی سوچیں intellectual سطح سے لے کر عام ذہنی سطح تک نظر اتی ہیں. اس لئے تبدیلی کا یہ عمل اتنا آسان نہیں جتنا بظاھر معلوم ہوتا ہے.

 

ایک گروہ وہ ہے جو برس ہا برس کی روایات ، طے شدہ اصولوں اور معیارات پر سختی سے قائم ہے،اور لچک اور وسعت کو طغیانی، اور اصل سے انحراف سے تعبیر کرتا ہے، ان کے مطابق ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ، لچک اور وسعت کے نام پر ہم اپنے اصولوں سے انحراف کرتے رہے ہیں، اگر :حقیقی کامیابی” مطلوب ہے تو "اصل” کی طرف واپس لوٹنا ہو گا. دنیا اور اس کے حالات کو سمجھ کر اپنی reshaping کے بجاے دنیا کو اپنی دعوت اور standards کے مطابق ڈھالا جاے. اور اسی حوالے سے اپنی دعوت کو موثر بنایا جاے. اس نقطہ نظر کے بہت سے shades ہیں، جو مختلف روےیوں میں نظر اتے ہیں. اس گروہ کی قیادت علمی شخصیات کے ہاتھ میں ہے، جن کا علمی اور نظری سرمایا اسلاف کا علمی زخیرہ ہے، اور بادی نظر میں ان کا موقف قرآن و سنّت کے این مطابق بھی نظر اتا ہے.

 

دوسرا گروہ وہ ہے جو بدلتے ہوے حالات ، اور اس کے تقاضوں کو مد نظر رکھنے ، اسلام کی آفاقیت اور اجتہادی قوت کو بروے کار لانے، بنیادی اسلامی اخلاقیات کو مرکز دعوت بنانے اور اسی حوالے سے نظریات اور معاملات کو وسعت اور لچک دینے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے. مقصد زیادہ سے زیادہ لوگو ں کو ہمرکاب بنانا اور اسلام کے دامن رحمت میں سمیٹنا ہے.اس گروہ کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کو خطے سے بہار نکل کر نئی دنیاؤں میں کام کرنے کے مواقع میسّر آہے ہیں.اور اس کے لئے وہ عالم اسلام میں برپا اسلامی تحریکوں کی بدلتی ہوی پالیسیز ، stretegies اور ان کے مثبت نتایج کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں.

 

ان دونوں گروپس کے اخلاص، اپنے اپنے دائروں میں کی گئی محنت تجربات اور دلائل کے معقول ہونے سے انکار ممکن نہیں. ان کا اصرار بھی سمجھ میں اتا ہے. لکن ان کا اختلاف اس بات کا مظہر ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو من و عن اپنا لینا اور دوسرے کو خاطر میں نہ لانا ممکن نہیں ہے. گو کہ ہر دو کا اصرار یہی ہے، لکن تحریک کی قیادت کے لیے یہ ہی کرنے کا کام ہے کہ دونو کے بین بین کیسے درمیانی راستہ نکالا جاے. اور یہی قیادتوں کا امتحان ہوا کرتا ہے کہ وہ لمحہ موجود سے بلند ہو کر انے والے وقتوں کے لئے تحریک کا صحیح رخ متعین کر دیں. لکن ساتھ ساتھ خود ان گروپس کے افراد کو بھی درمیانی راستہ اختیار کرنے کے لئے ایک دوسرے ک راے کا احترام اور اپنے موقف کی کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہو گی.ورنہ یہ سب صرف اختلاف اور شور ہی رہے گا، اور اس سے انتشار، تلخیوں، بد گمانیوں اور تقسیم کے سوا کیا حاصل ہو گا ہم نہیں جانتے. اسی لیے ہم کہا کرتے ہیں، مسائل کے حل کو ذرا ایک طرف رکھئے، پہلے آئیے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں.”

امید سے نا امیدی تک


PTI,MQM

عمران خان لفٹر سے گر زخمی ہو گئے یہ خبر صرف عمران خان کے ووٹرز کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک دردناک خبر تھی اور ہر کی زباں سے ان کے لیے ایک دعائے خیر نکل رہی تھی کیونکہ عمران صرف ایک پارٹی لیڈر ہی نہیں بلکہ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور کسی بھی ملک کا قومی ہیرو اس ملک کے باسیوں کا اثاثہ ہوا کرتا ہے ۔

میں بھی باقی سب پاکستانیوں کی طرح فکر مند اور دعائیں کرتی رہی کہ اللہ پاک انکو مکمل صحت یاب کرے۔

میں خود عمران کا نیا پاکستان والا نعرہ کا سن کر بہت خوش ہوتی اور ایک امید ہوتی کہ پاکستان کا درد رکھنے والا یہ شخص تبدیلی کا خواہاں ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پوری نوجوان قوم کو جمع کرنے کا سہرا عمران ہی کے سر جاتا ہے  میری طرح پوری قوم کو عمران سے بہت امید تھی ۔

مگر میری خوشی اس وقت دکھ میں بدلنی شروع ہو گئی جب عمران نے اپنے ساتھ وہی پرانے شکاری جمع کر لیے اور ان کی اکثریت کو دیکھ کرمیں یہ سوچتی کہ ایک عمران کو اگر نکال دیا جائے تو اس پارٹی کا کو ئِی بھی نام رکھا جا سکتا ہے پوری پارٹی میں ایک عمران کے سواء کوئِی دوسرا چہرا مجھے ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا اور جب اتنے لوگ ایک ہی سوچ کے جمع کر لیے جائیں تو پارٹی میں ایک فرد کو اپنا فیصلہ منوانا کتنا دشوار ہوتا ہے چاہے وہ اس پارٹی کا صدر ہی کیوں نہ ہو کہ اسکا نمونہ ہم کئی مواقع پر دیکھ ہی چکے ہیں  وہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ والے معاملہ ہو یا کوئی اور فیصلہ کہ عمران شروع سے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹ منٹ کا عندیہ دینے والے اور شدید خواہش رکھنے کے باوجود {اسکا اظہار وہ کئی پروگرامات میں برملا کر چکے تھے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی اور سے ممکن ہی نہیں کو ئِ سیٹ ایڈجسٹ منٹ ہو }وہ کچھ نہیں کر پائے اس لیے کہ پارٹی کے باقی لوگ کسی اور ہی نظریہ اور سوچ کہ ہیں اور مجھے انتہائی دکھ سے لکھنا پڑھ رہا ہے کہ پی ٹی آئِ کی مرکزی رہنما کی بیٹی  ایمان مزاری کی وہ ٹیوٹس کہ جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹ منٹ سے بہتر ہے تحریک انصاف احمدیوں سے مل جائے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران جو ایک اسلامی ریاست ، مدینہ جیسی ریاست بننے کا خواب دیکھ رہا تھا وہ کیسے ریزہ ریزہ ہونے جارہا ہے  اس وقت جبکہ عمران خود ان کے درمیان موجود ہے اس پارٹی کا صدر ہے اس کے باوجود وہ کوئی فیصلہ خود اپنی سوچ اور اپنے نظریہ سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں جسکا ایک اور ثبوت پیپلز پارٹی سے سیٹ ایڈ جسٹ منٹ کی صورت میں نظر آتا ہے  میرا دل نہیں مانتا کہ عمران یہ سب کر سکتا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ان ہی لوگوں کے ساتھ کیسے ایڈجسٹمنٹ کر سکتا ہے نہیں وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتا مگر اس کے جمع کیا ہوا ٹولہ جن کے لیے ہارون الرشید بڑے دکھ سےکہتے ہیں کہ ” یہ عمران غلط  ہاتھوں میں چلا گیا ۔”
ایک اور خبر جو کراچی کی دکھوں اور مصیبتوں کی چکی میں پسی عوام کے لیے انتہائی رنج اور دکھ کا سبب بنی وہ یہ کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں ایک خفیہ معاہدہ طے پا چکا ہے

آہ۔۔ کیا خبر تھی جو کسی بم سے کم نہ تھی کراچی عوام جس پر پہلے ہی بہت بم گرائے جاتے رہے ہیں کیا وہ ایسے نازک وقت میں یہ تکلیف دہ خبر سننے کی متحمل ہو سکتی تھی ؟؟

ایم کیو ایم  کی خونی تاریغ سے کون نہیں واقف اور عمران جیسا شخص جس نے ہمیشہ ہی ایم کیو ایم کو للکارا اور میں عمران کی وہ تقریر دیکھتی ہوں تو یقین نہیں آتا نہیں ہمارا ہیرو بوریوں سے ڈرنے والا تو نہیں تھا پھر یہ کیا ہوا ؟؟؟ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایک دم یہ توپیں کیوں خاموش ہو گئیں تھیں کل بھی رات کے اندھیرے میں آکر بغیر  خطاب کے کیوں واپسی ہوگئی ؟؟یہ کیسے پلٹا کھایا ؟اور جب یہ بات آرہی تھی کہ کیا ایم کیو ایم ایک سے کوئی معاہدہ تو نہیں کرلیا تو عمران اسماعیل  پی ٹی آئی کے جنرل سیکٹری نے پوری قوم کے سامنے ایک ٹی وی پروگرام میں اس بات کی تردید کی 

مگر آج کا دور تو میڈیا کا دور ہے وہ چاہے سوشل میڈیا ہو جہاں بات لمحوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے یا الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا ہو اب کچھ چھپ نہیں سکتا چاہے وہ معاپدات کتنے ہی خفیہ کیوں نہ ہوں اسی لیے  آج ڈان کی اس خبر نے سب عیاں کر دیا تھا کچھ بھی تو نہیں چھپا تھا ۔

یہ بات تو میثاق جمہوریت میں واضع طور پر درج ہے کہ کوئی پارٹی ایم کیو ایم سے الائینس نہیں کریگی اور پی ٹی آئی اس میثاق جمہوریت کا حصہ ہے یہ تو اس قوم کے ساتھ  کھلی غداری تھی جس کا جواب دینا ہوگا ۔۔۔ ایک دکھ تھا جو ختم  نہیں  ہو رہا تھا ۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ہمارے ہی قاتلوں سے دوستیاں کر لیں آپ کیسے بھول گئے ان بوڑھے کاندھوں کو جنھوں نے جوان لاشے اٹھائے ، کیا جواب دے سکیں گے ان ماوں کو جو یہ آس لگائے ہوئے تھیں کہ اب دکھ کے دن تھوڑے ہیں کیسے سامنا کر سکیں گے اب کراچی والوں کا ۔

 اب سمجھ آرہی تھی کہ کراچی میں پی ٹی آئی ایم کے خلاف دس جماعتی اتحاد کا حصہ کیوں نہیں بنی تھی اور کراچی جہاں ایم کیو ایم کو صرف اور صرف ایک ہی جماعت منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے پی ٹی آئی نے اس سے اتحاد کرنے کے بجائے اسکا ووٹ کیوں کاٹا ۔۔۔اس لیےکہ اس کا سارا کا سارا فائدہ ایم کیو ایم کو جاتا ہے ۔۔۔

مگر اب بھی مجھے عمران کی نیت پر شک نہیں مجھے یقین ہے وہ پھر ایک بار مجبور کیا ہو گیا ہوگا اپنی پارٹی کے اسی ٹولے کے ہاتھوں مجھے لگا کتنا سچ تھا جو ہارون الرشید نے کہا ۔۔۔۔۔

سوالات کا ایک انبار تھا جن کے جوابات تلاش کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آرہے تھے ۔۔ابھی پارٹی کی یہ صورتحال ہے جہاں پارٹی کا صدر اتنا بے بس ہو ایسی پارٹی اگر اقتدار میں آجاتی ہے تو کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اس قوم کےلیے ۔۔۔۔

کل عمران کے زخمی ہونے کے بعد سے ایک اور سوال تھا جو مجھے رہ رہ کرستا رہا تھا کہ زندگی اور موت تو کسی کے بھی اپنے اختیار میں نہیں ہے اگر اس حادثہ میں خدا نخواستہ عمران کو کچھ ہو جاتا تو اس کی پارٹی میں پیچھے کون ہے جو عمران جیسا مخلص ہو ،؟ کون ہے جو عمران کی طرح اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواہش مند ہو ؟؟ یہ وہ سوال تھا جس کا جواب مجھے نہیں مل پایا کہ کیا پارٹی صرف ایک فرد کا نام ہوتی ہے ؟ نہیں پارٹی تو ایک نظریہ کا نام ہوتی ہے ایک فکر کا نام ہوتی ہے اس پارٹی میں ایک فرد کے چلے جانے سے نظریہ یا فکر نہیں بدل جایا کرتیں ۔ اس لیے اب فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا زمینی حقائق کو صرف اس لیے نہیں نظر انداز کیا جاسکتا کہ ہم کسی ایک فرد کے فین ہیں نہیں بلکہ ہمارے لیے وہ پارٹی اہم ہونی چاہیے جس کا ایک عام فرد بھی اپنے لیڈر کا نظریہ ویسی ہی سوچ اور فکر رکھتا ہو اور اس کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان عمل میں سرکرداں ہو جو کسی سے ڈر کر اپنے نظریہ اپنی سوچ کو نہیں بدلتا ہو لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو خود نہیں بدلتا بلکہ قوم کے تقدیر بدلنے کے لیے پہاڑ جیسی قوتوں سے بھی ٹکرا جاتا ہے ۔۔۔اور اتنا سب سامنے آنے کے بعد بھی کیا اب کوئی شک رہ جاتا ہے اس بات میں کہ عمران خود بھی اپنی پارٹی میں کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

سوچیے کہیں ایسا نہ ہو کہ آج جن لوگوں کو ہم چن لیں کل ہم ہی انکی پالیسیوں پر انکو گالیاں دینے والے ہوں  کیوں کہ جہاں ذاتی مفادات کو برتری حاصل ہو ں وہاں سب کچھ ممکن ہے ۔۔۔۔ وقت بہت کم ہےاور اس وقت لوگ جذباتی کیفیت سے دوچار ہیں مگر یاد رکھیے فیصلے جذبات سے نہیں کیے جاتے بلکہ ہوش وحواس سے کیے جانے والے فیصلے ہی دیر پا نتائج رکھتے ہیں  ۔۔۔سوچیے ضرور

جاگ اٹھو اے نادانو ۔۔۔۔


kachi

راتوں کو میلے یہ خوب  لگائیں 

دن بھر لاشوں کے انبار لگائیں

 

 

خود ہی مارے اپنے لوگ

پھر بولیں اب  مناو سوگ

 

 

معصوموں کی بھینٹ چڑھائیں

آپ بیٹھے لندن میں موج منائیں

 

کیسے یہ پیو باری ہیں

انسانوں کے شکاری ہیں

کتنے اور انسانوں کو

لاشوں میں یہ بدلیں گے ؟

روشنیوں کے اس شہر میں

کب تک گھپ اندھیرا ہوگا

قاتل ، چور ،  لٹیرا ،راہزن

شہر کا رکھوالا ہوگا

 

کیا اب بھی نہیں پہچانو گے ؟

کیا اب بھی نہیں تم جانو گے ؟

 

 

کیا اب بھی  ہمت ہے تم میں ؟

کہ دیکھ سکو یہ منظر پھر

 

 

کہ ہنسے کھیلتے جانے والے

واپس آئیں بوری میں

کہرام مچے پھر گھر گھر میں

اور دام لگیں پھر لاشوں کے

 

 

جاگ اٹھو اے نادانو کہ

کہ وقت کی ڈور پھسلی جائے

ایسا نہ ہو کہ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی سرا بھی ہاتھ نہ آئے

 

 

جاگ اٹھو, اٹھو اے نادانو ۔

 

 

اسریٰ غوری

بازار سجے انسانوں کے


boli

پنہاں یہیں صیاد بھی ہے دام لگائے

ہرطرف اک شور بپا ہے بھانت بھانت کی بولیاں نہ صرف بولی جارہی ہیں بلکہ بولیاں لگائی بھی جارہی ہیں بوریوں کے منہ کھل چکے ہیں انسانوں کی اس منڈی میں نہ خریداروں کی کمی ہے نہ ہی فروخت ہونے والوں کی یہ کوئی اچھنبے والی بات نہیں قیمتیں تو لگا ہی کرتیں ہیں انسان کی زندگی انہیں سودے بازیوں سے بھری ہوئی ہے اہم بات یہ دیکھنا ہےکہ کس نے اپنی کیا قیمت لگائی ؟؟؟

صورتحال بہت تکلیف دہ ہے یہاں جو جتنا بڑا بدکار اور لٹیرا ٹہرا اسکی بولی اتنی ہی مہنگی لگی کوئی کروڑوں میں بکا تو کسی کی بولی لاکھومیں لگی اور کچھ تو ہزاروں اور سینکڑوں میں ہی اپنا سوداکر گئے تو کچھ کو برادریوں ، علاقوں اور ذاتوں کے عوض بکنا پڑا ۔۔۔۔۔مگر افسوس کیا ہی گھاٹے کا سودا کیا کرنے والوں نے اپنی قیمتیں لگاتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ ان گواہیوں کا تو رب کے ہاں حساب ہونا ہے کیا ہم حساب دے پائیں گے ؟

دنیا کی چند روزہ زندگی کو کیا ہمیشگی کی زندگی پر ترجیع دینا ہوش مندی ہے ؟ 

ہمیں کیوں نہیں یہ خیال آتا کہ دنیا سے جاتے ہوئے تو ہر ایک کو خالی ہاتھ ہی جانا پڑتا ہے اپنے اعمال کے سواء کچھ ساتھ نہیں جاتا وہ کسی کے بینکوں میں پڑے کروڑوں یا اربوں ڈالر ہوں یا عینک میں لگے ڈائمنڈ ہی کیوں نہ ہوں ہر چیز یہیں اسی دنیا میں واپس لوٹا کہ جانا ہوتا ہے ۔

آہ ! ہم کیوں اس حقیقت سے نظریں چرالیتے ہیں کہ بس ایک سانس کی ڈور ٹوٹنے کی دیر ہے ہمارا سب سے قریبی عزیز ہی سب سے پہلے ہمارے جسم سے ان سب قیمتی چیزوں کو دور کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور کون جانے یہ سانسیں کب تک ہیں ۔۔۔۔ پھر یہ سب کس کے لیے ؟

میں اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھتی ہوں تو دل انتہائی دکھی ہونے لگتا ہے کہ مفاد پرست لوگوں کا ٹولہ تو جس حال میں ہے وہ ہے ہی مگر یہاں تو وہ لوگ بھی جو کئی سالوں سے مصیبتوں کی چکی میں پس رہے ہیں وہ اب بھی خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔میں سوچ رہی تھی کیا ہم اتنی مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود اب بھی خود کو بیچنے کی ہمت کر سکتے ہیں اب بھی خود کو مزید آزمائیشوں اور مصیبتوں کے حوالے کرنے کے متحمل ہو سکتے ہین جبکہ ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قوم کو اب تو اپنے دشمنوں کو پہچاننا چاہیے تھا کہ یہی تو وقت ہے ان کو پہچاننے کا کہ جن کو سوائے اپنے بینک بیلنس ،اپنی جائدادیں بڑھانے کے اور کوئی غرض نہیں نہ سسکتی ہوئی عوام سے کوئی غرض ہے نہ روز گرتی ہوئی لاشوں سے کوئی سروکار ہے جنہوں نے عوام کی رگوں سے لہو کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کا تہیہ کر لیا ہو اس ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں میں گروی رکھ دیا ہو ۔اتنے عذاب بھگتنے کے بعد تو اس قوم کو چاہیے تھا کہ یہ اب ان چہروں کو بند آنکھوں سے بھی پہچان لیتی جو اپنی منڈیریں بدلتے کبھی ایک جھولی میں تو کبھی دوسرے کی جھولی میں گر رہے ہیں اور یہ پاگل عوام تبدیلی کے نعرے لگاتی تو کہیں بڑے بڑے پروجیکٹ کے جھانسوں میں آتی پھر ان ہی کے ہاتھوں خود کو یرغمال کروانے کے لیے تیار نظر آتِی ہے ۔

کاش کہ اس قوم میں یہ سمجھ ہو کہ تبدیلی کے لیے کردار شرط لازم ہے قیادتوں کا کردار ہی دراصل تبدیلی کی ضمانت ہو کرتا ہے مخلص اور امین رہنما ہی قوموں کی تقدیریں بدلنے پر قادر ہوا کرتے ہیں

 بھلا جن کی اپنی آستینیں ہی قوم کے لہو میں ڈوبی ہوں جنہوں نے غریب کے منہ سے روٹی ، دال ،سبزی تک چھین لی ہو { کہ ایک زمانے میں غریب کو یہ تو میسر تھا مگر اب یہ بھی نہیں } ،جنہوں نے زندہ رہنا ہی جرم بنا دیا ہو ،جنہوں نے گلی گلی موت کا رقص عام کر دیا ہو ،جنہوں نے نوجوانوں کے مستقبل تباہ کر دیے ہوں جو خود ہی لوگوں کی عزتوں کے لٹیرے ہوں جو صرف اپنے مفادات کی خاطر بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کبھی ایک چھتری تو کبھی دوسری چھتری کے سائے تلے پناہ لیتے ہوں اور کون جانے کب وہ اگلی پرواز کہاں کی  بھرنے والے ہوں کہ انہیں تو منڈیروں کی کوئی کمی نہیں نا۔

تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

ایک لمحے کو رک کر ذرا سوچیے تو وہ کیسے تبدیلی لاسکتے ہیں ؟؟؟

ہاں وہ تبدیلی لاسکتے ہیں مگر

آپ کی سوچوں میں تبدیلی،

آپ کی روایات میں تبدیلی ،

آپ کے نصاب میں تبدیلی ،

آپ کے نظریات میں تبدیلی،

آپ کی تہذیب وتمدن میں تبدیلی،

آپ کے ملک کے جغرافیہ میں تبدیلی ،

اور سن سکتے ہیں تو سنیے وہ ملک جہاں اللہ کی حاکمیت کے آئین پر سوال اٹھائے جائِیں

وہاں یہ آپ کے مذہب میں بھی تبدیلی لے آئیں تو کوئی بڑی بات نہیں

کیونکہ جو قومیں اپنی تقدیر کے فیصلوں کے وقتوں میں بھی اپنی بولیاں لگوایا کرتی ہیں پھر تبدیلی ان کے جغرافیہ اور ان کے نظریات میں تو آسکتی ہے مگر ان کی تقدیروں میں تبدیلی ممکن نہیں ۔۔۔۔

کسی کو چننا یا اپنے ووٹ کے ذریعے سے اقتدار کے کرسی پر بٹھا نا کوئی معمولی یا عام سی بات نہیں ایک اہم فرض ہے جس سے کسی بھی قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ۔۔۔جی ہاں آپ کا ووٹ ہی آپ کے مستقبل کا آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ضامن ہے 

اس لیے فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیجیےگا کہ فیصلوں کے وقت گزر جائِیں تو پلٹائے نہیں جاسکتے ایسا نہ ہوکہ آج کا کیا گیا آپکا فیصلہ آپکو اگلے 5برسوں کے لیے مصیبت اور پریشانیوں کے ساتھ پچھتاؤں کی آگ میں بھی نہ جھونک دے ۔۔۔

سوچیے اس سے پہلے کہ وقت آپ سے سوچنے لی مہلت بھی چھین لے  !!

"سانحہ کرب و بلا ” سمیعہ راحیل قاضی


"سانحہ کرب و بلا ” جامعہ حفصہ کے حقائق جانیے  سمیعہ راحیل قاضی کا آنکھوں دیکھا حال ۔۔۔

S1

S2 S3 S4 S5 S7 S8 S9 S10 S11 S13 S14 S15 S16 S17 S18 S19 S20 S21 S22 S23 S24 S25 S26 S27

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا


 لہجہ

ایک خبر تھی جو جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل رہی تھی اور آخر کیوں نہ پھیلتی  کہ ایک جرنیل کمرہ عدالت سے  فرار ہوا تھا کوئی معولی بات نہیں تھی مگر یہ فرار کب تک ۔۔!!

جرم کوئی چھوٹے تو نہیں تھے جنہیں فراموش کر دیا جاتا جرنیل صاحب اگر یہ سوچ کر آئے تھے کہ زرداری کی ڈسی ہوئی  یہ قوم ان  کو پھولوں کے ہار پہنائے گی تو یہ بہت بڑی بھول تھی مانا کہ یہ قوم ایک بڑی لمبی نیند سوئی ہے مگر ابھی یہ مردہ نہیں ہو ئی اور جہاں زندگی کی ذرا سی بھی رمق باقی وہاں امیدیں قائم رہتی ہیں پھر یہ قوم اتنا شعور تو رکھتی کہ زرداری بھی آپ ہی کے دیے گئے تحفوں میں سے ( این آر او کی شکل میں دیا گیا) ایک تحفہ ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک طرف میں اس بریکنگ نیوز کے کو سن رہی تھی تو دوسری جانب قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ قیدی نمبر 650 کی دلخراش چیخیں صرف میرے کانوں سے ہی آر پار نہیں ہو رہیں بلکہ میرے کلیجے کو بھی چھلنی کیے دے رہی ہیں کتنے ہی معصوم چہرے تھے میری نگاہوں کے سامنے جنہیں یتیم بنا دیا گیا تھا  ، روتی ہوئی ماوں کے کتنے ہی لعل چھین کر انکی گودیں ویران کردی گئیں تھیں ۔۔۔ اپنے شوہروں کی واپسی آس لگائے کتنی سہاگنوں آج بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا لاڈلی بہنیں جو بھائیوں کے گلے کا ہار ہوا کرتیں تھیں مگر آج ان آنکھوں میں اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ ان سن کی خوشیاں تو ڈالروں کے عوض بیچ دی گئیں تھیں اور بیچنے والے نے بڑی رعونت سے اقرار کیا کہ ہم نے ڈالر لیے ہیں ایس ہی حوالے نہیں کیا گیا ۔۔آہ ۔۔ کیسا شرمناک اقرار تھا اپنے جرموں کا وہ بھی بغیر کسی احساس جرم کہ ۔۔۔!!

مجھے لگ رہا تھا اس خبر کے ساتھ ہی میرے جیسے کتنے ہی ایسے ہونگے جنہیں یہ محسوس ہوا ہوگا کہ ان کے زخموں سے کھرنڈ جیسے کسی نے نوچ ڈالے ہوں اور یہ زخم پھر سے تازہ ہو کر رسنے لگے ۔۔۔ زخم تو معمولی سا بھی ہو تو برسوں نہیں بھرتا یہ تو پھر روح پر لگنے والے زخم تھے یہ بھلا کیسے بھر جاتے ۔۔۔۔!!

"جامعہ حفصہ "ایک اور ٹھیس اٹھی تھی  زخموں سے ۔۔۔۔۔ یہ کسی ٹی وی چینل سے دکھایا جانے والا ایک پروگرام تھا ۔۔۔۔۔۔ جلی ہوئی ہڈیاں اور بال تھے جلے ہوئے اور خون میں لت پت آنچل تھے جو ایک ڈھیر کی صورت میں ملک کے دارلخلافے میں ہونے والے ظلم کی داستانیں سنا رہے تھے اس ملبے کے ڈھیر پر بیٹھے بوڑھے ماں باپ اپنی بیٹیوں کی جلی ہوئی ہڈیاں تلاش کررہے تھے گم سے نڈھال آنکھوں سے عیاں ہوتا درد ، آسمان کی طرف اٹھتے ہاتھوں کو دیکھ میں لرز گئی کیسے ان مظلوموں کی آہیں رائیگاں جائینگی کہ مظلوموں کی آہیں تو عرش کا کلیجہ چیر دیا کرتیں ہیں ۔۔۔۔؟؟؟

اپنے ہی گھر میں اپنوں کی ہی مسلط کردہ جنگ ۔۔۔۔۔۔ {جن کا جُرم تو صرف اتنا تھا کہ وہ معاشرے سے بد کاری کے خاتمے کا عزم لئے۔باہر نکلیں اور ایک قحبہ خانہ چلاتی عورت کو سبق سکھانے اپنے ساتھ لے آئیں اور دو تین روز بعد اُسے برقعہ پہنا کر۔۔۔توبہ کروا کے چھوڑ دیا۔۔!! پھر ایک مالش کے مرکزپر جا پہنچیں اور وہاں جسم فروشی کرتی خواتین کو اپنے ہمراہ لا کر خوب جھاڑ پلائی۔۔۔اور پھر نصیحت کے بعد روانہ کر دیا!!ڈنڈے لے کر گھومتیں مگر کسی کا سر تو نہ پھاڑا!! اُس وطنِ عزیز میں جہاں حکمرانوں اور طاقتوروں میں سے ہر دوسری شخصیت کسی لینڈ مافیا سے وابستہ ہے۔}”شاہد مسعود "

یہ ایسا تو جرم نہیں تھا کہ جس کے بدلے میں کئی دن بجلی پانی بند کرنے کے بعد ان پر جنگ مسلط کر دی جاتی۔۔  { وہ عسکری کارروائی شروع ہو گئی جس کی قوت کے بارے میں، موقع پر موجود ایک سرکاری افسرکا بیان تھا "لگتا ہے پوری بھارتی فوج نے چھوٹے ملک بھوٹان پر چڑھائی کر دی ہے” فائرنگ ۔۔دھماکے ۔۔گولہ باری ۔۔شیلنگ ۔۔جاسوس طیارے ۔۔گن شپ ہیلی کاپٹرز۔۔۔خُدا جانے کیا کچھ !! } "شاہد مسعود ”

مجھے آج بھی یاد ہے سید محمد بلال اور خواتین کا ایک گروپ ڈاکٹر کوثر فردوس ،سمیعہ راحیل کی قیادت میں ان بے بس بچیوں کے لیے راشن اور دوائیں لے جانے کے لیے گولیوں کی گھن گرج میں وہاں منتیں کرتا رہا کہ ان کے پاس صرف کھانا اور دوائیں ہیں انہیں اندرجانے دیاجائے ۔۔۔۔۔ اس ظلم و بر بر یت کی داستاں غم سمیعہ راحیل کی اپنی زبانی جس نے جہاں ہر ایک کی اصلیت کو ظاہر کیا وہیں ہر آنکھ کو اشک بار کردیا

S14S15

S16S17

ایک طرف یہ عالم تو دوسری جانب وہاں موجود سیاستدان جو نام نہاد مصالحتوں کے دعوے دار تھے رات کو دوکانیں کھلوا کر فالودے اور آئس کریمیں کھاتے رہے  ۔۔۔۔۔

ایسا بھیانک سلوک تو کوئی اپنے خطرناک اور بدترین دشمنوں کے ساتھ بھی کرتے ہوئے کئی ہزار بار سوچتا مگر یہ میرے ہی ملک کے فوجی جوان تھے جو جراتوں کے نشان ہوا کرتے تھے یہ وہی قاسم کے بیٹے تھے جنہیں بہن کی آبرو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی تھی  ۔۔۔ مگر ایک فرعون کے اشارے پر یہ کیا کچھ کر گزرے کہ

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہودو ہنود

درندہ تھا کہ انسان میں آج تک اس سوال کا جواب تلاش نہیں کرپائی ..

ابھی کچھ دنوں پہلے ہی چودھری شجاعت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے مشرف کو بہت سمجھایا کہ جامعہ حفصہ میں یہ سب نہ کیا جائے مگر وہ اس وقت طاقت کے نشہ میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی طاقت کا نشہ ہے جو ایک انسان کو فرعون بنا دیتا ہے جس کے سامنے ڈالروں کی اہمیت انسانی جانوں سے بھی کئی گناہ زیادہ ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔ مشرف کا اس پاکستان کو ایک اور تحفہ ڈرون حملوں کی شکل میں ملا جس کے نتیجے میں ہنستے بستے گھروں کے گھر اور بستیوں کی بستیاں راکھ کے ڈھیر بنا ئے جارہے ہیں اور ستم یہ کہ ان پر رونے والا اور اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ۔۔۔۔

مشرف کی واپسی کو ئی حادثاتی یا ایک جرنیل کی بہادری کا نتیجہ نہیں جیسا کہ کراچی ائیر پورٹ پر پہنچتے ہی مشرف نے یہ نعرہ لگایا کہ دیکھ لو میں آگیا لوگ کہتے تھے میں نہیں آونگا ۔۔۔۔۔۔۔ جس لمحے یہ سب دیکھ رہی میرا جی چاہا تھا کہ کاش میں مشرف کو یہ بتا سکتی کہ مشرف صاحب آپ آئے نہیں ہیں لائے گئے ہیں ۔۔۔۔۔ میرا یقین کامل تھا کہ میرا رب آپ کو ضرور لائے گا وہ کیسے یونہی آپ کو چھوڑ دے گا ابھی تو بہت سے قرض ہیں جو آپ نے چکانے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیسے رائیگاں جائیگا اتنی معصوم جانوں کا بے دردی سے بہایا گیا لہو کہ اگر ان سب کا لہو ایک جگہ جمع کیا جائے اور جرنیل صاحب آپ کو آپکی وردی سمیت اس میں کھڑا کیا جائے تو آپ کی پور پور اس میں ڈوب جائےگی ۔۔۔۔ کیسے نہ لاتا وہ رب آپ کو واپس ۔۔۔۔۔؟؟

اپنے آقاوں کو خوش کرنے میں آپ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ جس نے آواز اٹھائی وہی مجرم ٹھرا اور قابل سزا قرار دیا کسی کے نصیب میں جیلیں آئیِں تو کسی کو اگلے دن کا سورج بھی نصیب نہ ہوسکا اس قوم کو آج بھی وہ لہجہ نہیں بھولا ہوگا جب نواب اکبر خان بگٹی کو للکارتے ہوئے کہا گیا تھا “ یہ 77 کا عشرہ نہیں کہ یہ پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی” ۔۔۔۔ آہ ۔۔۔۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ جن کو خوش کرنے کے لیے عزت مآب پاک دامن بیٹیوں سے لیکر ماوں کی گودوں تک کا سودا کر دینے، اپنے ہی ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں رہن رکھ دینے کے باوجود وہ دشمن تو آج بھی دشمن ہی رہا ۔۔۔۔

کیونکہ رب اعلیٰ نے تو یہ بات کھول کر بیان کر دی تھی ’’یہود و نصاریٰ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔

آج اسی طاقت کے نشہ میں چور شخص کا عدالت سے یوں فرار ثابت کرتا ہے کہ بے شک رب کے ہاں مکافات عمل کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے جو لوگ دوسروں کی عبرت سے نصیحت نہیں حاصل کرتے اور خود کو زمین کا خدا سمجھ بیٹھتے ہیں تاریغ بتاتی ہے کہ  پھر قدرت انہیں نمونہ عبرت بنا دیتی ہے  ۔۔۔!!

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

وہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجہ میں

آنے والے دنوں میں مشرف کے ساتھ جو بھی ہونے والا مگر ایک سوال جو مجھے رہ رہ کر ستا رہا ہے وہ یہ کہ بے شک جرنیل مشرف ایک ڈکٹیٹر ایک ظالم اور جو بھی کہہ لیں اور جتنے بھی جرائم اس نے کیے جن کی ایک لمبی فہرست یقیننااس قوم کی یاداشتوں میں ثبت ہوگی مگر سوچیے کیا ان سب جرائم میں ایک اکیلا مشرف ہی ذمہ دار تھا یا ایک پورا ٹولہ جو کل مشرف کے ساتھ تھا جس ٹولے نے ایک ظالم کے ظلم پر صحیح کی مہر ثبت کی وہ ٹولہ آج کہاں ہے ؟ ؟؟

یہ سوال بہت اہم ہے قوم اگر مشرف کا انجام دیکھنے کی خواہش مند ہے اور تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ کل کے مشرفی آج کے تحریکی اور لیگی اور عوامی کی ٹوپیاں پہنے یہ وہی سب ہیں جنہوں ایک ڈکٹیٹر کو اسکے عزائم میں کامیاب ہونے کا پورا پورا موقع فراہم کیا ۔۔۔۔۔ اور آج ایک بار پھر وہ کسی اور چھتری تلے عوام کو پھر سے بے وقوف بنانے چلے مگر کیا دکھوں کی ماری عوام ایک بار  پھر یہ دھوکہ برداشت کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے ۔۔۔؟؟؟؟؟؟ سوچیے اور پہچانیے  آپ کی اپنی صفوں میں چھپے ان بھیڑیوں کو ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ پہچاننے کی مہلت بھی ختم ہو جائے ۔۔!!

کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟


میرے مطابق . . . ڈاکٹر شاہد مسعود
جُرم تو صرف اتنا تھا کہ وہ معاشرے سے بد کاری کے خاتمے کا عزم لئے۔۔۔باہر نکلیں اور ایک قحبہ خانہ چلاتی عورت کو سبق سکھانے اپنے ساتھ لے آئیں اور دو تین روز بعد اُسے برقعہ پہنا کر۔۔۔توبہ کروا کے چھوڑ دیا۔۔!! پھر ایک مالش کے مرکزپر جا پہنچیں اور وہاں جسم فروشی کرتی خواتین کو اپنے ہمراہ لا کر خوب جھاڑ پلائی۔۔۔اور پھر نصیحت کے بعد روانہ کر دیا!!ڈنڈے لے کر گھومتیں مگر کسی کا سر تو نہ پھاڑا!! اُس وطنِ عزیز میں جہاں حکمرانوں اور طاقتوروں میں سے ہر دوسری شخصیت کسی لینڈ مافیا سے وابستہ ہے۔
وہ مسجد شہید ہونے کے بعدپڑوس کی ایک لائبریری پر جا دھمکیں!!روشن خیال، خوشحال،خوش پوش دارالحکومت کی عظیم الشان کوٹھیوں کے درمیان، جن کی اکثریت رات گئے شراب و شباب کی محفلیں اپنے عروج پر دیکھا کرتی ہے۔۔۔ایک کونے میں یہ معصوم ،سادہ ،حجاب میں ملبوس ،پاکیزہ روحیں۔۔۔تلاوتِ قرآن پاک میں مگن رہتیں!! کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟ میں جب اُن سے ملا تو اُن کے لہجے میں عجب اکتاہٹ اور محرومیت کا احساس ہوا!! آنکھوں میں اُداسیت۔معاشرے سے شکا یت اور بیزاری!!سونے کے کنگنوں سے محروم کلائیوں اور نیل پالش سے محروم ہاتھوں میں ڈنڈے اُس بے کسی کا اظہار تھے۔۔۔جو غریب سادہ لوح گھرانوں کی ان شریف اور باکردار بچیوں کی آنکھوں سے بھی کراہ رہی تھی! اُن کے طرزِ عمل سے ذرا سا اختلاف کرنے کی گستاخی ہوئی تو سب اُلجھ پڑیں!!”شاہد بھائی!!آپ کو کیا پتہ؟” "ڈاکٹر صاحب!!آپ نہیں جانتے!! کسی آیت کا حوالہ۔۔۔کسی حدیث کی دلیل۔۔۔سب ایک ساتھ پِل پڑیں!!”آپ کو پتہ ہے امریکا میں کیا ہو رہا ہے؟” "یہ یہودیوں کی سازش ہے!!” "ہمارے دشمنوں کی چال ہے۔۔۔!!” "صلیبی جنگ ہے "وغیرہ وغیرہ !میں بڑی مُشکل سے اُنہیں اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بعد۔۔۔چُپ کروانے میں کامیاب ہو سکا!! اُن کی نگراں اُمِ حسان نے اسی دوران بتایا کہ” یہ طالبات ایک عرصے سے یہاں آئے مرد مہمانوں سے گفتگو نہیں کرتیں لیکن آپ سے ملنے کیلئے اِن کی ضد تھی!!” میں نے خاموشی مناسب تصور کرتے ہوئے اُن کی گفتگو سُننے میں عافیت تصور کی!!!
یہ میرے لئے ایک مختلف دُنیا تھی!! شاید یہ فیشن زدہ۔جدیدیت کی دلدل میں ڈوبی،ٹی شرٹ جینز میں ملبوس خوش شکل لڑکیوں کو۔۔۔ہر روز۔۔۔اپنے چھوٹے تاریک کمروں کے روشن دانوں سے جھانک کر۔۔۔باہر سڑکوں پر ڈرائیونگ کرتا دیکھتی ہوں!!ممکن ہے۔ ۔قریبی بازار تک آتے جاتے۔۔ اِن کے کانوں تک بھی دلفریب نغموں کی تھاپ پہنچتی ہو گی!! کچی عمروں میں یقینا اِن کی آنکھیں بھی خواب دیکھتی ہوں گی!!اِن کا دل بھی کبھی اچھے رشتوں کی آس میں دھڑکتا ہو گا!! اِن کا بھی عید پر نئے کپڑے سلوانے۔۔ہاتھوں میں حِنا سجانے اور چوڑیاں پہننے کو جی للچاتا ہو گا!!لیکن آرزوئیں،خواہشات اور تمنائیں ناکام ہو کر برقعوں کے پیچھے اس طرح جا چھپیں کہ پھر نہ چہرے رہے۔۔نہ شناخت!!!صرف آوازیں تھیں۔۔ جو اب تک میرے کانوں میں گونجتی ہیں!! اِنہی میں ایک چھوٹی بچی۔۔یہی کوئی آٹھ دس برس کی۔۔حجاب میں اس طرح ملبوس کی چہرہ کُھلا تھا۔۔گفتگو سے مکمل ناواقفیت کے باوجود مسلسل ہنسے جاتی تھی کہ شاید یہی۔۔مباحثہ۔۔اُس کی تفریح کا سبب بن گیا تھا!!”بیٹی آپ کا نام کیا ہے۔۔۔؟” میرے سوال پر پٹ سے بولی "اسماء۔۔انکل!” پیچھے کھڑی اس کی بڑی بہن نے سر پر چپت لگائی”انکل نہیں۔۔بھائی بولو۔۔”خُدا جانے اس میں ہنسنے کی کیا بات تھی کہ چھوٹے قد کے فرشتے نے اس پر بھی قہقہہ لگا کر دہرایا”جی بھائی جان!!” "آپ کیا کرتی ہیں؟” میں نے ننھی اسماء سے پوچھا۔”پڑھتی ہوں!” "کیا پڑھتی ہو بیٹا؟” جواب عقب میں کھڑی بہن نے دیا”حفظ کر رہی ہے بھائی” "اور بھی کچھ پڑھا رہی ہیں؟” میں نے پوچھا۔” جی ہاں! کہتی ہے بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی!! بہن نے جو کہ یہی کچھ پندرہ سولہ برس کی مکمل حجاب میں ملبوس تھی، جواب دیا۔”آپ دو بہنیں ہیں؟” میں نے سوال کیا۔”جی ہاں! بھائی!!”بڑی بہن نے اسماء کو آغوش میں لیتے ہوئے کہا”تین بھائی گاؤں میں ہیں۔۔ہم بٹہ گرام سے ہیں نا!! کھیتی باڑی ہے ہماری”
میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کی سلسلے میں موجود تھا۔۔طالبات اور عبدالرشید غازی صاحب سے گفتگو کے بعد میں نے بچیوں کو خُدا حافظ کہہ کر غازی صاحب کے ساتھ اُن کے حجرے کی طرف قدم بڑھایا تو ننھی اسماء پیچھے بھاگتی ہوئی آئی "بھائی جان! آٹوگراف دے دیں!!” ہانپ رہی تھی”میرا نام اسماء اور باجی کا نام عائشہ ہے!!” میں نے حسبِ عادت دونوں کیلئے طویل العمری کی دُعا لکھ دی!! آگے بڑھا تو ایک اور فرمائش ہوئی”بھائی جان! اپنا موبائل نمبر دے دیں۔آپ کو تنگ نہیں کروں گی!!” نہ جانے کیوں میں نے خلافِ معمول اُس بچی کو اپنا موبائل نمبر دے دیا۔اُس کی آنکھیں جیسے چمک اُٹھیں۔۔اسی دوران غازی صاحب نے میرا ہاتھ کھینچا۔۔”ڈاکٹر صاحب یہ تو ایسے ہی تنگ کرتی رہے گی۔۔کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے اور عبدالعزیز صاحب ۔۔آپ کا انتظار کر رہے ہیں” بچی واپس بھاگ گئی اور میں مدرسے کے اندر تنگ گلیوں سے گُزرتا۔۔عقب میں غازی صاحب کے حجرے تک جا پہنچا۔۔جہاں اُنہوں نے کہا کہ”ڈاکٹر صاحب ایک زحمت!! والدہ بھی آپ کو دُعا دینا چاہتی ہیں۔۔!! "کھانا ہم نے فرش پر دسترخوان بچھا کر کھایا اور اس دوران عبدالعزیز صاحب بھی۔۔ساتھ شامل ہو گئے۔۔بات چیت ہوتی رہی اور جب میں نے رُخصت چاہی تو اُنہوں نے اپنی کتابوں کا ایک سیٹ عطیہ دیتے ہوئے دوبارہ آنے کا وعدہ لیا۔۔اور پھر دونوں بھائی۔۔جامعہ کے دروازے تک چھوڑنے۔اس وعدے کے ساتھ آئے کہ میں دوبارہ جلد واپس آؤں گا۔
حقیقت یہ کہ میں دونوں علماء کا استدلال سمجھنے سے مکمل قاصر رہا!! چند مسلح نوجوان اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے۔۔۔مصافحہ تو کیا لیکن گفتگو سے اجتناب کرتے ہوئے۔آگے بڑھ گیا! لیکن دروازے سے باہر قدم رکھتے وہی شیطان کی خالہ اسماء اچھل کر پھر سامنے آ گئی”بھائی جان!! میں آپ کوفون نہیں کروں گی۔۔وہ کارڈباجی کے پاس ختم ہو جاتا ہے نا۔۔ایس ایم ایس کروں گی۔۔جواب دیتے رہیے گا۔۔پلیز بھائی جان!!”اُس کی آنکھوں میں معصومیت اور انداز میں شرارت کا امتزاج تھا۔۔۔”اچھا بیٹا!! ضرور۔۔۔اللہ حافظ”جاتے جاتے پلٹ کر دیکھا تو بڑی بہن بھی روشندان سے جھانک رہی تھی! کہ یہی دونوں بہنوں کی کُل دُنیا تھی!! کون تھیں؟ کہاں چلی گئیں؟ جو احباب میری ذاتی زندگی تک رسائی رکھتے ہیں وہ واقف ہیں کہ میں خبروں کے جنگل میں رہتا ہوں!!دن کا بیشتر حصہ اخبارات۔جرائد اور کتابوں کے اوراق میں دفن گُزارتا ہوں!! چنانچہ گزرے تین ماہ کے دوران بھی جہاں چیف جسٹس کا معاملہ پیچیدہ موڑ اختیار کرتا۔۔اُن میں الجھائے رہنے کا سبب بنا!! وہیں یہ مصروفیات بھی اپنی جگہ جاری رہیں۔لیکن اس تمام عرصے، وقفے وقفے سے مجھے ایک گمنام نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوتے رہے!!عموماً قرآن شریف کی کسی آیت کا ترجمہ یا کوئی حدیثِ مبارکہ۔۔۔یا پھر کوئی دُعا۔۔رومن اُردو میں۔۔۔اور آخر میں بھیجنے والے کا نام۔۔۔”آپ کی چھوٹی بہن اسماء” یہ سچ ہے کہ ابتداء میں تومجھے یاد ہی نہیں آیا کہ بھیجنے والی شخصیت کون ہے؟ لیکن پھر ایک روز پیغام میں یہ لکھا آیا کہ”آپ دوبارہ جامعہ کب آئیں گے؟”تو مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہی چھوٹی نٹ کھٹ۔۔۔حجاب میں ملبوس بچی ہے۔۔جس سے میں جواب بھیجنے کا وعدہ کر آیا تھا!!میں نے فوراً جواب بھیجا”بہت جلد۔۔!!” جواب آیا”شکریہ بھائی جان!” میں اپنے موبائل فون سے پیغام مٹاتا چلا گیا تھا چنانچہ چند روز قبل جب لال مسجداور جامعہ حفصہ پر فوجی کارروائی کا اعلان ہوا تو میں نے بے تابی سے اپنے فون پر اُس بچی کے بھیجے پیغامات تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بد قسمتی سے میں سب مٹا چُکا تھا! اُمید تھی کہ اسماء بڑی بہن کے ساتھ نکل گئی ہو گی! لیکن پھر بھی بے چینی سی تھی!! کوئی آیت،حدیث،دُعا بھی نہیں آ رہی تھی! اس تصور کے ساتھ خود کو تسلی دی کہ ان حالات میں، جب گھر والے دور گاؤں سے آ کر۔۔دونوں کو لے گئے ہوں گے تو افراتفری میں پیغام بھیجنے کا موقع کہاں؟؟ جب بھی اعلان ہوتا کہ "آج رات کو عسکری کارروائی کا آغاز ہو جائے گا”!!”فائرنگ،گولہ باری کا سلسلہ شروع” "مزید طالبات نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا” "ابھی اندر بہت سی خواتین اور بچے ہیں” "یرغمال بنا لیا گیا ہے” وغیرہ وغیرہ۔۔۔تو میری نظر اپنے موبائل فون پر اس خواہش کے ساتھ ۔۔چلی جاتی کہ کاش!! وہ پیغام صرف ایک بار پھر آ جائے۔۔میں نے جسے کبھی محفوظ نہ کیا!!
8جولائی کی شب اچانک ایک مختصر ایس ایم ایس موصول ہوا”بھائی جان! کارڈختم ہو گیا ہے۔۔پلیز فون کریں۔” میں نے اگلے لمحے رابطہ کیا تو میری چھوٹی ۔۔پیاری اسماء زاروقطار رو رہی تھی”بھائی جان، ڈر لگ رہا ہے! گولیاں چل رہی ہیں! میں مر جاؤں گی!” میں نے چلا کر جواب دیا”اپنی بہن سے بات کراؤ۔۔”بہن نے فون سنبھال لیا”آپ دونوں فوراً باہر نکلیں۔۔معاملہ خراب ہو رہا ہے۔۔کہیں تو میں کسی سے بات کرتا ہوں کہ آپ دونوں کو حفاظت سے باہر نکالیں۔۔”دھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں!! مجھے احساس ہوا کہ بڑی بہن نے اسماء کو آغوش میں چھپا رکھا ہے لیکن چھوٹی پھر بھی بلک رہی ہے۔۔رو رہی ہے۔۔!!”بھائی وہ ہمیں کیوں ماریں گے؟؟ وہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں!! وہ بھی کلمہ گو ہیں! ! اور پھر ہمارا جُرم ہی کیا ہے؟ آپ تو جانتے ہیں بھائی! ہم نے تو صرف باجی شمیم کو سمجھا کر چھوڑ دیا تھا۔۔چینی بہنوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا۔۔بھائی!! یہ سب ان کی سیاست ہے۔۔ہمیں ڈرا رہے ہیں” بہن پُر اعتماد لہجے میں بولی۔۔!! ” دیکھیں! حالات بُرے ہیں!! میں بتا رہا ہوں۔۔آپ فوراً نکل جائیں ۔۔خدا کیلئے!!” مجھے احساس ہوا کہ میں گویا ۔۔اُنہیں حکم دے رہا ہوں!!”بھائی!! آپ یونہی گھبرا رہے ہیں!! غازی صاحب بتا رہے تھے کہ یہ ہمیں جھکانا چاہ رہے ہیں۔۔باہر کچھ بھائی پہرہ بھی دے رہے ہیں! کچھ بھی نہیں ہو گا، آپ دیکھیے گا۔۔اب فوج آ گئی ہے ۔نا!! یہ بدمعاش پولیس والوں کو یہاں سے بھگا دے گی!! آپ کو پتہ ہے۔۔فوجی تو کٹر مسلمان ہوتے ہیں۔۔وہ ہمیں کیوں ماریں گے۔۔ہم کوئی مجرم ہیں۔۔کوئی ہندوستانی ہیں۔۔کافر ہیں۔۔کیوں ماریں گے وہ ہمیں۔۔!!” بہن کا لہجہ پُر اعتماد تھا۔۔اور وہ کچھ بھی سُننے کو تیار نہ تھی "ڈاکٹر بھائی مجھے تو ہنسی آ رہی ہے کہ آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں!! آپ کو توپتہ ہے کہ یہ سلسلہ” اسی طرح چلتا رہتا ہے! یہ اسماء تو یونہی زیادہ ڈر گئی ہے۔اور ہاں آپ کہیں ہم بہنوں کا نام نہ لیجئے گا۔ایجنسی والے بٹہ گرام میں ہمارے والد،والدہ اور بھائیوں کو پکڑ لیں گے!سب ٹھیک ہو جائے گا بھائی! وہ ہمیں کبھی نہیں ماریں گے!!”میں نے دونوں کو دُعاؤں کے ساتھ فون بند کیا اور نمبر محفوظ کر لیا۔
اگلے روز گزرے کئی گھنٹوں سے مذاکرات کی خبریں آ رہی تھیں اور میں حقیقتاً گُزرے ایک ہفتے سے جاری اس قصے کے خاتمے کی توقع کرتا، ٹی وی پر مذاکرات کو حتمی مراحل میں داخل ہوتا دیکھ رہا تھا کہ احساس ہونے لگا کہ کہیں کوئی گڑبڑ ہے۔ میں نے چند شخصیات کو اسلام آباد فون کر کے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ معاملہ بگڑنے کو ہے تو جواباً ان خدشات کو بلا جواز قرار دیا گیا لیکن وہ دُرست ثابت ہوئے اور علماء کے وفد کی ناکامی اور چوہدری شجاعت کی پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی وہ عسکری کارروائی شروع ہو گئی جس کی قوت کے بارے میں، موقع پر موجود ایک سرکاری افسرکا بیان تھا "لگتا ہے پوری بھارتی فوج نے چھوٹے ملک بھوٹان پر چڑھائی کر دی ہے” فائرنگ۔۔دھماکے۔۔گولہ باری۔۔شیلنگ۔۔جاسوس طیارے۔۔گن شپ ہیلی کاپٹرز۔۔۔خُدا جانے کیا کچھ!! اور پھر باقاعدہ آپریشن شروع کر دینے کا اعلان۔ اس دوران عبد الرشید غازی سے بھی ایک بار ٹی وی پر گفتگو کا موقع ملا۔۔اور پھر پتہ چلا کہ اُن کی والدہ آخری سانسیں لے رہی ہیں!! اور تبھی صبح صادق فون پر ایس ایم ایس موصول ہوا”پلیز کال” یہ اسماء تھی!! میں نے فوراً رابطہ کیا تو دوسری طرف۔چیخیں۔۔شور شرابہ۔۔لڑکیوں کی آوازیں”ہیلو۔۔اسماء! بیٹی! ہیلو ” خُدا جانے وہاں کیا ہو رہا تھا”ہیلو بیٹی آواز سُن رہی ہو” میں پوری قوت سے چیخ رہا تھا۔”بات کرو کیا ہوا ہے” وہ جملہ۔۔آخری سانسوں تک میری سماعتوں میں زندہ رہے گا! ایک بلک بلک کر روتی ہوئی بچی کی رُک رُک کر آتی آواز "باجی مر گئی ہے۔۔مر گئی ہے باجی۔۔” اور فون منقطع ہو گیا!!
اسٹوڈیوز سے کال آ رہی تھی کہ میں صورتحال پر تبصرہ کروں لیکن میں بار بار منقطع کال ملانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا!! کچھ کہنے یا سُننے کی ہمت نہ تھی۔کسی کمانڈو جیسی طاقت،اعجازالحق جیسی دیانت اور طارق عظیم جیسی صداقت نہ ہونے کے باعث مجھے ٹی وی پر گونجتے ہر دھماکے میں بہت سی چیخیں۔۔فائرنگ کے پیچھے بہت سی آہیں اور گولہ باری کے شور میں”بھائی جان! یہ ہمیں کیوں ماریں گے؟” کی صدائیں سُنائی دے رہی تھیں۔چھوٹے چھوٹے کمروں میں دھواں بھر گیا ہو گا۔اور باہر فائرنگ ہو رہی ہو گی۔بہت سی بچیاں تھیں۔۔فون نہیں مل رہا تھا۔۔پھر عمارت میں آگ لگ گئی۔ اور میں اسماء کو صرف اُس کی لا تعداد دُعاؤں کے جواب میں صرف ایک الوداعی دُعا دینا چاہتا تھا۔۔ناکام رہا۔ فجر کی اذانیں گونجنے لگیں تو وضو کرتے ہوئے میں نے تصور کیا کہ وہ جو سیاہ لباس میں ملبوس مجھ سے خواہ مخواہ بحث کر رہی تھیں۔۔اب سفید کفن میں مزید خوبصورت لگتی ہوں گی! جیسے پریاں۔ قحبہ خانوں کے سر پرستوں کو نوید ہو کہ اب اسلام آباد پُر سکون تو ہو چکا ہے لیکن شاید اُداس بھی! اور یہ سوال بہت سوں کی طرح ساری عمر میرا بھی پیچھا کرے گا کہ وہ کون تھیں ؟ کہاں چلی گئیں؟ (دونوں مرحوم بچیوں سے وعدے کے مطابق اُن کے فرضی نام تحریر کر رہا ہوں)۔

کہانی سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کی


خود کلامیاں : بلال ساجد

  دیکھیں جی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کا شروع سے یہ خیال تھا کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہم خیال قوتوں کو مل کر الیکشن میں جانا چاہیئے اور کم سے کم ایجنڈے پہ اتفاقِ رائے پیدا کر کے آگے بڑھنا چاہیئے۔

پورے پاکستان میں بالعموم اور کراچی و بلوچستان میں بالخصوص مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا ہونا چاہیئے اور حالات کو بہتر کرنے کے لیے اور بلوچستان میں سیاسی عمل کی بحالی کے لیے کوئی لائحہ عمل بنانا چاہیئے ۔۔۔ لیکن تحریکِ انصاف کے طرزِ سیاست یا یوں کہہ لیں کہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں یہ کوششیں ناکام ٹھریں اور جماعتِ اسلامی نے محسوس کیا کہ مسلم لیگ نواز اور تحریکِ انصاف کا ایک سٹیج پہ بیٹھنا ممکن نہیں رہا!

اِس کے بعد، جماعتِ اسلامی نے یہ کوشش کی کہ کم از کم بلوچستان اور کراچی ایشو پہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کیا جائے اور خدانخواستہ 1971 کی تاریخ کو نہ دوہرایا جائے لیکن کچھ عوامل ایسے تھے جس کی وجہ سے ہماری یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی اور یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

دوسری طرف، جماعتِ اسلامی تنہا پروازی سے کسی بھی وقت خوفزدہ نہیں تھی اور ہم اکیلے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیتے لیکن ملک کے موجودہ حالات میں جماعت سے باہر بیٹھے ہمارے کچھ ہمدرد ہمیں بار بار یہ مشورہ دے رہے تھے کہ دائیں بازو کا ووٹ تقسیم نہ ہونے دو ورنہ پیپلز پارٹی کی حکومت آ جائے گی ۔۔۔ جماعتِ اسلامی کے اندر بھی اس حوالے سے دو طرح کی رائے پائی جاتی تھی ۔۔۔

اول، کسی کے ساتھ اتحاد یا ایڈجیسٹمنٹ نہ کی جائے اور تنہا پرواز کی جائے۔ دوم، مسلم لیگ نواز یا تحریک انصاف کے ساتھ سیٹوں کی بنیاد پہ نہیں بلکہ ایشوز کی بنیاد پہ ایڈجیسٹمنٹ کی جائے۔

جماعتِ اسلامی کی مرکزی شوری نے اس پہ غور و خوص کیا اور اس ڈسکشن میں مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کی اعلی قیادت کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے ساتھ خواہشِ اتحاد کے حوالے سے ساے بیانات پہ بھی غور کیا گیا ۔۔۔ اور ۔۔ قرعہِ فال تحریکِ انصاف کے نام نکلا ۔۔۔

عمران خان صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ ہمارے رابطے تو بہت پہلے سے تھے ۔۔۔ اور عمران خان صاحب نے بار بار مختلف فورمز پہ اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ جماعتِ اسلامی سے ایڈجیسٹمنٹ ہو سکتی ہے ۔۔۔ اسی بنیاد پہ ہم نے ان کی طرف قدم بڑھائے تھے اور 24 مارچ کو میٹنگ میں یہ بات تقریباً طے ہو گئی تھی کہ جماعتِ اسلمی اور تحریکِ انصاف سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کریں گی ۔۔۔

اس حوالے سے جاوید ہاشمی صاحب کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی لیکن بعد میں اس کمیٹی کا کوئی اجلاس تک نہ ہو سکا اور یہ بات آپ کو تحریکِ انصاف کے دوستوں سے پوچھنی چاہیئے کہ ایسا کیوں ہوا ۔۔۔!

مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہماری انڈرسٹینڈنگ نہ ہو سکنے کی وجہ بھی بہت واضح ہے ۔۔۔ میری رائے میں کچھ ایسے لوگ، جن کے بارے میں ن لیگ کا یہ خیال ہے کہ وہ اقتدار کا فیصلہ کرتے ہیں، ۔۔۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ن لیگ، جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی تشخص رکھنے والی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرے اور یہ بات آپ ن لیگ سے ہی پوچھیں کہ انہیں کہاں سے کس طرح کے پریشر کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔!

لیکن میں عرض کروں کہ ہمارے لیے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کا ہونا یا نہ ہونا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے ۔۔ ہم نے سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بغیر جتنی سیٹیں لینی تھیں سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کے بعد ان میں ایک یا دو سیٹوں کا اضافہ ہو جاتا لیکن ہمارا خیال تھا کہ اگر دائیں بازو کا ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہوا تو اس کا فائدہ وہی کرپٹ ٹولہ اٹھائے گا جو پچھلے پانچ سال ہم پہ مسلط رہا ہے!

%d bloggers like this: