Israel’s Childsnatchers attack again: 7 Palestinians rounded up by IOF including 5 minors


Israel’s Childsnatchers attack again: 7 Palestinians rounded up by IOF including 5 minors.

Advertisements

MOH Press Release: Another massacre, this time in Khan Younis


MOH Press Release: Another massacre, this time in Khan Younis.

"انتخابات 2013 اور جماعت اسلامی ” ایک تجزیہ


مصنف : جویرہ سعید

٢٠١٣کے انتخابات کئی اعتبار سے جماعت اسلامی کے لئے اہم تھے اور کارکنان کو بہت پر امید اور پر جوش کیے ہوے تھے. پہلی مرتبہ کسی سے اتحاد کیے بغیر اپنے نام اور منشور کے ساتھ اتخابات میں شرکت، پچھلے برسوں میں مختلف شعبہ ہاے زندگی میں کی گئی محنت، مثلا بہت سے فلاحی اور تعلیمی اداروں کا قیام،اور بے شمار منصوبوں اور پروجیکٹس،کی بنا پر عوام میں بڑھتا ہوا نفوذ، MMA کے دور حکومت اور کراچی کی میر شپ کے دوران حکومت کا تجربہ،اور کمائی جانے والی نیک نامی وہ امید کی کرنیں تھی جو کارکنان کو سرگرم کر رہی تھیں. دوسری طرف ملک کے بدترین حالات، لاقانونیت، کرپشن، مہنگائی، ملکی سلامتی کو در پیش خطرات کے سبب عوام میں بڑھتا ہوا غم و غصہ اور بظاھر روایتی سیاسی جماعتوں سے بے زاری بھی امید دلا رہی تھی کہ عوام متبادل قوتوں کے منتظر ہیں، اور جماعت کی گزشتہ برسوں میں کی گئی محنت اس کو اس متبادل قوت کے طور پر سامنے لا رہی ہے. لہٰذا کارکنان اور خصوصا نوجوان نسل نے بری محنت اور جوش و جذبے سے کام کیا اور اب تک مختلف پہلوؤں سے جو کمیاں محسوس ہوتی تھیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی گئی. جیسا کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے جماعت کے مکمل black out کے نقصانات کو زبردست سوشل میڈیا مہم کے ذریے پورے کرنے کی کوسش قابل ذکر بھی ہے اور قابل ستائش بھی

 

لیکن ان سب کے بعد انتخابات کے نتایج اور کراچی میں انتخابی عمل کے boycott نے ان پر جوش کارکنان میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی. جماعت کے زبردست نظام سمع و اطاعت اور تربیت نے الحمدللہ کوئی انتشار یا بد مزگی تو نہیں پیدا ہونے دی، لیکن اندرون خانہ کارکنان سے لے کر ہمدردوں اور متاثرین تک میں صدمے، اضطراب،اور مایوسی کی تند و تیز لہریں اٹھتی رہی ہیں. خصوصا ان افراد میں جنہوں نے انتخابات میں بہت جوش و جذبے اور اچھے نتایج کے یقین کے ساتھ حصہ لیا تھا. مختلف سوالات ہیں جو مضطرب ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں،ان میں دو سوالات اہم ہیں،

 

١) انتخابات میں ناکامی کہیں خود جماعت کی ناکامی تو نہیں، یہ اس بات کا مظہر تو نہیں کہ جماعت اپنی دعوت کے نفوز میں ناکام رہی ہے. اور کیا جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ عمومی تاثر درست ہے کہ یہ ایک ناکام جماعت ہے جو کبھی بھی خاطر خواہ سیٹیں نہیں لے سکی اور عوام کی نمایندہ جماعت نہیں بن سکی؟ ٢) جماعت کو ان ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، جس کے لئے اس کو ایک زبردست تبدیلی کی ضرورت ہے، اور یہ تبدیلی افکار و طریقہ کار اور mind set سب میں ناگزیر ہے. اور جماعت ان کو اختیار کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟

 

ہم نے یہاں سوالات کا الگ الگ تجزیہ کرنے کی کوسش کی ہے. پہلا سوال اب تک کی گئی جدو جہد سے متعلق ہے اور دوسرا سوال آنے والے وقتوں میں درست سمت میں چلنے کے لئے تبدیلی اختیار کرنے سے تعلق رکھتا ہے.

 

پاکستان میں انتخابات کا عمل، عوام کی اس میں شرکت، اور اس کے نتایج دو اور دو چار کی طرح سیدھا معاملہ نہیں ہے. اس میں بہت سے عوامل دخل انداز ہوتے ہیں. لسانی ، صوبائی، مسلکی عصبیتیں، جاگیر دارانہ نظام اور وڈیرہ شاہی، دولت کا عمل دخل، لاقانونیت، عوام میں خواندگی کی شرح اور سیاسی بیداری کی کمی، بیرونی طاقتوں کی ملکی حالات پر گرفت، ملکی اداروں کا ان کے زیر اثر اور جانبدار ہونا ،سب ہی اہم ہیں. مذہبی جماعتوں سے پاکستانی قوم کی عقیدت اور وابستگی اپنی جگہ اور عملی زندگی میں الگ معیارات ہوتے ہے. اس اعتبار سے پاکستانی قوم ایک منفرد قوم ہے. مصر، ترکی، اور دوسرے ممالک کے بر عکس اس قوم نے اسلام مخالف قوتوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا. مذہبی معاملات پر یہ مخالف قوتوں کے خلاف مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر سینہ سپر ہو جاتی ہے، کہ مذہب بے زر قوتوں کو بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیتی ہے اورانھیں مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنا کام کرنا پر تاہے.دوسری طرف اپنی اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو مذہب کے مطابق ڈھالنے اور روایتی مذہبیت سے بڑھ کر عملی تقاضوں کو پورا کرنے میں وہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں اتی. یہی تناقص سیاسی میدان میں مذہبی جماعتوں کا ساتھ دینے میں بھی مانع رہا ہے.

 

ان سب زمینی حقائق کے پیش نظر جماعت اسلامی جیسی اصولی موقف اور طریقہ کر رکھنے والی پارٹی کے لئے انتخابات ایک بہت بڑا چیلنج ہوا کرتے ہیں.اتنے بہت سے محازوں پر چو مکھی لڑائی لڑنا،اور اپنے دامن کو ان سری آلائشوں سے بچاتے ہوے کامیابی کے لئے کوششیں کرنا اتنا آسان نہیں. اور اسی بنا پر دوسری جماعتوں کے ساتھ موازنہ بھی معقول نہیں لگتا. اس سری صورتحال میں ہمارا ایک ووٹ بھی بھرتی کا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے بری عرق ریزی اور محنت ہوتی ہے.

 

ان سب باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جماعت سے غلطیاں نہیں ہوئیں. ظاہر ہے کہ کوئی بھی صاحب عقل ایسی بات نہیں کر سکتا. بلا شبہ غلطیاں بھی ہوئی ہیں، اور ان کا گہرائی سے تجزیہ اور بروقت اصلاح بھی ضروری ہے، لیکن یہاں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ غلطیوں کا تجزیہ اور تنقید بارے اصلاح اور چیز ہے اور انتخابات میں ناکامی کی بنا پر پوری تحریک اور اس کی جدوجہد کو سوالیہ نشان بنا دینا اور بات ہے.

 

بیان کیے گئے عوامل کے پیش نظر ہماری راہے یہ ہے کہ انتخابات میں ناکامی یا کامیابی کو جماعت کی دعوت کے نفوذ کا معیار نہ ہی بنایا جاے تو بہتر ہے.بلکہ اس کو کچھ اور ہی اثرات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے.

 

گزشتہ ستر برسوں میں پاکستان کے حالات اور چلینجز کو دیکھیں، اور اس کے مقابلے میں مذہبی قوتوں اور خصوصا جماعت اسلامی کی جدوجہد کا جایزہ لیں تو یہ کہے بغیر رہنا ممکن نہیں کہ یہ الحمدللہ جماعت کی دعوت کی روز افزوں ترقی کا سفر ہے. جو جماعت ستر افراد اور ستر روپوں سے شروع ہوئی ، تمامتر کٹھنائیوں کے باوجود آج اس کے کارکنان، ہمدردوں اور متاثرین کی تعداد اور اثاثوں کا اندازہ لگائیں. اسلامی دستور کی تیّاری، کمیونزم اور سیکولرازم ،غیر ملکی مداخلت کے مقابلے میں کامیاب جدوجہد ، ہر شعبہ زندگی میں اسلام پسند رحجانات اور افراد کا پایا جانا، اسلامی نظام، احکامات، اصطلاحات اور شعائر کے حوالے سے عمومی نقطۂ نظر میں مثبت تبدیلیاں (acceptance) ، نظری اور عملی اعتبار سے ان کے قابل عمل اور مفید ہونے کا اعتراف (اقتدار و اختیار کی طاقت کے بغیر ہی ) اور ان کے حوالے سے stereotypes میں تبدیلیاں،بے شمار فلاحی و تعلیمی اداروں اور منصوبوں کا قیام  پرہے لکھے اور دیانت دار افراد کی ایک کھیپ کا تیّر ہو کر ہر شعبہ زندگی میں مصروف عمل ہونا، اور پوری دنیا  ان افراد اور دعوت کے ذزایو کے ذریے بے شمار اسلامی تحریکوں کا پھلنا پھولنا وار تقویت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خیر کثیر ہے جو جماعت کے حصّے میں آیا ہے. یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اقتدار و اختیار کے ایوانوں میں رسائی کے سلسلے میں اس جماعت کو جس قدر تسلسل کے ساتھ ناکامیاں دیکھنی پڑی ہیں، اس کے باوجود نہ اس کا سفر رکا اور نہ ہی وہ کسی بری تقسیم کا شکار ہوئی، بلکہ روز بروز آگے بڑھتی جا رہی ہے. اس کے برعکس دوسری پارٹیز نے ہمیشہ اقتدار کے مزے بھی لوٹے، بیرونی طاقتوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی، دولت کے سر چشموں کو سے بھی مستفید ہوتے رہیں، اور معاشرے میں پائی جانے والی کمزوریوں کا بھی ہمیشہ ان ہوں نے فائدہ اٹھایا. اس کے باوجود وہ مسلسل ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم دار تقسیم سے بھی دو چار ہیں.

 

ان اتخابات کے بعد یہ سوال ایک بار پھر اٹھ رہا ہے کہ جماعت اسلامی جیسا نصب العین اور طریقہ کر رکھنے والی تحریک کے لئے انتخابات والا option کام آ بھی سکتا ہے یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے، لکن اس سوال کا اٹھنا بذات خود اس بات کا مظہر ہے، کہ انتخابات میں ناکامی کی وجہ محض دعوت کے نفوذ اور محنتوں میں کمی ہی نہیں بلکہ یہ دوسرے عوامل بھی اہم ہیں.

 

یہاں ایک بار پھر اپنی بات کو دہراتے ہیں کہ غلطیوں کا ہونا اپنی جگہ مسلم ہے اور اصلاح بھی بہت ضروری ہے، لکن شدید بےچینی اور کسی حد تک مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ ہم انتخابات کی ناکامی کو اپنی جماعت کی ناکامی یا کامیابی کا معیار بنا رہے ہیں. ضرورت اس بات کی ہے کہ ان لمحات کو طول دیے بغیر نئے عزم و حوصلے کے ساتھ تعمیری تنقید اور اصلاح کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھایا جے.

 

دوسرا سوال جماعت کے افکار و طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت اور جماعت کی طرف سے اس سے گریز سے متعلق ہے. اس سلسلے میں جو بحث جاری ہے اس کا حاصل یہ کہ جماعت کو وقت کے تقاضوں اور ناکامیوں کی پیش نظر تبدیلیوں کے لئے تیّار بھی رہنا چاہیے، اپنے اندر جذب بھی کرنا چھیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان کو اختیار بھی کرنا چاہیے. اس بحث کا ایک "silent observer” کی حیثیت سے ہم نے جو جایزہ لیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کا یہ مطالبہ دو مختلف گروپس کی جانب سے ہے. بادی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بری تعداد میں لوگ تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر کچھ وجوہات کی بنا پر ان پر غور نہیں کیا جارہا. لیکن ذرا سا گہرا مطالعہ اور مشاھدہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ ان دونوں گروپس کے نظریات و مطالبات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں. یہ دوطرح کی سوچیں intellectual سطح سے لے کر عام ذہنی سطح تک نظر اتی ہیں. اس لئے تبدیلی کا یہ عمل اتنا آسان نہیں جتنا بظاھر معلوم ہوتا ہے.

 

ایک گروہ وہ ہے جو برس ہا برس کی روایات ، طے شدہ اصولوں اور معیارات پر سختی سے قائم ہے،اور لچک اور وسعت کو طغیانی، اور اصل سے انحراف سے تعبیر کرتا ہے، ان کے مطابق ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ، لچک اور وسعت کے نام پر ہم اپنے اصولوں سے انحراف کرتے رہے ہیں، اگر :حقیقی کامیابی” مطلوب ہے تو "اصل” کی طرف واپس لوٹنا ہو گا. دنیا اور اس کے حالات کو سمجھ کر اپنی reshaping کے بجاے دنیا کو اپنی دعوت اور standards کے مطابق ڈھالا جاے. اور اسی حوالے سے اپنی دعوت کو موثر بنایا جاے. اس نقطہ نظر کے بہت سے shades ہیں، جو مختلف روےیوں میں نظر اتے ہیں. اس گروہ کی قیادت علمی شخصیات کے ہاتھ میں ہے، جن کا علمی اور نظری سرمایا اسلاف کا علمی زخیرہ ہے، اور بادی نظر میں ان کا موقف قرآن و سنّت کے این مطابق بھی نظر اتا ہے.

 

دوسرا گروہ وہ ہے جو بدلتے ہوے حالات ، اور اس کے تقاضوں کو مد نظر رکھنے ، اسلام کی آفاقیت اور اجتہادی قوت کو بروے کار لانے، بنیادی اسلامی اخلاقیات کو مرکز دعوت بنانے اور اسی حوالے سے نظریات اور معاملات کو وسعت اور لچک دینے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے. مقصد زیادہ سے زیادہ لوگو ں کو ہمرکاب بنانا اور اسلام کے دامن رحمت میں سمیٹنا ہے.اس گروہ کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کو خطے سے بہار نکل کر نئی دنیاؤں میں کام کرنے کے مواقع میسّر آہے ہیں.اور اس کے لئے وہ عالم اسلام میں برپا اسلامی تحریکوں کی بدلتی ہوی پالیسیز ، stretegies اور ان کے مثبت نتایج کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں.

 

ان دونوں گروپس کے اخلاص، اپنے اپنے دائروں میں کی گئی محنت تجربات اور دلائل کے معقول ہونے سے انکار ممکن نہیں. ان کا اصرار بھی سمجھ میں اتا ہے. لکن ان کا اختلاف اس بات کا مظہر ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو من و عن اپنا لینا اور دوسرے کو خاطر میں نہ لانا ممکن نہیں ہے. گو کہ ہر دو کا اصرار یہی ہے، لکن تحریک کی قیادت کے لیے یہ ہی کرنے کا کام ہے کہ دونو کے بین بین کیسے درمیانی راستہ نکالا جاے. اور یہی قیادتوں کا امتحان ہوا کرتا ہے کہ وہ لمحہ موجود سے بلند ہو کر انے والے وقتوں کے لئے تحریک کا صحیح رخ متعین کر دیں. لکن ساتھ ساتھ خود ان گروپس کے افراد کو بھی درمیانی راستہ اختیار کرنے کے لئے ایک دوسرے ک راے کا احترام اور اپنے موقف کی کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہو گی.ورنہ یہ سب صرف اختلاف اور شور ہی رہے گا، اور اس سے انتشار، تلخیوں، بد گمانیوں اور تقسیم کے سوا کیا حاصل ہو گا ہم نہیں جانتے. اسی لیے ہم کہا کرتے ہیں، مسائل کے حل کو ذرا ایک طرف رکھئے، پہلے آئیے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں.”

امید سے نا امیدی تک


PTI,MQM

عمران خان لفٹر سے گر زخمی ہو گئے یہ خبر صرف عمران خان کے ووٹرز کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک دردناک خبر تھی اور ہر کی زباں سے ان کے لیے ایک دعائے خیر نکل رہی تھی کیونکہ عمران صرف ایک پارٹی لیڈر ہی نہیں بلکہ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور کسی بھی ملک کا قومی ہیرو اس ملک کے باسیوں کا اثاثہ ہوا کرتا ہے ۔

میں بھی باقی سب پاکستانیوں کی طرح فکر مند اور دعائیں کرتی رہی کہ اللہ پاک انکو مکمل صحت یاب کرے۔

میں خود عمران کا نیا پاکستان والا نعرہ کا سن کر بہت خوش ہوتی اور ایک امید ہوتی کہ پاکستان کا درد رکھنے والا یہ شخص تبدیلی کا خواہاں ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پوری نوجوان قوم کو جمع کرنے کا سہرا عمران ہی کے سر جاتا ہے  میری طرح پوری قوم کو عمران سے بہت امید تھی ۔

مگر میری خوشی اس وقت دکھ میں بدلنی شروع ہو گئی جب عمران نے اپنے ساتھ وہی پرانے شکاری جمع کر لیے اور ان کی اکثریت کو دیکھ کرمیں یہ سوچتی کہ ایک عمران کو اگر نکال دیا جائے تو اس پارٹی کا کو ئِی بھی نام رکھا جا سکتا ہے پوری پارٹی میں ایک عمران کے سواء کوئِی دوسرا چہرا مجھے ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا اور جب اتنے لوگ ایک ہی سوچ کے جمع کر لیے جائیں تو پارٹی میں ایک فرد کو اپنا فیصلہ منوانا کتنا دشوار ہوتا ہے چاہے وہ اس پارٹی کا صدر ہی کیوں نہ ہو کہ اسکا نمونہ ہم کئی مواقع پر دیکھ ہی چکے ہیں  وہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ والے معاملہ ہو یا کوئی اور فیصلہ کہ عمران شروع سے جماعت اسلامی کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹ منٹ کا عندیہ دینے والے اور شدید خواہش رکھنے کے باوجود {اسکا اظہار وہ کئی پروگرامات میں برملا کر چکے تھے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی اور سے ممکن ہی نہیں کو ئِ سیٹ ایڈجسٹ منٹ ہو }وہ کچھ نہیں کر پائے اس لیے کہ پارٹی کے باقی لوگ کسی اور ہی نظریہ اور سوچ کہ ہیں اور مجھے انتہائی دکھ سے لکھنا پڑھ رہا ہے کہ پی ٹی آئِ کی مرکزی رہنما کی بیٹی  ایمان مزاری کی وہ ٹیوٹس کہ جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹ منٹ سے بہتر ہے تحریک انصاف احمدیوں سے مل جائے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمران جو ایک اسلامی ریاست ، مدینہ جیسی ریاست بننے کا خواب دیکھ رہا تھا وہ کیسے ریزہ ریزہ ہونے جارہا ہے  اس وقت جبکہ عمران خود ان کے درمیان موجود ہے اس پارٹی کا صدر ہے اس کے باوجود وہ کوئی فیصلہ خود اپنی سوچ اور اپنے نظریہ سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں جسکا ایک اور ثبوت پیپلز پارٹی سے سیٹ ایڈ جسٹ منٹ کی صورت میں نظر آتا ہے  میرا دل نہیں مانتا کہ عمران یہ سب کر سکتا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کیا ان ہی لوگوں کے ساتھ کیسے ایڈجسٹمنٹ کر سکتا ہے نہیں وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتا مگر اس کے جمع کیا ہوا ٹولہ جن کے لیے ہارون الرشید بڑے دکھ سےکہتے ہیں کہ ” یہ عمران غلط  ہاتھوں میں چلا گیا ۔”
ایک اور خبر جو کراچی کی دکھوں اور مصیبتوں کی چکی میں پسی عوام کے لیے انتہائی رنج اور دکھ کا سبب بنی وہ یہ کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں ایک خفیہ معاہدہ طے پا چکا ہے

آہ۔۔ کیا خبر تھی جو کسی بم سے کم نہ تھی کراچی عوام جس پر پہلے ہی بہت بم گرائے جاتے رہے ہیں کیا وہ ایسے نازک وقت میں یہ تکلیف دہ خبر سننے کی متحمل ہو سکتی تھی ؟؟

ایم کیو ایم  کی خونی تاریغ سے کون نہیں واقف اور عمران جیسا شخص جس نے ہمیشہ ہی ایم کیو ایم کو للکارا اور میں عمران کی وہ تقریر دیکھتی ہوں تو یقین نہیں آتا نہیں ہمارا ہیرو بوریوں سے ڈرنے والا تو نہیں تھا پھر یہ کیا ہوا ؟؟؟ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایک دم یہ توپیں کیوں خاموش ہو گئیں تھیں کل بھی رات کے اندھیرے میں آکر بغیر  خطاب کے کیوں واپسی ہوگئی ؟؟یہ کیسے پلٹا کھایا ؟اور جب یہ بات آرہی تھی کہ کیا ایم کیو ایم ایک سے کوئی معاہدہ تو نہیں کرلیا تو عمران اسماعیل  پی ٹی آئی کے جنرل سیکٹری نے پوری قوم کے سامنے ایک ٹی وی پروگرام میں اس بات کی تردید کی 

مگر آج کا دور تو میڈیا کا دور ہے وہ چاہے سوشل میڈیا ہو جہاں بات لمحوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے یا الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا ہو اب کچھ چھپ نہیں سکتا چاہے وہ معاپدات کتنے ہی خفیہ کیوں نہ ہوں اسی لیے  آج ڈان کی اس خبر نے سب عیاں کر دیا تھا کچھ بھی تو نہیں چھپا تھا ۔

یہ بات تو میثاق جمہوریت میں واضع طور پر درج ہے کہ کوئی پارٹی ایم کیو ایم سے الائینس نہیں کریگی اور پی ٹی آئی اس میثاق جمہوریت کا حصہ ہے یہ تو اس قوم کے ساتھ  کھلی غداری تھی جس کا جواب دینا ہوگا ۔۔۔ ایک دکھ تھا جو ختم  نہیں  ہو رہا تھا ۔۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ہمارے ہی قاتلوں سے دوستیاں کر لیں آپ کیسے بھول گئے ان بوڑھے کاندھوں کو جنھوں نے جوان لاشے اٹھائے ، کیا جواب دے سکیں گے ان ماوں کو جو یہ آس لگائے ہوئے تھیں کہ اب دکھ کے دن تھوڑے ہیں کیسے سامنا کر سکیں گے اب کراچی والوں کا ۔

 اب سمجھ آرہی تھی کہ کراچی میں پی ٹی آئی ایم کے خلاف دس جماعتی اتحاد کا حصہ کیوں نہیں بنی تھی اور کراچی جہاں ایم کیو ایم کو صرف اور صرف ایک ہی جماعت منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے پی ٹی آئی نے اس سے اتحاد کرنے کے بجائے اسکا ووٹ کیوں کاٹا ۔۔۔اس لیےکہ اس کا سارا کا سارا فائدہ ایم کیو ایم کو جاتا ہے ۔۔۔

مگر اب بھی مجھے عمران کی نیت پر شک نہیں مجھے یقین ہے وہ پھر ایک بار مجبور کیا ہو گیا ہوگا اپنی پارٹی کے اسی ٹولے کے ہاتھوں مجھے لگا کتنا سچ تھا جو ہارون الرشید نے کہا ۔۔۔۔۔

سوالات کا ایک انبار تھا جن کے جوابات تلاش کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آرہے تھے ۔۔ابھی پارٹی کی یہ صورتحال ہے جہاں پارٹی کا صدر اتنا بے بس ہو ایسی پارٹی اگر اقتدار میں آجاتی ہے تو کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اس قوم کےلیے ۔۔۔۔

کل عمران کے زخمی ہونے کے بعد سے ایک اور سوال تھا جو مجھے رہ رہ کرستا رہا تھا کہ زندگی اور موت تو کسی کے بھی اپنے اختیار میں نہیں ہے اگر اس حادثہ میں خدا نخواستہ عمران کو کچھ ہو جاتا تو اس کی پارٹی میں پیچھے کون ہے جو عمران جیسا مخلص ہو ،؟ کون ہے جو عمران کی طرح اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواہش مند ہو ؟؟ یہ وہ سوال تھا جس کا جواب مجھے نہیں مل پایا کہ کیا پارٹی صرف ایک فرد کا نام ہوتی ہے ؟ نہیں پارٹی تو ایک نظریہ کا نام ہوتی ہے ایک فکر کا نام ہوتی ہے اس پارٹی میں ایک فرد کے چلے جانے سے نظریہ یا فکر نہیں بدل جایا کرتیں ۔ اس لیے اب فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا زمینی حقائق کو صرف اس لیے نہیں نظر انداز کیا جاسکتا کہ ہم کسی ایک فرد کے فین ہیں نہیں بلکہ ہمارے لیے وہ پارٹی اہم ہونی چاہیے جس کا ایک عام فرد بھی اپنے لیڈر کا نظریہ ویسی ہی سوچ اور فکر رکھتا ہو اور اس کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان عمل میں سرکرداں ہو جو کسی سے ڈر کر اپنے نظریہ اپنی سوچ کو نہیں بدلتا ہو لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو خود نہیں بدلتا بلکہ قوم کے تقدیر بدلنے کے لیے پہاڑ جیسی قوتوں سے بھی ٹکرا جاتا ہے ۔۔۔اور اتنا سب سامنے آنے کے بعد بھی کیا اب کوئی شک رہ جاتا ہے اس بات میں کہ عمران خود بھی اپنی پارٹی میں کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

سوچیے کہیں ایسا نہ ہو کہ آج جن لوگوں کو ہم چن لیں کل ہم ہی انکی پالیسیوں پر انکو گالیاں دینے والے ہوں  کیوں کہ جہاں ذاتی مفادات کو برتری حاصل ہو ں وہاں سب کچھ ممکن ہے ۔۔۔۔ وقت بہت کم ہےاور اس وقت لوگ جذباتی کیفیت سے دوچار ہیں مگر یاد رکھیے فیصلے جذبات سے نہیں کیے جاتے بلکہ ہوش وحواس سے کیے جانے والے فیصلے ہی دیر پا نتائج رکھتے ہیں  ۔۔۔سوچیے ضرور

جاگ اٹھو اے نادانو ۔۔۔۔


kachi

راتوں کو میلے یہ خوب  لگائیں 

دن بھر لاشوں کے انبار لگائیں

 

 

خود ہی مارے اپنے لوگ

پھر بولیں اب  مناو سوگ

 

 

معصوموں کی بھینٹ چڑھائیں

آپ بیٹھے لندن میں موج منائیں

 

کیسے یہ پیو باری ہیں

انسانوں کے شکاری ہیں

کتنے اور انسانوں کو

لاشوں میں یہ بدلیں گے ؟

روشنیوں کے اس شہر میں

کب تک گھپ اندھیرا ہوگا

قاتل ، چور ،  لٹیرا ،راہزن

شہر کا رکھوالا ہوگا

 

کیا اب بھی نہیں پہچانو گے ؟

کیا اب بھی نہیں تم جانو گے ؟

 

 

کیا اب بھی  ہمت ہے تم میں ؟

کہ دیکھ سکو یہ منظر پھر

 

 

کہ ہنسے کھیلتے جانے والے

واپس آئیں بوری میں

کہرام مچے پھر گھر گھر میں

اور دام لگیں پھر لاشوں کے

 

 

جاگ اٹھو اے نادانو کہ

کہ وقت کی ڈور پھسلی جائے

ایسا نہ ہو کہ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی سرا بھی ہاتھ نہ آئے

 

 

جاگ اٹھو, اٹھو اے نادانو ۔

 

 

اسریٰ غوری

بازار سجے انسانوں کے


boli

پنہاں یہیں صیاد بھی ہے دام لگائے

ہرطرف اک شور بپا ہے بھانت بھانت کی بولیاں نہ صرف بولی جارہی ہیں بلکہ بولیاں لگائی بھی جارہی ہیں بوریوں کے منہ کھل چکے ہیں انسانوں کی اس منڈی میں نہ خریداروں کی کمی ہے نہ ہی فروخت ہونے والوں کی یہ کوئی اچھنبے والی بات نہیں قیمتیں تو لگا ہی کرتیں ہیں انسان کی زندگی انہیں سودے بازیوں سے بھری ہوئی ہے اہم بات یہ دیکھنا ہےکہ کس نے اپنی کیا قیمت لگائی ؟؟؟

صورتحال بہت تکلیف دہ ہے یہاں جو جتنا بڑا بدکار اور لٹیرا ٹہرا اسکی بولی اتنی ہی مہنگی لگی کوئی کروڑوں میں بکا تو کسی کی بولی لاکھومیں لگی اور کچھ تو ہزاروں اور سینکڑوں میں ہی اپنا سوداکر گئے تو کچھ کو برادریوں ، علاقوں اور ذاتوں کے عوض بکنا پڑا ۔۔۔۔۔مگر افسوس کیا ہی گھاٹے کا سودا کیا کرنے والوں نے اپنی قیمتیں لگاتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ ان گواہیوں کا تو رب کے ہاں حساب ہونا ہے کیا ہم حساب دے پائیں گے ؟

دنیا کی چند روزہ زندگی کو کیا ہمیشگی کی زندگی پر ترجیع دینا ہوش مندی ہے ؟ 

ہمیں کیوں نہیں یہ خیال آتا کہ دنیا سے جاتے ہوئے تو ہر ایک کو خالی ہاتھ ہی جانا پڑتا ہے اپنے اعمال کے سواء کچھ ساتھ نہیں جاتا وہ کسی کے بینکوں میں پڑے کروڑوں یا اربوں ڈالر ہوں یا عینک میں لگے ڈائمنڈ ہی کیوں نہ ہوں ہر چیز یہیں اسی دنیا میں واپس لوٹا کہ جانا ہوتا ہے ۔

آہ ! ہم کیوں اس حقیقت سے نظریں چرالیتے ہیں کہ بس ایک سانس کی ڈور ٹوٹنے کی دیر ہے ہمارا سب سے قریبی عزیز ہی سب سے پہلے ہمارے جسم سے ان سب قیمتی چیزوں کو دور کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور کون جانے یہ سانسیں کب تک ہیں ۔۔۔۔ پھر یہ سب کس کے لیے ؟

میں اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھتی ہوں تو دل انتہائی دکھی ہونے لگتا ہے کہ مفاد پرست لوگوں کا ٹولہ تو جس حال میں ہے وہ ہے ہی مگر یہاں تو وہ لوگ بھی جو کئی سالوں سے مصیبتوں کی چکی میں پس رہے ہیں وہ اب بھی خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔میں سوچ رہی تھی کیا ہم اتنی مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنے کے باوجود اب بھی خود کو بیچنے کی ہمت کر سکتے ہیں اب بھی خود کو مزید آزمائیشوں اور مصیبتوں کے حوالے کرنے کے متحمل ہو سکتے ہین جبکہ ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قوم کو اب تو اپنے دشمنوں کو پہچاننا چاہیے تھا کہ یہی تو وقت ہے ان کو پہچاننے کا کہ جن کو سوائے اپنے بینک بیلنس ،اپنی جائدادیں بڑھانے کے اور کوئی غرض نہیں نہ سسکتی ہوئی عوام سے کوئی غرض ہے نہ روز گرتی ہوئی لاشوں سے کوئی سروکار ہے جنہوں نے عوام کی رگوں سے لہو کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کا تہیہ کر لیا ہو اس ملک کو دشمنوں کے ہاتھوں میں گروی رکھ دیا ہو ۔اتنے عذاب بھگتنے کے بعد تو اس قوم کو چاہیے تھا کہ یہ اب ان چہروں کو بند آنکھوں سے بھی پہچان لیتی جو اپنی منڈیریں بدلتے کبھی ایک جھولی میں تو کبھی دوسرے کی جھولی میں گر رہے ہیں اور یہ پاگل عوام تبدیلی کے نعرے لگاتی تو کہیں بڑے بڑے پروجیکٹ کے جھانسوں میں آتی پھر ان ہی کے ہاتھوں خود کو یرغمال کروانے کے لیے تیار نظر آتِی ہے ۔

کاش کہ اس قوم میں یہ سمجھ ہو کہ تبدیلی کے لیے کردار شرط لازم ہے قیادتوں کا کردار ہی دراصل تبدیلی کی ضمانت ہو کرتا ہے مخلص اور امین رہنما ہی قوموں کی تقدیریں بدلنے پر قادر ہوا کرتے ہیں

 بھلا جن کی اپنی آستینیں ہی قوم کے لہو میں ڈوبی ہوں جنہوں نے غریب کے منہ سے روٹی ، دال ،سبزی تک چھین لی ہو { کہ ایک زمانے میں غریب کو یہ تو میسر تھا مگر اب یہ بھی نہیں } ،جنہوں نے زندہ رہنا ہی جرم بنا دیا ہو ،جنہوں نے گلی گلی موت کا رقص عام کر دیا ہو ،جنہوں نے نوجوانوں کے مستقبل تباہ کر دیے ہوں جو خود ہی لوگوں کی عزتوں کے لٹیرے ہوں جو صرف اپنے مفادات کی خاطر بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کبھی ایک چھتری تو کبھی دوسری چھتری کے سائے تلے پناہ لیتے ہوں اور کون جانے کب وہ اگلی پرواز کہاں کی  بھرنے والے ہوں کہ انہیں تو منڈیروں کی کوئی کمی نہیں نا۔

تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی

ایک لمحے کو رک کر ذرا سوچیے تو وہ کیسے تبدیلی لاسکتے ہیں ؟؟؟

ہاں وہ تبدیلی لاسکتے ہیں مگر

آپ کی سوچوں میں تبدیلی،

آپ کی روایات میں تبدیلی ،

آپ کے نصاب میں تبدیلی ،

آپ کے نظریات میں تبدیلی،

آپ کی تہذیب وتمدن میں تبدیلی،

آپ کے ملک کے جغرافیہ میں تبدیلی ،

اور سن سکتے ہیں تو سنیے وہ ملک جہاں اللہ کی حاکمیت کے آئین پر سوال اٹھائے جائِیں

وہاں یہ آپ کے مذہب میں بھی تبدیلی لے آئیں تو کوئی بڑی بات نہیں

کیونکہ جو قومیں اپنی تقدیر کے فیصلوں کے وقتوں میں بھی اپنی بولیاں لگوایا کرتی ہیں پھر تبدیلی ان کے جغرافیہ اور ان کے نظریات میں تو آسکتی ہے مگر ان کی تقدیروں میں تبدیلی ممکن نہیں ۔۔۔۔

کسی کو چننا یا اپنے ووٹ کے ذریعے سے اقتدار کے کرسی پر بٹھا نا کوئی معمولی یا عام سی بات نہیں ایک اہم فرض ہے جس سے کسی بھی قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ۔۔۔جی ہاں آپ کا ووٹ ہی آپ کے مستقبل کا آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ضامن ہے 

اس لیے فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیجیےگا کہ فیصلوں کے وقت گزر جائِیں تو پلٹائے نہیں جاسکتے ایسا نہ ہوکہ آج کا کیا گیا آپکا فیصلہ آپکو اگلے 5برسوں کے لیے مصیبت اور پریشانیوں کے ساتھ پچھتاؤں کی آگ میں بھی نہ جھونک دے ۔۔۔

سوچیے اس سے پہلے کہ وقت آپ سے سوچنے لی مہلت بھی چھین لے  !!

"سانحہ کرب و بلا ” سمیعہ راحیل قاضی


"سانحہ کرب و بلا ” جامعہ حفصہ کے حقائق جانیے  سمیعہ راحیل قاضی کا آنکھوں دیکھا حال ۔۔۔

S1

S2 S3 S4 S5 S7 S8 S9 S10 S11 S13 S14 S15 S16 S17 S18 S19 S20 S21 S22 S23 S24 S25 S26 S27

%d bloggers like this: